خلاصہ : نیا قا نو ن سعادت حسن منٹو
تعارف مصنف : سعادت حسن منٹو صفحۂ اوّل کے افسانہ نگار ہیں ۔آپ کو اردو افسانے کی آبرو کہا جاتا ہے ۔منٹو کی فنّی خوبیوں اور صلا حیتوں کو عام اور خاص دونوں سطحوں پر خوب سراہا گیا ہے ۔انہوں نے زندگی کے رویّوں اور زاویوں کو جس طرح دیکھا ، اُسی طرح بیان کر دیا ۔اس انداز پر کئی لوگوں نے اختلاف بھی کیا ۔ لیکن منٹو نے اپنی روش کو جاری رکھا ۔ آپ ایک آزاد مفکر اور دیانت دار ادیب تھے ۔اس لئے ہمیشہ تنگ نظری سے دور رہے ۔آپ آسان ، عام فہم الفاظ اور سادہ جملوں کی مدد سے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے چلے جاتے ہیں ۔ آپ کے افسانوں کا مو ضوع سادہ دیہاتی زندگی ، انسا نی نفسیات اور فطرت ، معاشرے میں پھیلے دُکھ اور بُرائیاں ، ہندوستان کے سیاسی حالات ، ، طبقاتی کشمکش ، مزدور سرمایہ کار رویّہ ، ترقی پسندانہ انداز اور مضبوط قوّت ِ بیان پر محیط ہے ۔
تصانیف : منٹو کے افسانے ، دستاویز ، سڑک کے کنارے ، دُھواں ، منٹو راما ، لاؤڈ سپیکر ، کالی شلوار ، حیات اور افسانے وغیرہ۔
خلاصہ : بر صغیر میں انگریزوں نے اپنے آخری دور میں ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی ، جس کی وجہ سے کوئی ہندوستانی انگریزوں کی صورت تک دیکھنے کا روادار نہ تھا ۔ہر ایک کے دل میں حُرّ یت کے جذبات موجزن تھے ۔ منٹو کی یہ کہانی ” نیا قانون ” اسی پسِ منظر کے ساتھ ایک تانگے کے کوچوان ” منگو ” کے جذبات کی آئینہ دار ہے ۔
اس افسانے کا ہیرو ” منگو ” آزادی کی آرزو میں جی رہا تھا ۔ یہ ایک تانگے کا کوچوان تھا اور ہمیشہ اپنی برادری میں اپنی سمجھ بوجھ اور تجربے کی بِنا پر قابلِ عزت اور قابلِ بھروسہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ اور اس کی طرح بہت سے تانگے والے آزادی کی صبح دیکھنے کے لئے بے قرار تھے۔ منگو اپنے تانگے میں بیٹھنے والی سواریوں کی گفتگو بڑے غور سے سُنتا ؛ پھر اڈے واپس آکر دوسرے کوچوانوں کو سناتا ۔ اس کے ساتھی تانگے والے اس کی معلو مات ، ذہا نت اور قابلیت سے بہت مرعوب ہوتے ۔اسی طرح ایک دن اپنی سواریوں کے ذریعے کسی ” نئے قانون ” کی خبر ملی کہ بر طانیہ انڈیا ایکٹ نافذ کر رہا ہے ۔ منگو اس بارے میں کچھ ذیادہ تو نہیں جانتا تھا لیکن اس کے ذہن میں جو تصوّر ابھرا وہ یہ کہ یہ انگریزوں سے چھٹکارا پانے کا دن ہے ۔وہ بڑی بے صبری سے یکم اپریل کا انتظار کرنے لگا ۔وہ
بہت خوش تھا کہ جلد اس نئے قانون کی وجہ سے اس کے ہم وطنوں کی زندگی میں ایک خو ش گوار انقلاب آنے والا ہے ۔ اِس تصوراتی خوش حالی سے سرشار وہ یہ خبر اپنے ساتھی کوچوانوں کو بھی بتاتا ہے ۔انھیں اس بات کی ذیادہ سمجھ تو نہیں آتی مگر اس کے چہرے پر پھیلا اطمینان اور مسکراہٹ دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گئے ۔ اس نے اپنے گھوڑے کےلئےنیا سر کا تاج خریدا ۔ یکم اپریل کو وہ خوش خوش اپنے تانگے کو تیار کر کے سڑک پر آجاتا ہے لیکن اُسے کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ سب کچھ پہلے جیساتھا ۔ وہ سواری کی تلاش میں تھا کہ اسے کسی سواری نے آواز دی ۔ اُس نے دیکھا کہ یہ تو وہی انگریز ہے جس سے اس کا پہلے بھی جھگڑا ہو چکا ہے ۔ یہ ایک عیاش آدمی ہے اور طوائفوں کے بازار جاتا ہے ۔انگریز بھی منگو کو پہچان لیتا ہے ۔ منگو بڑے تذلیل آمیز لہجے میں پوچھتا ہے کہ کہاں جانا ہے ۔انگریز اس سے پوچھتا ہے کہ اب تو کرائے پر بحث نہیں کرے گا ؟ غصے میں منگو اُسے دُگنا کرایہ بتاتا ہے ۔ انگریز اپنی چھڑی اس کے جسم پر لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہیں معلوم نہیں میں کون ہوں ؟ یعنی اس نے احساس دلانا چاہا کہ تمہارے سامنے تمھارا انگریز آقا کھڑا ہے ۔چھڑی کا لگنا تھا کہ منگو نفرت اور غصے سے بے قابو ہوگیا ۔ اس نے اپنے چابک سے اس انگریز کی پٹائی شروع کردی اور ساتھ چلّاتاجا رہا تھا، ” اب نیا قانون آگیا ہے ، اب ہم تمھارا ظلم برداشت نہیں کریں گے ۔اب تمہاری دھونس نہیں چلے گی ” ۔ منگو چلاتا جارہا تھا اور انگریز کو مارتا جا رہا تھا ۔سپاہیوں نے بڑی مشکل سے انگریز کو چھڑایا اور منگو کو گرفتار کر لیا ۔ تھانے پہنچ کر بھی منگو ایک ہی بات دہرائے جا رہا تھا ” نیا قانون ، نیا قانون ” ۔
(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭