ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نثر نگار پر تبصرہ :۔۔ڈپٹی نذیر احمددہلوی( شمس العلماء)۔۔ناول نگار

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تبصرے, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

نثر نگار پر تبصرہ :                 ڈپٹی نذیر احمددہلوی( شمس العلماء)        ناول نگار

تعارف:      ڈپٹی نذیر احمد  پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو ادب میں ناول سے معاشرتی اصلاح کا کام لیا ۔آپ بہ طور ِ خاص طبقۂ نسواں کی اصلاح کی طرف مائل ہوئے ۔

حالات ِ زندگی :   نذیر احمد 6 دسمبر 1836 کو ضلع بجنور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولوی سعادت علی سے حاصل کی ۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد محکمۂ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی ۔اسی زمانے میں ” انڈ ین پینل کوڈ ” کا ترجمہ” تعزیرات ِ ہند ” کے نام سے  کیا ۔ جو حکام کو بہت پسند آیا  اور تحصیل دار مقرر ہوئے ۔ بعد میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ اسی نسبت سے آپ کے نام کے ساتھ ڈپٹی لگایا جاتا ہے۔کچھ عرصہ حیدر آباد دکن میں ممبر بورڈ آف ریوینیو کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں ملازمت ترک کرکے دہلی آگئے ۔3 مئی 1912 ء کو آپ کا انتقال ہو گیا ۔ ڈپٹی نذیر احمد کی ادبی خدمات کے   پیش ِ نظر حکومت نے شمس العلماء کا  خطاب دیا ۔پنجاب یونیورسٹی نے ڈی ۔او۔ایل  اور انگلستان کی ایڈنبرا یو نیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی ڈگریاں عطا کیں۔

تصانیف : مراۃ العروس ، بنات النعش ، توبتہ النصوح ، ابن الوقت ۔ فسانۂ مبتلا ، رویائے صادقہ ، محسنات ، الحقوق والفرائض، ترجمہ قرآن مجید وغیرہ ۔

طرز تحریر کی خصوصیات

1۔ ناول نویسی کے بانی  :   نذیر احمد اردو ناول نویسی کے بانی مانے جاتے  ہیں ۔ ” مراۃ العروس ” اردو کا اولین ناول ہے ۔یہ 1869 ء میں شائع ہوا۔

2۔ پلاٹ  ، کردار اور مکالمہ نگاری  :   کسی  ناول میں پلاٹ ، کردار اور مکالمے   خاص اہمیت  کے حامل  ہوتے ہیں  ۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں پلاٹ مکمل اور واضح ہوتے ہیں ۔ان میں ابتدا ، وسط اور تکمیل کا  احساس بھی  پایا  جاتا ہے  ۔ان کے کردار  اسم با مسمیٰ ہوتے ہیں ۔ناموں ہی سے ان کی اصلیت واضح ہو جاتی ہے ۔البتہ ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کو اپنے تعارف سے زندہ  رکھتے ہیں ۔اگر کسی کردار کو نیک بتانا  مقصود ہو توبڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں  کہ فرشتہ ہی بنا دیتے ہیں۔اور اگر برا بتانا ہو تو   اتنا گرا دیتے ہیں کہ شیطان لگتا ہے ۔وہ خود اپنے منفرد عمل سے زندہ نہیں رہتے ۔نذیر احمد عورتوں کی زبان اور طرز گفتگو سے خوب واقف ہیں ۔وہ بے تکلف مکالمے لکھتے چلے جاتے ہیں۔جن میں سلاست اور روانی پائی جاتی  ہے ۔

3۔ مُدعا نگاری :               ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں با مقصد ہوتی ہیں ۔ انہوں نے جتنے بھی ناول لکھے وہ تعلیمی ، اخلاقی  اور مذہبی نقطۂ نظر سے لکھے ۔ وہ سر سید کے ساتھ فکری و قلمی تحریک میں شامل تھے ۔ اسی لئے انہوں نے  مسلمانوں کی اصلاح کو اپنا مقصد بنایا۔

4 ۔ معاشرے کی عکاسی :     سر سید کی اصلاحی تحریک کو نذیر احمد نے اپنی تحریروں سے قوّت بخشی ۔انہوں نے معاشرتی زندگی کی سچی تصویر پیش کی ۔انہوں نے مافوق الفطرت قصوں اور طوطا مینا کی کہانیوں سے نکل کر اصلاح معاشرت اور اخلاقیات سے اپنے ناول مکمل کئے  اور ادب کو زندگی کے قریب کیا۔

5۔ رواں اسلوب :           نزیر احمد کا  طرز تحریر سادہ ، اور رواں ہے ۔ وہ دہلی کی ٹھیٹھ اور ٹکسالی زبان میں لکھتے ہیں ۔ محاورات کا استعمال بھی بڑے سلیقے سے کرتے ہیں ۔ جس سے زبان میں تاثیر پیدا ہو گئی ہے ۔

6 ۔ مقصدیت :               قوم کی اصلاح کی خاطر نذیر احمد نے اپنے ناولوں سے دین داری ، خدا پرستی  اور اصلاح ِ معاشرت کا کام لیا ۔انہوں نے اپنے ناول کسی نہ کسی  مقصد   کےتحت لکھے ۔وہ قصہ نویس سے ذیادہ واعظ تھے ۔

7۔ روایت شکنی :              نذیر احمد نے غیر فطری انداز چھوڑ کر حقیقی زندگی کے موضوعات کاا نتخاب  کیا ۔بھوتوں ، پریوں اور غیر حقیقی کرداروں اور کہانیوں کے بجائے گرد و پیش کی ندگی سے  موضوعات کا انتخاب کیا۔اور ان میں اصلیت کا رنگ بھرا ۔اس طرح آپ نے صدیوں پرانی روایت توڑ کر روایت شکنی کی ۔

8 ۔ پُر جوش اندازِ بیان :       نذیر احمدکا انداز بیان بڑا پر جوش ہے ۔ ان کے کرداروں کی گفتگو بعض اوقات سراپا تقدیر معلوم ہوتی ہے  ۔

9 ۔بے تکلفی :         آپ کی تحریروں میں بے تکلفی اور بے ساختگی  کا عنصر نمایاں ہے ۔ اپنے ناولوں میں موضوع کو بے ساختگی اور بے تکلفی سے ادا کرتے چلے جاتے ہیں ۔کسی قسم کی بناوٹ اور تکلف سے کام نہیں لیتے ۔

10 ۔ سادگی اور دل نشینی  :          ڈپٹی نذیر احمد کی زبان سادہ اور دل نشین ہے ۔اپنا مقصد  بیان کرنے کے لئے وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ  بات پڑھنے والے کے دل  میں اترتی چلی جاتی ہے ۔

11 ۔ خطیبانہ رنگ  :        ڈپٹی نذیر احمد کا رنگ اور انداز  خطیبانہ ہے ۔جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں جوش و اثر پایا جاتا ہے ۔بعض مقامات پر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی خطیب خطبہ دے رہا ہو اور نصیحت کر رہا ہو ۔توبتہ النصوح اور ابن الوقت میں اس کی بے شمار مثالیں نظر آتی ہیں ۔

12 ۔ وسعت ِ نظر :   ان کی تحریروں میں معاشرے کی اصلاح کا جذبہ وسعت ِ نظر کے ساتھ ملتا ہے ۔مسلمان گھرانوں کی اصلاح کے لئے وہ مذہبی نظریات اور اس کے علاوہ معاشرتی اقدار کا پر چار کرتے چلے گئے ۔

13 ۔ عربی اور فارسی کے نامانوس الفاظ کا استعمال  :          اگرچہ نذیر احمد کی زبان سادہ اور سلیس ہے لیکن محاورں کی کثرتاور عربی و فارسی کے نا مانوس الفاظ  کا استعمال گراں معلوم ہوتا ہے ۔بقول مرزا فرحت اللہ بیگ

        ” نذیر عربی اور فارسی کے الفاظ نہیں لاتے بلکہ پہاڑ کھڑا کر دیتے ہیں ۔”

14 ۔ عورتوں کی زبان کا استعمال  : نذیرعورتوں کی زبان اور طرز گفتگو سے خوب واقف ہیں ۔عورتوں کے مکالمے بیان کرنے پر انہیں قدرت حاصل ہے ۔مراۃ العروس میں آپ نے دہلی کے شریف خاندان کی معاشرت کا ہو بہو نقشہ کھینچا ہے ۔

15 ۔ انگریزی الفاظ کا استعمال :      آپ نے اپنی تحریروں میں انگریزی الفاظ سے بھی جا بجا کام لیا ۔لیکن اس سے تحریر میں کوئی حسن پیدا نہیں ہوا ۔

16 ۔ محاورے استعمال کرنے کا شوق :               نذیر کو محاورے استعمال کرنے کا بہت شوق تھا ۔ان کے ہاں عوامی اور علمی دونوں طرح کے محاورے ملتے ہیں ۔لیکن محاوروں کی کثرت اکثر گراں محسوس ہوتی ہے ۔جن میں بے تکلؔف نسوانی محاورات بھی شامل ہیں ۔آپ نے قرآن پاک کا پہلی مرتبہ  با محاورہ اردو نثر میں ترجمہ کیا ۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ترجمے کی خامیوں ، زبان اور محاورے کی آزادیوں کی وجہ سے کفر تک کے فتوے لگا دئے ۔

17 ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حامی :     آپ نے اپنے ناولوں سے معاشرے کی اصلاح کا کام لیا ۔اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہ تھی ۔نذیر احمد نے اس ضرورت کو محسوس کیا ۔اور اپنے ناولوں کے ذریعے تعلیم ِ نسواں کی اہمیت اور ضرورت پر غور  دیا ۔

18 ۔ شوخی و ظرافت  :      نذیر احمد ایک زندہ دل  اور ظریف آدمی تھے ۔ یہی ظرافت اور زندہ دلی ان کی تحریروں میں بھی ملتی ہے ۔جو ایک شگفتگی کے دائرے سے آگے نہیں بڑھتی ۔وہ تبسم تو بن جاتی ہے مگر قہقہہ نہیں بنتی۔

19 ۔ بہ حیثیت ناول نگار :    آپ اردو  کے پہلے ناول نگار ہیں ۔ اپنی بیٹی کو پڑھانے کے لئے جو کتا ب آپ نے لکھی وہ مراۃ العروس کے نام سے شائع ہوئی ۔ اپنی تعمیری صلاحیتوں کی بدولت آپ ایک ممتاز جگہ پرکھرے ہین ۔آپ نے اپنے ناولوں کو درس و اخلاق کا ذریعہ بنایا ۔آپ ترجمان ِ زندگی تھے ۔ نذیر احمد کے ناولوں کی وہی حیثیت  ہے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی  کے بعض انگریزی قصوں کی ہے ۔نذیر احمد کے ناول ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔

20 ۔ بہ حیثیت مترجم :       نذیر احمد نے ناولوں اور دوسری تصانیف کے علاوہ ترجمے بھی کئے ۔حکومت کے ایما پر انہوں نے قانون ، انکم ٹیکس  اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ ” تعزیرات ِ ہند ” کیا ۔ اس کے علاوہ آپ نے قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیا ۔

21 ۔ نذیر احمد کی عظمت :    لوگ چاہے نذیر احمد پر کتنے ہی اعتراض کئے جائیں  اور ان کی  خامیاں گنوائیں ۔ پھر بھی ان کی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔آپ نے جس قدر علمی خزانہ چھوڑا ہے  وہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو ان کی یاد دلاتا رہے گا ۔

ناقدین کی رائے :        

        بقول مہدی آفادی :-

                ” زمانہ کتنی ہی ترقی کرے ، اس علم کے پتلے کو پھر پیدا نہیں کر سکتا ۔”

         پروفیسر آل ِ سرور کہتے ہیں :-

                ” مسلمانوں کی زوال آمادہ سوسائٹی  میں تہذیب ِ نسواں نذیر احمد کے ناولوں  میں اہم مقصد کا درجہ رکھتا ہے ۔ ”

        ” ان کے ناول بڑے شوق سے پڑھے جاتے ہیں ۔یہ الماریوں میں نہیں بلکہ دلوں میں محفوظ ہیں ۔یہی ان کی ابدی زندگی کی ضمانت ہے ۔”

        ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کہتے ہیں ۔

        ” نذیر احمد کو بلا شبہ جدید اردو ناول کا پیش رو قرار دینا چاہیئے۔ ”

حاصل ِ تحریر :

        ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں بے پناہ خصوصیات کی حامل ہیں ۔جنھیں دائرۂ  تحریر میں لانا یا احاطہ کرنا  ناممکن ہے ۔ بے شک ان کے ناولوں پر بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں ۔لیکن ان کو ناول نگار کہنے میں کسی کو حجاب نہیں ۔ناول نگاری کی تاریخ ان کو خراج ِ تحسین پیش کئے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتی ۔

؎        نذیر کے ہر ناول سے جلوہ گر ہے اصلاحی جمال

        اس نے دل کی نیکیاں بھر  دی ہیں ہر تصویر میں

(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *