ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح جدید سائنس اور عصری تقاضے

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, تشریحاتِ نثر, درس و تدریس

اقتباس کی تشریح          جدید سائنس اور عصری تقاضے

اقتباس نمبر 2  :    (بیماروں کے لئے یہ آب ِ شفا  ، کسانوں کے لئے خوش حالی کی کلید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کی روز افزوں آبادی کی کفالت کی ضمانت ہے ۔)

تشریح:    

زیر ِ تشریح سطور میں ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صدیقی  سائنس کے ارتقا کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کی سائنس کی حیرت انگیز ایجادات نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔وہ سائنس جو پہلے شوقیہ پڑھی جاتی تھی ؛ اب انسانی ضرورت بن چکی ہے ۔یہ معاشرے  کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔انسانی زندگی کا کوئی گوشہ اس سے خالی نہیں ۔اس کا سکون و آرام ، آسائش ، اطمینان، رنگینیاں ، رونقیں ، صحت ، کاروبار اور زراعت غرض ہر جگہ سائنس کا علم راج کرتا نظر آتا ہے ۔کوئی بھی اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا ۔وہ امراض جنھیں موت کا پیغام سمجھا  جاتا تھا۔اب سائنسی علوم کی بدولت ان سے نجات مل چکی ہے ۔اس ہی کی وجہ سے زرعی انقلاب بر پا ہوا ہے ۔کسانوں کی شبانہ روز ان تھک محنت  اور خون پسینہ بہانے کے بعد جو فصل میسر آتی تھی ؛ اب وہ سائنسی ترقی اور ایجادات کی بدولت کم وقت اور کم محنت  میں تین گنا ذیادہ حاصل ہونے لگی ہے ۔جس سے اب کسان خوش حال ہو گئے ہیں ۔صنعتی ترقی نے بھی دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے ۔صنعت کار بھی اب خوب منافع کما رہے ہیں ۔گویا سائنسی ایجادات تو الہ دین کا چراغ ثابت ہو رہی ہیں ۔انسانی آبادی میں اضافے سے جو مسائل  پیدا ہورہے تھے؛ سائنس نے ان کا بھی حل نکال لیا ہے  اور وسائل پہنچا دیئے ہیں ۔اس طرح سائنس انسان کے لئے رحمت ثابت ہو رہی ہے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

 (تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *