ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

تبصرے

خوبصورت لفظوں اور لطیف جذبوں کا ہر دلعزیز  شاعر**احمد فراز** ؎:اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتا بوں میں ملیں ؎ : اب کے تجدیدِ وفا کا امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں ؎: تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا ؎: برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرباسا اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا ؎: سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں ایسی مشہور غزلوں کے شاعر  "احمد فرازؔ " اس صدی کے ممتاز اور منفرد شاعر ہیں۔فرازؔکی شاعری غمِ دوراں اور غمِ جاناں کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزلیں رنج و الم کی غماز بھی ہیں اور حُسن و محبت کی علم بردار بھیہیں۔ جو بھی ان کے اشعار سنتا ہے اُسے اپنی ہی داستان لگتی ہے۔  ؎: دُکھ چھپائے ہوئے ہیں ہم دونوں زخم کھائے ہوئے ہیں ہم دونوں تُو کبھی چاندنی تھی دھوپ تھا میں اب تو سائے ہوئے ہیں ہم دونوں جیسے اک دوسرے کی چاہت کو اب بھلائے ہوئے ہیں ہم دونوں عشق  کیسا کہاں کا عہد فرازؔ  گھر بسائے ہوئے ہیں ہم دونوں فرازؔ کی شعری کا خا ص وصف زبان و بیان پر ان کی قدرت ہے۔ ان  کی شاعری دنیائے سخن میں ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ان کے کلام میں خلوص، سچائی اور اور احساس نمایاں ہے۔ ؎یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نبھاتے ہیں ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی ان کا کلام اردو شاعری کا نیا موڑ ہےجس میں نازک زاویے، لچک اور تھرتھراہٹیں محسوس ہوتی ہیں۔  ؎ کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی بگڑ گیا ہوں کہ صؤرت یہی بناؤ کی تھی وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گِلہ تو اس کا ہے کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی وہ مجھ سے پیار نہ کرتا تو وار کیا کرتا کہ دشمنی میں بھی شدْت اسی لگاؤ کی تھی میں زندگی سے نبرد آزما رہا ہوں فرازؔ میں جانتا تھا یہی راہ اکبچاؤ کی تھی ان کی ششاعری کو صرف کلاسیکی یا رومانی نہیں کہا جا سکتا؛ بلکہ دورِ حاضر کے لطیف ذہنی ردِعمل کا سچا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔وہ صداقت کے نئے مقامات سے ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو پڑھنے والے کو دعوتِ فکر دیتی ہیں۔ان کا انداز حد درجہ دلکش و دلنشیں ہے۔ ؎: دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منھ پھیر کے جانے والا تیرے ہوتے ہوئے آجاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا کیا خبر تھی جو میری جاں میں گھُلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراؔ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا احمد فرازؔ پاکستان کے ان چند شاعروں میں سے ایک ہیںجو اردو شاعری کے مستقبل کے امین ہیں۔جن کے بارے میں اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا فن مستقل ارتقاء پذیر ہے۔انھوں نے شاعری کی فنی وایات کو آگے بڑھایااور اس میں خوبصورت اضافہ بھی کیا۔ انھوں نے قدیم اور جدید کے دل آویز کامیاب  تجربے کئے۔ یونہی دوش پر سنبھالے گھنی زلف کے دوشالے وہی سانولی سی رنگت وہی نین نیند والے تجھے شاعری سے رغبت اسے شعر یاد میرے وہی اس کے بھی قرینے جو ہیں خاص وصف تیرے کسی اور ہی سفر میں سرِ راہ مل گئی تھی تجھے اور کیا بتاؤں  وہ تری طرح کوئی تھی مجھے دل سے اس نے پوجا اسے جاں سے میں نے چاہا اسی ہمرہی میں آکر کہیں آگیا دو راہا پھر اک ایسی شام آئی کہ وہ شام آخری تھی کوئی زلزلہ سا آیا کوئی برق سی گری تھی تو جہاں مجھے ملی ہے وہ یہیں جدا ہوئی تھی تجھے اور کیا بتاؤں وہ تیری طرح کوئی تھی فرازؔ ٹین ایجر کا شاعر ہے۔ ۔۔عنفوانِ شباب میں داخل ہونے والوں کا شاعرہے۔۔۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلباء کا شاعر ہے۔۔۔اس طرح کے بہت سے الزامات اس پر لگائے جاتے رہے۔۔۔فرازؔ نے میرؔ و غالبؔ کی طرح حُسن و عشق کی شاعری کی۔کیونکہ اگر یہ دو موضوع انسانی زندگی سے خارج ہو جائیںتو انسان کا باطن صحراؤں میں بدل جائے۔۔۔فرازؔ بھرپور زندگی کا شاعر ہے۔اس کے علاوہ وہ شہر آشوب کا بھی شاعر ہے۔انسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم اور اس کی محرومیوں کا اسے خوب احساس ہے۔اس نے ظلم ، جبر اور آمریت کے خلاف بھی لکھا۔ ؎: یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے پورے ہوئے اک عمر کے ارمان ہمارے ہم روشنی لائے تھے لہو اپنا جلا کر ہم پھول اُگاتے تھے پسینے میں نہا کر لے جاتا مگر فصل کوئی اور اُٹھا کر رہتے تھے ہمیشہ تہی دامان ہمارے اس دیس میں دولت نہیں جاگیر کسی کی اب ہاتھ کسی کے نہیں تقدیر کسی کی پاؤں میں کسی کے نہیں زنجیر کسی کی بھولے گی نہ دنیا کبھی احسان ہمارے فرازؔ کی شاعری بیک وقت گلاب کا پھول بھی ہے۔اور کانٹے بھی۔وہ شبنم کی ٹھنڈک بھی ہے اور آگ کا الاؤ بھی۔وہ آنکھ اور دماغ دونوں کی شاعری کرتا ہے۔یہ شاعری اس درخت کی طرح ہے جو دل کی زمین سے اگتی ہے، ذہن میں مہکتی ہےزندگی میں کھلتی اور زبانوں پر پھلتی پھولتی ہے۔یہ مختلف ذائقوں والے پانیوں کا ایک سمندر ہے۔ یہ احساس اجاگر کرتا ہے کہ انسان کو کس دھج سے جینا چاہیئے۔ ؎: عرضِ غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے شاعری تو ہوتی ہے، گفتگو بھی ہو جائے زخمِ ہجر بھرنے سے یاد تو نہیں جاتی کچھ نشاں تو رہتے ہیں دل رفو بھی ہوجائے میں ادھر تنِ تنہا اور اُدھر زمانہ ہے وائے گر زمانے کے ساتھ تُو بھی ہو جائے ذہن و دل تو کھو بیٹھےاب فراز کیا غم ہے کوئے یار میں غارت آبرو بھی ہو جائے فرازؔ ایک محبِ وطن شاعر تھا۔یہ محبت اس کی شخصیت، شاعری اور زندگی تینوں میں نظر آتی ہے۔ ؎: دائم آباد تیری حسیں انجمن اے وطن۔۔۔۔اے وطن تیرے  کھیتوں کا سونا سلامت رہے تیرے شہروں کا سکھ تا قیامت رہے تا قیامت رہے یہ بہارِ چمن اے وطن ۔۔۔۔۔اے وطن تیرے بیٹے تیری آبرو کے لئے یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیئے پھوٹ نکلے گی تاریکیوں سے کرن اے وطن۔۔۔۔۔اے وطن   فرازؔ نے کئی دوسری زبانوں کی نظموں کے ترجمے بھی کئے۔خاص طور پر جنوبی افریقہ کی سچی شاعری کو اردو طبقہ سے بالعموم اور پاکستا ن کے ادیبوں اور شاعروں کو بالخصوص روشناس کرانے کے لیےکئی نظموں کے ترجمے کیے۔ ان کی کتاب " سب آوازیں میری ہیں " میں انہی نظموں کے ترجمے ہیں۔ بودلک ایک منظوم ڈراما ہے۔ ان کی شاعری میں تغزل کی بھر پور فظا پائی جاتی ہے۔جو صنفِ سخن کی پہچان ہے۔ ؎: تیری قربت کے لمحے پھول جیسے مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں ؎: ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا ؎: ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا ؎: ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ ؎: اور تجھے چاہیئیں کتنی محبتیں فرازؔ ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کے نام رکھ دیئے ناتمام شاکرہ کاظمی

— ہر دل عزیز شاعر: احمد فرازٍٍؔ۔۔۔تبصرہ

نثر نگار پر تبصرہ :                      مولانا الطاف حسین حالی ؔ               نثر نگار ، شاعر، تنقید نگار     ؎      بخشا ہے اس نے نثر میں اک کیف ِزندگی       رقصا ں ہے لفظ لفظ میں اک موج ِ زندگی تعارف :      اردو ادب میں مولانا الطاف حسین حالی ؔ کا مقام بہت بلند ہے ۔اردو نثر اور نظم دونوں میں انہیں یکساں مقبولیت حاصل ہے ۔ حالی ؔ کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ دور ِ متوسطین اور دورِ جدید کے درمیان ایک مضبوط کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اسی لحاظ سے آپ کا کام  قدیم اور جدید کا امتزاج ہے ۔آپ سر سید کے فکری ساتھی تھے۔بر صغیر پر انگریزوں کے تسلط سے پیدا ہونے والے انتشار  ، پریشانی اور افراتفری  کی وجہ سے معاشرہ تنزلی کا شکار تھا۔ مایوسی ، نا امیدی ، سستی اور اخلاقی برائیاں پھیل رہی تھیں ۔اس نازک موقعے پر قوم کی اصلاح کا کام نہایت مشکل   تھا ۔حالی کی پر خلوص کاوشوں  سے کام ممکن ہوا۔ انہوں نے اردو ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ قوم کی اصلاح کی ذمہ داری بھی نبھائی ۔ حالیؔ کے کارنامے آئندہ نسلوں کے لئے قابل تقلید اور مشعلِ راہ ہیں ۔ حالی ؔ کی نثر نگاری کی خصوصیا ت 1 ۔ تنقید نگاری :    حالی ؔ کو اردو کا پہلا تنقید نگار مانا جاتا ہے  ۔آپ نے فنِ تنقید نگاری کو ایک نیا انداز بخشا اور اسے درست سمت میں ڈالا۔ " مقدمہ شعر و شاعری "حالی ؔ کا ایک لازوال  کارنامہ ہے ۔ یہ در اصل  " مسدس مدو جزر اسلام " کا مقدمہ ہے ۔جسے بعد میں علیحدہ جداگانہ حیثیت حاصل ہوگئی ۔یہاں سے اردو ادب میں باقاعدہ اور باضابطہ تنقید نگاری کا آغاز ہوتا ہے ۔اسے " تنقید کا پہلا صحیفہ " بھی کہا جاتا ہے ۔ڈاکٹر شوکت کے مطابق :-         " ہماری شاعری دل والوں کی دنیا تھی ۔حالی ؔ نے مقدمہ لکھ کر اسے ذہن دیا " 2 ۔ سوانح نگاری :     اردو میں جدید سوانح نگاری کا بانی اگر حالی ؔ کو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔انہوں نے سوانح عمریوں کو ایک خاص نقطۂ نظر سے لکھا ۔" حیات ِ سعدی " میں انہوں نے قوم کو ایک شاعر  اور معلم  سے روشناس کرایا ۔اسی طرح " حیات ِ جاوید " بھی ان کا بڑا کارنامہ ہے ۔ان کی سوانح نگاری کے سب معترف ہیں ۔بقول مولوی عبد الحق :-         " ہماری زبان میں یہ سوانح عمری کا مکمل اور اعلیٰ نمونہ ہے۔ 3 ۔ مدعا نگاری  :             حالی ؔ کے پیش ِ نظر صرف  یہ بات ہوتی تھی کہ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ اپنے مطلب و مدعا کی مکمل وضاحت کر سکیں ۔وہ اپنی تحریروں میں مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے تھے۔  آپ نے جس موضوع پر قلم اُٹھایا اس میں رنگ آمیزی کو کم سے کم دخل تھا ۔وہ ایک سچے اور دیانت دار مدعا نگار تھے ۔بقول سید عبد اللہ :-         " حالی کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا مدعا نگار کہا جا سکتا ہے ۔ " 4 ۔ سرسید کا اثر  :    عام تاثر یہ ہے کہ حالیؔ کی آواز دراصل سر سید کے خیالات ہیں ۔یہ بات کافی حد تک درست ہے ۔ وہ سرسید کے فکری ساتھی تھے ۔ان کا اسلوب بھی کافی حد تک سر سید سے مماثلت رکھتا ہے ۔لیکن حالی کے یہاں تنوع کم اور سادگی ذیادہ نظر آتی ہے ۔ 5 ۔ مقصدیت  :      حالی ؔ کی تمام نثری کاوشوں میں مقصدیت سب سے نمایاں نظر آتی ہے ۔آپ کی تحریروں کی سادگی اور مقصد پر نگاہ سب سے مقدم ہے ۔ آپ کا سب سے پہلا مقالہ " سرسید احمد خان اور ان کا کام " تھا ۔ 6 ۔ خلوص اور سچائی  :        حالی کی تحاریر بڑی پُر اثر ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ ان کے خیالات میں خلوص اور سچائی ہے ۔ وہ نیک نیتی سے مسلمانوں کے سچے خیر خواہ اور ہمدرد تھے ۔اس لئے  خلوص اور سچائی سے جو لکھا وہ دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے ۔حالی ؔ کا اپنا شعر اس کا غماز ہے 7 ۔ مقالہ نگاری :     سر سید کے رسالے " تہذیب الاخلاق سے ارردو مقالہ نگاری کی ابتدا ہوئی۔ اسی رسالے کی بدولت حالیؔ کو عزت و شہرت ملی ۔حالی ؔ کے مقالوں کا پہلا بنیادی مقصد سر سید کے نظریات کی تبلیغ اور ترجمانی تھا ۔موضوع کے اعتبار سے حالیؔ کے مقالات کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔جس میں مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی ، معاشرتی ، معاشی ، صنعتی  اورتعلیمی  شعور کو بیدار کرنا اور تعلیم کو فرو غ دینا ہے ۔ان مقالات کا دوسرا حصہ ان کے تبصروں ، لیکچروں اور خطبات پر مشتمل ہے ۔ 8 ۔ متنوع موضوعات :               حالی ؔ کی شخصیت کی طرح ان کے موضوعات میں بھی بہت تنوع ہے ۔اپنی تصنیفی ضروریات کے مطابق وہ اپنے اسلوب کو ڈھال لیتے تھے۔آپ وہ پہلے مصنف ہیں جنھوں نے ادبی ، سائنسی ، تنقیدی  اور  سوانحی ہر موضوع پر بڑی روانی اور  متانت سے لکھا ۔ قدیم روکھے پھیکے انداز کو وہ غیر معیاری قرار دیتے ہیں ۔ 9 ۔ انگریزی الفاظ کا استعمال  :         سر سید اور ان کے رفقاء  نے شعوری طور پر اپنی تحریروں میں انگریزی  الفاظ کا استعمال کیا ۔اس طرح وہ انگریزی زبان سے اجنبیت کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔  حالی ؔ کی تحریروں میں بھی یہ اثر نظر آتا ہے ۔ 10 ۔ تعمیر شخصیت  :         حالی ؔ کا تعلق پانی پت کے  ایک علمی گھرانے میں ہوا ۔علم او ر اچھے ماحول کے زیر ِ اثر آپ کی شخصیت  میں بہت نکھار پیدا ہوا ۔آپ کی شخصیت کا یہ مثبت پہلو آپ کی تحاریر میں  بھی جھلکتا ہے ۔ آپ ایک پر جوش شخصیت کے مالک تھے ۔ 11 ۔ حقیقت نگاری  :       حالی ؔ کی تحریریں حقیقت کی عکاس ہوتی ہیں ۔آپ نے کبھی غلط بیانی  ، مبالغہ آرائی یا جھوٹ سے کام نہیں لیا ۔وہ سر سید سے متاثر تھے ۔ مگر حقیقت نگاری کرتے ہوئے وہ  کہیں کہیں سر سید سے بھی اختلاف کر جاتے تھے۔ 12 ۔ تحقیقی معیار :   حالی ؔ کی تحریریں ان کے تحقیقی  معیار کی بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہی ں ۔عام طور پر شاعر یا انشاپرداز  اپنی تحریروں  میں تحقیق کی پرواہ نہیں کرتے ۔حالی نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اسے مستند بنانے کی پوری کوشش کی ۔ 13 ۔ نثری کارنامے :        بہت کم ادیب ایسے ہوتے ہیں جو شاعرانہ حیثیت بھی رکھتے ہوں ۔حالی ؔ کو یہ خصوصیت حاصل تھی ۔ وہ نظم اور نثر دونوں میں نمایاں مرتبے پر فائز نظر آتے ہیں ۔ان کے نثری کانامے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔جنھیں واضح طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ 1۔ تنقید نگاری  ،      2 ۔ سوانح نگاری ، 3 ۔ مضمون 14 ۔ مضمون نگاری :          حالی ؔ کے مضامین جدید اردو ادب  کا سنگ ِ بنیاد ہیں ۔ سر سید نے انگریزی اخبارات کی طرز پر رسالہ " تہذیب الا خلاق " جاری کیا ۔جس میں حالی نے بھی اس طرز پر مضامین لکھے ۔ 15 ۔ سادگی ِ بیان :  بیان کی سادگی حالی ؔ کی تحریروں کی ایک نمایاں خوبی ہے ۔مضمون کا موضوع جو بھی ہو ؛ آپ کے سادہ الفاظ دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔یہی سادگی تھی جس نے لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا ۔ایک نامور نقاد مہدی آفادی کہتے ہیں :-         " سر سید کے انداز کی  سب سے کامیاب  تصویر حالی ؔ تھے ۔ 16۔تخیل کا حُسن  : بہ حیثیت شاعر حالی ؔ کا اندز بھی شاعرانہ تھا ۔آپ کی تحریروں میں سادگی ہونے کے ساتھ تخیل کی کار فرمائی بھی نظر آتی ہے ۔جس سے ان کی نثر میں دلکشی اور رعنائی پیدا ہو جاتی ہے ۔اسی تخیل کی بنا پر پُر جوش جذبے بھی نمایاں ہو جاتے ہیں ۔  نقادوں کی آراء         پروفیسر آل احمد کے بقول :-                 " حالی ؔ کے یہاں سر سید سے بھی ذیادہ نپا تُلا انداز نظر آتا ہے ۔"         سید عبداللہ کہتے ہیں :-                 " ہم حالیؔ کو اردو کا پہلا اولین حقیقت پسند  مدعا نگار اور صاحب طرز انشا پرداز  کا  خطاب دے سکتے ہیں ۔"         مہدی افاد ی  کے مطابق :-                 "سر سید کے انداز کی سب سے کامیاب تصویر حالی ؔ ہیں ۔" حاصل ِ تحریر         مولانا حایؔ نے اردو ادب کو ایک کثیر سرمایہ فراہم کیا ۔ وہ سر سید کے دست ِ راست کہلائے ۔سر سید کی تحریک کی بدولت شعر و ادب میں جتنی تبدیلیاں آئیں وہ سب حالیؔ کی مرہون ِ منت ہیں ۔         تنقید نگاری :     مقدمہ شعر و شاعری         سوانح نگاری :    حیات سعدی ، حیات جاوید ، یادگار غالبؔ         مضمون نگاری :   مقالات ِ حالیؔ قومی شاعری :    مسدس مدو جزر اسلام ( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی ) ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭  

— نثر نگار پر تبصرہ :۔۔مولانا الطاف حسین حالی ؔ ۔۔نثر نگار ، شاعر، تنقید نگار

نثر نگار پر تبصرہ            محمد حسین آزاد(شمس العلماء )                        محسن ِ اردو زبان و ادب         زبان  علم و ادب کی ترویج و ترقی  میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اردو علم و ادب میں کئی ایسی شخصیات ہیں جنھیں محسنِ زبانِ اردو علم و ادب  کہہ سکتے ہیں ۔ انہی میں ایک شخصیت " محمد حسین آزاد "کی ہے ۔ تعارف :               محمد حسین آزاد  ایک ہمہ جہت اور ہمہ صفت شخصیت کے مالک تھے۔آپ بیک وقت شاعر ، مؤرخ ، نقاد  اور مضمون نگار تھے ۔ در حقیقت آپ کا طرز ِ نگارش  آپ کی شہرت کا باعث بنا ۔آپ نے نثر میں شعری لوازمات کو سمو دیا ۔یوں اردو زبان کو ایک بلند و ممتاز مقام دلوایا۔آزاد کا شمار سر سید  گروپ یعنی عناصرِ خمسہ میں ہوتا ہے ۔مگر آپ ان سب میں سب سے منفرد اور الگ تھے ۔ آپ نے اپنی تحاریر کے لئے ایک الگ اور نئی راہ نکالی ؛ جو قدیم اور جدید سے مختلف تھی۔ حالات ِ زندگی:           آ پ کا نام محمد حسین  اور آزادؔ تخلص تھا ۔1830 میں آپ دہلی میں پیدا ہوئے ۔پ کے والد مولوی محمد باقراُس وقت کی نام ور شخصیت تھے۔ وہ دہلی سے " اردو اخبار " نکالتے تھے اور مشہور شاعر " شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ " کے قریبی دوست بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد تربیت کے لئے  آپ ذوقؔ کے سپرد کر دیئے گئے ۔ان ہی کی خصوصی توجہ کی بدولت آپ شاعری کی جانب مائل ہوئے ۔دہلی کالج میں نذیر احمد ، ذکا اللہ ، ماسٹر پیارے لال آشوب  وغیرہ جیسے ہم جماعتوں کی صحبت میسر آئی ۔تعلیم سے فراغت کے بعد والد کا اخبار سنبھال لیا ۔1857 ء کے انقلاب میں انگریزوں نے ان کے والد کو پھانسی دے دی اور گھر بار لُوٹ لیا ؛تب یہ روپوش ہو گئے اور کسی طرح جان بچا  کر وطن سے نکلے اور پریشان حال لکھنؤ پہنچے ۔کسب ِ معاش کے لئے مختلف ذرائع استعمال کئے ۔بالآخر 1864ء  میں لاہور پہنچ گئے ۔ یہاں محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے  اور ترقی کرتے کرتے گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی  اور فارسی کے پروفیسر مقرّر ہو گئے ۔ اسی دوران حکومت کے ایماء پر بچوں کی درسی کتب اور قصص الہند لکھی ۔ اسی زمانے میں ڈائریکٹر محکمۂ تعلیم کرنل ہالرائڈ کی کوششوں سے آزادؔ نےموضوعاتی مشاعروں کی بنیاد ڈالی ۔آپ نے خود بھی کئی نظمیں پڑھیں ۔ حالیؔ  بھی  ان مشاعروں میں شامل ہوتے تھے۔اس اعتبار سے محمد حسین آزاد ؔ جدید شاعری کے بانی  خیال کئے جاتے ہیں ۔1887ء میں حکومت نے انھیں " شمس العلماء " کا خطاب دیا ۔1883 ء میں اُن کی چہیتی بیٹی  کا انتقال ہو گیا ۔جس کے غم میں اُن پر جنونی  کیفیت طاری ہو گئی  اور آخری ایام بڑے دردناک گزارے ۔1918ء  میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ تصانیف :      آبِ حیات ، سخن دانِ فارس ، دربارِ اکبری ، نیرنگِ خیال ، قسس الہند ، نگارستانِ فارسی ، قندِ پارسی ، نظم آزادؔ ، بچوں کی درسی کتابیں  اور نظمیں  وغیرہ ۔ ٭ طرز ِ تحریر کی خوبیاں ٭         آزادؔ ایک ہمہ جہت قلم کار کے طور پر میدان ِ ادب میں اپنی فنکارانہ خوبیاں پھیلاتے نظر آتے ہیں ۔آپ کا قلم بیک وقت نظم و نثر دونوں  میں اپنا جوہر دکھاتا نظر آتا ہے ۔تنقید ، تذکرہ نگاری ، تحقیق؛ ہر میدان میں  آپ اپنی قوّت ِ تخیل اور زبان و بیان پر قدرت کی بِنا پر اپنے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں ۔آپ ہر قسم کے موضوعات بلا جھجک قلم بند کرتے چلے جاتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ بہت اعراضات کی زَد میں رہے؛ انشا پرداز کی حیثیت مسلّمہ ہے ۔ہر کوئی آپ کی عظمت کا اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے خاص اسلوب کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ 1۔ تمثیل نگاری :                 آزادؔ یونانی اور انگریزی ادب سے متاثر تھے ۔ اسی لئے آپ نے اخلاقی اور نتیجہ خیز افسانوں کی بنیاد ڈالی ۔وہ خیالی مضامین کا بہت دلچسپ اور دلکش نقشہ کھینچتے تھے ۔ مثلاً سچ ، جھوٹ ، امید ، وہم وغیرہ ۔ان کو مجسم کرکے ان کی حرکات و صفات کا دلکش نقشہ کھینچتے تھے اور ان میں مکالماتی اور افسانوی رنگ بھر دیتے تھے ۔ تمثیل نگاری میں آزاد کو  ملکہ حاصل تھی ۔" نیرنگِ خیال " اس لحاظ سے ایک شاہکار ہے ۔    2۔ تخیل کی کار فرمائی :     آزاد ؔ اپنی تحاریر میں قوّت ِ تخیل سے بھی بھر پور کام لیتے تھے۔ خیال میں نُدرت اور فکر میں جدّت اجاگر کرکے واقعات کو اس خوبصورتی سے ترتیب دیتے کہ پڑھنے والا اس میں گُم ہو کر رہ جاتا ہے۔ " آبِ حیات ، سخن دانِ فارس  اور دربارِ اکبری " جیسی کتابیں اس کی عمدہ مثال  ہیں ۔ان کی عبارت میں رنگینی بھی ہے اور شیرینی بھی؛ اس کے ساتھ ساتھ تشبیہات و استعارات سے بھی خوب کام لیا گیا ہے ۔ 3 ۔ شاعرانہ  حُسن :                بنیادی طور پر آزاد ؔ  انشا پرداز تھے۔اسی لئے آپ نے نثر میں بھی شاعری کی ۔اس میں صنائع بدائع کے وہ ہیرے جڑےکہ جو بے مثال ہیں ۔عبارت آرائی ، مقفیٰ و مسجع جملے ، زبان و بیان کی لطافت، تشبیہات و استعارات کا بر محل  اور برجستہ استعمال  ان کی نثر میں ایک شاعرانہ حسن اور موسیقیت جیسی دلکشی  پیدا کر دیتی ہیں۔انھوں نے سادگی ، بے تکلفی ، صاف گوئی ، حقیقت نگاری  اور فارسی کی رعنائی سب کو یکجا کرکےاپنی نثر میں سمودیا  اور یوں اسے سب سے جدا منفرد مقام دلوایا۔آب ِ حیات اور نیرنگِ خیال میں یہ انداز بہت نمایاں نظر آتاہے۔وہ نثر نہیں لکھتے بلکہ شاعری کرتے تھے۔ 4۔ اثر آفرینی :           آزاد ؔ کی تحریریں اثر و تاثیر کی کیفیت لئے ہوتی ہیں ۔اس کی عبارت پُر اثر  ، رنگین ، شاعرانہ خوبی ، خیالات کی نیرنگی لئے ہوئے ہوتی ہے ۔ مختلف حکایات او ر لطائف  کے بیان سے اِسے مزید مؤثر بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحاریر  کا ایک ایک حرف دل میں اترتا چلا جاتا ہے  اور لوگوں میں قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے ۔ 5 ۔ محا کات نگاری  :               آزاد کو منظر نگاری اور ماحول کا نقشہ کھینچنے پر پوری قدرت حاصل ہے ۔ اس دوران وہ چھوٹی چھوٹی  باتوں کا خیال بھی رکھتے ہیں ۔ ان کی تحریریں پڑھتے وقت قاری کی نظروں کے سامنے پورا ماحول اور واقعہ آجاتا ہے ۔ ان کی ایک تحریر " اورنگ زیب کی فوجی تیاریاں " اس کی عمدہ مثال ہے ۔اسے پڑھتے ہوئے پوری سلطنت ِ مغلیہ کی فوجی عظمت دل پر نقش ہوجاتی ہے ۔ 6 ۔ لب و لہجہ :            آزاد کا شگفتہ لہجہ قاری کے دل کو مسحور کر لیتا ہے ۔اپنی تحریروں کو وہ روزمرہ اور محاورے ، ادبی لطائف اور رعایت ِ لفظی سے شگفتہ، شوخ اور توانا بناتے ہیں ۔ آپ کی تحریریں نہ تو سر سید اور حالی جیسی آسان نہ ہی سرور جیسی مشکل ہیں ۔  7 ۔ حکایتی اسلوب :              آزاد اپنی تحریروں کو پُر اثر اور مستند بنانے کے لئے حکایات کا سہارا لیتے ہیں ۔اس میں موجود حکمت اور دانش کی بات  کو وہ مزید دلچسپ اور پُر زور بنا دیتے ہیں َ۔ آزاد حکایت کے بادشاہ ہیں ۔موضوع چاہے جیسا بھی ہو آزاد اس کو اپنے خاص انداز سے دلچسپ بنا دیتے ہیں ۔" دربار ِ اکبری اس کی عمدہ مثال ہے َ 8 ۔ مبالغہ آرائی :         ھکایت ، لطیفے اور تخیل آرائی نے ان کو مبالغہ آرائی کی جانب مائل کیا۔ تعریف ہو یا تنقید ، ان کی مبالغہ آرائی کی وجہ سے قابلِ اعتبار نہ ٹھہریں ۔" آب ِ حیات اور دربار ِ اکبری " میں بھی  مبالغہ آرائی کی وجہ سے  وہ نقادوں کی زد میں رہے اور مرد ِ تحقیق تسلیم نہیں کئے جاتے ۔   علامہ شبلی نعمانی کہتے ہیں کہ         " آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے ۔وہ تحقیق کا مردِ میدان نہیں ، مگر دو چار گپیں بھی ہانک دیتا ہے ۔ تو وہی معلوم دیتی ہیں ۔ 9 ۔ عبارت آرائی :                مُرصع نگاری  میں آزاد کا کوئی شریک نہیں ۔ آپ اپنی تحریروں کو دلہن کی طرح سجاتے سنوارتے  ہیں ۔ اسے تشبیہ ، استعارہ  اور خوب صورت لفظوں  کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں ۔ جگہ جگہ بیان کی لطافت زبان کی نزاکت  کی گُل کاریاں نظر آتی ہیں ۔ اسی طرح کہیں کہیں آپ چھوٹے چھوٹے چبھتے ہوئے الفاظ و جملے بھی تراش دیتے ہیں ۔ اسی سبب سے آپ کو   " آذر ِِ سخن " کا لقب بھی دیا گیا ۔ 10 ۔ مکالمہ نگاری :               آزاد کی تحریروں کی ایک اہم کڑی مکالمہ نگاری بھی ہے ۔ وہ کسی بھی حالت یا بے جان چیز کو شخص قرار دے کر اس کی نہ صرف حرکات و سکنات پیش کرتے ہیں بلکہ کبھی یہ بے جان چیزیں باتیں رنا شروع کر دیتی ہیں ۔ کہیں وہ خود راوی بن کر محو ِ تکلم نظر آتے ہیں ۔اس سے ان کی تحریروں میں ایک ڈرامائی فضا پیدا ہو جاتی ہے ۔  بقول ڈاکٹر محی الدین :-         " آزاد ؔ خوش گوئی کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تحریریں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی ہیں ۔ان کی تحریروں میں آبشاروں کا ترنم ، کہساروں کا سا تکلم ، چاندنی رات کا تبسم نظر آتا ہے ۔ کہیں ہوا کا فراٹا ، فضا کا سناٹا ، غنچوں کی چٹک ، پھول کی مہک ، ستاروں کی چمک ، بجلی کی کڑک ، چاند کی تابانی ، سورج کی درخشانی ، صبح کا نکھار  اور شام کا سلونا پن آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے۔ "  11 ۔ ایجاز و اختصار :     آزاد ؔ مختصر ترین لفظوں اور جملوں میں بڑی سے بڑی بات کہنے کے ماہر تھے ۔ آپ ایجاز و اختصار کے قائل تھے۔ آپ کی تحریریں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ " آبِ حیات  " میں آپ نے  مختلف شعراء کے کلام پر جو تبصرے کئے ہیں وہ اس کا بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کی تحاریر اتنی جامع ہوتی ہیں کہ ان کی وضاحت کے لئے کئی صفحے کالے کرنے پڑ جائیں گے ۔ 12 ۔ مُرقع نگاری :               مُرقع نگاری بڑا جامع فن ہے ۔ اس میں تمام ماحول کی تصویر ایک ساتھ پیش کرنا ہوتی ہے ۔یہ ایک وقت  میں کسی بھی شخص یا چیز کی پوری زندگی کی تصویر ہوتی ہے ۔ آزاد کی تحریروں میں مُرقع نگاری کے عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔ " آب ِ حیات ، دربار ِ اکبری ، قصص الہند ، نیرنگ ِ خیال " میں اس کی عمدہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔شہرت ِ عام اور بقائے دوام کا کاروبار " میں سوداؔ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :         " اُن میں ایک شخص دیکھا کہ جب  بات کرتا تھا تو منہ سے رنگا رنگ پھول جھڑتے تھے۔ لوگ ساتھ ساتھ دامن پھیلاتے تھے۔ مگر بعض پھولوں میں ایسے کانٹے ہوتے تھے کہ لوگوں کے کپڑے پھٹے جاتے تھے۔ " 13 ۔ مختصر جملے :         اگرچہ آزاد ؔ  کی تحریروں میں بہت پھیلاؤ بھی ہوتا تھا مگر چھوٹے چھوٹے اور مختصر جملوں کی بدولت آپ قاری کو ذہنی تھکن سے بچا لیتے تھے ۔۔اس سے آپ کی تحریروں میں لطافت اور سُبک روی پیدا ہوجاتی ہے ۔ بقول علامہ شبلی نعمانی  :-         "الفاظ کا انتخاب  ، لفظوں کی شیرینی ، محاورات کی صحت ، جاوداں تشبیہات اور استعارات کی گُل کاری عبارت میں وہ حُسن پیدا کر دیتی ہے کہ پڑھتے چلے جائیں سَیری نہیں ہوتی " 14 ۔ بیانیہ نثر :           محمد حسین آزاد اپنی ذات میں ایک  انجمن تھے ۔ " نظم ِ آزاد ؔ " اس کا ثبوت ہے ۔وہ ایک نقاد تھے ۔ " سخن دان ِ فارس  اور آبِ حیات " اس کے گواہ ہیں ۔ تاریخ نویسی کے لئے " قصص الہند اور دربار ِ اکبری "  سے مثال لی جاسکتی ہے ۔سب سے بڑھ کر وہ ایک صاحب ِ طرز انشا پر داز تھے ۔ ہر مقام پر ان کی بیانیہ نثر نمایاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لازوال اور ابدی شہرت پائی ۔بقول مہدی آفادی :-         " سرسید سے معقولات  الگ  کر لیں تو  کچھ نہیں رہتے ، نذیر بغیر مذہب کے لقمہ بھی نہیں توڑتے ، شبلی سے تاریخ لے لین تو قریب قریب کورے رہ جائیں گے ۔ حالیؔ بھی نثر نگاری اور سوانح نگاری کے ساتھ چل سکتے ہیں ۔لیکن آقائے اردو  مولانا محمد حسین آزادؔ ایک ایسے انشا پرداز ہیں جن کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں "۔ 15 ۔ طنز و ظرافت :      طنزو مزاح کا عنصر بھی آزاد ؔ کی تحاریر  میں نظر آتا ہے ۔لیکن ان کا  طنز کسی کو مجروح یا دکھی نہیں کرتا ۔ وہ طنز ِ ملیح کے مالک تھے۔ ان کے طنز سے وہ شخص بھی مزا لیتا ہے جس پر طنز کیا گیا ہو تا ۔ان کی تہذیب اور شائستگی ان کے طنز کو تکلیف دہ اور اذیت  ناک ہونے سے بچاتی ہے ۔ وہ شرافت ، تہذیب اور وضع داری  کے دلدادہ تھے ۔ یہی عکس ان  کی نثر میں جابجا نظر آتا ہے ۔ 16 ۔ فن برائے فن :     آپ فن برائے فن کے قائل تھے۔ قاری کے دل و دماغ کی تسخیر و  تسکین   ان کا مطمع نظر تھا ۔ جہاں جدید شاعری میں موضوعاتی نظمیں لکھتے ؛ وہیں نثر نگاری میں  اپنا انداز یکسر بدل لیتے  ہیں ۔ الفاظ کو خوشنما پرندے بنا کر ہوا میں اُڑاتے نظر  آتے ہیں ۔اس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں ۔ ناقدین کی آراء :  رام بابو سکسینہ کہتے ہیں :-         " ان کی عبارت کی خاص نشانی یہ ہے کہ بھاشا کی سادگی اور بے تکلفی ، انگریزی کی صاف گوئی اور فارسی کا حُسن و خوبصورتی  اس میں ملی جلی ہوتی ہے ۔"                 مہدی افادی کہتے ہیں :-         " آزاد ؔ ایسے انشا پرداز ہیں جن کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ۔"                 شبلی نعمانی کہتے ہیں :-         " آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے ۔"                 بقول ڈاکٹر محی الدین :-         " آزاد خوش گوئی کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ان کی تحریریں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی ہیں "۔ حاصل ِ کلام :     بحیثیت مجموعی مولانا محد حسین آزادؔ زبر دست انشا پر داز ہیں۔ تاریخ و ادب پر انھیں پورا عبور حاصل ہے ۔ آپ زبان و بیان پر قدرت رکھتے ہیں ۔ان کا تخیل بلند اور فکر رسا ہے ۔وہ نثر میں بھی شاعری کرتے نظر آتے ہیں ۔ان کی تحریریں اثر آفرینی کی کیفیت لئے ہوتی ہیں  کہ ہر شخص ان کی عظمت کا قائل ہو جاتا ہے ۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

— نثر نگار پر تبصرہ ۔۔محمد حسین آزاد(شمس العلماء )۔۔محسن ِ اردو زبان و ادب

شاعر پر تبصرہ :                   مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ      ( آفاقی شاعر ) ؎      ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے کہتے ہیں کہ  غالب ؔ کا ہے انداز ِ بیاں اور         غالب ؔ بلا شبہ اردو کے ان شاعروں میں سے ہیں جو اپنی فکر اور اپنے انداز کلام سے اردو غزل کا معیار ٹھہرے ۔ حرف ِ آغاز       غالب ؔ نے اردو غزل میں ایک نیا ذہن پایا ۔ آپ نے اردو غزل کی آبرو بڑھا دی ۔ غالب ؔ کے فن کی عظمتو ں پر  نہ  صرف بر صغیر بلکہ مغربی یونیور سٹیوں  میں بھی تحقیق و تصنیف کا کام جاری ہے ۔ حالات ِ زندگی         مرزا غالب ؔ 1797 ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام " اسد اللہ خان  " ، لقب " مرزانوشہ " ، شاہی دربار سے " نجم الدولہ  اور نظام جنگ " کا خطاب عطا ہوا ۔ پہلے " اسد " تخلص کرتے تھے ۔ بعد میں غالب ؔ تخلص کیا ۔         آپ کا سلسلہ نسب ایرانی بادشاہوں سے ملتا ہے ۔اپنے دادا شاہ عالم کے زمانے  میں دہلی پہنچے  ،  جاگیر پائی  ، مگر انگریزوں  کے زمانے میں جاگیر ضبط ہو گئی ۔ غالب ؔ کی تمام زندگی  حادثات میں گزری ۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا ۔ پہلے فارسی اور پھر اردو میں شعر کہے ۔ فارسی اور اردو کے دیوان اُن کی یاد گار ہیں ۔ 1869 ء میں دہلی میں وفات پائی ۔ وہیں جامع مسجد کے نزدیک ان کا مزار ہے کلام کی خصوصیات         غالبؔ کی شاعری جدّت ِ بیان ، اچھوتے انداز ، نئے مضامین  دشوار پسندی ،  ایجاز و اختصار  ، رمز و ایما ء ، فلسفیانہ نکات  اور انسانی نفسیات کی ترجمان ہے ۔ 1۔ سوز و گداز :               غالب کا کلام سوز و گداز سے لبریز ہے ۔ مالی تنگ دستی کے باوجود ان کے کلام میں غم ِ جاناں اور غم ِ دوراں کا نہایت پُر سوز اظہار ہے ۔         ؎        زندگی اپنی کچھ اس شکل سے گزری غالبؔ               ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے 2۔ سہل پسندی :             غالب ؔ کے کلام کی ایک خوبی سہل پسندی بھی ہے ۔مشکل اور دقیق نظرئے کو وہ آسانی سے بیان کردیتے تھے ۔         ؎        مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی                                موت  آتی ہے پر نہیں آتی 3 ۔ رندی :           غالب ؔ کے کلام میں اکثر شراب کا ذکر نظر آتا ہے ۔وہ اس کا ذکر ایک منفرد انداز سے کرتے ہیں ۔         ؎        کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ                       شرم تم کو مگر نہیں آتی         ؎        زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کے                        یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو 4۔ ایجاز و اختصا ر :           طویل موضوع کو مختصر اور پر اثر انداز بیان کہنے کا فن غالب ؔ کا کمال تھا ۔         ؎        یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال ِ یار ہوتا                       اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا         ؎        ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں                        کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے         ؎        ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار                         یا الٰہی ! یہ ماجرا کیا ہے 5 ۔ واردات ِ عشق:         غالب ؔ کا کلام واردات ِ حسن و عشق کا گراں  قدر سرمایہ ہے ۔ انہوں نے روایتی عشق سے دامن بچاتے ہوئے  ایک معیار قائم کیا ۔وہ عشق میں خود داری اور خود شناسی کے مبلغ ہیں ۔         ؎         عشق میں طبیعت نے زیست کا مزہ پایا                  درد  کی   دوا  پائی  ، درد  لا  دوا  پایا               ؎        عشق نے غالب ؔ نکمّا کر دیا                            ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام  کے         ؎        عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ                         کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے         ؎        وہ کہہ کے چلے ، اتنی ملاقات بہت ہے                میں نے کہا رک جاؤ ، ابھی رات بہت ہے 6 ۔ جدّت ِ بیان :              غالب ؔ نے اردو غزل میں ایک نیا ذہن پایا ۔ایسے ایسے مضامین کہے جس نے اردو غزل  کی آبرو بڑھا ئی  اور اگر پرانے مضمون کو غزل میں جگہ دی تو ایک نئے انداز کے ساتھ ۔         ؎        ہے آدمی بجائے خود اِک محشر ِ خیال                   ہم انجمن سمجھتے  ہیں ، خلوت ہی کیوں نہ ہو         ؎        نکلنا خُلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن                 بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے 7 ۔ شوخی و ظرافت : غالب کا ایک خاص کمال یہ بھی ہے کہ تصوّف ، فلسفہ اور باوقار عشقیہ مضامین کے ساتھان کے کلام میں شوخی اور ظرافت کا رنگ بھی ملتا ہے ۔اسی بِنا پر مولانا حالی ؔ نے انہیں " حیوانِ ظریف بھی کہا ہے ۔         ؎        پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق             آدمی کوئی ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا 8 ۔ دشوار پسندی :            جہاں غالب ؔ نے اپنے کلام میں سہل پسندی سے کام لیا ؛ وہیں کہیں کہیں دشوار پسندی سے بھی کام لیا ہے ۔         ؎        دام ِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ         دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک 9 ۔ اچھوتا اور منفرد انداز :            غالبؔ نے اپنے کلام میں ہمیشہ ایک منفرد انداز کو اختیار کرنے  میں ترجیح دی ۔وہ عام روش سے ہٹ کر چلتے تھے  ۔جو سب سے جداگانہ اور منفرد ہوتا تھا ۔         ؎        کوئی مرے دل سے پوچھے ترے تیر ِ نیم کش کو          یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا         ؎        دکھ دے کر سوال کرتے ہو                         تم بھی غالبؔ کمال کرتے ہو                 مرنا چاہیں تو مر نہیں سکتے                           تم بھی جینا محال کرتے ہو                 اب میں کس کس کی دوں مثال تمھیں                 ہر ستم بے مثال کرتے ہو 10 ۔ عشق مجازی کی ترجمانی :                غالب کا عشق فطرت انسانی کی ضرورت  نظر آتا ہے  کہ اسی کے تعلق سے زندگی  میں رنگ نظر آتا ہے ۔         ؎        تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا                        کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا         ؎        اُن کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق             وہ سمجھتے  ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے 11 ۔ فلسفۂ  حیات  :                غالبؔ نے اردو غزل میں فلسفے کے مسائل اور فلسفۂ حیات کو موضوع بنایا ۔یہ ایک دشوار کام تھا ۔ مگر غالبؔ نے شعری نزاکتوں کا خیال رکھتے ہوئے نہایت اچھوتی باتیں کہیں ۔         ؎        غم اگرچہ جاں گُسل ہے ، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے                        غمِ عشق گر نہ ہوتا ، غمِ روزگار ہوتا         ؎        قید ِ حیات و بندِ غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں           موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں 12 ۔ ازلی حقیقتوں کی نقاب کشائی :   غالب ؔ نے اپنی غزلوں میں ازلی حقیقتوں کی نقاب کشائی کی ہے ۔اپنے مشاہدات کی گہرائی و گیرائی کی بدولت انہوں نے لازوال اشعار کہے ۔         ؎        رگ ِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا                 جسے غم سمجھ رہے ہو اگر اِک شرار ہوتا 13 ۔ تصوّف  :              حکمت و تصوّف کے مسائل کو غزل میں شامل کر کے غالب ؔ نے اردو غزل کو باوقار انداز دیا ۔         ؎        اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا          جو دُوئی کی بُو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا 14 ۔ نئی تراکیب کا استعمال :         نئی تراکیب اور نئے الفاظ کے ساتھ اردو غزل کو نئی شان عطا کرنا غالب ؔ کی اہم خوبی ہے ۔اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے انہوں نے نئی تراکیب وضع کیں ۔نئے الفاظ تلاش کئے ۔یوں اردو غزل کی دلکشی اور جاذبیت میں اضافہ کیا ۔         ؎        نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا          کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر ِ تصویر کا 15 ۔ صنائع و بدائع کا استعمال :              غا لبؔ کے ہاں  صنائع و بدائع کا استعمال بھی ایک منفرد انداز سے نظر آتا ہے ۔ یہ فکر ِ انسانی کو حرکت دینے کا سبب بنتے ہیں ۔یہ کوئی پیچیدگی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان میں مقصدیت نمایاں نظر آتی ہے ۔         ؎        یوسفؑ  اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی             گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق ِ تعزیر بھی تھا 16 ۔ فلسفیانہ انداز :                  اپنے کلام میں غالب ؔ نے شعری نزاکتوں کا التزام رکھتے ہوئے ایسی اچھوتی اور فلسفیانہ بات  بھی کہی جو ان ہی کا حصہ ٹھہریں ۔         ؎        نہ  تھا کچھ تو خدا تھا ،  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا                ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا 17 ۔ آفاقیت  :              غالب ؔ کے کلام میں آفاقیت پائی جاتی ہے ۔یہی سبب ہے کہ ان کو آفاقی شاعر کہا جاتا ہے ۔         ؎        بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا           آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا 18 ۔ حقیقت  پسندی  :             غالب ؔ کا کلام حقیقت پسندی کا مظہر ہے ۔انہوں نے بڑے مؤ ثر انداز میں دنیا کی حقیقتوں کو بیا ن کیا ہے ۔         ؎        بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے                    ہوتے ہیں شب و روز تماشا مرے آگے 19 ۔ دوسرے شعراء کا احترام  :           غالب ؔ اپنے  کلام  کے مقام اور اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے وہ جانتے تھے کہ آپ کا کلام کس مقام اور حیثیت کا حامل ہے ۔وہ خود کہتے ہیں          ؎        ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے                 کہتے ہیں کہ غالب ؔ  کا ہے انداز ِ بیاں اور لیکن اس کے باوجود  وہ  دوسرے شعراء  کی عظمت  کا  اعتراف بھی کرتے ہیں۔         ؎        ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ                    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا 20 ۔ محا ورہ  بندی  :               دیگر شاعرانہ خوبیوں کے ساتھ ساتھ  غالب ؔ کے کلام کی ایک دلکش خوبی محاورہ بندی  بھی ہے ۔         ؎        رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے               دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے       21 ۔ جداگانہ طرز :         غالب ؔ کی روش سب سے ہٹ کر تھی ۔ان کا  انداز جداگانہ تھا ۔وہ ہر بات ایک نئے اور دلکش انداز سے بیان کرتے تھے ۔         ؎        بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ                       کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے         ؎        آتے ہیں یاد حسرت ِ دل کے شمار داغ                   مجھ سے مرے گناہ کا حساب اے خدا نہ مانگ         ؎        نکلنا  خُلد سے آدم کا سنتے  آئے ہیں  لیکن                 بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے نقادوں کی آراء 1۔     علامہ نیاز فتح پوری  غالب ؔ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ                 '' جب تک دنیا میں اردو شاعری کا چرچا رہے گا لوگ نئے نئے عنوانات کے نام سے غالبؔ کے کلام کا مطالعہ کرتے رہیں گے ، '' 2 ۔      پروفیسر رشید احمد صدیقی کے بقول :-                 '' وہ  اردو  شاعری  کی  تنہا  آواز  ثابت  ہوئے  ۔ '' تبصرہ / حرف ِ آخر         غالب ؔ اپنی شاعرانہ خصوصیات کے ساتھ اردو غزل کی ایسی با کمال شخصیت بن کر ابھرے کہ اس صنف کو معراج بخشی ۔ان کی فکری شاعری نے قدرت  کی طرف سے جو جاذبیت ، کشش  اور رعنائی پائی ؛ وہ کسی حال میں کم نہ ہو سکی ۔ غالب ؔ بلا شبہ اردو کے ان شاعروں میں سے ہیں جو اپنی فکر اور اندز ِ کلام سے اردو غزل کا معیار ٹھہرے ۔ ( تیار  کردہ  :   شاکرہ   کاظمی  ) ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

— شاعر پر تبصرہ : ۔۔مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ۔۔( آفاقی شاعر )

شاعر پر تبصرہ            ڈاکٹر سر محمد اقباؔل           شاعر پاکستان/مفکر پاکستان ؎      خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیم       نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ ِ دام ابھی تعارف :     علامہ اقباؔل وہ عظیم  شاعر ہیں جو دیدہ  ور ، عہد آفریں  اور تاریخ ساز شخصیت ہیں  جنھوں نے نہ صرف شاعری کو فنّی لحاظ سے عظمت و رفعت بخشی بلکہ اس کے ذریعے مردہ روحوں میں زندگی کی نئی لہر پھونکی  اور ایک عظیم ذہنی انقلاب برپا کیا۔ قدرت صدیوں میں ایسی شخصیت کو منتخب کرکے بھیجتی ہے  جو اپنے اصلاحی کاموں سے قوم میں حُرّیت و انقلاب کی روح پھونک دیتی ہے ۔ ؎      ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے       بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا حالات ِ زندگی :                آپ کا نام محمد اقبال تھا۔ 9 نومبر 1877 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام نور محمد تھا۔آپ نسلاً کشمیری خاندان سے تھے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے مشن اسکول سے حاصل کی ۔جہاں '' مولوی میر حسن '' جیسے لائق استاد کی صحبت اور رہنمائی حاصل ہوئی  اور آپ میں عربی اور فارسی کا صحیح مذاق پیدا ہوگیا۔سیالکوٹ سے ایف اے پاس کرنے کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور  سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔یہاں آپ کی ملاقات '' پروفیسر آرنلڈ '' سے ہوئی ۔ان کی بدولت آپ میں فلسفے کا ذوق پیدا ہوا ۔چنانچہ آپ نے فلسفہ میں ایم اے کیا۔اورینٹل کالج میں لیکچرار  مقرر ہوئے ، پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ انگلستان روانہ ہو گئے۔وہاں آپ نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔وہاں سے آپ جرمنی چلے گئے  اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔وطن واپس آکر آپ نے وکالت شروع کر دی ۔ سیاست  سے دلچسپی پیدا ہوئی تو پنجاب کونسل کے ممبر ہوگئے اور قومی خدمات سر انجام دینے لگے ۔ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پالستان کا نظریہ پیش کیا۔اپنی سیاست اور شاعری کے ذریعے آپ نے لازوال خدمات  سر انجام دیں ۔1923 ء میں حکومت نے آپ کو '' سر '' کا خطاب دیا ۔جب کہ قوم نے آپ کی دینی  اور ملّی خدمات کے صِلے میں " حکیم الامت ، شاعر مشرق ، مفکر ِ اسلام ، نباض ِ فطرت اور شاعر پاکستان " کے لقب سے نوازا ۔ 21 اپریل 1938 ء  میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔ لاہور کی شاہی مسجد کے باہر آپ کا مزار ہے ۔ تصانیف :       بانگ ِ درا ، بال ِ جبریل  اور ضرب ِ کلیم اردو میں ان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ہیں ۔ باقی کلام فارسی میں ہے ۔جن میں " ارمغان ِ حجاز ، اسرار ِ خودی ، رموز ِ بے خودی ، پیام ِ مشرق ، جاوید نامہ وغیرہ" شامل ہیں ۔ نثر میں "علم الاقتصاد" کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ آپ کی اکثر کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں ۔ علامہ اقباؔ ل کی شاعری کے چار ادوار پہلا دور :       یہ دور 1901 ء سے 1905 ء تک کا ہے ۔ جب آپ ذ یادہ تر غزلیں کہتے تھے  اور داغ ؔ دہلوی سے بذریعہ خط و کتابت اصلاح لیتے تھے ۔ یہاں آپ پر استاد کا رنگ غالب نظر آتا ہے ۔         ؎        نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی            مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی   دوسرا دور:    یہ دور 1905 ء سے 1908 ء تک کا ہے ۔اس دور میں آپ نے نظمیں کہیں ۔ اب اقباؔ ل کا ذہنی افق اور وسیع ہوا ۔ آپ کی نظموں میں حب الوطنی  اور  فطرت پرستی موضوعات بننے لگے ۔ آپ اردو کے بجائے فارسی شعر  کہنے کی طرف مائل ہونے لگے۔ لیکن تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے کم لکھا ۔ تیسرا  دور :       یہ دور  1908 ء سے لے کر 1924 ء تک کا ہے ۔یہ دور قیام ِ انگلستان کا ہے ۔یورپ میں قیام نے ان کی آنکھیں کھول دیں ۔انہیں شدت سے احساس ہوا کہ ہندوستان بد ترین تہذیبی زوال کا شکار ہے ۔ساری دنیا آزادی اور فارغ البالی  سے مالامال ہے ۔ شیخ عبدالقادر  اور آرنلڈ کے مشورے پر آپ نے اپنی شاعری کو مسلمانوں  کی خدمت کا ذریعہ  بنایا اور ان کی فکری اور ذہنی تطہیر  کرنے کی کوشش کی۔ چوتھا دور :     یہ دور 1924 ء سے 1938 ء یعنی آخری عمر تک کا ہے ۔اس دور میں آپ نے انسان کی افضلیت اوع اس کی آفاقی حیثیت کو واضح کیا ۔ انہوں نے فلسفۂ خودی پیش کیا ۔ان چاروں ادوار میں مسلم قوم کی بیداری کا رنگ ہمیشہ قائم رہا ۔ عؒامہ اقباؔ ل کے کلام کی خصوصیات         مسلم قوم کو بیدار کرنے کے لئے  علامہ اقباؔل نے اپنی شاعری کے ذریعے جو تعلیمات دیں وہ حسب ذیل ہیں ۔ 1۔ اتحاد و اتفاق :       اقباؔل اس بات کو جانتے تھےکہ موجودہ پریشانیوں سے بچنے  اور دنیائے عالم میں اپنا مقام بنانے کے لئےتمام مسلمانوں کو اپنے باہمی اختلافات اور تعصبات کو ختم کرنا ہوگا ۔اپنی شاعری کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد اور اتفاق کا درس دیا ۔         ؎        ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے                نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک ِ کاشغر 2۔ مر د ِ مو من :                اقبال ؔ نے اپنے کلام میں مرد ِ مونم کا بڑا پُر زور بیان دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو مرد ِ مومن کی خوبیوں کا آئینہ دار ہونا چاہیئے۔ ؎        یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن           قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں ؎        کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور ِ بازو کا              نگاہِ مرد ِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں 3 ۔ علم و عمل کی تعلیم :   اقبالؔ نے اپنے کلام کے ذریعےمسلمانوں کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی میں فتح و نصرت سے ہم کنار ہونے کے لئے علم و عمل کی راہوں کو اپنانا ہوگا ۔ انھوں نے دورِ حاضر کے فتنوں کی نشان دہی کی  ، بین الاقوامی سازشوں کا پردہ چاک کیا  اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح معاشرتی زندگی کی تعمیر و تسخیر کی جائے ۔انھوں نے قوّت و عمل کی راہں متعین کیں۔ ؎        سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا            لیا جائے گا جھ سے کام دنیا کی امامت کا  ؎        یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح ِ عالم                     جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں 4 ۔ شاھین کا تصوّر :            اقباؔل نے اپنے کلام میں چند باتوں کی وضاحت کے لئے کچھ علامتیں وضع کیں ؛ ان میں شاھین کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔شاھین کو انھوں نے بطور ہمت ، بلند پروازی ، درویشی ، جوش اور اپنے قوّت ِ بازو پر بھروسہ کرنا کے استعمال کیا ہے ۔یہی تمام خوبیاں وہ مسلمانوں اور مردِ مومن میں پیدا کرنا اور دیکھنا چاہتے تھے۔ ؎        شاھیں کبھی پرواز سے تھک کر  نہیں گرتا              پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد ؎        پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں                    کہ شاھیں بناتا نہیں آشیانہ ؎        نہیں تیرا نشیمن قصر ِ سلطانی کے گنبد پر                  تُو شاھیں ہے بسیرا کر پہاڑوں  کی چٹانوں میں ؎        عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں             نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں میں 5 ۔ فلسفۂ زندگی :                قدرت نےعلامہ اقباؔ ل کو فلسفیانہ دماغ عطا کیا  تھا ۔ انھوں نے اپنی شاعری کی سمت تبدیل کی ۔پہلے دور کی غزلیہ شاعری ان کے مزاج کے موافق نہیں تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ جلد ہی انھوں نے اپنا رُخ وطنیت  کی طرف موڑ دیا ۔وہ خدا کے بتائے  ہوئے راستے کوانسان کا مقصد اور نجات کا ذریعہ سمجھتے  ہیں ۔ عشق ِ خدا  اور عشقِ رسول ؐ کو انھوں نے زندگی کا مقصد جانا۔ان کے نزدیک زندگی مسلسل حرکت و عمل کا نام ہے ۔ ؎        زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ             جاوداں ، پیہم رواں ، ہر دم جوں ہے زندگی ؎        قوّ ت ِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے                 دہر سے اسم ِ محمد ؐ  سے اجالا کر دے 6۔ فلسفۂ  خودی  :                اقباؔل کے پیش کردہ  فلسفۂ خودی  سے پہلے  خودی فخر و غرور  قسم کی کوئی چیز سمجھی جاتی تھی۔ اقباؔ ل نے اس کے معنی میں انقلاب پیدا کر دیا ۔آپ نے اسے  اپنی  صلاحیتوں کوپرکھنے اور استعمال میں لانے  کے معنی دئے ۔یعنی خود شناسی اور اعتماد اور یقین ۔یہ عرفاں ِ ذات کا دوسرا نام ہے۔ خودی کے جذبے کے ساتھ ساتھ  انھوں نے جدوجہد اور آزادی کا درس دیا ۔وہ کہتے تھے کہ خودی تمام مسائل کا حل ہے َ ؎        تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے         جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو رُو سیاہی ؎        خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے         خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے ؎        خودی کیا ہے رازِ درون ِ حیات                       خودی کیا ہے بیداریِ کائنات         ازل اس کے پیچھے ابد سامنے                 نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے 7 ۔ فلسفۂ حرکت و عمل :                 اقباؔل نے حرکت و عمل کو زندگی کی شرطِ اوّل قرار دیا ہے ۔اقباؔ ل نے اپنے فلسفیانہ انداز میں انسان کو کسی بڑے مقصد کا پابند بنایا ۔ انھوں نے بتایا کہ بے مقصد عمل گمراہ کرتا ہے ۔وہ عمل جو کسی مقصد کے تعین کے ساتھ شروع کیا جائے وہی انسان کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔ ؎        عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی               یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ خاکی ہے 8 ۔ فلسفۂ عشق :         اقبال ؔ نے جذبۂ عشق کو بڑی اہمیت دی ہے ۔کیونکہ اسی کی بدولت انسان  اور خدا  کا رشتہ قائم ہے ۔ ان کےنزدیک عشق وہ جذبہ  نہیں جو انسانی حواس پر چھا کر اسے بے کار  کر دے ۔ بلکہ عشق تو انسان کو تیز گام کر دیتا ہے  ، جدوجہد کے سلسلے کو آگے آگے بڑھاتا ہے ۔ان کے نزدیک مسلمان  مصلحت پسند عقل کے جھانسے میں نہیں آتا  بلکہ باطل کے لئے ایک برہنہ شمشیر بن جاتا ہے  ۔ ؎        عشق قاصد سے سبک گام ِ عمل                       عقل سمجھی ہی نہیں معنی ِ پیغام ابھی ؎        صبح ِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرائیل نے                    جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول ؎        بے خطر کود پڑا آتش ِ نمرود میں عشق                  عقل ہے محوِ تماشائے لب ِ بام ابھی 9 ۔ اسلام ازم : اقباؔل کے نزدیک تصوّ ر ِ وطن ایک وسیع معنوں میں تھا ۔ وہ ملّت ِ اسامیہ کو ایک اکائی تصوّر کرتے تھے۔ ؎        ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے                        نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک ِ کاشغر         اپنے کلام کے ذریعے اقباؔل نے یہ بات واضح کردی  کہ مذہب اور سیاست کسی طرح جدا نہیں ۔دونوں ایک دوسرے سے منسلک اور مربوط ہیں ۔ ؎        جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو                   جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی یہی وہ اسلام ازم ہے جو اقباؔل نے اپنے کلام  کے ذریعے پیش کیا ۔ 10 ۔ تعمیر ِ ذہن :               اقباؔل نے اپنے کلام کے ذریعے  مسلمانوں کے ذہن کی تعمیر کی ۔ان کے اذہان میں موجود شکوک و شبہات کو دور کرکے  ان کو یقین کی منزل پر لا کھڑا کیا۔آپ نے آنے والے دور کی علامتیں سمجھا کر تیار رہنے کا طریقہ سمجھایا ۔ ؎        سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا          لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا 11 ۔ شاعرانہ مصوّری اور منظر نگاری :          اقباؔ ل نے اپنے کلام میں مناظرِ فطرت کی بڑی خوب منظر نگاری ہے ۔گویا اپنے شاعرانہ قلم سے مصوّری کی ہے ۔وہ مناظر ِ فطرت کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا تصویر اتار کر رکھ دیتے ہیں ۔انھیں اپنے خیالات کو پیش کرنے کا کمال حاصل ہے ۔ ؎        سورج نے جاتے جاتے شام ِ سیہ قبا کو           طشتِ افق سے لے کر لالے کے پھول مارے 12 ۔ اقباؔ ل اور تصوّف : اقباؔل کے کلام میں تصوّف  پسندی پوری طرح واضح ہے ۔ لیکن اس حوالے سے بھی وہ اپنی قوم کو باعمل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ؎        یہ ذکر ِ نیم شبی ، یہ مراقبے ، یہ سرور           تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں ؎        رہ گئی رسم ِ اذاں  ، روح ِ بلالی نہ رہی           فلسفہ رہ گیا ، تلقینِ غزالی نہ رہی 13 ۔ اقباؔل اور تزکیہ ِ نفس :             اقباؔل نے اپنے کلام  کے ذریعے لوگوں کو تزکیہ ِ نفس کی تعلیم دی ۔وہ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے کے لئے محنت کرنی چاہیئے ۔ ؎        دل سوز سے خالی ہےنظر پاک نہیں ہے                پھر اس میں عجب کیا کہ تُو بے باک نہیں ہے 14 ۔ قومی شاعری :            اقباؔ ل کے دور میں قوم بڑے نازک مرحلے سے گزر رہی تھی ۔ فکری انتشار اور بے زاری قوم پر غالب تھی۔ قوم میں حوصلے اور جرات کے جذبات جگانے کے لئے  اقباؔ ل نے ان کو عظمت ِ رفتہ کے منظر دکھائے؛ ماضی کی کہانی سنا کر مستقبل کے لئے تیار کیا ۔ ؎        کبھی اے نوجواں مسلم ! تدّبر بھی  کیا تُو نے            وہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارہ         تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت نے               کُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا 15 ۔ انقلابی شاعر :             اقباؔل انقلابی شاعر تو ہیں لیکن وہ اس صف میں نہیں کھڑے  جو صرف انقلاب کے نعرے بلند کرتے ہیں ۔ وہ تو ذہنوں کو تعمیر کر رہے تھے۔ تاکہ انقلاب کے موقع پر لوگ کسی انتشار یا بے یقینی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ؎        نہ تُو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے               جہاں ہے ترے لئے ، تُو نہیں جہاں کے لئے ؎        ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں           ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 16 ۔ فارسیت اور باوقار زبان : اقباؔل کا بیشتر کلام فارسی میں ہے ۔اردو کلام میں بھی فارسی  الفاظ کی کثرت ہے۔فارسی الفاظ و تراکیب نے کلام میں ایک حُسن اور دلکشی پیدا کر دی ہے ۔مجموعی طور پر علامہ اقباؔل کا کلام باوقار اور شستہ رفتہ زبان کا آئینہ دار ہے ؎        گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر               ہوش و خِرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر 17 ۔ تراکیب کی جدّت :        علامہ اقباؔل نے نئی نئی تراکیب وضع کیں ۔اردو ادب کو انھوں نے تراکیب کا نادر و نایاب ذخیرہ فراہم کیا۔ مثلاً برق نگاہ ، آئینہ پوش ، بزم سخن پیکر ، جگر ِ لالہ ، چراغ ِ مصطفویؐ ، دیدۂ بینا   اور شامِ سیہ قبا وغیرہ۔ ؎        جس سے جگر ِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم                        دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان ؎        محروم ِ تماشہ کو پھر دیدۂ بینا دے                      دیکھا ہے جو کچھ میں نے اووروں کو بھی دکھلا دے 18 ۔ نادر تشبیہات و استعارات :       اقباؔل کی شاعرانہ عظمت ان کا نادر تشبیہات اور استعارات کا استعمال بھی ہے ۔اس سے ان کے کلام کی تاثیر میں اضافہ ہوا ہے ۔ ؎        جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں              یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں 19 ۔ بچوں کے لئے نظمیں :             اقباؔل نے بچوں کے لئے بھی بے شمار اخلاقی اور اصلاحی نظمیں لکھیں ۔اِن نظموں کے ذریعے آپ نے اُن کے ذہن کی اخلاقی آبیاری کی۔ مکڑا اور مکھی ، ہمدردی ، جگنو اور شمع ، پہاڑ اور گلہری ، گائے اور بکری ، بچے کی دُعا ، ماں کا خواب  اور پرندے کی فریاد اس کی واضح مثالیں موجود ہیں ۔ ؎        ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا                       بُلبُل تھا کوئی اُداس بیٹھا ؎        کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اِک گلہری سے                      تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے 20 ۔اقباؔل اور عشق ِ نبیؐ :               اقبالؔ کی زندگی اور ان کا کلام عشقِ بنیؐ میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے ۔ان کے کلام میں جا بجا ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے ان کی حضور ِ پاک ؐ سے محبت اور احترام جھلکتا دکھائی  دیتا ہے ۔ ؎        کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں                   یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 21 ۔ دعائیہ کلام اور مناجات :          اقباؔل کے کلام  میں صرف نوجوانون کی تعمیر و ترقی کے لئے ہی اشعار نہیں ملتے ؛ بلکہ بہترین دُعائیہ اشعار اور مناجات بھی ملتی ہے ۔اقباؔل اس بات سے آگاہ تھے کہ اگر اللہ کے حضور سچے دل سے دعا مانگی جائے تو وہ ضرور شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے ۔یہ دعائیں انھوں نے اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ امت ِ مسلمہ کے لئے مانگی ہیں ۔ ؎        یا رب ! دل ِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے                 جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے 22 ۔ زندہ و جاوید شاعری :             اقباؔل کا کلام ایک زندہ و جاوید کلام ہے ۔زندہ و جاوید کلام اُسے کہتے ہیں جو ہر دور اور ہر زمانے کے لئے ہو ۔آج بھی اگر اقباؔل کا کلام پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ آج کے حالات کے مطابق ہے ۔اسے آج بھی پڑھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔ ؎        فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں                        کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؎        خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے                 خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے 23 ۔ اقباؔل اور غزل :          اقباؔل بنیادی  طور پر نظم کے شا عر ہیں ۔لیکن غزل گوئی میں بھی ان کا اپنا منفرد مقام ہے ۔غزل کے تمام لوازم کے ساتھ اُن کی غزلیں اپنے بام ِ عروج پر نظر آتی ہیں ۔ ؎        نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں         نہ وہ غزنوی  میں تڑپ رہی ، نہ وہ خم ہے زلف ِ ایاز میں                 کبھی اے حقیقت ِ منتظر نظر آ لباس ِ مجاز میں      کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں 24 ۔ اقباؔل اور نظم :    نظم اقباؔل کی شاعری کا نقطۂ عروج ہے ۔آپ کی بے شمار مو ضوعات پر  لکھی گئی نظمیں  اپنی مثال آپ ہیں ۔ ؎        اُٹھائے ورق کچھ لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گُل نے           چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری         24 ۔ اقباؔل کی  عظمت :  اقباؔل کی شاعری کی آب و تاب کسی سے پوشیدہ نہیں ۔بہ طور قومی شاعر آپ نے اپنی عظمت کے سکّے جما دئیے ۔اقباؔل کے بغیر اردو شاعری کا تذکرہ نا مکمل ہے ۔ آپ کے کلام کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور یہ ایک تحقیقی موضوع بنا ہوا ہے ۔مختلف اداروں اور بین الاقوامی جامعات میں " فکر ِ اقباؔل " پر تحقیقات کا کام جاری ہے ۔ ؎        خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی            نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا نقادوں کی آراء :               آل ِ احمد سرور کہتے ہیں :-         " اقباؔل کی کوششوں سے جدید اردو شاعری میں ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا ہوا ہے۔"                 بابائے اردو مولوی عبد الحق کہتے ہیں :-         "حالیؔ کی طرح اقباؔل نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام کیا ۔"                 عبدالقادر سروری کہتے ہیں کہ :-         "اقباؔل اردو شاعری کے ایسے دور کے موجد ہیں جن کا بڑا وصف رفعت ِ خیال  اور فلسفیانہ بلند آہنگی ہے ۔" حاصل ِ گفتگو :   اقباؔل کی شاعری فکر و فلسفہکا ایسا گہرا رچاؤ ہے کہ ان کے شاعرانہ محاسن اور لطافتوں پر چنداں توجہ نہیں جاتی ۔لیکن اگر اس پر توجہ کریں تو اس اعتبار سے بھیاقباؔل بڑے شاعر ہیں ۔آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت کو راہ دکھلائی ۔آپ کے انقلابی نعرے اور عمل ِ پیہم کی تلقین نے مسلمنوں کو راہِ نجات دکھائی۔ ؎        نہیں ہے نا امید اقباؔل اپنی کشت ِ ویراں سے             ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

— شاعر پر تبصرہ ۔۔ڈاکٹر سر محمد اقباؔل ۔شاعر پاکستان/مفکر پاکستان

شاعر پر تبصرہ :                          خواجہ میر دردؔ          صوفی شاعر/صوفیانہ شاعری کے امام ؎      تا   قیا  مت   نہیں     مٹنے    کا     دل ِ   عا لم   سے       دردؔ   ہم  اپنے عِوَض  چھوڑے  اَثر  جاتے  ہیں تعارف :      خواجہ میر دردؔ دلّی کے اُن معروف شعراء میں سے ہیں جو دبستان ِ دہلی کی پہچان  اور شان کہلاتے ہیں ۔آپ کو صوفی شاعری کا امام مانا جاتا ہے ۔آپ کو کئی اعتبار سے امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ آپ ایک بلند فکر ، درویش صفت اور صاحب ِ حال انسان تھے ۔ جن کی زندگی توکل کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے ۔آپ کی شاعری میں تغزل کے ساتھ ساتھ تصوّف بھی ہے ۔اس کے علاوہ علم و معرفت کا خزانہ بھی موجود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام معاصر اور متاخر تذکرہ نگار آپ کا نام بڑے ادب و احترام سے لیتے ہیں تحریر کی خوبیاں 1 ۔ تصوّف کا رنگ :  خواجہ میر درد ؔ کی زندگی اور شاعری دونوں تصوّف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ اسی سبب سے انہیں سب سے بڑے صوفی شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ان کا منفرد انداز بیان ، تصوّف کے اہم نکات اور معرفت ان کو دیگر صوفی شعراء سے ممتاز کرتی ہے ۔         ؎        ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے         تجھ سوا بھی جہن میں کچھ ہے         ؎        جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا                تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا 2 ۔ سادگی ِ زباں :    دردؔ کا کلام تکلّف سے پاک ہے ۔ان کی زبان سادہ اور انداز دلکش ہے ۔ سلاست اور متانت ان کی شاعری کے خاص جوہر ہیں  ؛ جو کلام میں حُسن پیدا کرتے ہیں ۔         ؎        اذّ یت ، مصیبت ، ملامت ، بلائیں       ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا         ؎        آتش ِ عشق جی جلاتی ہے             یہ بلا جان پر ہی آتی ہے 3 ۔ منفرد بلند آواز :   درد ؔ کا کلام ان کی پاکیزہ زندگی کا آئینہ دار ہے ۔اُن کا دور شاعری کے عروج کا دور تھا ۔ لیکن ہندوستان کی آزادی سَلب ہونے ، افراتفری اور بد حالی کا بھی یہی دور تھا ۔ درد ؔ کا کمال یہ ہے کہ اس دور میں بھی انہوں نے اپنے منفرد انداز اور لب و لہجے کو بلند رکھا  اور اردو شاعری کو تصوّف اور توّکل جیسی خوبیوں سے مہمیز رکھا ۔         ؎        مدرسہ یا دیر تھا ، کعبہ یا بت خانہ تھا    ہم سبھی مہماں تھے واں بس تُو ہی صاحب ِ خانہ تھا         ؎        ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے  میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے 4 ۔ حوصلہ مندی :    درد ؔ کا دور تاریخی اعتبار سے پُر آشوب دور تھا ۔نا سازگار حالات اور فکر معاش کی وجہ سے کئی شعراء لکھنؤ یا دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے ۔لیکن دردؔ نے نہ صرف حالات ِ زمانہ کا مقابلہ کیا ؛ بلکہ حوصلہ مندی کا درس بھی دیا ۔         ؎        آیا نہ اعتدال پہ ہر گز مزاج ِ دہر      میں گرچہ گرم و سرد ِ زمانہ سمو گیا         ؎        حیران آئینہ دار ہیں ہم             کس سے دوچار ہیں ہم 5 ۔ حُسن ِ بیا ں :       زبان و بیان کا حُسن دردؔ کے کلام کا خا صہ ہیں ۔  آپ نے خوب صورت اور نادر تشبیہات ، استعارات ، تلمیحات  اور مرکبات سے کلام کو چار چاند لگا دئیے۔روز مرہ اور محاورے کے استعمال پر انہیں مہارت حاص تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ رفعت و ہمہ گیری میں ان کا کلام بہتریں مثال ہے ۔         ؎        طوفان ِ نوح ؑ نے تو ڈبوئی زمیں فقط     میں ننگ ِ خلق ساری خدائی ڈبو گیا         ؎        زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے         ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے 6 ۔ بے ثباتی ِ حیات : درد ؔ کے کلام میں جا بجا دنیا کی بے ثباتی کا رنگ جھلکتا ہے ۔ ایک صوفی شاعر ہونے کی حیثیت سے  اپنے کلام میں واضح طور پر اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ اپنے کلام کے ذریعے عارضی دنیا سے بے رغبتی  اور اصل دنیا  کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔         ؎        دنیا میں کون کون نہ یک بار ہوگیا     پھر منہ نہ اس طرف کیا اُس نے کہ جو گیا         ؎        دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب      کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے 7 ۔ موسیقیت اور ترنم :      درد ؔ ایک روکھے اور خشک مزاج صوفی نہ تھے۔آپ موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے ۔ آپ کے کلام میں نغمگی کا احساس ہوتا ہے ۔ ان کی غزلیں موسیقی کی خاص دھُنوں پر پوری اترتی ہیں ۔         ؎         سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا                بس ہجوم ِ یاس ! جی گھبرا گیا         ؎        تہمت ِ چند اپنے ذمے دھر چلے       جس لئے آئے تھے ہم سو کر چلے 8 ۔ مفہوم کی وسعت :        دردؔ کے ہاں سادگی ِ بیاں کے ساتھ ساتھ مفہوم کی وسعت و گہرائی بھی موجود ہے ۔ ان کا کلام پڑھ کر معنی و مفہوم کے کئی در وا ہو جاتے ہیں  اور مطالب کی کئی تہیں کھُلتی چلی جاتی ہیں ۔         ؎        دل آ گیا ہے اُس بُت ِ کافر کے ہاتھ میں          اب میرے حق میں دیکئے اللہ کیا کرے         ؎        باغ ِ جہاں کے گُل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں                گر یار ہیں تو ہم ہیں ، اغیار ہیں تو ہم ہیں 9 ۔ غزل کا رنگ :            دردؔ کی شاعری میں ایک طرف تو جہاں تصوّ ف کا گلشن مہک رہا ہے ؛ دوسری جانب رنگ ِ تغزل اپنا جلوہ دکھا رہا ہے ۔اُن کے کلام میں غزل کی تمام خوبیاں نظر آتی ہیں ۔         ؎        دردؔ کوئی بلا ہے وہ شوخ مزاج                       اُس کو چھیڑا ، بُرا کیا تو نے 10 ۔ قبول ِ عام :      کسی شاعر کا کمال ِ فن یہ ہے کہ اس کا کلام زبان زد ِ عام ہو جائے ۔ ہر انسان اسے اپنے کلام یا گفتگو میں استعمال کرے ۔ وہ ضرب المثل بن جائے ۔ دردؔ کے اکثر اشعار اردو زبان میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں ۔         ؎        دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو           ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں 11 ۔ نظریہ وحدت الوجود : دردؔ کا سلسلہ نسب مشہور بزرگان ِ دین سے ملتا ہے ۔ اسی لئے وہ تمام مذہبی رہنماؤ ں کے امام بھی تھے۔ اسی سبب سے ان کے کلام میں مذہبی رنگ کے ساتھ ساتھ تصوّف کے کئی اہم نکات ملتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے کلام میں جا بجا نظریہ وحدت  الوجود کو پیش کیا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں قائم اور باقی رہ جانے والی صرف اللہ کی ذات ہے ۔ باقی سب فنا ہو جائے گا ۔         ؎        بیگانہ گر نظر پڑے ، تُو آشنا کو دیکھ             بندہ گر آوے سامنے ، تو بھی خدا کو دیکھ 12 ۔ امتزاج ِ مجاز و حقیقت :         دردؔ کے کلام میں عشق ِ حقیقی او رعشق ِ مجازی کا امتزاج نظر آتا ہے ۔ ان کے اکثر اشعار میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔         ؎        کچھ ہے خبر کہ اُٹھ اُٹھ کے رات کو             عاشق تری گلی میں کئی بار ہو گیا         ؎         اپنے ملنے سے منع مت کر                    اس میں بے اختیار ہیں ہم لوگ 13 ۔ سوز و گداز :    دردؔ کے کلام میں سادگی اور حقیقت نگاری ہے ۔ یہ سوز و گداز کا مُر قع ہے ۔ ان  کے قلم سے نکلا ہوا  ہر لفظ دل پر اثر کرتا ہے ۔         ؎        زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے                  ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے         ؎        آیا نہ اعتدال پہ ہر گز مزاج ِ دہر              میں گرچہ گرم و سرد ِ زمانہ سمو گیا 14 ۔ عظمت ِ انسانیت :          دردؔ کے کلام کا ایک طاقتور عنوان عظمت ِ انسانیت ہے ۔ اکثر شعراء کے کلام میں ایسی نظیر نہیں ملتی ۔         ؎        ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے          میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے   15 ۔ نظریہ وحدت الشھود :              نظریہ وحدت الشھود  بھی دردؔ کے کلا م کا اہم مو ضوع رہا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی گواہی دے رہی ہے  اور مظہر ِ خداوندی ہے ۔         ؎        مدرسہ یا دیر تھا ، کعبہ یا بُت خانہ تھا            ہم سبھی مہماں تھے واں ، بس تُو ہی صاحب ِ خانہ تھا نقادوں کی آراء         میر حسن لکھتے ہیں :                 '' دردؔ آسمان ِ سخن کے خورشید ہیں ۔ ''         مرزا علی لطف کے بقول :                 '' اگرچہ دیوان ِ دردؔ بہت مختصر ہے ، لیکن سراپا درد و اثر ہے ۔ ''         بقول  عظمت اللہ خان :                 '' دردؔ صوفیانہ شاعری کے باوا آدم ہیں ۔''         رام بابو سکسینہ کہتے ہیں :                 '' دردؔ اردو شاعری کے تاج کا سب سے بڑا نگینہ ہیں ۔''     حاصل ِ تحریر         دردؔ ایک صوفی شاعر ہیں ۔آپ کو تصوف کا امام بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ صوفیانہ مزاج کے حامل تھے۔ آپ کے کلام میں تصوّف کے کئی اہم  نکات ملتے ہیں ۔جن میں نظریہ وحدت الوجود   ، نظریہ وحدت الشھود نمایاں ہے ۔ آپ کی زبان سادہ  اور پُر اثر تھی ۔ جس میں ترنم اور موسیقیت کا رنگ جھلکتا ہے ۔  مفہوم کی وسعت ان کے  کلام کی ایک واضح خوبی ہے ۔ ( تیار کردہ  : شاکرہ کاظمی ) ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

— شاعر پر تبصرہ : ۔خواجہ میر درد۔۔صوفی شاعر/صوفیانہ شاعری کے امام

نثر نگار پر تبصرہ :                 ڈپٹی نذیر احمددہلوی( شمس العلماء)        ناول نگار تعارف:      ڈپٹی نذیر احمد  پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو ادب میں ناول سے معاشرتی اصلاح کا کام لیا ۔آپ بہ طور ِ خاص طبقۂ نسواں کی اصلاح کی طرف مائل ہوئے ۔ حالات ِ زندگی :   نذیر احمد 6 دسمبر 1836 کو ضلع بجنور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولوی سعادت علی سے حاصل کی ۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد محکمۂ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی ۔اسی زمانے میں '' انڈ ین پینل کوڈ '' کا ترجمہ'' تعزیرات ِ ہند '' کے نام سے  کیا ۔ جو حکام کو بہت پسند آیا  اور تحصیل دار مقرر ہوئے ۔ بعد میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ اسی نسبت سے آپ کے نام کے ساتھ ڈپٹی لگایا جاتا ہے۔کچھ عرصہ حیدر آباد دکن میں ممبر بورڈ آف ریوینیو کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں ملازمت ترک کرکے دہلی آگئے ۔3 مئی 1912 ء کو آپ کا انتقال ہو گیا ۔ ڈپٹی نذیر احمد کی ادبی خدمات کے   پیش ِ نظر حکومت نے شمس العلماء کا  خطاب دیا ۔پنجاب یونیورسٹی نے ڈی ۔او۔ایل  اور انگلستان کی ایڈنبرا یو نیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی ڈگریاں عطا کیں۔ تصانیف : مراۃ العروس ، بنات النعش ، توبتہ النصوح ، ابن الوقت ۔ فسانۂ مبتلا ، رویائے صادقہ ، محسنات ، الحقوق والفرائض، ترجمہ قرآن مجید وغیرہ ۔ طرز تحریر کی خصوصیات 1۔ ناول نویسی کے بانی  :   نذیر احمد اردو ناول نویسی کے بانی مانے جاتے  ہیں ۔ '' مراۃ العروس '' اردو کا اولین ناول ہے ۔یہ 1869 ء میں شائع ہوا۔ 2۔ پلاٹ  ، کردار اور مکالمہ نگاری  :   کسی  ناول میں پلاٹ ، کردار اور مکالمے   خاص اہمیت  کے حامل  ہوتے ہیں  ۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں پلاٹ مکمل اور واضح ہوتے ہیں ۔ان میں ابتدا ، وسط اور تکمیل کا  احساس بھی  پایا  جاتا ہے  ۔ان کے کردار  اسم با مسمیٰ ہوتے ہیں ۔ناموں ہی سے ان کی اصلیت واضح ہو جاتی ہے ۔البتہ ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو اپنے تعارف سے زندہ  رکھتے ہیں ۔اگر کسی کردار کو نیک بتانا  مقصود ہو توبڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں  کہ فرشتہ ہی بنا دیتے ہیں۔اور اگر برا بتانا ہو تو   اتنا گرا دیتے ہیں کہ شیطان لگتا ہے ۔وہ خود اپنے منفرد عمل سے زندہ نہیں رہتے ۔نذیر احمد عورتوں کی زبان اور طرز گفتگو سے خوب واقف ہیں ۔وہ بے تکلف مکالمے لکھتے چلے جاتے ہیں۔جن میں سلاست اور روانی پائی جاتی  ہے ۔ 3۔ مُدعا نگاری :               ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں با مقصد ہوتی ہیں ۔ انہوں نے جتنے بھی ناول لکھے وہ تعلیمی ، اخلاقی  اور مذہبی نقطۂ نظر سے لکھے ۔ وہ سر سید کے ساتھ فکری و قلمی تحریک میں شامل تھے ۔ اسی لئے انہوں نے  مسلمانوں کی اصلاح کو اپنا مقصد بنایا۔ 4 ۔ معاشرے کی عکاسی :     سر سید کی اصلاحی تحریک کو نذیر احمد نے اپنی تحریروں سے قوّت بخشی ۔انہوں نے معاشرتی زندگی کی سچی تصویر پیش کی ۔انہوں نے مافوق الفطرت قصوں اور طوطا مینا کی کہانیوں سے نکل کر اصلاح معاشرت اور اخلاقیات سے اپنے ناول مکمل کئے  اور ادب کو زندگی کے قریب کیا۔ 5۔ رواں اسلوب :           نزیر احمد کا  طرز تحریر سادہ ، اور رواں ہے ۔ وہ دہلی کی ٹھیٹھ اور ٹکسالی زبان میں لکھتے ہیں ۔ محاورات کا استعمال بھی بڑے سلیقے سے کرتے ہیں ۔ جس سے زبان میں تاثیر پیدا ہو گئی ہے ۔ 6 ۔ مقصدیت :               قوم کی اصلاح کی خاطر نذیر احمد نے اپنے ناولوں سے دین داری ، خدا پرستی  اور اصلاح ِ معاشرت کا کام لیا ۔انہوں نے اپنے ناول کسی نہ کسی  مقصد   کےتحت لکھے ۔وہ قصہ نویس سے ذیادہ واعظ تھے ۔ 7۔ روایت شکنی :              نذیر احمد نے غیر فطری انداز چھوڑ کر حقیقی زندگی کے موضوعات کاا نتخاب  کیا ۔بھوتوں ، پریوں اور غیر حقیقی کرداروں اور کہانیوں کے بجائے گرد و پیش کی ندگی سے  موضوعات کا انتخاب کیا۔اور ان میں اصلیت کا رنگ بھرا ۔اس طرح آپ نے صدیوں پرانی روایت توڑ کر روایت شکنی کی ۔ 8 ۔ پُر جوش اندازِ بیان :       نذیر احمدکا انداز بیان بڑا پر جوش ہے ۔ ان کے کرداروں کی گفتگو بعض اوقات سراپا تقدیر معلوم ہوتی ہے  ۔ 9 ۔بے تکلفی :         آپ کی تحریروں میں بے تکلفی اور بے ساختگی  کا عنصر نمایاں ہے ۔ اپنے ناولوں میں موضوع کو بے ساختگی اور بے تکلفی سے ادا کرتے چلے جاتے ہیں ۔کسی قسم کی بناوٹ اور تکلف سے کام نہیں لیتے ۔ 10 ۔ سادگی اور دل نشینی  :          ڈپٹی نذیر احمد کی زبان سادہ اور دل نشین ہے ۔اپنا مقصد  بیان کرنے کے لئے وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ  بات پڑھنے والے کے دل  میں اترتی چلی جاتی ہے ۔ 11 ۔ خطیبانہ رنگ  :        ڈپٹی نذیر احمد کا رنگ اور انداز  خطیبانہ ہے ۔جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں جوش و اثر پایا جاتا ہے ۔بعض مقامات پر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی خطیب خطبہ دے رہا ہو اور نصیحت کر رہا ہو ۔توبتہ النصوح اور ابن الوقت میں اس کی بے شمار مثالیں نظر آتی ہیں ۔ 12 ۔ وسعت ِ نظر :   ان کی تحریروں میں معاشرے کی اصلاح کا جذبہ وسعت ِ نظر کے ساتھ ملتا ہے ۔مسلمان گھرانوں کی اصلاح کے لئے وہ مذہبی نظریات اور اس کے علاوہ معاشرتی اقدار کا پر چار کرتے چلے گئے ۔ 13 ۔ عربی اور فارسی کے نامانوس الفاظ کا استعمال  :          اگرچہ نذیر احمد کی زبان سادہ اور سلیس ہے لیکن محاورں کی کثرتاور عربی و فارسی کے نا مانوس الفاظ  کا استعمال گراں معلوم ہوتا ہے ۔بقول مرزا فرحت اللہ بیگ         '' نذیر عربی اور فارسی کے الفاظ نہیں لاتے بلکہ پہاڑ کھڑا کر دیتے ہیں ۔'' 14 ۔ عورتوں کی زبان کا استعمال  : نذیرعورتوں کی زبان اور طرز گفتگو سے خوب واقف ہیں ۔عورتوں کے مکالمے بیان کرنے پر انہیں قدرت حاصل ہے ۔مراۃ العروس میں آپ نے دہلی کے شریف خاندان کی معاشرت کا ہو بہو نقشہ کھینچا ہے ۔ 15 ۔ انگریزی الفاظ کا استعمال :      آپ نے اپنی تحریروں میں انگریزی الفاظ سے بھی جا بجا کام لیا ۔لیکن اس سے تحریر میں کوئی حسن پیدا نہیں ہوا ۔ 16 ۔ محاورے استعمال کرنے کا شوق :               نذیر کو محاورے استعمال کرنے کا بہت شوق تھا ۔ان کے ہاں عوامی اور علمی دونوں طرح کے محاورے ملتے ہیں ۔لیکن محاوروں کی کثرت اکثر گراں محسوس ہوتی ہے ۔جن میں بے تکلؔف نسوانی محاورات بھی شامل ہیں ۔آپ نے قرآن پاک کا پہلی مرتبہ  با محاورہ اردو نثر میں ترجمہ کیا ۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ترجمے کی خامیوں ، زبان اور محاورے کی آزادیوں کی وجہ سے کفر تک کے فتوے لگا دئے ۔ 17 ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حامی :     آپ نے اپنے ناولوں سے معاشرے کی اصلاح کا کام لیا ۔اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہ تھی ۔نذیر احمد نے اس ضرورت کو محسوس کیا ۔اور اپنے ناولوں کے ذریعے تعلیم ِ نسواں کی اہمیت اور ضرورت پر غور  دیا ۔ 18 ۔ شوخی و ظرافت  :      نذیر احمد ایک زندہ دل  اور ظریف آدمی تھے ۔ یہی ظرافت اور زندہ دلی ان کی تحریروں میں بھی ملتی ہے ۔جو ایک شگفتگی کے دائرے سے آگے نہیں بڑھتی ۔وہ تبسم تو بن جاتی ہے مگر قہقہہ نہیں بنتی۔ 19 ۔ بہ حیثیت ناول نگار :    آپ اردو  کے پہلے ناول نگار ہیں ۔ اپنی بیٹی کو پڑھانے کے لئے جو کتا ب آپ نے لکھی وہ مراۃ العروس کے نام سے شائع ہوئی ۔ اپنی تعمیری صلاحیتوں کی بدولت آپ ایک ممتاز جگہ پرکھرے ہین ۔آپ نے اپنے ناولوں کو درس و اخلاق کا ذریعہ بنایا ۔آپ ترجمان ِ زندگی تھے ۔ نذیر احمد کے ناولوں کی وہی حیثیت  ہے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی  کے بعض انگریزی قصوں کی ہے ۔نذیر احمد کے ناول ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ 20 ۔ بہ حیثیت مترجم :       نذیر احمد نے ناولوں اور دوسری تصانیف کے علاوہ ترجمے بھی کئے ۔حکومت کے ایما پر انہوں نے قانون ، انکم ٹیکس  اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ '' تعزیرات ِ ہند '' کیا ۔ اس کے علاوہ آپ نے قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیا ۔ 21 ۔ نذیر احمد کی عظمت :    لوگ چاہے نذیر احمد پر کتنے ہی اعتراض کئے جائیں  اور ان کی  خامیاں گنوائیں ۔ پھر بھی ان کی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔آپ نے جس قدر علمی خزانہ چھوڑا ہے  وہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو ان کی یاد دلاتا رہے گا ۔ ناقدین کی رائے :                 بقول مہدی آفادی :-                 '' زمانہ کتنی ہی ترقی کرے ، اس علم کے پتلے کو پھر پیدا نہیں کر سکتا ۔''          پروفیسر آل ِ سرور کہتے ہیں :-                 '' مسلمانوں کی زوال آمادہ سوسائٹی  میں تہذیب ِ نسواں نذیر احمد کے ناولوں  میں اہم مقصد کا درجہ رکھتا ہے ۔ ''         '' ان کے ناول بڑے شوق سے پڑھے جاتے ہیں ۔یہ الماریوں میں نہیں بلکہ دلوں میں محفوظ ہیں ۔یہی ان کی ابدی زندگی کی ضمانت ہے ۔''         ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کہتے ہیں ۔         '' نذیر احمد کو بلا شبہ جدید اردو ناول کا پیش رو قرار دینا چاہیئے۔ '' حاصل ِ تحریر :         ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں بے پناہ خصوصیات کی حامل ہیں ۔جنھیں دائرۂ  تحریر میں لانا یا احاطہ کرنا  ناممکن ہے ۔ بے شک ان کے ناولوں پر بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں ۔لیکن ان کو ناول نگار کہنے میں کسی کو حجاب نہیں ۔ناول نگاری کی تاریخ ان کو خراج ِ تحسین پیش کئے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتی ۔ ؎        نذیر کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال         اس نے دل کی نیکیاں بھر  دی ہیں ہر تصویر میں (تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

— نثر نگار پر تبصرہ :۔۔ڈپٹی نذیر احمددہلوی( شمس العلماء)۔۔ناول نگار

نثر نگار پر تبصرہ                      ڈاکٹر سید محمد عبداللہ                  محقق اور ماہر لسّانیات         ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایک محقق اور ماہر لسانیات کے طور پر ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔انھوں نے لسانیات پر گراں قدر کام کیا۔ اردو زبان کے ارتقا اور فروغ میں ان  کا بھی بہت نام ہے ۔ انھوں نے مقالہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اردو میں ان کے گراں قدر کارنامے ان کی عظمت کا ثبوت ہیں۔ حالات ِ زندگی :         آپ 5 اپریل 1906 ء  میں بنگلور ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد عالم اور حکیم تھے۔ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد لاہور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔1922 میں منشی فاضل کا امتحان ، 1923 ء میں  ایف اے ، اس کے بعد بی اے ، ایم اے فارسی اور عربی کرکے 1935 میں ڈی لٹ کی دگری حاصل کی ۔ آپ زندگی میں مختلف عہدوں  پر فائز رہے ۔ مگر ذیادہ تر  پنجاب یونیورسٹی  سے منسلک رہے ۔آپ اورینٹل کالج  کے پرنسپل بھی رہے ۔عربی فارسی شعبوں کے صدر بھی رہے  اور صدر لائبریرین  بھی رہے ۔ آپ نے پاکستان کی پہلی اردو کانفرنس جامعہ پنجاب میں 1948ء میں  منعقد کروائی ۔جس میں مولوی عبدالحق اور سردار عبدالرب نشتر نے بھی شرکت کی ۔اس اجلاس میں اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ کی تیاری کا منصوبہ منظور ہوا ۔ڈاکٹر سید محمد عبداللہ  نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ۔آپ نے مدیر اعلیٰ  کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں  اور " تاریخ ِ ادبیات مسلمانانِ  پاکستان و ہند" کی 19 جلدوں پر بھی کام کیا ۔آپ نے تحریکِ خلافت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا 1921 ء میں اس وجہ سے آپ کو 6 مہینے کی قید و بند کی سزا بھی دی گئی ۔1986 ء میں آپ کا انتقال ہوا ۔ تصانیف :                ڈاکٹر سید عبداللہ 30 کتابوں کے مصنف تھے ۔وہ " زبیر ہزاروی " کے قلمی نام سے مضامین  بھی لکھتے رہے ۔ آپ بطورِ خاس تاریخِ اردو اور ادبی تنقید سے دلچسپی رکھتے تھے۔ و ہ پاکستانی تہذیب کے موضوع  پر بھی لکھتے تھے ۔ اردو کے مسائل پر کئی انگریزی اخبارات میں مضامین بھی لکھے ۔ لسانیات کے موضوع  پر بھی آپ نے ٹھوس تعمیری کام کیا ۔ ادبیات ِ فارسی میں ہندوؤں کا حصہ ( تاریخ ) اطرافِ غالبؔ ( تحقیق و تنقید ) بحث و نظر ( ادبی تنقید ) کلچر کا مسئلہ ( جائزہ ) دفتری زبان اور نصاب ( تحقیق) اشاراتِ تنقید ( تنقید ) مقالات ِ اقباؔل ( تحقیق) رمز اقباؔل ( تحقیق) ولیؔ سے اقبالؔ تک ( شاعری کا جائزہ ) وجہی سے عبدالحق تک ( نثر کا جائزہ ) متعلقات خطبات ِ اقباؔل ( جائزہ ) طیف ِ اقباؔل ( تحقیق ) مسائل ِ اقباؔل ( تنقید ) میر امن سے عبدالق تک ( نثر کا جائزہ ) نقدِ میرؔ ( میرؔ کی شاعری کا جائزہ ) شعرائے اردو کے تذکرے ( تذکرے ) سوغات         ( جائزہ ) سر سید اور ان کے نام ور رفقاء ( تنقیدی جائزہ ) مباحث ( ادبی تنقید) درخت اور دریچے ( مضامین) نوادر ا لفاظ (لسانیات) تعلیمی خطبات ( لیکچرز ) پاکستان میں اردو کا مسئلہ ( لسانیات ) اردو تذکرہ نگاری ( تحقیق) مقاصد اقبال (تنقید ) ڈاکٹر سید عبداللہ کا فن اور اسلوب نگارش        ڈاکٹر سید عبداللہ نے ساری زندگی علم و ادب کی خدمت کی ۔وہ ایک معروف اور معتبر نقاد ، مضمون نگار ، اور محقق تھے ۔تحقیق و تنقید میں ان کے کارنامے بڑے یاد گار ہیں ۔انھوں نے اپنے مضامین میں ہمیشہ اردو دوستی کا اظہار کیا  اور اس کے فروغ کے لئے ہمیشہ کوشش کی ۔ 1 ۔ فکری انداز :               ڈاکٹر سید عبداللہ کے اکثر موضوعات بڑی گہری سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔چونکہ آپ ایک استاد بھی تھے اس لئے طلبا نے ان کے اس اندازِ فکر  سے بہت فیض اُٹھایا ۔ تعلیم آپ کا عشق تھا ۔ اسی کو آپ نے اپنا مستقل موضوع اور انداز قرار دیا ۔آپ نے فلسفۂ تعلیم کو بھی اجاگر کیا ۔ آپ کی تحاریر میں قومی اصلاح اور درد مندی نظر آتی ہے ۔ 2 ۔ تحقیق نگاری :              تحقیق نگاری کے میدان میں ڈاکٹر سید عبداللہ ایک باوقار شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں ۔تحقیق نگاری کوئی آسان کا م  نہیں ہوتا ۔اس کے لئے ایک خاص رجحان اور انداز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ڈاکٹر عبداللہ ان صلاحیتوں کے مالک تھے۔آپ نے نہایت لگن ، دیانت داری اور ذوق و شوق سے تحقیق کے میدان میں اپنی جگہ بنائی۔ آپ نے صرف سرسری اخذ شدہ حقائق پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید تحقیق سے اِسے پختگی بخشی ۔ 3۔ تاریخ نگاری :             لسّانی تحقیق کے ساتھ ساتھ آپ نے تاریخ کے سلسلے میں جو نتائج پیش کئے  وہ بھرپور صداقت کا آئینہ دار ہیں ۔ اسی لئے قابلِ قبول ٹھہرے ۔مثلاً ایک جگہ انہوں نے رومن اور عربی رسم الخط کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اس تاریخی حقیقت  سے باخبر کیا  کہ رومن رسم الخط فرسودہ اور ارتقا سے محروم رہا ہے ۔ جبکہ عربی رسم الخط نے ابتدائی مرحلۂ کوفی سے لے کر نستعلیق تک کتنی ہی منزلیں طے کی ہیں۔ 4 ۔ تنقید نگاری :               تنقید نگاری کے میدان میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے بہت گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ان کی تحاریر سے ان کے  تنقیدی تصورات اور نظریات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ان کی تحریروں میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے ۔ تنقید میں آپ کی رائے بے باک ہوتی ہے ۔جس سے آپ کے وسیع مطالعے اور متوازن ذہن کا پتہ چلتا ہے ۔ 5 ۔ تسلسل ِ بیاں :              ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں میں بیان کا تسلسل بڑا متاثر کُن ہے ۔ جب وہ کسی موضوع پر اپنا قلم چلاتے ہیں تو اس کی روانی میں کہیں خلل محسوس نہیں ہوتا ۔ان کی فکر مرحلہ وار رواں دواں نظر آتی ہے ۔جس سے عبارت کی دلکشی اور حُسن دوچند ہوجاتا ہے ۔تحقیق و تاریخ جیسے مضامین میں اس طرح کشش و رعنائی پیدا کرنا اُن کا کمال ہے ۔ 6 ۔ شگفتگی :    ڈاکٹر عبداللہ کی ذہنی استعداد اور اعلیٰ فنّی مہارت کا اس بات سے بھی انداز لگایا جاسکتا ہے  کہ خشک اور سنجیدہ موضوعات  کو بھی آپ کا ذہن ِ رسا اور زورِ قلم تازگی اور شگفتگی بخشتا ہے ۔ 7۔ بیان پر عبور :              قاری ڈاکٹر عبداللہ کی تحریریں پڑھنے کے بعد  ان کی قوّت ِ بیان پر مکمل عبور کی داد دئیے بنا نہیں رہ سکتا ۔وہ موقع اور مناسبت کے لحاظ سے الفاظ اور  زبان کا انتخاب کرتے ہیں ۔ نہ صرف موضوع بلکہ زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں ۔ہر ذہنی سطح کا قاری ان کی بات اور زبان کو قبول کر سکتا ہے ۔یہی ان کا سب سے منفرد کارنامہ ہے  جو ان کو ممتاز کرتا ہے۔ 8 ۔ لسّانی معاملات :   زبان کے مختلف معاملات اور مسائل سے آپ کو ہمیشہ دلچسپی رہی ۔ آپ کی تحریروں میں اردو کے لسانی معاملوں اور ان کے نظر انداز کئے ہوئے پہلوؤں  پر بلیغ اشارے اور وضاحتیں موجود ہیں ۔" نوادرِ الفاظ اور پاکستان میں اردو کا مسئلہ " میں آپ نے کئی لسانی معاملات کی نشان دہی کی ہے  اور اصلاح  کی کوشش کی ہے ۔ جو اپنی مثال آپ ہیں ۔ 9 ۔ اختصار اور جامعیت :               اختصار اور جاعیت بھی ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں کا  خاص جوہر ہے۔لیکن جہاں وضاحت درکار ہوتی ہے وہاں موقع  کی مناسبت سے   آپ کا قلم رواں دواں  بھی نظر آتا ہے ۔ لیکن کبھی کبھی آپ تفصیلی بیان اور جزئیات سے دامن بچا کر صرف دوچار جملوں پر ہی اکتفا کرتے نظر آتے ہیں ۔لیکن ا ن کے چھوٹے جملوں میں بھی ایک وسیع دنیا نظر آتی ہے۔ 10 ۔ مقصدیت :              ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں میں مقصدیت نظر آتی ہے ۔کسی نقطۂ نظر کی وضاحت کے لئے جب آپ قلم اُٹھاتے ہیں  تو بہترین انداز میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچاتے نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تحریریں آپ کی سوچ کی عکاس ہیں ۔ 11۔ بے ساختگی اور بے تکلّفی :  ڈاکٹر عبداللہ  اپنے مضامین میں بڑی بے ساختگی  ، روانی اور بے تکلفی سےاپنی بات کہتے چلے جاتے ہیں ۔ ان کی تحریریں زبان و بیان کی غلطیوں سے پاک ہیں ۔ وہ ایسا لہجہ اختیار کرتے ہیں جو دل سے نکلتا ہے اور دل میں اترتا محسوس ہوتا ہے ۔ 12 ۔ سادگی ، سلاست اور روانی :      سید محمد عبداللہ کی تحاریر کی نمایاں خوبی  سادگی ، سلاست اور بیان کی روانی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں ۔وہ نہایت مؤثر اور آسان الفاظ میں مقصد مُدعا سمجھاتے چلے جاتے ہیں ۔جملے آگے پیچھے قطار بنائے دوڑے چلے آتے ہیں ۔یہ روانی ان کی عظمت پر دلیل ہے۔ 13 ۔ موضوعات کا تنوع :              سید عبداللہ نے مختلف موضوعات پر لکھا۔ذیادہ تر آپ تحقیق و تنقید کے میدان میں رہے ۔لسانیات پر بھی آپ نے سیر حاصل کام کیا ۔لیکن ان دائروں میں رہتے ہوئے بھی آپ نے مختلف موضوعات کو موضوع ِ بحث بنایا۔ 14 ۔ صداقت اور سچائی :              ڈاکٹر عبداللہ نے اپنی تحریروں میں صداقت اور سچائی کا دامن تھامے رکھا۔ علم و فکر کو قاری تک پہنچانے کے لئے انھوں نے بھرپور صداقت اور سچائی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انھوں نے قلم کی حُرمت کا ہمیشہ خیال رکھا۔  صداقت اور سچائی ان کی تحریروں کی نمایاں خوبی ہے۔ 15 ۔ مُدلل انداز :             ڈاکٹر عبداللہ کی تحریریں  جذبات سے ذیادہ عقل کو متاثر کرتی ہیں ۔اپنی تحریروں میں آپ نے منطقیانہ انداز سے کام لیا ہے ۔وہ جو بات بھی کرتے ہیں دلیل سے کرتے ہیں ۔ان کے مضامین علمی دولت سے مالامال ہونے کے ساتھ دلائل کی دولت سے بھی سرشار ہیں ۔ 16 ۔ مطالعہ و مشاہدہ : ڈاکٹر عبداللہ کا مطالعہ اعلیٰ معیار کا تھا۔ آپ جس موضوع پر قلم اُٹھاتے اس کے متعلق مستند معلومات اور ذرائع آپ کے پاس ہوتیں ۔آپ کے نثر اور شاعری کے جائزے اس بات کے گواہ ہیں ۔ نتیجۂ  فکر :     المختصر ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک تخلیقی ذہن رکھتے تھے۔ انھیں زبان دانی سے بالعموم اور زبان سے بالخصوص عشق تھا۔ اردو زبان سے والہانہ وابستگی کا اظہار ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔ آپ کی اعلیٰ تحقیقی ، تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کے سب ہی معترف ہیں ۔آپ کی تحریریں منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ مقصدیت کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ بلا شبہ آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

— نثر نگار پر تبصرہ ۔۔ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ۔۔محقق اور ماہر لسّانیات

اقتباس کی تشریح :                          خطوطِ غالبؔ ( بنام یوسف مرزا) اقتباس  : ( یہ ایک شیوۂ  فرسودہ ابنائے روزگار  کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دعا کو دخل نہیں  ، دوا کا لگاؤ نہیں ۔) حوالۂ سبق :   خطوطِ غالب ؔ حوالۂ  و تعارف مصنف :               مرزا اسد اللہ خان غالبؔ                         غالب ؔ اردو غزل کے بڑے معروف شاعر ہیں ۔ انھیں آفاقی شاعر کہا جاتا ہے ۔ان کی شاعرانی عظمت کے سب معترف ہیں۔ اردو نثر میں صرف  خطوط ہی ان کا سرمایہ ہیں ۔اس سے ان کی عظمت کو چار چاند لگ جاتے ہیں ۔آپ نے مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا  اور جدید خطوط نگاری کی بنیاد رکھی ۔ سیاق و سباق :          یوسف مرزا کا اصل نام  ناصر الدین حیدر خان تھا ۔جو نواب سید محمد نصیر خان کے بیٹے تھے اور لکھنؤ میں رہتے  تھے ۔ان کی والدہ قدسیہ سلطان غالبؔ  کے دوست حسین مرزا کی بہن تھیں۔ غالب ؔ حسین مرزا کے بیٹوں  سجاد مرزا ، اکبر مرزا اور بھانجے  یوسف مرزا کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ 1857 ء کی شورش کے بعد  نصیر خان بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوئے  اور پھانسی پر چڑھا دیئے گئے ۔ چنانچہ جب غالبؔ کو معلوم ہوا تو انھوں نے یوسف مرزا کو تعزیت کا خط لکھا ۔ تشریح :                 زیرِ تشریح سطور" غالبؔ کا  خط بنام یوسف مرزا  " کی ابتدائی ہیں ۔جن میں غالب ؔ نے مرزا یوسف سے ان کے باپ کے انتقال پر اظہارِ افسوس   اور تعزیت کی ہے۔ یوسف مرزا  یعنی ناصر الدین حیدر خان   کے والد سید محمد نصیر خان کو بغاوت کے جرم میں چودہ سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ۔بعد میں انگریز حکام   نے اسے موت میں بدل دیا ۔مئی 1860ء میں انھیں پھانسی دے دی گئی۔جب غالبؔ کو علم ہوا ۔تو انھوں نے تعزیت کا خط لکھا ۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ تمھارے باپ کی موت کا اپنی زبان سے ذکر کروں ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اظہار ِ افسوس کروں  اور تمھیں تسلی دوں ۔ مگر زمانے کا دستور یہی ہے کہ لوگ لواحقین کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ کسی شخص کا عزیز اس سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوجائے ، صد مے سے اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے  ؛ اور لوگ اسے رونے سے منع کریں ، صبر کی تلقین کریں ۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ زخم لگے اور آدمی نہ تڑپے؛ اور وہ بھی باپ جیسی عزیز اور پیاری ہستی کے لئے  جو بے قصور مارا گیا ۔یہ تو معاملہ  ہی ایسا ہے ۔ اس میں کچھ مشورہ نہیں دیا جا سکتا ۔بیماری ہو تو دوا اور دعا سے کام چلے ۔ لیکن اس میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ (تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

— اقتباس کی تشریح :۔۔خطوطِ غالبؔ ( بنام یوسف مرزا)

ا ر د و   ڈ ر ا ما   نگا ر ی ڈ ر ا ما  تا ر یخ  کے  ہر  د و ر  میں کسی  نہ کسی  ا ندا  ز  میں  موجو د  ر ہا  ہے  ۔  ا نسا ن  میں  جب  تک  نقا لی  کا  جذ بہ  مو جو د  ر ہے  گا   ؛ ڈراما بھی موجود رہے گا تعر یف  :   لفظ '' ڈرا ما '' یونا نی  لفظ  '' ڈرا ؤ  '' سے  ما  خو ذ  ہے  ۔ جس  کا  مفہوم  ہے '' کچھ کر کے دکھا نا  ''۔  اہل یونا ن  نے  ڈرامے  کو  با قا عد ہ  فن   کی  صورت  میں تشکیل  دیا   ۔   ڈ ر ا مے  کا  پس ِ  منظر  :  دنیا  میں  ڈرامے  کا  وجود تہذیب  و  تمدن  کے آغا ز سے  پہلے  پایا  جاتا  ہے  ۔  ایام جاہلیت   میں  وحشی  لوگ  اپنے  تفریحی  مشا غل  کے لئے   یا  مذہبی فریضوں  ،  جنگ  و  شکا ر  سے  پہلے  سوا نگ  رچاتے   ، نقلیں    ا تا رتے   ا و ر  ا پنے  ا پنے   ا ندا ز  میں  ا د ا  کا ر ی  کرتے   ا و ر  ڈرامے  بناتے  تھے  ۔ ڈ ر ا مے  کے  لو ا ز م   :     ڈرا ما  کسی عمل کو ناظرین کے سامنے کچھ کر کے دکھا ناہے  ۔اسے  زندگی  کی نقل بھی کہا  جا سکتا ہے  ۔ اسی لئے ڈرامے کے توسط سے سوسائٹی کے تمدنی اور معاشرتی  پہلوؤں  کو  پیش کیا  جاسکتا ہے ۔ ڈرا ما بہ حیثیت صنف  ادب کی دوسری اصنا ف سے اسی لئے ممتاز ہے  کہ اس کا تعلق  براہ  راست زندگی  اور عوام  سے ہے ۔ ہر  طبقۂ  فکر کے افراد اسے دلچسپی سے دیکھتے  اور پڑھتے  ہیں  ؛  پسند کرتے ہیں ۔ڈرامے کے درج  ذیل  لوا زم  ہوتے  ہیں  :- اسٹیج            کردار           مکالمات         تاثرات اور ادائیگی                زمانے اور حالات سے مطابقت  1۔  ا سٹیج   :      ڈرامے  کے  لوازمات  میں  سب  سے  پہلا  لوازمہ  اسٹیج   ہوتا  ہے  ۔  اس  اسٹیج  کو  تین حصوں  میں تقسیم کیا جا  سکتا  ہے  ۔ سامنے  کا  اسٹیج           عقبی  اسٹیج                        با لا ئی  ا سٹیج 2  ۔  کر د ا ر  :       اسٹیج  پر  اداکا ر  مختلف  کرداروں   میں سامنے  آکر  اپنے  فن  کا  مظاہرہ  کرتے  ہیں   ۔ اداکاری  ایک فن ہے  ۔ اداکار  کی  کامیابی  یہ ہوتی ہے کہ جس کردار کی نقل کر رہا  ہو  ،  خود  اس  سے  قریب  تر  ہو جائے  ۔ 3  ۔  مکا لما ت  :  ڈرامے میں  اداکاروں کے  ادا  کئے ہوئے  مکالمات  بڑی  اہمیت  کے  حامل  ہوتے ہیں ۔ اداکار صرف   مکالمے  ہی  ادا  نہیں کرتا   بلکہ بہترین  ادائیگی  سے  اس  میں  روح  بھر دیتا ہے  ۔ اچھے  اور موقع محل کی مناسبت  سے مکالمات   ڈرامے  کی  کامیابی  کا  ایک  راز  ہیں    ۔ 4  ۔  تا  ثر ا ت  ا و ر  مکا  لما  ت   کی  ا د ا ئیگی  :      ڈرامے  کی  تیاری  صرف  اچھے  اداکار ا ور   مکالموں کو اچھی  طرح  ادا  کر لینے  سے ہی ختم نہیں ہو جاتی   بلکہ ا س کو اسٹیج پر پیش کرنا  ، چہرے کے تا ثرات ،  مکا لمات کی  ادائیگی   ا ور مکمل  ماحول پیش کرنا  ہوتا ہے  ۔ یہ  تاثرات  نہ صرف مکالمات بلکہ ڈرامے  میں جا ن ڈال دیتے  ہیں   ۔ 5  ۔  ز ما نے  ا و ر  حا لا  ت  سے  مطا بقت  :     ڈرا ما  وقت  اور  زمانے سے میل کھاتا  ہوا  ہونا  چاہیئے  ۔ اسٹیج  پر  اس ماحول کو پیش کیا جائے  جو  وقت  اور  زمانے کے مطابق  ہو  ۔  اگر ڈرا  مے میں   قومی سلامتی کے تقاضے  ، اسلامی و قومی کلچر  ، زمان و مکان  کا  لحا ظ   ا ور  اخلاقی  اقدار  کا  لحاظ   نہ رکھا جائے   اور موجودہ  حا لات کے بر خلاف  ہو  تو  پھر  وہ  بے کار ہے  َ ۔ ڈ ر ا مے   کا   ڈ ھا نچا   (  عنا  صر  ) واقعہ اور موا د وہ  دو  چیزیں  ہوتی  ہیں  جو کسی  ڈرامے  کی  بنیاد  بنتی  ہیں  ۔اس کے علاوہ کشمکش کے بغیر ڈرامے کا وجود میں آنا نا ممکن ہے ۔ یہ کشمکش مختلف نوعیت کی ہوتی ہے ۔ ڈرا ما  مختلف مراحل سے گزرتا ہے ۔ ان مراحل کو درج ذیل  ا صطلاحات سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ تمہید   یا  و ا قعہ      ،       الجھاؤ   ،       نقطۂ عروج  ( کلائمکس )    ،       سلجھاؤ   ،       انجام ڈرامے  کی  مختصر  تاریخ ڈرامے کے آغاز کے لئے کوئی حتمی زمانہ متعین نہیں کیا جا سکتا ۔ تاہم آثار بتاتے ہیں کہ اس کی ابتدا کسی قبیلے یا خاندان کی فتح  ، مذہبی تہوار ، شادی بیاہ کے موقع پر رقص و سرور سے ہوا  ہوگا ۔ قدیم تہذیب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مصر میں دیوتاؤں کی پرستش  ، اور مردہ دفنانے کی رسوم  سے اس کا  آغاز ہوا ۔ لیکن باقاعدہ ڈرامائی ادب یا تھیٹر کا آغاز  پانچ سو سال قبل یونان میں ہوا ۔ یورپ میں مارلو  ، شیکسپئر ، برناڈ شا  نے اس فن کی سر پرستی کی ۔ گورکی چنجوف ، یو جین  اور نیلی نے  بھی  قابل قدر ڈرامے لکھے ۔         ہمارے ہاں ڈرامے اور نو ٹنکیوں  کا آغاز  '' نواب واجد علی شاہ ''کے عہد  میں امانت لکھنوی  کی '' اند رسبھا  ''  سے ہوا َ۔ کیوں کہ اس کا آغاز رقص و سرور سے ہوا  ؛ اس لئے یہ مسلمانو ں میں مقبولیت حا صل نہ کر سکا ۔ مسلمانو ں میں ڈراما ناچ گانے کی بجائے کسی معاشرتی المیہ  ، نا ہمواری  وغیرہ کے مو ضوع پر ہوتا تو ہمارے ہاں بھی اس کا وسیع ذخیرہ ہوتا ۔ اردو ڈرامے کا ارتقاء ارسطو نے  ڈرامے  کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ  ـــــــ ڈراما انسانی اعمال کی نقل ہے  ــــــــــ بر صغیر میں ڈرامے کا آغاز ہندی دیو مالائی اور  سنسکرت  نا ٹکو ں سے ہوا ۔ بعد میں ان کا اردو ترجمہ کیا گیا ۔ اس زمانے کے لکھنے والوں میں '' کالی داس کے ناٹک '' شکنتلا '' کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ا ر د و  ڈ ر امے  کا  پہلا  دور  :                 جدید تحقیق کے مطابق اردو ڈرامے کا نقش اول '' واجد علی شاہ اخترؔ '' کی عشقیہ مثنوی '' فسانۂ عشق '' ہے ۔ جسے اسٹیج پر پیش کیا گیا ۔ نوب واجد علی شاہ کی اندر سبھا بھی  اس دور کا شہرۂ آفاق ڈراما ہے ۔ بعد میں انہوں نے '' راس لیلا '' اور '' رام لیلا '' کو بھی اپنے محل میں اسٹیج بنا کر خاص اہتمام سے پیش کیا  اور خود بھی اداکاری کی ۔اس زمانے میں عوامی پذیرائی سے اردو ڈرامے کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ تھیٹر  کمپنیا ں  :     واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد اور ڈرامے کی مقبولیت دیکھ کر چند پارسیوں نے ناٹک کمپنیاں قائم کر لیں  اور اسٹیج کو سنبھالا دیا ۔ ان کمپنیوں میں '' پارسی وکٹوریہ نا ٹک منڈلی  ،  پارسی  اوریجنل تھیٹریکل کمپنی  ،  الفریڈ تھیٹریکل کمپنی  وغیرہ قابل ذکر ہیں   ۔ تجا ر تی  ر جحا ن  :        پارسی سیٹھوں نے جب اسٹیج سنبھالا تو انہوں نے تجارتی مقاصد کے لئے ڈرامے لکھوائے ۔ جس میں ادبی خصوصیات کی جگہ عوامی تفریح کو مد نظر رکھا گیا ۔ پسٹن جی فرام جی  نے بمبئی میں پہلی تھیٹریکل کمپنی قائم کی ۔ اس کی  کامیابی کے بعد بمبئی اور کلکتے میں اور بھی کمپنیاں قائم ہوئیں ۔ اس دور کے ڈرامہ نگاروں میں حباب ، آرام ، رونق بنارسی ، طالب بنارسی ، احسن اور بیتاب  کے نام نمایاں ہیں ۔ ڈرامے '' لعل و گُہر ، لیل و نہار ، دل فروش ، خون ِ نا حق  اور چلتا پرزہ '' اس دور کے مشہور ڈرامے ہیں ۔ یہ تمام ڈرامے تجارتی مقاصد  کے تحت عوام کو خوش رکھنے کے لئے لکھے گئے تھے ۔ آ غا  حشر  کا شمیر ی  کا  د و ر  :         آغا حشر کو لوگ '' اردو ڈراموں کا شیکسپئر '' اور '' مارلو '' کہتے ہیں ۔کیوں کہ انہوں نے اپنے کرداروں میں  وفور ِ جذبات  دکھایا ۔ ان کا عشق بہت گہرا اور جذبات بہت عمیق ہیں ۔وہ نظم و نثر دونوں کے استاد  تھے ۔ان کا انداز ِ بیان بہت خوب صورت تھا ۔ ان کے کردار ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں ۔آپ نے اس صنف کو زندہ رکھنے میں اپنا خون ِ جگر صرف کیا  اور بے مثال شاہکار ڈرامے تصنیف کئے ۔ ان میں ''رستم و سہراب ، یہودی کی لڑکی ، آنکھ کا نشہ ، شہید ناز ، تُرکی حُور  اور سفید خون '' قابل ِ ذکر ہیں ۔ ا د بی  ر جحا ن  : 1936 ء  کے لگ بھگ اردو ڈرامہ تجارتی رجحان سے آزاد ہوکر ادبی رجحان میں داخل ہوا ۔ اس دور کے ادبی ڈراموں میں '' محمد حسین آزاد کی تمثیل ' اکبر ' ، عبدالحلیم شرر کا ڈرامہ  ' میوۂ تلخ ' ، عبدالماجد دریا بادی  کا '  زود  پشیما ں  '، اور ظفر علی خان  کا  ' جنگ ِ روس و جاپان ' وغیرہ بہت نمایاں ہیں ۔ امتیاز علی تاج  کا  ڈرا ما   'انا ر کلی ''ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے  ۔ تر ا جم  :    ادبی دور میں بہت سے تراجم بھی ہوئے ۔ '' عنایت اللہ دہلوی کے کئے ہوئے شیکسپئر کے ڈراموں کے ترجمے ، نور الٰہی ، محمد عمر کے کئے ہوئے مزاحیہ ڈراموں کے ترجمے  اور سجاد حیدر یلدرم کے ترکی ڈراموں کے ترجمے  اور  جلال الدین خوا رزم شاہ '' کے  ترجمے   قابل  ِ ذکر  ہیں  ۔ جد ید  ڈ ر ا ما  نگا ر ی  کا  آ غا ز  :   اگر  جدید  ڈرا ما  نگا ری  کا آغا ز  '' ا متیا ز علی  تاج   کے  ڈرامے  ' انارکلی ''  کو کہا  جائے  تو  غلط  نہ ہوگا  ۔ احمد سلیم  کا  کہنا ہے کہ ــــــــــــ انارکلی ڈرامہ اپنی  کردار نگاری ، موضوع اور مقصد کی ہم آہنگی اور ادبی حسن کی بدولت بے مثال کارنامہ ہے ـــــــــــ ا ن  جدید  ڈرا موں کے سلسلے  میں  '' شوق  ،  ظفر علی خا ن  ،  عبد  ا لما جد   ا و ر  ڈاکٹر  عابد حسین  '' کے  نا م  خاص  طور  پر  نما یا  ں  ہیں  ۔ مغر بی  علم  و  فن  کے  ا ثر ا ت  :     مغر بی  علم  و فن  کا بھی  اردو  ڈراموں  پر گہرا  ا ثر  پڑا  ۔ ا ن  تراجم  کی  وجہ  سے کئی  نئی  تبد یلیا ں  ا و ر  تجربا ت  ہوئے  ۔بدلتے  رجحا نا ت  نے  ڈرامے  کے  اندا ز  ا ور  سوچ  پر بھی  گہرے  اثرات مرتب  کئے  ۔ یک  با بی  ڈر امے  :     بدلتے  رجحا نا ت   ،  جدید  سہولیات   ،  زندگی  کی  برق  رفتاری  کا  احساس  ا و ر  انسان  کی مصروفیات  کی وجہ سے یک با بی  ڈراموں  نے جنم لیا  ۔ اس میں  ڈرا ما  ایک  ہی منظر میں مکمل ہو جاتا ہے  ۔  دلکشی  ،   ا  ندا  ز   بیا ن  ،   ا ور  فن  کی  با ریکیوں  کے  لحا ظ  سے یک  با بی  ڈرامے  بلند مرتبہ رکھتے  ہیں  ۔اس ضمن میں مشہور  ڈرامے '' آنسو اور ستارے ، لہو اور قالین  ، تعلیم با لغا ں  ،  مرزا  غا لب  ؔ بندر  روڈ پر   ا ور  لا ل قلعے سے  لا لو  کھیت  تک '' بہت  نمایا ں  ہیں  ۔ ریڈ یو  ڈ ر ا ما  : ریڈیو  نشریات  کی  ضروریات  کے  پیش ِ نظر  یک  بابی  ڈرامے  یا  ایک  ایکٹ کے ڈرامے  لکھے  جانے لگے  ۔ چونکہ  ریڈیو  ڈرا ما  سننے کے لئے ہوتا ہے   ،  اس لئے  اس  کی تکنیک میں بھی تبدیلی  آ گئی  ۔ '' کرشن  چندر  ،  راجندر سنگھ  بیدی  ،  اشتیاق حسین  ،  عا بد علی  عا بد  ،  میرزا  ادیب  ،  اشفا ق  ا حمد   ا ور  ا حمد  ندیم  قاسمی  '' کے  نا م  نما یا ں نظر  آتے  ہیں  ۔ ا ن   ڈ را ما  نگاروں  نے موضوع  ا و ر  تکنیک کے  لحا ظ سے  ا ردو  ڈراموں  میں  کامیاب  تجربے  کئے  ۔  د و ر  ِ جدید   میں  ڈ ر ا ما   نگا ر ی   :        موجودہ  دور  میں  ڈرا ما  نگاری  اسٹیج  سے  ذیادہ  ٹیلیوژن کے لئے کی جاتی ہے  ۔ اب ڈرا ما گھر گھر دیکھا جاتا ہے  ۔بے پنا ہ سہولیات میسر ہونے کی  وجہ سے   ا ب  ڈرامے  میں   ایسے مناظر دکھانا بھی ممکن ہے جنھیں  پہلے کبھی  دکھانا   ناممکن سمجھا  جاتا  تھا  ۔ ا سی  طرح  تکنیک  اور  موضوعات  میں بھی  بہت تنو ع  پیدا  ہوچکا  ہے  ۔ میڈیا  کی  ا س ترقی نے  ڈرامے  پر خوشگوا ر  اثرات مرتب کئے  ہیں  ۔ ا س  دور  کے  ڈرا ما  لکھنے  والوں  کی  فہرست  بہت طویل ہے  ۔ جن  میں  ''  کما ل  ا حمد رضوی  ،  ا نو ر مقصو د   نے  طنز  و  مزا ح   ،  فا طمہ ثریا  بجیا  ، حسینہ معین   ،  با نو  قدسیہ  ،  نے  گھریلو  زندگی  ا ور  خا ندا نی  مسائل  پر  ،  ا شفا ق  ا حمد   نے  روحا نی  مسائل پر  ، امجد اسلام  امجد  نے  دیہی  جبر   ،  نور  ا لہدیٰ  شا ہ  ا و ر عبدالقادر  جونیجو   نے  ا نسا نی حقو ق   کے حوالے سے بہترین   ڈ ر امے تخلیق کئے  ۔ یہ   ڈ ر ا ما   نگا ر ی  کا  سفر  بڑی   کا میا  بی  سے  جا ری  ہے ۔      حا صل  گفتگو  :         ا ردو  ڈرامہ  بتدریج  تبدیلی  ا و ر  ترقی  کی  منا ز ل  طے کرتے  ہوئے آ ج  ا یک  ا نتہا ئی  جدید صو ر ت  میں  ا پنا  سفر جا ری  رکھے  ہوئے  ہے  ۔ ٹی  وی  ،  ر یڈ یو  کے  ساتھ  ساتھ   فلم  میں  بھی ا ب  یہ  تیز  رفتا ری  سے ترقی  کر رہا  ہے  ۔ ا س  میں  مزید  ترقی  ا ور  کا میا بی  کے  امکا نا ت  روشن  ہیں  ۔ (مرتب  کنندہ  :  شاکرہ   کا ظمی )  

— تبصرہ۔۔ا ر د و ڈ ر ا ما نگا ر ی

ا ر د و  ا فسا نہ بیسویں صدی کی مشینی زندگی نے ہندوستان کے رہنے والوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ان کا انداز فکر بدلا۔ ذہنی سکون کے لئے  انہوں نے مختصر راستے تلاش کرنا شروع کر دئیے  ۔لہٰذا طویل داستانوں کی جگہ مختصر افسانوں نے جنم لیا ۔ ا  فسانے کی تعریف  :         افسانہ ایک مختصر کہانی ہوتا ہے ۔دوسری اصناف کی طرح یہ ایک کُل کی حیثیت  رکھتا ہے  ۔ جس کے اندر بہت سے اجزاء ہوتے ہیں ۔ ا فسانے کی تکنیک :         اردو افسانہ جہاں کہانی ہمارے سامنے لاتا ہے وہاں اس کا خاص انداز بیان  اپنی جگہ اہم ہوتا ہے ۔تمہید سے ہی کہانی کا نقطۂ نظر سامنے آجاتا ہے ۔پھر کہانی خاص انداز سے کسی ایک رُخ پر چلنا شروع کر دیتی ہے ۔ ا  فسا نے  کے عنا صر تمہید :                ا فسانے کے آغاز کو تمہید کہتے ہیں ۔چند ابتدائی جملوں کی مدد سے افسانے کا آغاز کیا جاتا ہے ۔ ا تار چڑھا ؤ  :              تمہید کے بعد  کہانی آگے کی جانب بڑھتی ہے  ۔  انجام تک پہنچتے پہنچتے وہ کئی مراحل طے کرتی ہے ۔ کتنے ہی اتار چڑھاؤ ، ہیجان و اضطراب  راستے میں آتے ہیں ۔ پلاٹ کے  فنی اور مؤ ثر ترتیب کے تقاضوں  کو پورا کرتے ہوئے  کہانی آگے کی جانب بڑھتی ہے ۔ منا ظر کی مصوری :            واقعات کے بیان کے علاوہ مناظر کی مصوری میں فضا بنانے اور اس کو قائم رکھنے کی طرف  بھی دھیان دینا ہوتا ہے ۔تاکہ افسانہ ایک دل نشین وحدت کی حیثیت اختیار کرلے ۔ حسن بیا ن  :              تمہید سے اختتام تک افسانہ نگار کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ قاری کی توجہ افسانے کی جانب مبذول  رکھے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ حسن ِ بیان کا سہارا لیتا ہے  ۔وہ شروع ہی سے ایسی فضا باندھ لیتا ہے کہ پڑھنے والا اس کی جانب مائل ہو جاتا ہے۔اس توجہ کو قائم اور برقرار رکھنے کے لئے افسانہ نگار  مختلف مراحل پر حسنِ بیان کے مطالبات کو پورا کرتا ہے جس میں خوب صورت جملوں کا استعمال،لفظوں کی بندش ،حسین تشبیہات وغیرہ شامل ہیں۔ مو ضو ع / پلا ٹ :            یہ افسانے کا سب سے اہم حصّہ ہوتا ہے۔ایک مضبوط اور مربوط پلاٹ ہی کسی افسانے کی کامیابی کا راز ہوا کرتا ہے۔یہ پلاٹ موجودہ زمانے سے میل کھاتا ہوا ہونا چاہیے۔اصلاح کا پہلو پیشِ نظر رہے، معاشرے کی برائیوں کو خوبی بناکر پیش نہ کیا جائے بلکہ نفرت کرنے کی ترغیب دی جائے۔یہ پلاٹ کئی طرح  کے ہو سکتے ہیں۔مثلا" معاشرتی ،مذہبی ،روایتی،رومانی ،ٹریجڈی وغیرہ۔ کردا ر نگا ری :    کردار نگاری کسی بھی افسانے کا سب سے اہم حصّہ ہوتا ہے ۔پلاٹ کی مناسبت  سے      کردار وں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ضروری کرداروں سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے قاری کا دھیان منتشر ہو جاتا ہے۔ مکا لما ت : اگر افسانے میں براہِ راست مکالمات کی ضرورت پیش آجائےتو انہیں مختصرا"ادا کیا جاسکتا ہے۔یہ مکالمات کی ادائیگی بھی حسنِ  بیان کہلاتی ہے۔ تجسس : افسانے کے دوران تجسس کو برقرار رکھنا ایک افسانہ نگار کا کمال ہوتا ہے۔کہانی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے کہانی میں دلچسپی پیدا کی جائے اور ایک ایسا مقام ِ تجسس آئے کہ قاری کی دلچسپی اور اشتیاق میں اضافہ ہو۔وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہو جائے کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ ا ختتا م :         افسانے کا اختتام یا منطقی انجام افسانے کا ماحاصل ہوا کرتا ہے۔افسانے کو پڑھتے ہوئے قاری اپنے ذہن میں انجام تخلیق کر لیتا ہےلیکن اگر یہ انجام اس کے اندازوں سے مختلف ثابت ہو جائے تو یہ مزید دلچسپی کا سبب بنتا ہے۔یہ انجام المیہ یا طربیہ ہو سکتا ہےلیکن نا مکمل نہیں ہونا چاہیےکہ قاری کے ذہن میں خلش رہ جائے۔            ا فسا نے  کا  ا ر تقا ء :         افسانہ موجودہ مشینی دور کی پیداوار ہے ۔اس تھکا دینے والی مصروف زندگی میں لوگوں کے پاس طویل ناول پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔اس لئے وہ اپنی تسکین اور تفریح  طبع کے لئے مختصر  ا فسانے  پڑھنے کو  ترجیح   دیتے  ہیں  ۔ یہ ا فسانے ایک یا آدھ گھنٹے کے دورانیے میں پڑھے جا  سکتے ہیں  ۔اس لئے زیادہ مقبول  ہو رہے ہیں ۔ ا لف  ۔ ا ردو  کے  ا بتد ا ئی  ا فسا نہ  نگا ر  :   اردو افسانے کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا ۔'' منشی پریم چند '' پہلے افسانہ نگار ہیں ۔اس کے علاوہ " سلطان حیدر جوش  اور سجاد حیدر یلدرم " نے اردو افسانے کو جدید رنگ دیا ۔ ب  ۔  رو ما نی  ر نگ  : سجاد حیدر یلدرم اور جوش نے  رومانیت  کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور اسے مغربی انداز میں پیش کیا ۔ مجنوں گورکھپوری نے رومانوی افسانوں کو تخیلاتی انداز میں پیش کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ نیاز فتح پوری نے بھی رومانوی افسانے خوب صورت انداز میں پیش کئے ۔  ج  ۔  ترجموں  کا  دور  :  1930 کے بعد اردو افسانوں میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی ۔ مختلف افسانہ نگاروں نے دوسری زبانوں میں لکھے گئے افسانوں کا اردو ترجمہ کیا ۔اس طرح ان افسانوں کے  ذریعے ہم دوسرے کلچر سے متعارف  ہوئے ۔ ان افسانہ نگاروں  میں فضل حق قریشی  ، مجیب منظور ، منظور حسین اور جلیل قدوائی  پیش  پیش ہیں ۔ د ۔ ا نگا رے کی تحریک  :   مغربی افسانوں کے تراجم کے دوران مغربی خیالات بھی اردو افسانے میں داخل  ہوئے ۔اس طرح مغربی معاشرے کی مادیت پرستی ، جنسی بے راہ روی  اور اخلاقی گراوٹ سے ہمارے افسانہ نگار بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے ۔ اس طرح ایک نئی تحرک نے جنم لیا ۔ جسے انگارے کی تحریک کہا جاتا ہے ۔ ان افسانہ نگاروں میں '' سجاد حیدر ، احمد علی ، رشید جہاں  اور محمود الظفر '' واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ ہ  ۔ تر قی  پسند  تحر یک  : 1936 ء  اردو ادب میں  تبدیلی کا ایک نیا موڑ ہے ۔ اس کی بنیاد ترقی پسند تحریک ہے ۔ ادب میں لکھنے والوں نے انگارے کے موضوع کے ساتھ ساتھ نئے معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی تحریروں میں شامل کیا  اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز  بلند کی ۔ ان میں '' علی سردار  جعفری ، سجاد ظہیر اور سعادت حسن منٹو '' کے نام نمایاں ہیں ۔ و  ۔  نفسیا ت کے ا ثرا ت  :       افسانے میں نفسیات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے ۔کئی افسانہ نگاروں نے اس ترقی پسند انداز میں نفسیات کو بھی شامل کیا ۔ان میں '' کرشن چندر ، راپندر ناتھ ، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو '' قابل ذکر ہیں ۔ ز  ۔ تقسیمِ ِ  پاکستان  اور  اس  کے  بعد  :   1947 ء  میں بر صغیر  میں جو حالات و واقعات رو نما ہو رہے تھے ۔ اس نے ادب پر جمود طاری کر دیا تھا ۔ ذیادہ تر ادیب خاموش ہو کر بیٹھ گئے ۔لیکن کچھ ایسے ضرور تھے جنھوں نے ان حالا  ت میں محبت ارو انسانیت کا درس دیا  اور فسادات کے مو ضوع پر لکھا ۔ '' کرشن چندر ، عصمت چغتائی ، قدرت اللہ شہاب ، احمد ندیم قاسمی ، اشفاق احمد ، ممتاز مفتی ، خدیجہ مستور  اور ہاجرہ مسرور کے نام نمایاں نظر آتے ہیں ۔ ح ۔ جدید دور کے ا فسانے  : دور ِ جدید میں افسانہ نگاری نے بہت ترقی کی ہے ۔ پرانےافسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ نئے افسانہ نگار بھی پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ جنھوں نے افسانہ نگاری میں نئے نئے موضوعات کو داخل کیا ۔اس میں دور جدید کے مسائل  اور انسانی زندگی ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اثرات ، معاشرتی تبدیلیاں ، جدید مغربی افکار کے منفی اثرات  جیسے عنوانات شامل ہیں ۔ ان افسانہ نگاروں نے اپنی کہانیو ں کو کمال فن سے پیش کیا  اور نئی علامات کا سہارا لے کر یاد ماضی اور حال کے جبر کو پیش کیا ۔ اس دور میں خوب صورت علامتی افسانے لکھے گئے ۔ ان جدید افسانہ نگاروں میں منشا یار ، شرف احمد ، علی رضا عابدی ، آصف مالک ، سلطان مظہر الا سلام اور شہناز پروین قابل ذکر ہیں ۔ حر ف  آ خر  :          الغرض ا ردو  ا فسانے کا یہ سفر جو منشی پریم  چند اور سجاد حیدر یلدرم سے شروع ہوا تھا  ؛  وہ تا حال جاری ہے ۔ حالات ِ زمانہ کے باعث  اردو افسانے کے کئی دور آئے لیکن اس کی اہمیت قائم رہی ۔کیونکہ افسانے کا تعلق انسانی زندگی سے ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تک یہ زندگی قائم رہے گی ؛ یہ سفر جاری رہے گا ۔ ( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )

— تبصرہ۔۔ا ر د و ا فسا نہ

شاعر پر تبصرہ :                         میر تقی میرؔ   ( خدائے سخن ، شہنشاہ ِ غزل ، غزل کی آبرو)   ؎      ریختہ کے تمہی استادنہیں ہوغالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا         میر تقی میر ؔ آسمان ِ سخن کے درخشاں ستارے ہیں ۔ان کو اردو غزل گوئی میں '' خدائے سخن '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں ۔وہ ہر عہد میں  '' شہنشا ہ ِ غزل کہلائے ۔ غزل کی دنیا میں کوئی شاعر میرؔ کے مقام تک نہیں پہنچ پایا ۔ کسی نے بھی میرؔ کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کیا ۔ بلکہ ان کی پیروی کو وجۂ عظمت سمجھا ۔ اکثر شعراء نے میر ؔ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے ۔ ؎      غالب ؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ِ ناسخ ؔ           آپ بے بہرہ ہیں جو معتقد ِ میر نہیں ؎      نہ ہوا پر نہ ہوا میر ؔ سا انداز نصیب     ذوقؔ یاروں نے بڑا زور غزل میں مارا ؎      شعر مرے بھی ہیں پُر درد و لیکن حسرت ؔ           میر ؔ سا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں ؎      اک بات بتاؤ انشا ؔ جی ، تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی       تم سارے جہاں کا علم پڑھے  ، کوئی میر ؔ سا شعر کہا تم نے محمد حسین آزاد اپنی کتاب '' آب ِ حیات " میں کہتے ہیں " میرؔ کی زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی ہے کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں ۔۔۔گویا وہ اردو کے سعدی ؒ ہیں " میر تقی میر ؔ اردو زبان کے باکمال ، اردو ادب کے بے مثال اور اردو غزل کے لازوال شاعر ہیں ۔ حالات ِ زندگی         میرؔ 1723 ء میں اکبر آباد ( آگرہ ) میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد " میر متقی " سے حاصل کی  ، جو بڑے درویش صفت  بزرگ تھے ۔والد کے انتقال کے بعد تلاش معاش کے لئے دہلی چلے آئے ۔ یہاں اپنے ماموں " خان آرزو کے ہاں قیام کیا ۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور شاعر اور فارسی دان تھے ۔میر ؔ نے ان سے استفادہ کیا۔ لیکن جلد ہی تعلقات خراب  ہوگئے ۔ آپ کو زندگی بھر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ معاش کا کوئی مستقل انتظام نہ تھا ۔ متعدد امراء اور رؤسا ء کے ہاں ملازمت اختیار کی ۔پھر نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے دہلی تباہی و بربادی میں گھِرا ہوا تھا ۔اس لئے بھی طبیعت میں افسردگی اور حسرت و یاس نے گھر کر لیا تھا ۔ آخر عمر میں لکھنئو آ گئے ۔ نواب آصف الدولہ نے بڑی قدر افزائی کی ۔ 1915 ء میں یہیں انتقال ہوا ۔ کلام کی خصوصیات میر ؔ کا کلام ایسی خصوصیات کا حامل ہے کہ 150 برس گزر جانے کے بعد بھی اب تک زندہ ہے ۔اس کی عصمت پر کوئی آنچ نہں آئی ۔وہ انسانی احساسات و جذبات کی مکمل تر جمانی کرتے ہیں ۔ان کے اشعار پاکیزہ ، دلکش ، ترنم اور دردمندی کا مجموعہ ہیں ۔میرؔ نے غزل ، قصیدہ ، مرثیہ  اور قطعات وغیرہ سب میں طبع آزمائی کی ہے ؛ لیکن ان کی شہرت و عظمت غزل سے وابستہ ہے ۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں ۔غزل ہی میں ان کے شاعرانہ جوہر کھلتے ہیں ۔جن میں احساس کی شدت ، تجربے کی گہرائی ، مشاہدے کی وسعت، تاثر اور سوز و گداز کی فراوانی ، اظہارِ خیال کی سادگی  ، دلی  جذبوں کی صداقت ، مسرت و شادمانی ، رنج و الم ، حسرت و یاس  اور محرومی  ان کے خاص موضوعات ہیں ۔میر ؔ کے  " بہتر نشتر " مشہور ہیں ۔ان سے مراد وہ اشعار جو اثر و تاثیر میں بے نظیر ہیں ۔یہی چیز ان کو بام ِ عروج پر لے گئی ۔ میرؔ کا تصور ِ غم :                میرؔ کی زندگی رنج و الم سے بھری ہوئی ہے ۔ وہ تمام عمر فکر معاش میں مبتلا رہے ۔ اس لئے ان کی شخصیت میں  رنج و الم ، افسردگی ،حسرت ، مایوسی ، نا امیدی ، اور محرومی پیدا ہو گئی ۔ یہی چیزیں ان کی شاعری کا جزو بن کر سامنے آئیں ۔میر ؔ نے اپنی شاعری میں غم ِ زندگی ، گمِ روز گار اور غم ِ عشق کے مضامین اس طرح باندھے کہ غم کو غزل کے سانچے میں ڈھال دیا ۔         ؎        ہم کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب ہم نے         درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان  کیا میر ؔ کے کلام میں مایوسیوں کی تڑپ  اور کسک رچی ہوئی ہے ۔         ؎        اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا      لہو آتا ہے تب نہیں آتا         ؎        شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے           دل ہوا ہے چراغ مفلس کا         ؎        سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو           ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے وہ جن حالات سے دوچار ہوئے اس کی حقیقی تصویر کشی  ایسے مؤثر الفاظ میں کی  کہ ہر پڑھنے والے کو اس نے متاثر کیا  ۔         ؎        کیا بودوباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو !                ہم کو غریب جان کے ، ہنس ہنس پکار کے                 دِ لّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب            رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے                 جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا                 ہم رہنے والے ہیں اسی اُ جڑے دیار کے سادگی اور سلا ست :          شاعری کا بہترین جوہر سادگی اور سلاست ہوا کرتا ہے ۔یہی میرؔ کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔ اکثر یہ سادگی " سہل ِ ممتنع "میں داخل ہو جاتی ہے  ۔ میر ؔ کا بیان نہایت دھیما ہے ۔ وہ سیدھے سادے ا لفاظ میں اپنے دل کی بات کہہ دیتے ہیں ۔یہ شاعری کی اہم صفت ہے ۔         ؎        فقیرانہ آئے صدا کر چلے            میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے         ؎        کچھ کرو فکر اس دوانے کی            دھوم ہے پھر بہار آنے کی تصّوف :       میرؔ صوفی نہیں تھے لیکن ان کی شاعری کے فکری عناصر میں تصوف کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔میرؔ کی شاعری کا بڑا حصہ عشق ِ مجازی کے موضوعات سے بھرا ہوا ہے  لیکن ان میں تصوف کی جھلک بھی ملتی ہے ۔ان کے مزاج میں قناعت ، توکل ، صبر ، دنیا کی بے ثباتی اور وحدت الوجود شامل ہے ۔         ؎        یہ تواہم  کا کارخانہ ہے                       یاں وہی ہے جو اعتبار کیا         ؎        ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی      چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا عشق :         میرؔ کے کلام میں عشق کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔وہ زندگی اور سای کائنات کو عشق کا مظہر سمجھتے ہیں ۔ان کی شاعری میں عشق کی تمام کیفیات بھر پور اناز میں نظر آتی ہیں ۔         ؎        پاس ناموس عشق تھا ورنہ            کتنے آنسو پلک تلک آئے         ؎        عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو                 سارے عالم میں بھرا ہوا ہے عشق         ؎        محبت ہی اس کارخانے میں ہے                محبت ہی سب کچھ زمانے میں ہے         ؎        ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا                آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا سوز و گداز :           میرؔ کی شاعری عالم گیر اقدار کو اجاگر کرتی ہے ۔سوز و گداز ان کی شاعری کا خاص جوہر ہے ۔اپنی شاعری میں انہوں نے اپنے ذاتی غم کو اس طرح  آفاقی غم بنا کر پیش کیا ہے کہ یہ سب کے دل پر اثر کرتا ہے ۔         ؎        دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے                 یہ نگر سو مرتبہ لُو ٹا گیا         ؎        میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی         ایک مدّت تک وہ کاغذ نم رہا تشبیہ اور استعاروں کا خوب صورت استعمال :         میرؔ نے دامن ِ اردو کو خوب صورت تشبیہات و استعارات سے مالامال کر دیا ۔انہیں اس کے استعمال پر قدرت حاصل تھی ۔         ؎        میرؔ اِن نیم باز آنکھوں میں                   ساری مستی شراب کی سی ہے                 ناز کی اُن کے لب کی کیا کہیئے                        پنکھڑی اِ ک گلاب کی سی ہے         ؎         کھِلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے                  اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے         ؎        اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ !         پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا موسیقیت :   میر ؔ کی شاعری موسیقیت اور ترنم سے مالا مال ہے ۔ میر ؔ کے کلام میں طویل بحروں کے اشعار اتنے مترنم اور پر لطف ہیں کہ ان کی پوری کیفیات کا بیان کرنا مشکل ہے۔         ؎        کبھی لطف سے نہ سخن کیا ، کبھی بات کہ نہ لگا لیا           وہی لحظہ لحظہ خطاب ہے ، وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے         ؎        عالم عالم  عشق و جنوں ہے  ، دنیا دنیا تہمت ہے           دریا دریا روتا ہوں میں  ، صحرا صحرا وحشت ہے احترام ِ آدمیت :       میرؔ کی شاعری میں انسانی عظمت  اور احترام ِ آدمیت کا ذکر واضح طور پر ملتا ہے ۔         ؎        آدمی کو ملک سے کیا نسبت                   شان ارفع ہے میر ؔ انساں کی         ؎        کعبے سو بار وہ گیا تو کیا !!                     جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی دنیا کی بے ثباتی:               دنیا کے عارضی ہونے کاتصور میرؔ کی شاعری کا خاص موضوع ہے ۔گردش ِ دوراں نے یہ تصور اور بھی گہرا کر دیا ۔         ؎        آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت           اسباب لُٹا  راہ میں یاں ہر سفری کا         ؎        سرسری تم جہان سے گزرے                        ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا شخصی پندار :           بے شک میرؔ کی شاعری درد و الم کی ایک تصویر ہے ۔ لیکن  میر ؔ اپنی شخصیت اور اوصاف سے بھی خوب واقف تھے ۔ ان میں مردانہ وقار اور شخصی مندار تھا ۔ ان کو احساس تھا کہ ایسے صاحب ِ کمال لوگ دنیا میں کم پیدا ہوتے ہیں ۔یہ بھی ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے ۔         ؎        مت سہل ہمیں جانو ، پھرتا ہے فلک برسوں              تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے خلوص :       میرؔ نے  اپنے جذبات کے اظہار میں بڑے خلوص سے کام لیا ۔واردات ِ قلبی اور زندگی کی صداقتوں کا صحیح اظہار کیا         ؎        ہم طور ِ عاشقی سے واقف نہیں ہیں لیکن                د ل میں کوئی کسی سے جیسے ملا کرے ہے         ؎        حقیقت نہ  میرؔ اپنی سمجھی گئی                  شب و روز ہم نے تامل کیا خطابیہ انداز :          میرؔ کے اکثر اشعار پڑھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہم سے مخاطب ہیں ۔خود ؐیر ؔ کو بھی اپنا یہ انداز بہت پسند تھا ۔ان کے کلام میں جا بجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔         ؎        لگانا دل کو کہیں کیا سُنا نہیں تُو نے              جو کچھ کہ میر ؔ کا اس عاشقی نے حال کیا         ؎        چلتے ہو تو چمن کو چلئے سنتے ہیں کہ باد ِ بہاراں ہے  پات ہرے ہیں ، پھول کھلے ہیں ، کم کم باد و باراں ہے حالات ِ زمانہ :         غزل کے مخصوص لہجے  میں میر ؔ نے اپنے دور  کے حالات بھی بیان کئے ہیں ۔آپ نے دلّل کے گلی کوچوں کی خوب عکس بندی کی ہے ۔انہوں نے اپنے دور کے حالت کا مرقع کھینچا ہے کہ اس دور ِ لازوال کی ہو بہو تصویر سامنے آ جاتی ہے ۔         ؎        میرؔ صاحب زمانہ نازک ہے                 دونوں ہاتھوں سے تھامئے دستار         ؎        دلّی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور کے                جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی ناقدین کی رائے :     بابائے اردو مولوی عبد الحق کہتے ہیں ،         " میرؔ کا ہر شعر ایک آنسو اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔"                 نیاز فتح پوری کہتے ہیں         " فن اور جذبات کے لحاظ سے میرؔ کا ایک خاص رنگ تھا ۔اسی رنگ سے وہ الگ پہچانے جا سکتے ہیں ۔"                 محمد حسین آزاد لکھتے ہیں         " میرؔ کی زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی ہے  کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں ۔"                 بقول مجنوں گورکھپوری         " نیرؔ الم کو ایک نشاط اور درد کو ایک سرور بنا دیتے ہیں ۔"                 ڈاکٹر سید عبد اللہ " نقد میرؔ " میں لکھتے ہیں         " اگر میرؔ کے زمانے کی تاریخ نہ لکھی جاتی  تو میرؔ کی شاعری کو پڑھ کر ایک گہری نظر رکھنے والا  اس زمانے کی تاریخ مرتب کر سکتا تھا ۔"                  بقول کلیم الدین احمد         " میرؔ سیدھے سادے  مختصر ، نرم و ملائم لفظوں میں اپنے اچھوتے  احساسات ، اور تاثرات کو صفائی   اور درد انگیزی کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ ان کے اشعار میں ایسا ترنم ہوتا ہے کہ گویا ان کی وح میں موسیقی آ بسی ہے ۔ "                 بقول ڈاکٹر عبا دت بریلوی         " میرؔ تشبیہوں اور استعاروں کے ذریعے  بعض کیفیات کی ایسی خوب صورت تصویر کشی کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں اس فن میں مصوّری جیسی شان پیدا ہو گئی ہے ۔ " حاصل ِ گفتگو :          مجموعی حیثیت سے میرؔ کی شاعری میں درد مندی  ، غم ِ زندگی ، غم ِ روزگار ، غم ِ عشق کی کیفیات ، زندگی کی حقیقتیں ، جذبوں کی صداقتیں اور اور تصوف کے مضامین جیسی چیزیں ہیں  جن کی وجہ سے ہر دور میں  ان کی شاعرانہ عظمت کو سلام کیا جاتا رہے گا ۔ اردو ادب میں میر ؔ کو لافانی اور لازوال مقام حاصل ہے ۔                 میر تقی میر ؔ خود کہتے ہیں         ؎        سارے عالم پہ میں ہو ں چھایا ہوا             مستند ہے میرا   فرمایا    ہوا۔۔!         میر ؔ ، میر ِ کاروانِ شعر و ادب تھے  ، ہیں اور رہیں گے ۔ انہیں بھی ا پنی اہمیت کا احساس تھا ۔         ؎        جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز         تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا ( تیار کردہ    :  شاکرہ کاظمی )

— شاعر پر تبصرہ میر تقی میرؔ ( خدائے سخن ، شہنشاہ ِ غزل ، غزل کی آبرو)

ادیب پر تبصرہ :                        سر سید احمد خان              ( جدید اردو نثر کے بانی ) 1817 ء تا  1897 ء ؎      رقصاں ہے لفظ لفظ میں اِک موجِ زندگی       بخشا ہے اُس نے نثر کو صد کیف نغمگی تعارف :     اردو ادب میں سر سید کسی تعارف کےمحتاج نہیں ۔انہیں اردو نثر کا بانی کہا جاتا ہے ۔ان کا اسلوب سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اصلاح کا پہلو لئے ہوئے ہے / آپ زبان کی حد بندیوں کو خاطر میں نہیں لائے  اور بعض مقامات پر انگریزی الفاظ کو استعمال کیا ۔تصنع اور بناوٹ سے پاک عبارت سر سید کی تحریروں کی خصوصیت ہے ۔ آپ کی تحاریر سادہ اوربا مقصد ہوتی تھیں ۔         بقول آل ِ سرور :                 '' سر سید نے کام کی باتیں کام کی زبان میں لکھنا سکھائیں ۔'' حالات ِ زندگی :        سر سید احمد خان 1817 ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔منصفی کا امتحان پاس کر کے جج ہو گئے ۔ بہادر شاہ کی طرف سے ان کو '' جواد الدولہ عارف جنگ '' کا خطاب ملا ۔جب ہندوستان کے مسلمان انگریزوں کی غلامی میں ذلّت و رسوائی کی چکی میں پس رہے تھے ؛ تب سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی بہتری اور عروج کی تمنّا لئے معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اُ ٹھایا ۔1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد سرسید صدر الصدور ہو کر مراد آباد چلے گئے ۔جہاں انہوں نے مدرسہ قائم کیا ۔رسالہ '' اسباب بغاوت ِ ہند '' لکھ کر مسلمانوں کی طرف سے انگریزوں کی بدگمانی دور کرنے کی کوشش کی ۔ سائنٹفک سوسائٹی قائم کر کے آپ نے علمی کتا بیں  انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرائیں ۔ایک اخبار علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ جاری کیا ۔ 1867ء میں بنارس میں قیام کے دوران جب ہندوؤں نے اردو کی مخالفت میں ہندی کو عدالتی زبان بنانے  کی تحریک چلائی ۔ تو سر سید نے ان کے خلاف مضامین لکھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:-         '' یہ پہلا موقع تھا جب  مجھے یقین ہو گیاکہ اب ہندو اور مسلمان کا بطور ایک قوم ساتھ رہنا مشکل ہے ۔''         سر سید نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی ۔بقول مولوی عبد الحق :         '' لوگ کہتے ہیں کہ سر سید نے کالج بنایا ؛ کالج نہیں اس نے قوم بنائی ، قومیت کا تصور پیش کیا  ، غم زدہ  دلوں میں روح پھونکی اور زندگی کے ہر شعبے کو بنایا ۔         1897 ء میں سرسید کا انتقال ہو گیا ۔ تصانیف :                آ ثار الصنادید ، آئین ِ اکبری ، تاریخ ضلع بجنور ، رسالہ اسباب بغاوت ِ ہند ، تہذیب الا خلاق ، مقالات ِ سر سید  ، خطبات ِ احمدیہ   اور  تفسیر القرآن  وغیرہ ۔ طرز تحریر کی خوبیاں /علمی و ادبی خدمات 1۔ قدیم  رنگ  :    سرسید نے سب سے پہلے اپنے بھائی کے اخبار  '' سید الا خبار '' میں مضامین لکھے ۔ آپ نے قدیم اسلوب کو اپنایا ۔ یعنی الفاظ کا بے محل استعمال اور قواعد سے بے پرواہ ۔ وہ دور ہی ایسا تھا ۔ الفاظ کی بے ترتیبی عام تھی ۔ لیکن سر سید کو اس امر کا احساس تھا ۔ 2۔ جدید  رنگ  :    سر سید بہت زمانہ شناس تھے ۔ انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ طرز نہ تو وقت  کا ساتھ دے گا ، نہ ان کی شخسیت کا ۔ سرسید کے ادبی رجحانات کی تعمیر میں غالبؔ کے ادبی اثرکے علاوہ 1857ء کی جنگ ِ آزادی نے نمایاں حصہ لیا ۔جنگ کی ناکامی کے بعد مسلماتوں کی سیاسی  ، تمدنی  اور معاشرتی زندگی کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ ایک مصلح قوم ہونے کی حیثیت سے سرسید نے اپنا مقصد ِ حیات  اور لائحۂ عمل متعیں کر لیا ۔اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے قومی و ملکی ، مذہبی و معاشرتی ، اخلاقی و علمی اور تعلیمی خدمات شروع کیں ۔آپ نے آسان زبان کو استعمال کیا ۔ 3۔ مقصدیت  :              مسلمانوں کو حسن و عشق کی فضاؤں سے نکال کر میدان ِ عمل میں لے جانا سر سید کا بڑا کارنامہ ہے ۔آپ نے اپنی تحریروں میں مقصدیت پر زور دیا ۔ جس سے قوم بیدار ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ         '' ایک اچھا ادیب وہی ہے جو کسی مقصد کے تحت لکھے ۔ '' 4 ۔ سادگی  ِ  بیان  :          سرسید نے اپنی نثر کو سادہ اور بات چیت کی زبان کے قریب کیا ۔اس میدان میں ہو اسٹیل اور ایڈیسن سے متاثر نظر آتے ہیں ۔سر سید نے اردو ادب کو خانقاہوں ، دربار اور کوچہ و بام سے نکال کر دفتروں ، مدرسوں  اور متوسط طبقے کے دل و دماغ  تک پہنچایا ؛ اس سے زندگی کی رہنمائی کا کام لیا ۔آپ کی بحث اتنی سادہ ، رواں ، مدلل اور واضح ہوتی کہ  اسے تسلیم کئے بنا چارہ نہیں ہوتا ۔ 5 ۔ ظرا فت  :      سر سید اسٹیل اور ایڈیسن سے متاثر ضرور نظر آتے ہیں لیکن آپ نے ان کا مکمل رنگ اختیار نہیں کیا ۔ ایڈیسن نے اصلاح ِ احوال کے لئے مزاحیہ انداز اختیار کیا  اور اپنے معاشرے کا دل کھول کر تمسخر اُ ڑایا۔سرسید میں مزاح کی صلاحیتیں  کم تھیں ۔ اس لئے وہ مکمل طور پر ان کا رنگ اختیار نہ  کر سکے ۔تاہم انہوں نے اس کی  کوشش ضرور کی  اور اس سے موقع محل کے مطابق کام لیا ۔اس کی مثال ان کے ایک مضمون  '' طریق ِ تناول ِ طعام '' میں ملتی ہے ۔انہوں نے لطیف مزاحیہ انداز میںیہ بتایا کہ مسلمان کس بُرے انداز میں کھانا کھاتے پیں ۔ 6 ۔ انگریزی  الفاظ  کا  استعمال  :           سرسید کی تحریروں میں انگریزی الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان کی تحاریر بڑی پُر اثر ہوتی ہیں ۔ 7 ۔ تنوع  مضامین  :         سر سید نے مختلف مو ضو عات پر قلم اُ ٹھایا ۔ان کے ہاں مختلف مو ضوعات نظر آتے ہیں  اور وہ ہر موضوع کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں ۔ان کے اسلوب میں ہر رنگ کا جلوہ حسب ِ موقع موجود ہے ۔ 8 ۔ بے  ساختگی  :    سر سید کی تحریروں میں ایک بے تکلفی اور بے ساختگی پائی جاتی ہے ۔ ان کا انداز ایسا ہے  جیسے قاری سامنے بیٹھا ہو ۔اس میں کسی قسم کی بناوٹ  اور ریا نہیں ہوتی  بلکہ پاکیزگی اور سچائی ہوتی ہے ۔ 9 ۔ تمثیلی  انداز  :   اپنے موضوعات میں دلچسپی اور  چاشنی پیدا کرنے کے لئے سرسید نے تمثیلی انداز زختیار کیا ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ   جیسے دلچسپ پیرائے میں کوئی کہانی یا اپنا ما ضی بیان کر رہا ہو ۔ان کے مضامیں کا یہ حکایتی انداز بہت دلچسپ اور اثر انگیز ہے ۔ 10 ۔ استدلالی  تحریریں  :   سر سید چونکہ ایک سوچے سمجھے کے تحت تحریک چلا رہے تھے ؛ اس لئے انہوں نے اپنا مقصد دلائل کے ساتھ واضح کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جذباتی  انداز اختیار نہیں کیا ،ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر  پر کھا ۔         بقول ڈاکٹر سید عبداللہ :-                 '' ان کی تحریروں میں منطقیانہ استد لال پایا جاتا ہے جو ہر قسم کے علمی مباحثے کے لئے  مو زوں  ہے۔'' 11 ۔ پُر  اثر  انداز  :                سر سید نے اردو ادب کوایک بیش بہا سرمایا  فراہم کیا۔ ان کی تحریروں میں شخصیت کا جوش جھلکتا  ہے ۔ جن کا مطالعہ کرنے سے  قاری کی بھی وہی کیفیت ہو جاتی ہے  جو مصنف کی تحریر کے وقت ہو گی ۔ 12 ۔ مقالہ  نگاری  :                سر سید نے فن ِ مقالہ نگاری  کی ابتدا کی ۔سر سید کے اخبار " سوسائٹی گزٹ " اور : تہذیب الاخلاق " میں بہت سے مقالے شائع ہوتے تھے ۔سر سید نے نئے موضوعات پر قلم اُٹھایا ۔آپ نے غالبؔ کے رنگ میں بعض مضامین مقالہ کی طرز پر لکھے ۔ ناقدین  کی  آراء  :   سر سید کی عظمت کو صرف مہدی افادی کے الفاظ میں بیان کر دینا ہی کافی ہے ۔         '' سر سید نے ادب اور معقولات پر جس حد تک مجتہدانہ رنگ چڑھایا ، وہ اچھے اچھوں کی دسترس سے باہر ہے ۔ ان کے کمالات کا اعتراف نہ کرنا  نا شکری نہیں بلکہ تاریخی غلطی ہے ۔''         مولوی عبد الحق لکھتے ہیں                 '' یہ سرسید ہی کا کارنامہ تھا جن کی بدولت ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو ادب کہیں کا کہیں پہنچ گیا ۔'' حاصل    ِ تحریر  :        سرسید اردو نثر نگاری کے سرتاج ہیں ۔ انہیں کی بدولت اردو ایک مشہور و معروف زبان ہے  اور ہم فخر سے اردو کو اپنی قومی زبان تسلیم کرتے ہیں ۔بقول حالی ؔ         ؎        ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو                 کریں گے ذکر ہر مجلس میں دہرائیں گے ان کو ( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی ) ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

— ادیب پر تبصرہ : سر سید احمد خان۔ ( جدید اردو نثر کے بانی ) 1817 ء تا 1897 ء