ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

ادیب پر تبصرہ : سر سید احمد خان۔ ( جدید اردو نثر کے بانی ) 1817 ء تا 1897 ء

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تبصرے, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

ادیب پر تبصرہ :                        سر سید احمد خان              ( جدید اردو نثر کے بانی )

1817 ء تا  1897 ء

؎      رقصاں ہے لفظ لفظ میں اِک موجِ زندگی

      بخشا ہے اُس نے نثر کو صد کیف نغمگی

تعارف :     اردو ادب میں سر سید کسی تعارف کےمحتاج نہیں ۔انہیں اردو نثر کا بانی کہا جاتا ہے ۔ان کا اسلوب سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اصلاح کا پہلو لئے ہوئے ہے / آپ زبان کی حد بندیوں کو خاطر میں نہیں لائے  اور بعض مقامات پر انگریزی الفاظ کو استعمال کیا ۔تصنع اور بناوٹ سے پاک عبارت سر سید کی تحریروں کی خصوصیت ہے ۔ آپ کی تحاریر سادہ اوربا مقصد ہوتی تھیں ۔

        بقول آل ِ سرور :

                ” سر سید نے کام کی باتیں کام کی زبان میں لکھنا سکھائیں ۔”

حالات ِ زندگی :        سر سید احمد خان 1817 ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔منصفی کا امتحان پاس کر کے جج ہو گئے ۔ بہادر شاہ کی طرف سے ان کو ” جواد الدولہ عارف جنگ ” کا خطاب ملا ۔جب ہندوستان کے مسلمان انگریزوں کی غلامی میں ذلّت و رسوائی کی چکی میں پس رہے تھے ؛ تب سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی بہتری اور عروج کی تمنّا لئے معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اُ ٹھایا ۔1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد سرسید صدر الصدور ہو کر مراد آباد چلے گئے ۔جہاں انہوں نے مدرسہ قائم کیا ۔رسالہ ” اسباب بغاوت ِ ہند ” لکھ کر مسلمانوں کی طرف سے انگریزوں کی بدگمانی دور کرنے کی کوشش کی ۔ سائنٹفک سوسائٹی قائم کر کے آپ نے علمی کتا بیں  انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرائیں ۔ایک اخبار علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ جاری کیا ۔ 1867ء میں بنارس میں قیام کے دوران جب ہندوؤں نے اردو کی مخالفت میں ہندی کو عدالتی زبان بنانے  کی تحریک چلائی ۔ تو سر سید نے ان کے خلاف مضامین لکھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:-

        ” یہ پہلا موقع تھا جب  مجھے یقین ہو گیاکہ اب ہندو اور مسلمان کا بطور ایک قوم ساتھ رہنا مشکل ہے ۔”

        سر سید نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی ۔بقول مولوی عبد الحق :

        ” لوگ کہتے ہیں کہ سر سید نے کالج بنایا ؛ کالج نہیں اس نے قوم بنائی ، قومیت کا تصور پیش کیا  ، غم زدہ  دلوں میں روح پھونکی اور زندگی کے ہر شعبے کو بنایا ۔

        1897 ء میں سرسید کا انتقال ہو گیا ۔

تصانیف :                آ ثار الصنادید ، آئین ِ اکبری ، تاریخ ضلع بجنور ، رسالہ اسباب بغاوت ِ ہند ، تہذیب الا خلاق ، مقالات ِ سر سید  ، خطبات ِ احمدیہ   اور  تفسیر القرآن  وغیرہ ۔

طرز تحریر کی خوبیاں /علمی و ادبی خدمات

1۔ قدیم  رنگ  :    سرسید نے سب سے پہلے اپنے بھائی کے اخبار  ” سید الا خبار ” میں مضامین لکھے ۔ آپ نے قدیم اسلوب کو اپنایا ۔ یعنی الفاظ کا بے محل استعمال اور قواعد سے بے پرواہ ۔ وہ دور ہی ایسا تھا ۔ الفاظ کی بے ترتیبی عام تھی ۔ لیکن سر سید کو اس امر کا احساس تھا ۔

2۔ جدید  رنگ  :    سر سید بہت زمانہ شناس تھے ۔ انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ طرز نہ تو وقت  کا ساتھ دے گا ، نہ ان کی شخسیت کا ۔ سرسید کے ادبی رجحانات کی تعمیر میں غالبؔ کے ادبی اثرکے علاوہ 1857ء کی جنگ ِ آزادی نے نمایاں حصہ لیا ۔جنگ کی ناکامی کے بعد مسلماتوں کی سیاسی  ، تمدنی  اور معاشرتی زندگی کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔ ایک مصلح قوم ہونے کی حیثیت سے سرسید نے اپنا مقصد ِ حیات  اور لائحۂ عمل متعیں کر لیا ۔اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے قومی و ملکی ، مذہبی و معاشرتی ، اخلاقی و علمی اور تعلیمی خدمات شروع کیں ۔آپ نے آسان زبان کو استعمال کیا ۔

3۔ مقصدیت  :              مسلمانوں کو حسن و عشق کی فضاؤں سے نکال کر میدان ِ عمل میں لے جانا سر سید کا بڑا کارنامہ ہے ۔آپ نے اپنی تحریروں میں مقصدیت پر زور دیا ۔ جس سے قوم بیدار ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ

        ” ایک اچھا ادیب وہی ہے جو کسی مقصد کے تحت لکھے ۔ ”

4 ۔ سادگی  ِ  بیان  :          سرسید نے اپنی نثر کو سادہ اور بات چیت کی زبان کے قریب کیا ۔اس میدان میں ہو اسٹیل اور ایڈیسن سے متاثر نظر آتے ہیں ۔سر سید نے اردو ادب کو خانقاہوں ، دربار اور کوچہ و بام سے نکال کر دفتروں ، مدرسوں  اور متوسط طبقے کے دل و دماغ  تک پہنچایا ؛ اس سے زندگی کی رہنمائی کا کام لیا ۔آپ کی بحث اتنی سادہ ، رواں ، مدلل اور واضح ہوتی کہ  اسے تسلیم کئے بنا چارہ نہیں ہوتا ۔

5 ۔ ظرا فت  :      سر سید اسٹیل اور ایڈیسن سے متاثر ضرور نظر آتے ہیں لیکن آپ نے ان کا مکمل رنگ اختیار نہیں کیا ۔ ایڈیسن نے اصلاح ِ احوال کے لئے مزاحیہ انداز اختیار کیا  اور اپنے معاشرے کا دل کھول کر تمسخر اُ ڑایا۔سرسید میں مزاح کی صلاحیتیں  کم تھیں ۔ اس لئے وہ مکمل طور پر ان کا رنگ اختیار نہ  کر سکے ۔تاہم انہوں نے اس کی  کوشش ضرور کی  اور اس سے موقع محل کے مطابق کام لیا ۔اس کی مثال ان کے ایک مضمون  ” طریق ِ تناول ِ طعام ” میں ملتی ہے ۔انہوں نے لطیف مزاحیہ انداز میںیہ بتایا کہ مسلمان کس بُرے انداز میں کھانا کھاتے پیں ۔

6 ۔ انگریزی  الفاظ  کا  استعمال  :           سرسید کی تحریروں میں انگریزی الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان کی تحاریر بڑی پُر اثر ہوتی ہیں ۔

7 ۔ تنوع  مضامین  :         سر سید نے مختلف مو ضو عات پر قلم اُ ٹھایا ۔ان کے ہاں مختلف مو ضوعات نظر آتے ہیں  اور وہ ہر موضوع کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں ۔ان کے اسلوب میں ہر رنگ کا جلوہ حسب ِ موقع موجود ہے ۔

8 ۔ بے  ساختگی  :    سر سید کی تحریروں میں ایک بے تکلفی اور بے ساختگی پائی جاتی ہے ۔ ان کا انداز ایسا ہے  جیسے قاری سامنے بیٹھا ہو ۔اس میں کسی قسم کی بناوٹ  اور ریا نہیں ہوتی  بلکہ پاکیزگی اور سچائی ہوتی ہے ۔

9 ۔ تمثیلی  انداز  :   اپنے موضوعات میں دلچسپی اور  چاشنی پیدا کرنے کے لئے سرسید نے تمثیلی انداز زختیار کیا ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ   جیسے دلچسپ پیرائے میں کوئی کہانی یا اپنا ما ضی بیان کر رہا ہو ۔ان کے مضامیں کا یہ حکایتی انداز بہت دلچسپ اور

اثر انگیز ہے ۔

10 ۔ استدلالی  تحریریں  :   سر سید چونکہ ایک سوچے سمجھے کے تحت تحریک چلا رہے تھے ؛ اس لئے انہوں نے اپنا مقصد دلائل کے ساتھ واضح کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جذباتی  انداز اختیار نہیں کیا ،ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر  پر کھا ۔

        بقول ڈاکٹر سید عبداللہ :-

                ” ان کی تحریروں میں منطقیانہ استد لال پایا جاتا ہے جو ہر قسم کے علمی مباحثے کے لئے  مو زوں  ہے۔”

11 ۔ پُر  اثر  انداز  :                سر سید نے اردو ادب کوایک بیش بہا سرمایا  فراہم کیا۔ ان کی تحریروں میں شخصیت کا جوش جھلکتا  ہے ۔ جن کا مطالعہ کرنے سے  قاری کی بھی وہی کیفیت ہو جاتی ہے  جو مصنف کی تحریر کے وقت ہو گی ۔

12 ۔ مقالہ  نگاری  :                سر سید نے فن ِ مقالہ نگاری  کی ابتدا کی ۔سر سید کے اخبار ” سوسائٹی گزٹ ” اور : تہذیب الاخلاق ” میں بہت سے مقالے شائع ہوتے تھے ۔سر سید نے نئے موضوعات پر قلم اُٹھایا ۔آپ نے غالبؔ کے رنگ میں بعض مضامین مقالہ کی طرز پر لکھے ۔

ناقدین  کی  آراء  :   سر سید کی عظمت کو صرف مہدی افادی کے الفاظ میں بیان کر دینا ہی کافی ہے ۔

        ” سر سید نے ادب اور معقولات پر جس حد تک مجتہدانہ رنگ چڑھایا ، وہ اچھے اچھوں کی دسترس سے باہر ہے ۔ ان کے کمالات کا اعتراف نہ کرنا  نا شکری نہیں بلکہ تاریخی غلطی ہے ۔”

        مولوی عبد الحق لکھتے ہیں

                ” یہ سرسید ہی کا کارنامہ تھا جن کی بدولت ایک صدی کے قلیل عرصے میں اردو ادب کہیں کا کہیں پہنچ گیا ۔”

حاصل    ِ تحریر  :        سرسید اردو نثر نگاری کے سرتاج ہیں ۔ انہیں کی بدولت اردو ایک مشہور و معروف زبان ہے  اور ہم فخر سے اردو کو اپنی قومی زبان تسلیم کرتے ہیں ۔بقول حالی ؔ

        ؎        ترے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو

                کریں گے ذکر ہر مجلس میں دہرائیں گے ان کو

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *