اقتباس کی تشریح : مسلمانوں کا قدیم طرز تعلیم
اقتباس نمبر 2 : ( تعلیم مسجدوں اور علماء کی خاص درسگاہوں میں مقیّد نہ تھی ۔ ۔ ۔ ۔بو علی ینا کی خدمت میں مستعد طلبا کا ایک گروہ حاضر رہتا تھا۔)
تشریح :
زیرِ تشریح سطور میں علامہ شبلی نعمانی بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں تعلیم مسجدوں ، خانقاہوں اور علماء کے حجروں میں مقیّد نہ تھی۔بلکہ وزراء ، حکام ، فوجی افسر ، اہلِ منصب و ثروت کا گروہ جو خود بھی تعلیم یا فتہ ہوتا تھا ۔ ؛ شائقین ِ علم کی سرپرستی کرتا تھا ۔ معمولی سے معمولی رئیس کی خدمت میں سینکڑوں فاضل موجود ہوتے تھے۔ جنھیں وہ وظائف اور تنخواہیں دیتا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً نوازتا تھا ۔ ان کی عزت و تکریم میں کوئی کسر نہ چھوڑی جاتی تھی۔ مشہور عالم بو علی سینا کئی کئی کاموں میں مصروفیت کے باوجود درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ ان کے سامنے تازہ دم طالب علم بڑی تعداد میں حضر رہا کرتے تھے۔یہی حال دیگر علماء و اساتذہ کا ہوا کرتا تھا۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )