شاعر پر تبصرہ : میر تقی میرؔ
( خدائے سخن ، شہنشاہ ِ غزل ، غزل کی آبرو)
؎ ریختہ کے تمہی استادنہیں ہوغالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
میر تقی میر ؔ آسمان ِ سخن کے درخشاں ستارے ہیں ۔ان کو اردو غزل گوئی میں ” خدائے سخن ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں ۔وہ ہر عہد میں ” شہنشا ہ ِ غزل کہلائے ۔ غزل کی دنیا میں کوئی شاعر میرؔ کے مقام تک نہیں پہنچ پایا ۔ کسی نے بھی میرؔ کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کیا ۔ بلکہ ان کی پیروی کو وجۂ عظمت سمجھا ۔ اکثر شعراء نے میر ؔ کی عظمت کا اعتراف کیا ہے ۔
؎ غالب ؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ِ ناسخ ؔ آپ بے بہرہ ہیں جو معتقد ِ میر نہیں
؎ نہ ہوا پر نہ ہوا میر ؔ سا انداز نصیب ذوقؔ یاروں نے بڑا زور غزل میں مارا
؎ شعر مرے بھی ہیں پُر درد و لیکن حسرت ؔ میر ؔ سا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
؎ اک بات بتاؤ انشا ؔ جی ، تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم سارے جہاں کا علم پڑھے ، کوئی میر ؔ سا شعر کہا تم نے
محمد حسین آزاد اپنی کتاب ” آب ِ حیات ” میں کہتے ہیں
” میرؔ کی زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی ہے کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں ۔۔۔گویا وہ اردو کے سعدی ؒ ہیں “
میر تقی میر ؔ اردو زبان کے باکمال ، اردو ادب کے بے مثال اور اردو غزل کے لازوال شاعر ہیں ۔
حالات ِ زندگی
میرؔ 1723 ء میں اکبر آباد ( آگرہ ) میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ” میر متقی ” سے حاصل کی ، جو بڑے درویش صفت بزرگ تھے ۔والد کے انتقال کے بعد تلاش معاش کے لئے دہلی چلے آئے ۔ یہاں اپنے ماموں ” خان آرزو کے ہاں قیام کیا ۔ وہ اپنے زمانے کے مشہور شاعر اور فارسی دان تھے ۔میر ؔ نے ان سے استفادہ کیا۔ لیکن جلد ہی تعلقات خراب ہوگئے ۔ آپ کو زندگی بھر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ معاش کا کوئی مستقل انتظام نہ تھا ۔ متعدد امراء اور رؤسا ء کے ہاں ملازمت اختیار کی ۔پھر نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے دہلی تباہی و بربادی میں گھِرا ہوا تھا ۔اس لئے بھی طبیعت میں افسردگی اور حسرت و یاس نے گھر کر لیا تھا ۔ آخر عمر میں لکھنئو آ گئے ۔ نواب آصف الدولہ نے بڑی قدر افزائی کی ۔ 1915 ء میں یہیں انتقال ہوا ۔
کلام کی خصوصیات
میر ؔ کا کلام ایسی خصوصیات کا حامل ہے کہ 150 برس گزر جانے کے بعد بھی اب تک زندہ ہے ۔اس کی عصمت پر کوئی آنچ نہں آئی ۔وہ انسانی احساسات و جذبات کی مکمل تر جمانی کرتے ہیں ۔ان کے اشعار پاکیزہ ، دلکش ، ترنم اور دردمندی کا مجموعہ ہیں ۔میرؔ نے غزل ، قصیدہ ، مرثیہ اور قطعات وغیرہ سب میں طبع آزمائی کی ہے ؛ لیکن ان کی شہرت و عظمت غزل سے وابستہ ہے ۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں ۔غزل ہی میں ان کے شاعرانہ جوہر کھلتے ہیں ۔جن میں احساس کی شدت ، تجربے کی گہرائی ، مشاہدے کی
وسعت، تاثر اور سوز و گداز کی فراوانی ، اظہارِ خیال کی سادگی ، دلی جذبوں کی صداقت ، مسرت و شادمانی ، رنج و الم ، حسرت و یاس اور محرومی ان کے خاص موضوعات ہیں ۔میر ؔ کے ” بہتر نشتر ” مشہور ہیں ۔ان سے مراد وہ اشعار جو اثر و تاثیر میں بے نظیر ہیں ۔یہی چیز ان کو بام ِ عروج پر لے گئی ۔
میرؔ کا تصور ِ غم : میرؔ کی زندگی رنج و الم سے بھری ہوئی ہے ۔ وہ تمام عمر فکر معاش میں مبتلا رہے ۔ اس لئے ان کی شخصیت میں رنج و الم ، افسردگی ،حسرت ، مایوسی ، نا امیدی ، اور محرومی پیدا ہو گئی ۔ یہی چیزیں ان کی شاعری کا جزو بن کر سامنے آئیں ۔میر ؔ نے اپنی شاعری میں غم ِ زندگی ، گمِ روز گار اور غم ِ عشق کے مضامین اس طرح باندھے کہ غم کو غزل کے سانچے میں ڈھال دیا ۔
؎ ہم کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب ہم نے درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا
میر ؔ کے کلام میں مایوسیوں کی تڑپ اور کسک رچی ہوئی ہے ۔
؎ اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لہو آتا ہے تب نہیں آتا
؎ شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
؎ سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو ابھی ٹُک روتے روتے سو گیا ہے
وہ جن حالات سے دوچار ہوئے اس کی حقیقی تصویر کشی ایسے مؤثر الفاظ میں کی کہ ہر پڑھنے والے کو اس نے متاثر کیا ۔
؎ کیا بودوباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو ! ہم کو غریب جان کے ، ہنس ہنس پکار کے
دِ لّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا ہم رہنے والے ہیں اسی اُ جڑے دیار کے
سادگی اور سلا ست : شاعری کا بہترین جوہر سادگی اور سلاست ہوا کرتا ہے ۔یہی میرؔ کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔ اکثر یہ سادگی ” سہل ِ ممتنع “میں داخل ہو جاتی ہے ۔ میر ؔ کا بیان نہایت دھیما ہے ۔ وہ سیدھے سادے ا لفاظ میں اپنے دل کی بات کہہ دیتے ہیں ۔یہ شاعری کی اہم صفت ہے ۔
؎ فقیرانہ آئے صدا کر چلے میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
؎ کچھ کرو فکر اس دوانے کی دھوم ہے پھر بہار آنے کی
تصّوف : میرؔ صوفی نہیں تھے لیکن ان کی شاعری کے فکری عناصر میں تصوف کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔میرؔ کی شاعری کا بڑا حصہ عشق ِ مجازی کے موضوعات سے بھرا ہوا ہے لیکن ان میں تصوف کی جھلک بھی ملتی ہے ۔ان کے مزاج میں قناعت ، توکل ، صبر ، دنیا کی بے ثباتی اور وحدت الوجود شامل ہے ۔
؎ یہ تواہم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
؎ ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
عشق : میرؔ کے کلام میں عشق کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔وہ زندگی اور سای کائنات کو عشق کا مظہر سمجھتے ہیں ۔ان کی شاعری میں عشق کی تمام کیفیات بھر پور اناز میں نظر آتی ہیں ۔
؎ پاس ناموس عشق تھا ورنہ کتنے آنسو پلک تلک آئے
؎ عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھرا ہوا ہے عشق
؎ محبت ہی اس کارخانے میں ہے محبت ہی سب کچھ زمانے میں ہے
؎ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
سوز و گداز : میرؔ کی شاعری عالم گیر اقدار کو اجاگر کرتی ہے ۔سوز و گداز ان کی شاعری کا خاص جوہر ہے ۔اپنی شاعری میں انہوں نے اپنے ذاتی غم کو اس طرح آفاقی غم بنا کر پیش کیا ہے کہ یہ سب کے دل پر اثر کرتا ہے ۔
؎ دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر سو مرتبہ لُو ٹا گیا
؎ میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی ایک مدّت تک وہ کاغذ نم رہا
تشبیہ اور استعاروں کا خوب صورت استعمال : میرؔ نے دامن ِ اردو کو خوب صورت تشبیہات و استعارات سے مالامال کر دیا ۔انہیں اس کے استعمال پر قدرت حاصل تھی ۔
؎ میرؔ اِن نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے
ناز کی اُن کے لب کی کیا کہیئے پنکھڑی اِ ک گلاب کی سی ہے
؎ کھِلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
؎ اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ ! پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
موسیقیت : میر ؔ کی شاعری موسیقیت اور ترنم سے مالا مال ہے ۔ میر ؔ کے کلام میں طویل بحروں کے اشعار اتنے مترنم اور پر لطف ہیں کہ ان کی پوری کیفیات کا بیان کرنا مشکل ہے۔
؎ کبھی لطف سے نہ سخن کیا ، کبھی بات کہ نہ لگا لیا وہی لحظہ لحظہ خطاب ہے ، وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
؎ عالم عالم عشق و جنوں ہے ، دنیا دنیا تہمت ہے دریا دریا روتا ہوں میں ، صحرا صحرا وحشت ہے
احترام ِ آدمیت : میرؔ کی شاعری میں انسانی عظمت اور احترام ِ آدمیت کا ذکر واضح طور پر ملتا ہے ۔
؎ آدمی کو ملک سے کیا نسبت شان ارفع ہے میر ؔ انساں کی
؎ کعبے سو بار وہ گیا تو کیا !! جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی
دنیا کی بے ثباتی: دنیا کے عارضی ہونے کاتصور میرؔ کی شاعری کا خاص موضوع ہے ۔گردش ِ دوراں نے یہ تصور اور بھی گہرا کر دیا ۔
؎ آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لُٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
؎ سرسری تم جہان سے گزرے ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
شخصی پندار : بے شک میرؔ کی شاعری درد و الم کی ایک تصویر ہے ۔ لیکن میر ؔ اپنی شخصیت اور اوصاف سے بھی خوب واقف تھے ۔ ان میں مردانہ وقار اور شخصی مندار تھا ۔ ان کو احساس تھا کہ ایسے صاحب ِ کمال لوگ دنیا میں کم پیدا ہوتے ہیں ۔یہ بھی ان کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے ۔
؎ مت سہل ہمیں جانو ، پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
خلوص : میرؔ نے اپنے جذبات کے اظہار میں بڑے خلوص سے کام لیا ۔واردات ِ قلبی اور زندگی کی صداقتوں کا
صحیح اظہار کیا
؎ ہم طور ِ عاشقی سے واقف نہیں ہیں لیکن د ل میں کوئی کسی سے جیسے ملا کرے ہے
؎ حقیقت نہ میرؔ اپنی سمجھی گئی شب و روز ہم نے تامل کیا
خطابیہ انداز : میرؔ کے اکثر اشعار پڑھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہم سے مخاطب ہیں ۔خود ؐیر ؔ کو بھی اپنا یہ انداز بہت پسند تھا ۔ان کے کلام میں جا بجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔
؎ لگانا دل کو کہیں کیا سُنا نہیں تُو نے جو کچھ کہ میر ؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
؎ چلتے ہو تو چمن کو چلئے سنتے ہیں کہ باد ِ بہاراں ہے پات ہرے ہیں ، پھول کھلے ہیں ، کم کم باد و باراں ہے
حالات ِ زمانہ : غزل کے مخصوص لہجے میں میر ؔ نے اپنے دور کے حالات بھی بیان کئے ہیں ۔آپ نے دلّل کے گلی کوچوں کی خوب عکس بندی کی ہے ۔انہوں نے اپنے دور کے حالت کا مرقع کھینچا ہے کہ اس دور ِ لازوال کی ہو بہو تصویر سامنے آ جاتی ہے ۔
؎ میرؔ صاحب زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامئے دستار
؎ دلّی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور کے جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
ناقدین کی رائے : بابائے اردو مولوی عبد الحق کہتے ہیں ،
” میرؔ کا ہر شعر ایک آنسو اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔”
نیاز فتح پوری کہتے ہیں
” فن اور جذبات کے لحاظ سے میرؔ کا ایک خاص رنگ تھا ۔اسی رنگ سے وہ الگ پہچانے جا سکتے ہیں ۔”
محمد حسین آزاد لکھتے ہیں
” میرؔ کی زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی ہے کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں ۔”
بقول مجنوں گورکھپوری
” نیرؔ الم کو ایک نشاط اور درد کو ایک سرور بنا دیتے ہیں ۔”
ڈاکٹر سید عبد اللہ ” نقد میرؔ ” میں لکھتے ہیں
” اگر میرؔ کے زمانے کی تاریخ نہ لکھی جاتی تو میرؔ کی شاعری کو پڑھ کر ایک گہری نظر رکھنے والا اس زمانے کی تاریخ مرتب کر سکتا تھا ۔”
بقول کلیم الدین احمد
” میرؔ سیدھے سادے مختصر ، نرم و ملائم لفظوں میں اپنے اچھوتے احساسات ، اور تاثرات کو صفائی اور درد انگیزی کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ ان کے اشعار میں ایسا ترنم ہوتا ہے کہ گویا ان کی وح میں موسیقی آ بسی ہے ۔ “
بقول ڈاکٹر عبا دت بریلوی
” میرؔ تشبیہوں اور استعاروں کے ذریعے بعض کیفیات کی ایسی خوب صورت تصویر کشی کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں اس فن میں مصوّری جیسی شان پیدا ہو گئی ہے ۔ “
حاصل ِ گفتگو : مجموعی حیثیت سے میرؔ کی شاعری میں درد مندی ، غم ِ زندگی ، غم ِ روزگار ، غم ِ عشق کی کیفیات ، زندگی کی حقیقتیں ، جذبوں کی صداقتیں اور اور تصوف کے مضامین جیسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہر دور میں ان کی شاعرانہ عظمت کو سلام کیا جاتا رہے گا ۔ اردو ادب میں میر ؔ کو لافانی اور لازوال مقام حاصل ہے ۔
میر تقی میر ؔ خود کہتے ہیں
؎ سارے عالم پہ میں ہو ں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔۔!
میر ؔ ، میر ِ کاروانِ شعر و ادب تھے ، ہیں اور رہیں گے ۔ انہیں بھی ا پنی اہمیت کا احساس تھا ۔
؎ جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )