شاعر پر تبصرہ ڈاکٹر سر محمد اقباؔل شاعر پاکستان/مفکر پاکستان
؎ خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ ِ دام ابھی
تعارف : علامہ اقباؔل وہ عظیم شاعر ہیں جو دیدہ ور ، عہد آفریں اور تاریخ ساز شخصیت ہیں جنھوں نے نہ صرف شاعری کو فنّی لحاظ سے عظمت و رفعت بخشی بلکہ اس کے ذریعے مردہ روحوں میں زندگی کی نئی لہر پھونکی اور ایک عظیم ذہنی انقلاب برپا کیا۔ قدرت صدیوں میں ایسی شخصیت کو منتخب کرکے بھیجتی ہے جو اپنے اصلاحی کاموں سے قوم میں حُرّیت و انقلاب کی روح پھونک دیتی ہے ۔
؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حالات ِ زندگی : آپ کا نام محمد اقبال تھا۔ 9 نومبر 1877 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کا نام نور محمد تھا۔آپ نسلاً کشمیری خاندان سے تھے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے مشن اسکول سے حاصل کی ۔جہاں ” مولوی میر حسن ” جیسے لائق استاد کی صحبت اور رہنمائی حاصل ہوئی اور آپ میں عربی اور فارسی کا صحیح مذاق پیدا ہوگیا۔سیالکوٹ سے ایف اے پاس کرنے کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔یہاں آپ کی ملاقات ” پروفیسر آرنلڈ ” سے ہوئی ۔ان کی بدولت آپ میں فلسفے کا ذوق پیدا ہوا ۔چنانچہ آپ نے فلسفہ میں ایم اے کیا۔اورینٹل کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے ، پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1905ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ انگلستان روانہ ہو گئے۔وہاں آپ نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔وہاں سے آپ جرمنی چلے گئے اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔وطن واپس آکر آپ نے وکالت شروع کر دی ۔
سیاست سے دلچسپی پیدا ہوئی تو پنجاب کونسل کے ممبر ہوگئے اور قومی خدمات سر انجام دینے لگے ۔ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پالستان کا نظریہ پیش کیا۔اپنی سیاست اور شاعری کے ذریعے آپ نے لازوال خدمات سر انجام دیں ۔1923 ء میں حکومت نے آپ کو ” سر ” کا خطاب دیا ۔جب کہ قوم نے آپ کی دینی اور ملّی خدمات کے صِلے میں ” حکیم الامت ، شاعر مشرق ، مفکر ِ اسلام ، نباض ِ فطرت اور شاعر پاکستان “ کے لقب سے نوازا ۔ 21 اپریل 1938 ء میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔ لاہور کی شاہی مسجد کے باہر آپ کا مزار ہے ۔
تصانیف : بانگ ِ درا ، بال ِ جبریل اور ضرب ِ کلیم اردو میں ان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ہیں ۔ باقی کلام فارسی میں ہے ۔جن میں ” ارمغان ِ حجاز ، اسرار ِ خودی ، رموز ِ بے خودی ، پیام ِ مشرق ، جاوید نامہ وغیرہ” شامل ہیں ۔ نثر میں “علم الاقتصاد” کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ آپ کی اکثر کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں ۔
علامہ اقباؔ ل کی شاعری کے چار ادوار
پہلا دور : یہ دور 1901 ء سے 1905 ء تک کا ہے ۔ جب آپ ذ یادہ تر غزلیں کہتے تھے اور داغ ؔ دہلوی سے بذریعہ خط و کتابت اصلاح لیتے تھے ۔ یہاں آپ پر استاد کا رنگ غالب نظر آتا ہے ۔
؎ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
دوسرا دور: یہ دور 1905 ء سے 1908 ء تک کا ہے ۔اس دور میں آپ نے نظمیں کہیں ۔ اب اقباؔ ل کا ذہنی افق اور وسیع ہوا ۔ آپ کی نظموں میں حب الوطنی اور فطرت پرستی موضوعات بننے لگے ۔ آپ اردو کے بجائے فارسی شعر کہنے کی طرف مائل ہونے لگے۔ لیکن تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے کم لکھا ۔
تیسرا دور : یہ دور 1908 ء سے لے کر 1924 ء تک کا ہے ۔یہ دور قیام ِ انگلستان کا ہے ۔یورپ میں قیام نے ان کی آنکھیں کھول دیں ۔انہیں شدت سے احساس ہوا کہ ہندوستان بد ترین تہذیبی زوال کا شکار ہے ۔ساری دنیا آزادی اور فارغ البالی سے مالامال ہے ۔ شیخ عبدالقادر اور آرنلڈ کے مشورے پر آپ نے اپنی شاعری کو مسلمانوں کی خدمت کا ذریعہ بنایا اور ان کی فکری اور ذہنی
تطہیر کرنے کی کوشش کی۔
چوتھا دور : یہ دور 1924 ء سے 1938 ء یعنی آخری عمر تک کا ہے ۔اس دور میں آپ نے انسان کی افضلیت اوع اس کی آفاقی حیثیت کو واضح کیا ۔ انہوں نے فلسفۂ خودی پیش کیا ۔ان چاروں ادوار میں مسلم قوم کی بیداری کا رنگ ہمیشہ قائم رہا ۔
عؒامہ اقباؔ ل کے کلام کی خصوصیات
مسلم قوم کو بیدار کرنے کے لئے علامہ اقباؔل نے اپنی شاعری کے ذریعے جو تعلیمات دیں وہ حسب ذیل ہیں ۔
1۔ اتحاد و اتفاق : اقباؔل اس بات کو جانتے تھےکہ موجودہ پریشانیوں سے بچنے اور دنیائے عالم میں اپنا مقام بنانے کے لئےتمام مسلمانوں کو اپنے باہمی اختلافات اور تعصبات کو ختم کرنا ہوگا ۔اپنی شاعری کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد اور اتفاق کا درس دیا ۔
؎ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک ِ کاشغر
2۔ مر د ِ مو من : اقبال ؔ نے اپنے کلام میں مرد ِ مونم کا بڑا پُر زور بیان دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو مرد ِ مومن کی خوبیوں کا آئینہ دار ہونا چاہیئے۔
؎ یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں
؎ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور ِ بازو کا نگاہِ مرد ِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
3 ۔ علم و عمل کی تعلیم : اقبالؔ نے اپنے کلام کے ذریعےمسلمانوں کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی میں فتح و نصرت سے ہم کنار ہونے کے لئے علم و عمل کی راہوں کو اپنانا ہوگا ۔ انھوں نے دورِ حاضر کے فتنوں کی نشان دہی کی ، بین الاقوامی سازشوں کا پردہ چاک کیا اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح معاشرتی زندگی کی تعمیر و تسخیر کی جائے ۔انھوں نے قوّت و عمل کی راہں متعین کیں۔
؎ سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا جھ سے کام دنیا کی امامت کا
؎ یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح ِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
4 ۔ شاھین کا تصوّر : اقباؔل نے اپنے کلام میں چند باتوں کی وضاحت کے لئے کچھ علامتیں وضع کیں ؛ ان میں شاھین کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔شاھین کو انھوں نے بطور ہمت ، بلند پروازی ، درویشی ، جوش اور اپنے قوّت ِ بازو پر بھروسہ کرنا کے استعمال کیا ہے ۔یہی تمام خوبیاں وہ مسلمانوں اور مردِ مومن میں پیدا کرنا اور دیکھنا چاہتے تھے۔
؎ شاھیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد
؎ پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں کہ شاھیں بناتا نہیں آشیانہ
؎ نہیں تیرا نشیمن قصر ِ سلطانی کے گنبد پر تُو شاھیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
؎ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں میں
5 ۔ فلسفۂ زندگی : قدرت نےعلامہ اقباؔ ل کو فلسفیانہ دماغ عطا کیا تھا ۔ انھوں نے اپنی شاعری کی سمت تبدیل کی ۔پہلے دور کی غزلیہ شاعری ان کے مزاج کے موافق نہیں تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ جلد ہی انھوں نے اپنا رُخ وطنیت کی طرف موڑ دیا ۔وہ خدا کے بتائے ہوئے راستے کوانسان کا مقصد اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ عشق ِ خدا اور عشقِ رسول ؐ کو انھوں نے زندگی کا مقصد جانا۔ان کے نزدیک زندگی مسلسل حرکت و عمل کا نام ہے ۔
؎ زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ جاوداں ، پیہم رواں ، ہر دم جوں ہے زندگی
؎ قوّ ت ِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر سے اسم ِ محمد ؐ سے اجالا کر دے
6۔ فلسفۂ خودی : اقباؔل کے پیش کردہ فلسفۂ خودی سے پہلے خودی فخر و غرور قسم کی کوئی چیز سمجھی جاتی تھی۔ اقباؔ ل نے
اس کے معنی میں انقلاب پیدا کر دیا ۔آپ نے اسے اپنی صلاحیتوں کوپرکھنے اور استعمال میں لانے کے معنی دئے ۔یعنی خود شناسی اور
اعتماد اور یقین ۔یہ عرفاں ِ ذات کا دوسرا نام ہے۔ خودی کے جذبے کے ساتھ ساتھ انھوں نے جدوجہد اور آزادی کا درس دیا ۔وہ کہتے تھے کہ خودی تمام مسائل کا حل ہے َ
؎ تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو رُو سیاہی
؎ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے
؎ خودی کیا ہے رازِ درون ِ حیات خودی کیا ہے بیداریِ کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
7 ۔ فلسفۂ حرکت و عمل : اقباؔل نے حرکت و عمل کو زندگی کی شرطِ اوّل قرار دیا ہے ۔اقباؔ ل نے اپنے فلسفیانہ انداز میں انسان کو کسی بڑے مقصد کا پابند بنایا ۔ انھوں نے بتایا کہ بے مقصد عمل گمراہ کرتا ہے ۔وہ عمل جو کسی مقصد کے تعین کے ساتھ شروع کیا جائے وہی انسان کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔
؎ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ خاکی ہے
8 ۔ فلسفۂ عشق : اقبال ؔ نے جذبۂ عشق کو بڑی اہمیت دی ہے ۔کیونکہ اسی کی بدولت انسان اور خدا کا رشتہ قائم ہے ۔ ان کےنزدیک عشق وہ جذبہ نہیں جو انسانی حواس پر چھا کر اسے بے کار کر دے ۔ بلکہ عشق تو انسان کو تیز گام کر دیتا ہے ، جدوجہد کے سلسلے کو آگے آگے بڑھاتا ہے ۔ان کے نزدیک مسلمان مصلحت پسند عقل کے جھانسے میں نہیں آتا بلکہ باطل کے لئے ایک برہنہ شمشیر بن جاتا ہے ۔
؎ عشق قاصد سے سبک گام ِ عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی ِ پیغام ابھی
؎ صبح ِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرائیل نے جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
؎ بے خطر کود پڑا آتش ِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشائے لب ِ بام ابھی
9 ۔ اسلام ازم : اقباؔل کے نزدیک تصوّ ر ِ وطن ایک وسیع معنوں میں تھا ۔ وہ ملّت ِ اسامیہ کو ایک اکائی تصوّر کرتے تھے۔
؎ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک ِ کاشغر
اپنے کلام کے ذریعے اقباؔل نے یہ بات واضح کردی کہ مذہب اور سیاست کسی طرح جدا نہیں ۔دونوں ایک دوسرے سے منسلک اور مربوط ہیں ۔
؎ جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یہی وہ اسلام ازم ہے جو اقباؔل نے اپنے کلام کے ذریعے پیش کیا ۔
10 ۔ تعمیر ِ ذہن : اقباؔل نے اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں کے ذہن کی تعمیر کی ۔ان کے اذہان میں موجود شکوک و شبہات کو دور کرکے ان کو یقین کی منزل پر لا کھڑا کیا۔آپ نے آنے والے دور کی علامتیں سمجھا کر تیار رہنے کا طریقہ سمجھایا ۔
؎ سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
11 ۔ شاعرانہ مصوّری اور منظر نگاری : اقباؔ ل نے اپنے کلام میں مناظرِ فطرت کی بڑی خوب منظر نگاری ہے ۔گویا اپنے شاعرانہ قلم سے مصوّری کی ہے ۔وہ مناظر ِ فطرت کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا تصویر اتار کر رکھ دیتے ہیں ۔انھیں اپنے خیالات کو پیش کرنے کا کمال حاصل ہے ۔
؎ سورج نے جاتے جاتے شام ِ سیہ قبا کو طشتِ افق سے لے کر لالے کے پھول مارے
12 ۔ اقباؔ ل اور تصوّف : اقباؔل کے کلام میں تصوّف پسندی پوری طرح واضح ہے ۔ لیکن اس حوالے سے بھی وہ اپنی قوم کو باعمل دیکھنا چاہتے ہیں ۔
؎ یہ ذکر ِ نیم شبی ، یہ مراقبے ، یہ سرور تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
؎ رہ گئی رسم ِ اذاں ، روح ِ بلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا ، تلقینِ غزالی نہ رہی
13 ۔ اقباؔل اور تزکیہ ِ نفس : اقباؔل نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو تزکیہ ِ نفس کی تعلیم دی ۔وہ کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے کے لئے محنت کرنی چاہیئے ۔
؎ دل سوز سے خالی ہےنظر پاک نہیں ہے پھر اس میں عجب کیا کہ تُو بے باک نہیں ہے
14 ۔ قومی شاعری : اقباؔ ل کے دور میں قوم بڑے نازک مرحلے سے گزر رہی تھی ۔ فکری انتشار اور بے زاری قوم پر غالب تھی۔ قوم میں حوصلے اور جرات کے جذبات جگانے کے لئے اقباؔ ل نے ان کو عظمت ِ رفتہ کے منظر دکھائے؛ ماضی کی کہانی سنا کر مستقبل کے لئے تیار کیا ۔
؎ کبھی اے نوجواں مسلم ! تدّبر بھی کیا تُو نے وہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارہ
تجھے اُس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت نے کُچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا
15 ۔ انقلابی شاعر : اقباؔل انقلابی شاعر تو ہیں لیکن وہ اس صف میں نہیں کھڑے جو صرف انقلاب کے نعرے بلند کرتے ہیں ۔ وہ تو ذہنوں کو تعمیر کر رہے تھے۔ تاکہ انقلاب کے موقع پر لوگ کسی انتشار یا بے یقینی کا شکار نہ ہو جائیں ۔
؎ نہ تُو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے جہاں ہے ترے لئے ، تُو نہیں جہاں کے لئے
؎ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
16 ۔ فارسیت اور باوقار زبان : اقباؔل کا بیشتر کلام فارسی میں ہے ۔اردو کلام میں بھی فارسی الفاظ کی کثرت ہے۔فارسی الفاظ و تراکیب نے کلام میں ایک حُسن اور دلکشی پیدا کر دی ہے ۔مجموعی طور پر علامہ اقباؔل کا کلام باوقار اور شستہ رفتہ زبان کا آئینہ دار ہے
؎ گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر ہوش و خِرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
17 ۔ تراکیب کی جدّت : علامہ اقباؔل نے نئی نئی تراکیب وضع کیں ۔اردو ادب کو انھوں نے تراکیب کا نادر و نایاب ذخیرہ فراہم
کیا۔ مثلاً برق نگاہ ، آئینہ پوش ، بزم سخن پیکر ، جگر ِ لالہ ، چراغ ِ مصطفویؐ ، دیدۂ بینا اور شامِ سیہ قبا وغیرہ۔
؎ جس سے جگر ِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
؎ محروم ِ تماشہ کو پھر دیدۂ بینا دے دیکھا ہے جو کچھ میں نے اووروں کو بھی دکھلا دے
18 ۔ نادر تشبیہات و استعارات : اقباؔل کی شاعرانہ عظمت ان کا نادر تشبیہات اور استعارات کا استعمال بھی ہے ۔اس سے ان کے کلام کی تاثیر میں اضافہ ہوا ہے ۔
؎ جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
19 ۔ بچوں کے لئے نظمیں : اقباؔل نے بچوں کے لئے بھی بے شمار اخلاقی اور اصلاحی نظمیں لکھیں ۔اِن نظموں کے ذریعے آپ نے اُن کے ذہن کی اخلاقی آبیاری کی۔ مکڑا اور مکھی ، ہمدردی ، جگنو اور شمع ، پہاڑ اور گلہری ، گائے اور بکری ، بچے کی دُعا ، ماں کا خواب اور پرندے کی فریاد اس کی واضح مثالیں موجود ہیں ۔
؎ ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بُلبُل تھا کوئی اُداس بیٹھا
؎ کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اِک گلہری سے تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
20 ۔اقباؔل اور عشق ِ نبیؐ : اقبالؔ کی زندگی اور ان کا کلام عشقِ بنیؐ میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے ۔ان کے کلام میں جا بجا ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے ان کی حضور ِ پاک ؐ سے محبت اور احترام جھلکتا دکھائی دیتا ہے ۔
؎ کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
21 ۔ دعائیہ کلام اور مناجات : اقباؔل کے کلام میں صرف نوجوانون کی تعمیر و ترقی کے لئے ہی اشعار نہیں ملتے ؛ بلکہ بہترین دُعائیہ اشعار اور مناجات بھی ملتی ہے ۔اقباؔل اس بات سے آگاہ تھے کہ اگر اللہ کے حضور سچے دل سے دعا مانگی جائے تو وہ ضرور شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے ۔یہ دعائیں انھوں نے اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ امت ِ مسلمہ کے لئے مانگی ہیں ۔
؎ یا رب ! دل ِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
22 ۔ زندہ و جاوید شاعری : اقباؔل کا کلام ایک زندہ و جاوید کلام ہے ۔زندہ و جاوید کلام اُسے کہتے ہیں جو ہر دور اور ہر زمانے کے لئے ہو ۔آج بھی اگر اقباؔل کا کلام پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ آج کے حالات کے مطابق ہے ۔اسے آج بھی پڑھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔
؎ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
؎ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے
23 ۔ اقباؔل اور غزل : اقباؔل بنیادی طور پر نظم کے شا عر ہیں ۔لیکن غزل گوئی میں بھی ان کا اپنا منفرد مقام ہے ۔غزل کے تمام لوازم کے ساتھ اُن کی غزلیں اپنے بام ِ عروج پر نظر آتی ہیں ۔
؎ نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ، نہ وہ خم ہے زلف ِ ایاز میں
کبھی اے حقیقت ِ منتظر نظر آ لباس ِ مجاز میں کہ ہزار سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
24 ۔ اقباؔل اور نظم : نظم اقباؔل کی شاعری کا نقطۂ عروج ہے ۔آپ کی بے شمار مو ضوعات پر لکھی گئی نظمیں اپنی مثال آپ ہیں ۔
؎ اُٹھائے ورق کچھ لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گُل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
24 ۔ اقباؔل کی عظمت : اقباؔل کی شاعری کی آب و تاب کسی سے پوشیدہ نہیں ۔بہ طور قومی شاعر آپ نے اپنی عظمت کے سکّے جما دئیے ۔اقباؔل کے بغیر اردو شاعری کا تذکرہ نا مکمل ہے ۔ آپ کے کلام کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور یہ ایک تحقیقی موضوع بنا ہوا ہے ۔مختلف اداروں اور بین الاقوامی جامعات میں ” فکر ِ اقباؔل ” پر تحقیقات کا کام جاری ہے ۔
؎ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
نقادوں کی آراء : آل ِ احمد سرور کہتے ہیں :-
” اقباؔل کی کوششوں سے جدید اردو شاعری میں ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا ہوا ہے۔”
بابائے اردو مولوی عبد الحق کہتے ہیں :-
“حالیؔ کی طرح اقباؔل نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام کیا ۔”
عبدالقادر سروری کہتے ہیں کہ :-
“اقباؔل اردو شاعری کے ایسے دور کے موجد ہیں جن کا بڑا وصف رفعت ِ خیال اور فلسفیانہ بلند آہنگی ہے ۔”
حاصل ِ گفتگو : اقباؔل کی شاعری فکر و فلسفہکا ایسا گہرا رچاؤ ہے کہ ان کے شاعرانہ محاسن اور لطافتوں پر چنداں توجہ نہیں جاتی ۔لیکن اگر اس پر توجہ کریں تو اس اعتبار سے بھیاقباؔل بڑے شاعر ہیں ۔آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانیت کو راہ دکھلائی ۔آپ کے انقلابی نعرے اور عمل ِ پیہم کی تلقین نے مسلمنوں کو راہِ نجات دکھائی۔
؎ نہیں ہے نا امید اقباؔل اپنی کشت ِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )