ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نثر نگار پر تبصرہ ۔۔محمد حسین آزاد(شمس العلماء )۔۔محسن ِ اردو زبان و ادب

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تبصرے, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

نثر نگار پر تبصرہ            محمد حسین آزاد(شمس العلماء )                        محسن ِ اردو زبان و ادب

        زبان  علم و ادب کی ترویج و ترقی  میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اردو علم و ادب میں کئی ایسی شخصیات ہیں جنھیں محسنِ زبانِ اردو علم و ادب  کہہ سکتے ہیں ۔ انہی میں ایک شخصیت ” محمد حسین آزاد “کی ہے ۔

تعارف :               محمد حسین آزاد  ایک ہمہ جہت اور ہمہ صفت شخصیت کے مالک تھے۔آپ بیک وقت شاعر ، مؤرخ ، نقاد  اور مضمون نگار تھے ۔ در حقیقت آپ کا طرز ِ نگارش  آپ کی شہرت کا باعث بنا ۔آپ نے نثر میں شعری لوازمات کو سمو دیا ۔یوں اردو زبان کو ایک بلند و ممتاز مقام دلوایا۔آزاد کا شمار سر سید  گروپ یعنی عناصرِ خمسہ میں ہوتا ہے ۔مگر آپ ان سب میں سب سے منفرد اور الگ تھے ۔ آپ نے اپنی تحاریر کے لئے ایک الگ اور نئی راہ نکالی ؛ جو قدیم اور جدید سے مختلف تھی۔

حالات ِ زندگی:           آ پ کا نام محمد حسین  اور آزادؔ تخلص تھا ۔1830 میں آپ دہلی میں پیدا ہوئے ۔پ کے والد مولوی محمد باقراُس وقت کی نام ور شخصیت تھے۔ وہ دہلی سے ” اردو اخبار ” نکالتے تھے اور مشہور شاعر ” شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ ” کے قریبی دوست بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد تربیت کے لئے  آپ ذوقؔ کے سپرد کر دیئے گئے ۔ان ہی کی خصوصی توجہ کی بدولت آپ شاعری کی جانب مائل ہوئے ۔دہلی کالج میں نذیر احمد ، ذکا اللہ ، ماسٹر پیارے لال آشوب  وغیرہ جیسے ہم جماعتوں کی صحبت میسر آئی ۔تعلیم سے فراغت کے بعد والد کا اخبار سنبھال لیا ۔1857 ء کے انقلاب میں انگریزوں نے ان کے والد کو پھانسی دے دی اور گھر بار لُوٹ لیا ؛تب یہ روپوش ہو گئے اور کسی طرح جان بچا  کر وطن سے نکلے اور پریشان حال لکھنؤ پہنچے ۔کسب ِ معاش کے لئے مختلف ذرائع استعمال کئے ۔بالآخر 1864ء  میں لاہور پہنچ گئے ۔ یہاں محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے  اور ترقی کرتے کرتے گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی  اور فارسی کے پروفیسر مقرّر ہو گئے ۔ اسی دوران حکومت کے ایماء پر بچوں کی درسی کتب اور قصص الہند لکھی ۔ اسی زمانے میں ڈائریکٹر محکمۂ تعلیم کرنل ہالرائڈ کی کوششوں سے آزادؔ نےموضوعاتی مشاعروں کی بنیاد ڈالی ۔آپ نے خود بھی کئی نظمیں پڑھیں ۔ حالیؔ  بھی  ان مشاعروں میں شامل ہوتے تھے۔اس اعتبار سے محمد حسین آزاد ؔ جدید شاعری کے بانی  خیال کئے جاتے ہیں ۔1887ء میں حکومت نے انھیں ” شمس العلماء ” کا خطاب دیا ۔1883 ء میں اُن کی چہیتی بیٹی  کا انتقال ہو گیا ۔جس کے غم میں اُن پر جنونی  کیفیت طاری ہو گئی  اور آخری ایام بڑے دردناک گزارے ۔1918ء  میں آپ کا انتقال ہو گیا۔

تصانیف :      آبِ حیات ، سخن دانِ فارس ، دربارِ اکبری ، نیرنگِ خیال ، قسس الہند ، نگارستانِ فارسی ، قندِ پارسی ، نظم آزادؔ ، بچوں کی درسی کتابیں  اور نظمیں  وغیرہ ۔

٭ طرز ِ تحریر کی خوبیاں ٭

        آزادؔ ایک ہمہ جہت قلم کار کے طور پر میدان ِ ادب میں اپنی فنکارانہ خوبیاں پھیلاتے نظر آتے ہیں ۔آپ کا قلم بیک وقت نظم و نثر دونوں  میں اپنا جوہر دکھاتا نظر آتا ہے ۔تنقید ، تذکرہ نگاری ، تحقیق؛ ہر میدان میں  آپ اپنی قوّت ِ تخیل اور زبان و بیان پر قدرت کی بِنا پر اپنے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں ۔آپ ہر قسم کے موضوعات بلا جھجک قلم بند کرتے چلے جاتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ بہت اعراضات کی زَد میں رہے؛ انشا پرداز کی حیثیت مسلّمہ ہے ۔ہر کوئی آپ کی عظمت کا اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے خاص اسلوب کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔

1۔ تمثیل نگاری :                 آزادؔ یونانی اور انگریزی ادب سے متاثر تھے ۔ اسی لئے آپ نے اخلاقی اور نتیجہ خیز افسانوں کی بنیاد ڈالی ۔وہ خیالی مضامین کا بہت دلچسپ اور دلکش نقشہ کھینچتے تھے ۔ مثلاً سچ ، جھوٹ ، امید ، وہم وغیرہ ۔ان کو مجسم کرکے ان کی حرکات و صفات کا دلکش نقشہ کھینچتے تھے اور ان میں مکالماتی اور افسانوی رنگ بھر دیتے تھے ۔ تمثیل نگاری میں آزاد کو  ملکہ حاصل تھی ۔” نیرنگِ خیال ” اس لحاظ سے ایک شاہکار ہے ۔   

2۔ تخیل کی کار فرمائی :     آزاد ؔ اپنی تحاریر میں قوّت ِ تخیل سے بھی بھر پور کام لیتے تھے۔ خیال میں نُدرت اور فکر میں جدّت اجاگر کرکے واقعات کو اس خوبصورتی سے ترتیب دیتے کہ پڑھنے والا اس میں گُم ہو کر رہ جاتا ہے۔ ” آبِ حیات ، سخن دانِ فارس  اور دربارِ اکبری ” جیسی کتابیں اس کی عمدہ مثال  ہیں ۔ان کی عبارت میں رنگینی بھی ہے اور شیرینی بھی؛ اس کے ساتھ ساتھ تشبیہات و استعارات سے بھی خوب کام لیا گیا ہے ۔

3 ۔ شاعرانہ  حُسن :                بنیادی طور پر آزاد ؔ  انشا پرداز تھے۔اسی لئے آپ نے نثر میں بھی شاعری کی ۔اس میں صنائع بدائع کے وہ ہیرے جڑےکہ جو بے مثال ہیں ۔عبارت آرائی ، مقفیٰ و مسجع جملے ، زبان و بیان کی لطافت، تشبیہات و استعارات کا بر محل  اور

برجستہ استعمال  ان کی نثر میں ایک شاعرانہ حسن اور موسیقیت جیسی دلکشی  پیدا کر دیتی ہیں۔انھوں نے سادگی ، بے تکلفی ، صاف گوئی ، حقیقت نگاری  اور فارسی کی رعنائی سب کو یکجا کرکےاپنی نثر میں سمودیا  اور یوں اسے سب سے جدا منفرد مقام دلوایا۔آب ِ حیات اور نیرنگِ خیال میں یہ انداز بہت نمایاں نظر آتاہے۔وہ نثر نہیں لکھتے بلکہ شاعری کرتے تھے۔

4۔ اثر آفرینی :           آزاد ؔ کی تحریریں اثر و تاثیر کی کیفیت لئے ہوتی ہیں ۔اس کی عبارت پُر اثر  ، رنگین ، شاعرانہ خوبی ، خیالات کی نیرنگی لئے ہوئے ہوتی ہے ۔ مختلف حکایات او ر لطائف  کے بیان سے اِسے مزید مؤثر بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحاریر  کا ایک ایک حرف دل میں اترتا چلا جاتا ہے  اور لوگوں میں قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے ۔

5 ۔ محا کات نگاری  :               آزاد کو منظر نگاری اور ماحول کا نقشہ کھینچنے پر پوری قدرت حاصل ہے ۔ اس دوران وہ چھوٹی چھوٹی  باتوں کا خیال بھی رکھتے ہیں ۔ ان کی تحریریں پڑھتے وقت قاری کی نظروں کے سامنے پورا ماحول اور واقعہ آجاتا ہے ۔ ان کی ایک تحریر ” اورنگ زیب کی فوجی تیاریاں ” اس کی عمدہ مثال ہے ۔اسے پڑھتے ہوئے پوری سلطنت ِ مغلیہ کی فوجی عظمت دل پر نقش ہوجاتی ہے ۔

6 ۔ لب و لہجہ :            آزاد کا شگفتہ لہجہ قاری کے دل کو مسحور کر لیتا ہے ۔اپنی تحریروں کو وہ روزمرہ اور محاورے ، ادبی لطائف اور رعایت ِ لفظی سے شگفتہ، شوخ اور توانا بناتے ہیں ۔ آپ کی تحریریں نہ تو سر سید اور حالی جیسی آسان نہ ہی سرور جیسی مشکل ہیں ۔

 7 ۔ حکایتی اسلوب :              آزاد اپنی تحریروں کو پُر اثر اور مستند بنانے کے لئے حکایات کا سہارا لیتے ہیں ۔اس میں موجود حکمت اور دانش کی بات  کو وہ مزید دلچسپ اور پُر زور بنا دیتے ہیں َ۔ آزاد حکایت کے بادشاہ ہیں ۔موضوع چاہے جیسا بھی ہو آزاد اس کو اپنے خاص انداز سے دلچسپ بنا دیتے ہیں ۔” دربار ِ اکبری اس کی عمدہ مثال ہے َ

8 ۔ مبالغہ آرائی :         ھکایت ، لطیفے اور تخیل آرائی نے ان کو مبالغہ آرائی کی جانب مائل کیا۔ تعریف ہو یا تنقید ، ان کی مبالغہ آرائی کی وجہ سے قابلِ اعتبار نہ ٹھہریں ۔” آب ِ حیات اور دربار ِ اکبری ” میں بھی  مبالغہ آرائی کی وجہ سے  وہ نقادوں کی زد میں رہے اور مرد ِ تحقیق تسلیم نہیں کئے جاتے ۔   علامہ شبلی نعمانی کہتے ہیں کہ

        ” آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے ۔وہ تحقیق کا مردِ میدان نہیں ، مگر دو چار گپیں بھی ہانک دیتا ہے ۔ تو وہی معلوم دیتی ہیں ۔

9 ۔ عبارت آرائی :                مُرصع نگاری  میں آزاد کا کوئی شریک نہیں ۔ آپ اپنی تحریروں کو دلہن کی طرح سجاتے سنوارتے  ہیں ۔ اسے تشبیہ ، استعارہ  اور خوب صورت لفظوں  کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں ۔ جگہ جگہ بیان کی لطافت زبان کی نزاکت  کی گُل کاریاں نظر آتی ہیں ۔ اسی طرح کہیں کہیں آپ چھوٹے چھوٹے چبھتے ہوئے الفاظ و جملے بھی تراش دیتے ہیں ۔ اسی سبب سے آپ کو   ” آذر ِِ سخن ” کا لقب بھی دیا گیا ۔

10 ۔ مکالمہ نگاری :               آزاد کی تحریروں کی ایک اہم کڑی مکالمہ نگاری بھی ہے ۔ وہ کسی بھی حالت یا بے جان چیز کو شخص قرار دے کر اس کی نہ صرف حرکات و سکنات پیش کرتے ہیں بلکہ کبھی یہ بے جان چیزیں باتیں رنا شروع کر دیتی ہیں ۔ کہیں وہ خود راوی بن کر محو ِ تکلم نظر آتے ہیں ۔اس سے ان کی تحریروں میں ایک ڈرامائی فضا پیدا ہو جاتی ہے ۔  بقول ڈاکٹر محی الدین :-

        ” آزاد ؔ خوش گوئی کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تحریریں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی ہیں ۔ان کی تحریروں میں آبشاروں کا ترنم ، کہساروں کا سا تکلم ، چاندنی رات کا تبسم نظر آتا ہے ۔ کہیں ہوا کا فراٹا ، فضا کا سناٹا ، غنچوں کی چٹک ، پھول کی مہک ، ستاروں کی چمک ، بجلی کی کڑک ، چاند کی تابانی ، سورج کی درخشانی ، صبح کا نکھار  اور شام کا سلونا پن آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے۔ “

 11 ۔ ایجاز و اختصار :     آزاد ؔ مختصر ترین لفظوں اور جملوں میں بڑی سے بڑی بات کہنے کے ماہر تھے ۔ آپ ایجاز و اختصار کے قائل تھے۔ آپ کی تحریریں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ ” آبِ حیات  ” میں آپ نے  مختلف شعراء کے کلام پر جو تبصرے کئے ہیں وہ اس کا بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کی تحاریر اتنی جامع ہوتی ہیں کہ ان کی وضاحت کے لئے کئی صفحے کالے کرنے پڑ جائیں گے ۔

12 ۔ مُرقع نگاری :               مُرقع نگاری بڑا جامع فن ہے ۔ اس میں تمام ماحول کی تصویر ایک ساتھ پیش کرنا ہوتی ہے ۔یہ ایک وقت  میں کسی بھی شخص یا چیز کی پوری زندگی کی تصویر ہوتی ہے ۔ آزاد کی تحریروں میں مُرقع نگاری کے عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔ ” آب ِ حیات ، دربار ِ اکبری ، قصص الہند ، نیرنگ ِ خیال ” میں اس کی عمدہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔شہرت ِ عام اور بقائے دوام کا کاروبار ” میں سوداؔ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :

        ” اُن میں ایک شخص دیکھا کہ جب  بات کرتا تھا تو منہ سے رنگا رنگ پھول جھڑتے تھے۔ لوگ ساتھ ساتھ دامن پھیلاتے تھے۔ مگر بعض پھولوں میں ایسے کانٹے ہوتے تھے کہ لوگوں کے کپڑے پھٹے جاتے تھے۔ “

13 ۔ مختصر جملے :         اگرچہ آزاد ؔ  کی تحریروں میں بہت پھیلاؤ بھی ہوتا تھا مگر چھوٹے چھوٹے اور مختصر جملوں کی بدولت آپ قاری کو ذہنی تھکن سے بچا لیتے تھے ۔۔اس سے آپ کی تحریروں میں لطافت اور سُبک روی پیدا ہوجاتی ہے ۔ بقول علامہ شبلی نعمانی  :-

        “الفاظ کا انتخاب  ، لفظوں کی شیرینی ، محاورات کی صحت ، جاوداں تشبیہات اور استعارات کی گُل کاری عبارت میں وہ حُسن پیدا کر دیتی ہے کہ پڑھتے چلے جائیں سَیری نہیں ہوتی “

14 ۔ بیانیہ نثر :           محمد حسین آزاد اپنی ذات میں ایک  انجمن تھے ۔ ” نظم ِ آزاد ؔ ” اس کا ثبوت ہے ۔وہ ایک نقاد تھے ۔ ” سخن دان ِ فارس  اور آبِ حیات ” اس کے گواہ ہیں ۔ تاریخ نویسی کے لئے ” قصص الہند اور دربار ِ اکبری ”  سے مثال لی جاسکتی ہے ۔سب سے بڑھ کر وہ ایک صاحب ِ طرز انشا پر داز تھے ۔ ہر مقام پر ان کی بیانیہ نثر نمایاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لازوال اور ابدی شہرت پائی ۔بقول مہدی آفادی :-

        ” سرسید سے معقولات  الگ  کر لیں تو  کچھ نہیں رہتے ، نذیر بغیر مذہب کے لقمہ بھی نہیں توڑتے ، شبلی سے تاریخ لے لین تو قریب قریب کورے رہ جائیں گے ۔ حالیؔ بھی نثر نگاری اور سوانح نگاری کے ساتھ چل سکتے ہیں ۔لیکن آقائے اردو  مولانا محمد حسین آزادؔ ایک ایسے انشا پرداز ہیں جن کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں “۔

15 ۔ طنز و ظرافت :      طنزو مزاح کا عنصر بھی آزاد ؔ کی تحاریر  میں نظر آتا ہے ۔لیکن ان کا  طنز کسی کو مجروح یا دکھی نہیں کرتا ۔ وہ طنز ِ ملیح کے مالک تھے۔ ان کے طنز سے وہ شخص بھی مزا لیتا ہے جس پر طنز کیا گیا ہو تا ۔ان کی تہذیب اور شائستگی ان کے طنز کو تکلیف دہ اور اذیت  ناک ہونے سے بچاتی ہے ۔ وہ شرافت ، تہذیب اور وضع داری  کے دلدادہ تھے ۔ یہی عکس ان  کی نثر میں جابجا نظر آتا ہے ۔

16 ۔ فن برائے فن :     آپ فن برائے فن کے قائل تھے۔ قاری کے دل و دماغ کی تسخیر و  تسکین   ان کا مطمع نظر تھا ۔ جہاں جدید شاعری میں موضوعاتی نظمیں لکھتے ؛ وہیں نثر نگاری میں  اپنا انداز یکسر بدل لیتے  ہیں ۔ الفاظ کو خوشنما پرندے بنا کر ہوا میں اُڑاتے نظر  آتے ہیں ۔اس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں ۔

ناقدین کی آراء :  رام بابو سکسینہ کہتے ہیں :-

        ” ان کی عبارت کی خاص نشانی یہ ہے کہ بھاشا کی سادگی اور بے تکلفی ، انگریزی کی صاف گوئی اور فارسی کا حُسن و خوبصورتی  اس میں ملی جلی ہوتی ہے ۔”

                مہدی افادی کہتے ہیں :-

        ” آزاد ؔ ایسے انشا پرداز ہیں جن کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ۔”

                شبلی نعمانی کہتے ہیں :-

        ” آزاد اردوئے معلیٰ کا ہیرو ہے ۔”

                بقول ڈاکٹر محی الدین :-

        ” آزاد خوش گوئی کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ان کی تحریریں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی ہیں “۔

حاصل ِ کلام :     بحیثیت مجموعی مولانا محد حسین آزادؔ زبر دست انشا پر داز ہیں۔ تاریخ و ادب پر انھیں پورا عبور حاصل ہے ۔ آپ زبان و بیان پر قدرت رکھتے ہیں ۔ان کا تخیل بلند اور فکر رسا ہے ۔وہ نثر میں بھی شاعری کرتے نظر آتے ہیں ۔ان کی تحریریں اثر آفرینی کی کیفیت لئے ہوتی ہیں  کہ ہر شخص ان کی عظمت کا قائل ہو جاتا ہے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *