ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

ہر دل عزیز شاعر: احمد فرازٍٍؔ۔۔۔تبصرہ

تاریخ: September 30, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اشاعت, تبصرے, مقالہ جات

خوبصورت لفظوں اور لطیف جذبوں کا ہر دلعزیز  شاعر**احمد فراز**

؎:اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتا بوں میں ملیں

؎ : اب کے تجدیدِ وفا کا امکاں جاناں

یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

؎: تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

؎: برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلرباسا

اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا

؎: سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

ایسی مشہور غزلوں کے شاعر  “احمد فرازؔ ” اس صدی کے ممتاز اور منفرد شاعر ہیں۔فرازؔکی شاعری غمِ دوراں اور غمِ جاناں کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزلیں رنج و الم کی غماز بھی ہیں اور حُسن و محبت کی علم بردار بھیہیں۔ جو بھی ان کے اشعار سنتا ہے اُسے اپنی ہی داستان لگتی ہے۔ 

؎: دُکھ چھپائے ہوئے ہیں ہم دونوں

زخم کھائے ہوئے ہیں ہم دونوں

تُو کبھی چاندنی تھی دھوپ تھا میں

اب تو سائے ہوئے ہیں ہم دونوں

جیسے اک دوسرے کی چاہت کو

اب بھلائے ہوئے ہیں ہم دونوں

عشق  کیسا کہاں کا عہد فرازؔ 

گھر بسائے ہوئے ہیں ہم دونوں

فرازؔ کی شعری کا خا ص وصف زبان و بیان پر ان کی قدرت ہے۔ ان  کی شاعری دنیائے سخن میں ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ان کے کلام میں خلوص، سچائی اور اور احساس نمایاں ہے۔

؎یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

فرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی

ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو

ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی

ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا

پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی

یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نبھاتے ہیں

ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی

کبھی فرازؔ نئے موسموں میں رو دینا

کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی

ان کا کلام اردو شاعری کا نیا موڑ ہےجس میں نازک زاویے، لچک اور تھرتھراہٹیں محسوس ہوتی ہیں۔ 

؎ کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی

بگڑ گیا ہوں کہ صؤرت یہی بناؤ کی تھی

وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گِلہ تو اس کا ہے

کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی

وہ مجھ سے پیار نہ کرتا تو وار کیا کرتا

کہ دشمنی میں بھی شدْت اسی لگاؤ کی تھی

میں زندگی سے نبرد آزما رہا ہوں فرازؔ

میں جانتا تھا یہی راہ اکبچاؤ کی تھی

ان کی ششاعری کو صرف کلاسیکی یا رومانی نہیں کہا جا سکتا؛ بلکہ دورِ حاضر کے لطیف ذہنی ردِعمل کا سچا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔وہ صداقت کے نئے مقامات سے ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو پڑھنے والے کو دعوتِ فکر دیتی ہیں۔ان کا انداز حد درجہ دلکش و دلنشیں ہے۔

؎: دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منھ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوئے آجاتی تھی ساری دنیا

آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

کیا خبر تھی جو میری جاں میں گھُلا ہے اتنا

ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فرازؔ پاکستان کے ان چند شاعروں میں سے ایک ہیںجو اردو شاعری کے مستقبل کے امین ہیں۔جن کے بارے میں اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا فن مستقل ارتقاء پذیر ہے۔انھوں نے شاعری کی فنی وایات کو آگے بڑھایااور اس میں خوبصورت اضافہ بھی کیا۔ انھوں نے قدیم اور جدید کے دل آویز کامیاب  تجربے کئے۔

یونہی دوش پر سنبھالے

گھنی زلف کے دوشالے

وہی سانولی سی رنگت

وہی نین نیند والے

تجھے شاعری سے رغبت

اسے شعر یاد میرے

وہی اس کے بھی قرینے

جو ہیں خاص وصف تیرے

کسی اور ہی سفر میں سرِ راہ مل گئی تھی

تجھے اور کیا بتاؤں 

وہ تری طرح کوئی تھی

مجھے دل سے اس نے پوجا

اسے جاں سے میں نے چاہا

اسی ہمرہی میں آکر کہیں آگیا دو راہا

پھر اک ایسی شام آئی

کہ وہ شام آخری تھی

کوئی زلزلہ سا آیا

کوئی برق سی گری تھی

تو جہاں مجھے ملی ہے

وہ یہیں جدا ہوئی تھی

تجھے اور کیا بتاؤں

وہ تیری طرح کوئی تھی

فرازؔ ٹین ایجر کا شاعر ہے۔ ۔۔عنفوانِ شباب میں داخل ہونے والوں کا شاعرہے۔۔۔کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان طلباء کا شاعر ہے۔۔۔اس طرح کے بہت سے الزامات اس پر لگائے جاتے رہے۔۔۔فرازؔ نے میرؔ و غالبؔ کی طرح حُسن و عشق کی شاعری کی۔کیونکہ اگر یہ دو موضوع انسانی زندگی سے خارج ہو جائیںتو انسان کا باطن صحراؤں میں بدل جائے۔۔۔فرازؔ بھرپور زندگی کا شاعر ہے۔اس کے علاوہ وہ شہر آشوب کا بھی شاعر ہے۔انسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم اور اس کی محرومیوں کا اسے خوب احساس ہے۔اس نے ظلم ، جبر اور آمریت کے خلاف بھی لکھا۔

؎: یہ کھیت ہمارے ہیں یہ کھلیان ہمارے

پورے ہوئے اک عمر کے ارمان ہمارے

ہم روشنی لائے تھے لہو اپنا جلا کر

ہم پھول اُگاتے تھے پسینے میں نہا کر

لے جاتا مگر فصل کوئی اور اُٹھا کر

رہتے تھے ہمیشہ تہی دامان ہمارے

اس دیس میں دولت نہیں جاگیر کسی کی

اب ہاتھ کسی کے نہیں تقدیر کسی کی

پاؤں میں کسی کے نہیں زنجیر کسی کی

بھولے گی نہ دنیا کبھی احسان ہمارے

فرازؔ کی شاعری بیک وقت گلاب کا پھول بھی ہے۔اور کانٹے بھی۔وہ شبنم کی ٹھنڈک بھی ہے اور آگ کا الاؤ بھی۔وہ آنکھ اور دماغ دونوں کی شاعری کرتا ہے۔یہ شاعری اس درخت کی طرح ہے جو دل کی زمین سے اگتی ہے، ذہن میں مہکتی ہےزندگی میں کھلتی اور زبانوں پر پھلتی پھولتی ہے۔یہ مختلف ذائقوں والے پانیوں کا ایک سمندر ہے۔ یہ احساس اجاگر کرتا ہے کہ انسان کو کس دھج سے جینا چاہیئے۔

؎: عرضِ غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے

شاعری تو ہوتی ہے، گفتگو بھی ہو جائے

زخمِ ہجر بھرنے سے یاد تو نہیں جاتی

کچھ نشاں تو رہتے ہیں دل رفو بھی ہوجائے

میں ادھر تنِ تنہا اور اُدھر زمانہ ہے

وائے گر زمانے کے ساتھ تُو بھی ہو جائے

ذہن و دل تو کھو بیٹھےاب فراز کیا غم ہے

کوئے یار میں غارت آبرو بھی ہو جائے

فرازؔ ایک محبِ وطن شاعر تھا۔یہ محبت اس کی شخصیت، شاعری اور زندگی تینوں میں نظر آتی ہے۔

؎: دائم آباد تیری حسیں انجمن

اے وطن۔۔۔۔اے وطن

تیرے  کھیتوں کا سونا سلامت رہے

تیرے شہروں کا سکھ تا قیامت رہے

تا قیامت رہے یہ بہارِ چمن

اے وطن ۔۔۔۔۔اے وطن

تیرے بیٹے تیری آبرو کے لئے

یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیئے

پھوٹ نکلے گی تاریکیوں سے کرن

اے وطن۔۔۔۔۔اے وطن  

فرازؔ نے کئی دوسری زبانوں کی نظموں کے ترجمے بھی کئے۔خاص طور پر جنوبی افریقہ کی سچی شاعری کو اردو طبقہ سے بالعموم اور پاکستا ن کے ادیبوں اور شاعروں کو بالخصوص روشناس کرانے کے لیےکئی نظموں کے ترجمے کیے۔ ان کی کتاب ” سب آوازیں میری ہیں ” میں انہی نظموں کے ترجمے ہیں۔

بودلک ایک منظوم ڈراما ہے۔

ان کی شاعری میں تغزل کی بھر پور فظا پائی جاتی ہے۔جو صنفِ سخن کی پہچان ہے۔

؎: تیری قربت کے لمحے پھول جیسے

مگر پھولوں کی عمریں مختصر ہیں

؎: ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

؎: ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

؎: ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

؎: اور تجھے چاہیئیں کتنی محبتیں فرازؔ

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کے نام رکھ دیئے

ناتمام

شاکرہ کاظمی

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *