ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح : مسلمانوں کا قدیم طرز تعلیم

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, تشریحاتِ نثر, درس و تدریس

اقتباس کی تشریح :         مسلمانوں کا قدیم طرز تعلیم

اقتباس نمبر 2 :           ( تعلیم مسجدوں اور علماء کی خاص درسگاہوں میں مقیّد نہ تھی  ۔ ۔ ۔ ۔بو علی ینا کی خدمت میں مستعد طلبا کا ایک گروہ حاضر رہتا تھا۔)

تشریح :

        زیرِ تشریح سطور میں علامہ شبلی نعمانی بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں تعلیم مسجدوں ، خانقاہوں  اور علماء کے حجروں میں مقیّد نہ تھی۔بلکہ وزراء ، حکام ، فوجی افسر ، اہلِ منصب  و ثروت  کا گروہ جو خود بھی تعلیم یا فتہ  ہوتا تھا ۔ ؛ شائقین ِ علم کی سرپرستی کرتا تھا ۔ معمولی سے معمولی رئیس کی خدمت میں سینکڑوں فاضل موجود ہوتے تھے۔ جنھیں وہ وظائف اور تنخواہیں  دیتا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً نوازتا تھا ۔ ان کی عزت و تکریم میں کوئی  کسر نہ چھوڑی جاتی تھی۔ مشہور عالم بو علی سینا کئی کئی کاموں میں مصروفیت کے باوجود درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ ان کے سامنے تازہ دم طالب علم بڑی تعداد میں حضر رہا کرتے تھے۔یہی حال دیگر علماء و اساتذہ کا ہوا کرتا تھا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *