ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نثر نگار پر تبصرہ ۔۔ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ۔۔محقق اور ماہر لسّانیات

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تبصرے, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

نثر نگار پر تبصرہ                      ڈاکٹر سید محمد عبداللہ                  محقق اور ماہر لسّانیات

        ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایک محقق اور ماہر لسانیات کے طور پر ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔انھوں نے لسانیات پر گراں قدر کام کیا۔ اردو زبان کے ارتقا اور فروغ میں ان  کا بھی بہت نام ہے ۔ انھوں نے مقالہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اردو میں ان کے گراں قدر کارنامے ان کی عظمت کا ثبوت ہیں۔

حالات ِ زندگی :         آپ 5 اپریل 1906 ء  میں بنگلور ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد عالم اور حکیم تھے۔ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد لاہور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔1922 میں منشی فاضل کا امتحان ، 1923 ء میں  ایف اے ، اس کے بعد بی اے ، ایم اے فارسی اور عربی کرکے 1935 میں ڈی لٹ کی دگری حاصل کی ۔ آپ زندگی میں مختلف عہدوں  پر فائز رہے ۔ مگر ذیادہ تر  پنجاب یونیورسٹی  سے منسلک رہے ۔آپ اورینٹل کالج  کے پرنسپل بھی رہے ۔عربی فارسی شعبوں کے صدر بھی رہے  اور صدر لائبریرین  بھی رہے ۔ آپ نے پاکستان کی پہلی اردو کانفرنس جامعہ پنجاب میں 1948ء میں  منعقد کروائی ۔جس میں مولوی عبدالحق اور سردار عبدالرب نشتر نے بھی شرکت کی ۔اس اجلاس میں اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ کی تیاری کا منصوبہ منظور ہوا ۔ڈاکٹر سید محمد عبداللہ  نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ۔آپ نے مدیر اعلیٰ  کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں  اور ” تاریخ ِ ادبیات مسلمانانِ  پاکستان و ہند” کی 19 جلدوں پر بھی کام کیا ۔آپ نے تحریکِ خلافت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا 1921 ء میں اس وجہ سے آپ کو 6 مہینے کی قید و بند کی سزا بھی دی گئی ۔1986 ء میں آپ کا انتقال ہوا ۔

تصانیف :                ڈاکٹر سید عبداللہ 30 کتابوں کے مصنف تھے ۔وہ ” زبیر ہزاروی ” کے قلمی نام سے مضامین  بھی لکھتے رہے ۔ آپ بطورِ خاس تاریخِ اردو اور ادبی تنقید سے دلچسپی رکھتے تھے۔ و ہ پاکستانی تہذیب کے موضوع  پر بھی لکھتے تھے ۔ اردو کے مسائل پر کئی انگریزی اخبارات میں مضامین بھی لکھے ۔ لسانیات کے موضوع  پر بھی آپ نے ٹھوس تعمیری کام کیا ۔

  • ادبیات ِ فارسی میں ہندوؤں کا حصہ ( تاریخ )
  • اطرافِ غالبؔ ( تحقیق و تنقید )
  • بحث و نظر ( ادبی تنقید )
  • کلچر کا مسئلہ ( جائزہ )
  • دفتری زبان اور نصاب ( تحقیق)
  • اشاراتِ تنقید ( تنقید )
  • مقالات ِ اقباؔل ( تحقیق)
  • رمز اقباؔل ( تحقیق)
  • ولیؔ سے اقبالؔ تک ( شاعری کا جائزہ )
  • وجہی سے عبدالحق تک ( نثر کا جائزہ )
  • متعلقات خطبات ِ اقباؔل ( جائزہ )
  • طیف ِ اقباؔل ( تحقیق )
  • مسائل ِ اقباؔل ( تنقید )
  • میر امن سے عبدالق تک ( نثر کا جائزہ )
  • نقدِ میرؔ ( میرؔ کی شاعری کا جائزہ )
  • شعرائے اردو کے تذکرے ( تذکرے )
  • سوغات         ( جائزہ )
  • سر سید اور ان کے نام ور رفقاء ( تنقیدی جائزہ )
  • مباحث ( ادبی تنقید)
  • درخت اور دریچے ( مضامین)
  • نوادر ا لفاظ (لسانیات)
  • تعلیمی خطبات ( لیکچرز )
  • پاکستان میں اردو کا مسئلہ ( لسانیات )
  • اردو تذکرہ نگاری ( تحقیق)
  • مقاصد اقبال (تنقید )

ڈاکٹر سید عبداللہ کا فن اور اسلوب نگارش

       ڈاکٹر سید عبداللہ نے ساری زندگی علم و ادب کی خدمت کی ۔وہ ایک معروف اور معتبر نقاد ، مضمون نگار ، اور محقق تھے ۔تحقیق و تنقید میں ان کے کارنامے بڑے یاد گار ہیں ۔انھوں نے اپنے مضامین میں ہمیشہ اردو دوستی کا اظہار کیا  اور اس کے فروغ کے لئے ہمیشہ کوشش کی ۔

1 ۔ فکری انداز :               ڈاکٹر سید عبداللہ کے اکثر موضوعات بڑی گہری سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔چونکہ آپ ایک استاد بھی تھے اس لئے طلبا نے ان کے اس اندازِ فکر  سے بہت فیض اُٹھایا ۔ تعلیم آپ کا عشق تھا ۔ اسی کو آپ نے اپنا مستقل موضوع اور انداز قرار دیا ۔آپ نے فلسفۂ تعلیم کو بھی اجاگر کیا ۔ آپ کی تحاریر میں قومی اصلاح اور درد مندی نظر آتی ہے ۔

2 ۔ تحقیق نگاری :              تحقیق نگاری کے میدان میں ڈاکٹر سید عبداللہ ایک باوقار شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں ۔تحقیق نگاری کوئی آسان کا م  نہیں ہوتا ۔اس کے لئے ایک خاص رجحان اور انداز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ڈاکٹر عبداللہ ان صلاحیتوں کے مالک تھے۔آپ نے نہایت لگن ، دیانت داری اور ذوق و شوق سے تحقیق کے میدان میں اپنی جگہ بنائی۔ آپ نے صرف سرسری اخذ شدہ حقائق پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید تحقیق سے اِسے پختگی بخشی ۔

3۔ تاریخ نگاری :             لسّانی تحقیق کے ساتھ ساتھ آپ نے تاریخ کے سلسلے میں جو نتائج پیش کئے  وہ بھرپور صداقت کا آئینہ دار ہیں ۔ اسی لئے قابلِ قبول ٹھہرے ۔مثلاً ایک جگہ انہوں نے رومن اور عربی رسم الخط کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اس تاریخی حقیقت  سے باخبر کیا  کہ رومن رسم الخط فرسودہ اور ارتقا سے محروم رہا ہے ۔ جبکہ عربی رسم الخط نے ابتدائی مرحلۂ کوفی سے لے کر نستعلیق تک کتنی ہی منزلیں طے کی ہیں۔

4 ۔ تنقید نگاری :               تنقید نگاری کے میدان میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے بہت گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ان کی تحاریر سے ان کے  تنقیدی تصورات اور نظریات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ان کی تحریروں میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے ۔ تنقید میں آپ کی رائے بے باک ہوتی ہے ۔جس سے آپ کے وسیع مطالعے اور متوازن ذہن کا پتہ چلتا ہے ۔

5 ۔ تسلسل ِ بیاں :              ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں میں بیان کا تسلسل بڑا متاثر کُن ہے ۔ جب وہ کسی موضوع پر اپنا قلم چلاتے ہیں تو اس کی روانی میں کہیں خلل محسوس نہیں ہوتا ۔ان کی فکر مرحلہ وار رواں دواں نظر آتی ہے ۔جس سے عبارت کی دلکشی اور حُسن دوچند ہوجاتا ہے ۔تحقیق و تاریخ جیسے مضامین میں اس طرح کشش و رعنائی پیدا کرنا اُن کا کمال ہے ۔

6 ۔ شگفتگی :    ڈاکٹر عبداللہ کی ذہنی استعداد اور اعلیٰ فنّی مہارت کا اس بات سے بھی انداز لگایا جاسکتا ہے  کہ خشک اور سنجیدہ موضوعات  کو بھی آپ کا ذہن ِ رسا اور زورِ قلم تازگی اور شگفتگی بخشتا ہے ۔

7۔ بیان پر عبور :              قاری ڈاکٹر عبداللہ کی تحریریں پڑھنے کے بعد  ان کی قوّت ِ بیان پر مکمل عبور کی داد دئیے بنا نہیں رہ سکتا ۔وہ موقع اور مناسبت کے لحاظ سے الفاظ اور  زبان کا انتخاب کرتے ہیں ۔ نہ صرف موضوع بلکہ زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں ۔ہر ذہنی سطح کا قاری ان کی بات اور زبان کو قبول کر سکتا ہے ۔یہی ان کا سب سے منفرد کارنامہ ہے  جو ان کو ممتاز کرتا ہے۔

8 ۔ لسّانی معاملات :   زبان کے مختلف معاملات اور مسائل سے آپ کو ہمیشہ دلچسپی رہی ۔ آپ کی تحریروں میں اردو کے لسانی معاملوں اور ان کے نظر انداز کئے ہوئے پہلوؤں  پر بلیغ اشارے اور وضاحتیں موجود ہیں ۔” نوادرِ الفاظ اور پاکستان میں اردو کا مسئلہ ” میں آپ نے کئی لسانی معاملات کی نشان دہی کی ہے  اور اصلاح  کی کوشش کی ہے ۔ جو اپنی مثال آپ ہیں ۔

9 ۔ اختصار اور جامعیت :               اختصار اور جاعیت بھی ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں کا  خاص جوہر ہے۔لیکن جہاں وضاحت درکار ہوتی ہے وہاں موقع  کی مناسبت سے   آپ کا قلم رواں دواں  بھی نظر آتا ہے ۔ لیکن کبھی کبھی آپ تفصیلی بیان اور جزئیات سے دامن بچا کر صرف دوچار جملوں پر ہی اکتفا کرتے نظر آتے ہیں ۔لیکن ا ن کے چھوٹے جملوں میں بھی ایک وسیع دنیا نظر آتی ہے۔

10 ۔ مقصدیت :              ڈاکٹر عبداللہ کی تحریروں میں مقصدیت نظر آتی ہے ۔کسی نقطۂ نظر کی وضاحت کے لئے جب آپ قلم اُٹھاتے ہیں  تو بہترین انداز میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچاتے نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تحریریں آپ کی سوچ کی عکاس ہیں ۔

11۔ بے ساختگی اور بے تکلّفی :  ڈاکٹر عبداللہ  اپنے مضامین میں بڑی بے ساختگی  ، روانی اور بے تکلفی سےاپنی بات کہتے چلے جاتے ہیں ۔ ان کی تحریریں زبان و بیان کی غلطیوں سے پاک ہیں ۔ وہ ایسا لہجہ اختیار کرتے ہیں جو دل سے نکلتا ہے اور دل میں اترتا محسوس ہوتا ہے ۔

12 ۔ سادگی ، سلاست اور روانی :      سید محمد عبداللہ کی تحاریر کی نمایاں خوبی  سادگی ، سلاست اور بیان کی روانی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں ۔وہ نہایت مؤثر اور آسان الفاظ میں مقصد مُدعا سمجھاتے چلے جاتے ہیں ۔جملے آگے پیچھے قطار بنائے دوڑے چلے آتے ہیں ۔یہ روانی ان کی عظمت پر دلیل ہے۔

13 ۔ موضوعات کا تنوع :              سید عبداللہ نے مختلف موضوعات پر لکھا۔ذیادہ تر آپ تحقیق و تنقید کے میدان میں رہے ۔لسانیات پر بھی آپ نے سیر حاصل کام کیا ۔لیکن ان دائروں میں رہتے ہوئے بھی آپ نے مختلف موضوعات کو موضوع ِ بحث بنایا۔

14 ۔ صداقت اور سچائی :              ڈاکٹر عبداللہ نے اپنی تحریروں میں صداقت اور سچائی کا دامن تھامے رکھا۔ علم و فکر کو قاری تک پہنچانے کے لئے انھوں نے بھرپور صداقت اور سچائی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انھوں نے قلم کی حُرمت کا ہمیشہ خیال رکھا۔  صداقت اور سچائی ان کی تحریروں کی نمایاں خوبی ہے۔

15 ۔ مُدلل انداز :             ڈاکٹر عبداللہ کی تحریریں  جذبات سے ذیادہ عقل کو متاثر کرتی ہیں ۔اپنی تحریروں میں آپ نے منطقیانہ انداز سے کام لیا ہے ۔وہ جو بات بھی کرتے ہیں دلیل سے کرتے ہیں ۔ان کے مضامین علمی دولت سے مالامال ہونے کے ساتھ دلائل کی دولت سے بھی سرشار ہیں ۔

16 ۔ مطالعہ و مشاہدہ : ڈاکٹر عبداللہ کا مطالعہ اعلیٰ معیار کا تھا۔ آپ جس موضوع پر قلم اُٹھاتے اس کے متعلق مستند معلومات اور ذرائع آپ کے پاس ہوتیں ۔آپ کے نثر اور شاعری کے جائزے اس بات کے گواہ ہیں ۔

نتیجۂ  فکر :     المختصر ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک تخلیقی ذہن رکھتے تھے۔ انھیں زبان دانی سے بالعموم اور زبان سے بالخصوص عشق تھا۔ اردو زبان سے والہانہ وابستگی کا اظہار ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔ آپ کی اعلیٰ تحقیقی ، تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کے سب ہی معترف ہیں ۔آپ کی تحریریں منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ مقصدیت کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ بلا شبہ آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *