Ø
Øاس کے کُل پانچ جملے دئے جاتے ہیں جس کے پانچ نمبر مختص کئے جاتے ہیں۔
جملوں کی ساخت میں تبدیلی میں درج ذیل سرگرمیاں شامل ہیں:
- جملوں میں مناسب لفظ یا الفاظ کی تبدیلی کے ذریعے نامکمل جملوں کو مکمل کرنا
- سادہ جملوں کو شرطیہ جملوں میں تبدیل کرنا
- خط کشیدہ الفاظ کو تبدیل کرکے متضاد جملے بنانا
- مترادف الفاظ سے جملے مکمل کرنا
- واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنانا
- مذکر سے مونث اور مونث سے مذکر بنانا
- }
- جملوں کو زمانے کے اعتبار سے تبدیل کرنا
- جملوں کی ساخت میں تبدیلی
مثال
گرمی کی وجہ سے بازاروں میں رونق کم ہے۔
بازاروں میں رونق گرمی کی وجہ سے کم ہے۔
سیاہ بورڈ پر سفید قلم سے لکھنا چاہیئے
سفید بورڈ پر سیاہ قلم سے لکھنا چاہیئے۔
میری بیٹی بنک میں ملازمت کرتی ہے۔
میرا بیٹا بنک میں ملازمت کرتا ہے۔
-
مشق نمبر۔1
جملوں کو ایسے تبدیل کرنا کہ ان کا مطلب تبدیل نہ ہو۔
- گرمی کی وجہ سے بازاروں میں رونق کم ہے۔
بازاروں میں رونق گرمی کی وجہ سے کم ہے۔
- شمالی علاقوں میں موسم کا کوئی بھروسہ نہیں۔
- آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
- ہر مقرر کو تین منٹ بولنے کی اجازت ہے۔
- والدین کا سایہ اولاد کے لئے بڑی نعمت ہے۔
- کوہِ نور ہیرا ملکہ الزبتھ کے تاج میں لگا ہے۔
- ہمارے سالانہ امتحان اگلے ماہ شروع ہو رہے ہیں۔
- فرصت کے اوقات میں ہم کرکٹ کھیلتے ہیں۔
- خوش رہنا اچھی صحت کے لئے ضروری ہے۔
- باورچی خانے سے لذیذ کھانا بنانے کی خوشبو آ رہی ہے۔
- اُس نے میری بات بہت توجہ سے سُنی۔
- محنت کامیابی کی کنجی ہے۔
- اس کی آواز بہت اچھی ہے۔
- استاد نے بچے کو ڈانٹ دیا۔
- آج بارش ہو رہی ہے۔
-
مشق نمبر 2
دیئے گئے جملوں کو شرطیہ جملوں میں تبدیل کریں۔
- وقت پر اسکول آنے سے جماعت میں بیٹھنے کی اجازت ملتی ہے۔
اگر وقت پر اسکول آؤ گے تو جماعت میں بیٹھنے کی اجازت ملے گی۔
- بزرگوں کی صحبت میں بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
- بچوں سے شفقت سے پیش آئیں تو وہ ضدی نہیں ہوں گے۔
- دولت کی ہَوس سے اچھے بُرے کی تمیز مِٹ جاتی ہے۔
- علم حاصل کرنے سے زندگی میں عزت ملے گی۔
- رات دیر سے سونے پر صبح جلدی اُٹھنا مشکل ہوگا۔
- بیرونِ ملک جا کر اکبر کا مستقبل سنور گیا۔
- بہادری سے لڑنے پر میدانِ جنگ میں کامیابی ملتی ہے۔
- سخت محنت سے امتحان یں کامیابی ملتی ہے۔
- پرورش اچھی ہو تو بچے با اخلاق ہوں گے۔
- اگر جھوٹ بولو گے تو لوگوں کا اعتبار ختم ہو جائے گا۔
- بارش میں جاؤ گے تو کپڑے بھیگ جائیں گے۔
مشق نمبر 3
- جملوں میں خط کشیدہ الفاظ کو ایسے بدلیں کہ مفہوم الٹ ہوجائے
- سفید قمیض پر کالے پھول بنے ہوئے ہیں۔
کالی قمیض پر سفید پھول بنے ہوئے ہیں۔
- گرم پانی سردی کے موسم میں مفید ہوتا ہے۔
- باہمت لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کر تے ہیں۔
- بازاری کھانے صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔
- کثیر مطالعہ سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہو تا ہے۔
- سخت دل آدمی کو سب ناپسند کرتے ہیں۔
- اچھی عادتیں اپنانے سے آدمی پُرسکون رہتا ہے۔
- درآمدات میں کمی ہو تو ملکی معیشت ترقی کرتی ہے۔
- دفتر کو مستقل طور پر جدید عمارت میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
- جدید کاریں بیش قیمت ہوتی ہیں۔
- ڈاکٹر کی نصیحت پر عمل کرنے سے مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔
- اچھی آواز کو سب پسند کرتے ہیں۔
مشق نمبر 4
جملوں میں خط کشیدہ الفاظ کو ہم معانی یا مترادف الفاظ سے اس طرح بدلیں کہ جملوں کا مفہوم تبدیل نہ ہو۔
- لوگ صحیح منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتے ہیں۔
- لوگ درست منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتے ہیں۔
- کتابیں پڑھنا اچھا مشغلہ ہے۔
- ہمیں ٹریفک کے قوانین سے با خبر ہونا چاہیئے۔
- چند ضروری چیزیں اپنے ساتھ رکھ لو۔
- گرمیوں میں گرم ہوا چلتی ہے۔
- ذیادہ بارش سے فصل خراب ہو گئی۔
- اچھی کہانی پڑھنے میں مزہ آتا ہے۔
- ساحلِ سمندر پر بہت لوگ تھے۔
- اس کے جانے سے مجھے بہت افسوس ہوا۔
- بُرے کاموں سے بدنامی ہوتی ہے۔
- یہ بہت اچھا کالج ہے۔
- انگوٹھی میرے سیدھے ہاتھ میں ہے۔
- یہ گُل دان بہت اچھا ہے۔
- یہ کتاب اپنے اسلوب کی وجہ سے اہم ہے۔
- لکھنے کی مشق سے اچھا لکھنا آ جاتا ہے۔
- میرا چشمہ ٹوٹ گیا۔
- برسات ہو رہی ہے،
- یسریٰ قابل طالبہ ہے۔
مشق نمبر 5
خط کشید الفاظ کو اس طرح تبدیل کیجئے کہ جملہ واحد سے جمع میں تبدیل ہو جائے۔
- سفر سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
- سفر سے سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں۔
- خفیہ کیمرہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔
- مسافر سمندری طوفان میں پھنس گیا۔
- یہ منصوبہ جاپان کا ہے۔
- لاہور میں ادبی تقریب کا انعقاد ہوا۔
- اسمبلی نے بِل منظور کر لیا۔
- لفظ کا معنی لغت میں دیکھو۔
- اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔
- شہر میں بڑ ا ہسپتال ہے۔
- کالج میں طالب علم کی حاضری کم رہی۔
- گیلے فرش پر آدمی گر گیا۔
- پرندہ درخت پر بیٹھا ہے۔
- بلی دودھ پی رہی ہے۔
- پانی کی بوتل بھر دو۔
- ایکسیڈنٹ میں اس کی پسلی ٹوٹ گئی۔
- بسکٹ کا اشتہار بہت دلچسپ ہے۔
- کہانی پڑھنے میں لطف آتا ہے۔
- نقلی پھول میں خوشبو نہیں ہوتی۔
- ذیادہ بارش سے فصل خراب ہوگئی۔
- گھر کا بزرگ رحمت ہوتا ہے۔
مشق نمبر 6
خط کشید الفاظ کو اس طرح تبدیل کریں کہ وہ جمع سے واحد ہو جائیں۔
- شہروں کے لوگ دیر سے سوتے ہیں۔
- شہر کے لوگ دیر سے سوتے ہیں۔
- ٹی وی چینلز میں اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیئے
- اخبارات میں پولیو مہم کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔
- نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں۔
- لغت میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھے جاتے ہیں۔
- ترقیاتی کاموں پر سرمایہ کاری ہونی چاہیئے۔
- حفاظتی کیمروں سے جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔
- سائنس دانوں نے موٹاپے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کیں۔
- خود تشخیصی سے مریضوں پر منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
- خواتین کے لئے کام کرنے کے ذیادہ مواقع موجود ہیں۔
- چکن گونیا کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔
- بوڑھی خواتین کو سڑک پار کروانے میں مدد کرنی چاہیئے۔
- گلگت کی خوبانیاں بہت خوش ذائقہ ہیں۔
- کوششوں کے باوجود بلال اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
مشق نمبر 7
خط کشید الفاظ کو مذکر الفاظ سے تبدیل کرتے ہوئے جہاں ضروری ہو وہاں جملوں کی ساخت بھی تبدیل کر دیجئے۔
- میری بیٹی بینک میں ملازمت کرتی ہے۔
- میرا بیٹا بینک میں ملازمت کرتا ہے۔
- اس کی بہن ایک ٹانگ سے لنگڑی ہے۔
- گرمی کی وجہ سے کبوتری نڈھال ہے۔
- ہرنی کی آنکھیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔
- ناگن کو دیکھ کر بچے خوف زدہ ہو گئے۔
- درزن کپڑے سینے کے کم پیسے لیتی ہے۔
- فقیرنی نے زور سے صدا لگائی۔
- علی کی بیوی ڈاکٹرنی ہے۔
- میر ی بھانجی اچھا کھانا بناتی ہے۔
- میری پوتی کی آواز بہت اچھی ہے۔
- خالہ کل ہمارے گھر آئیں گی۔
- کسان کے پاس ایک گائے ہے۔
- شیرنی نے حملہ کر دیا۔
- ڈرامے میں چڑیل کا کردار اس لڑکی نے کیا ہے۔
- فاطمہ کی ساس بہت شفیق ہے۔
- میری دادی بہت عبادت گزار ہیں۔
مشق نمبر 9
درج ذیل جملوں کو زمانہ ماضی میں تبدیل کریں۔
- احمد روٹی کھاتا ہے۔
- احمد نے روٹی کھائی۔
- ندیم بوڑھے دادا کو مشکل سے کرسی پر بٹھاتا ہے۔
- فرید دن رات محنت کرکے امتحان کی تیاری کرتا ہے۔
- حسن اپنی نیکی کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور ہے۔
- مجھے امید ہے کہ جولائی میں میں عمرہ کروں گا۔
- امی جان سموسے بنا رہی ہیں۔
- جاوید کی بد کلامی پر شاہد اُسے تھپڑ مارتا ہے۔
- مرزا صاحب لاہور سے آرہے ہیں۔
- میں ہر حال میں تحسین کا ساتھ دوں گا۔
- آج موسم خوشگوار ہے۔
- تصویروں کی نمائش دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
- بارشوں کی وجہ سے سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔
- وہ کہے گا کچھ اور ، کرے گا کچھ اور
- جلد بازی میں وہ سب کئے کرائے پر پانی پھیر دے گا۔
- سیل کی وجہ سے دکانوں میں بہت بھیڑ ہے۔
- پڑوس سے کھانا جلنے کی بُو آرہی ہے۔
مشق نمبر 10
درج ذیل جملوں کو زمانہ حال میں تبدیل کریں۔
- اُس نے ہر کام میں میرا ساتھ دیا تھا۔
- سازش کے ذریعے لوگوں کو بےوقوف بنایا جا رہا تھا۔
- علی امتحانات کی وجہ سے بہت مصروف تھا۔
- آپ کے مکان کی مرمت کون کر رہا تھا۔
- دادا جان نے دلچسپ کہانی سنائی تھی۔
- گرمی کی شدت سے لوگ نڈھال ہو رہے تھے۔
- فراز کو جہاز اُڑانے کا بہت شوق تھا۔
- بادشاہ انصاف کی وجہ سے اپنی عوام یں بہت مقبول تھا۔
- ابا جان کے سمجھانے کے باوجود عمران غصہ کر رہا تھا۔
- چور کو دیکھتے ہی محلے والوں نے شور مچا دیا تھا۔
- بچے دادا جان کی بات بڑے غور سے سُن رہے تھے۔
- اقبال نے اپنے گمشدہ دوست کے بارے میں سب سے پوچھا تھا۔
- ڈاکو بینک لوٹ رہے تھے۔
- پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کھیلا۔
- غنی نے بہت اچھی تقریر کی تھی۔
- نبیل تیز بھاگے گا۔
- محمود زور زور سے ہنس رہا تھا۔
- صائمہ ایک تصویر بنائے گی۔
مشق نمبر 11
درج ذیل جملوں کو فعل مستقبل میں تبدیل کریں۔
- حمید کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔
- نبیلہ نے کرن پر جھوٹا الزام لگایا۔
- دن رات محنت کرکے سہیل نے کاروبار جمایا۔
- سعدیہ بڑوں کی باتیں غور سے سنتی ہے۔
- پولیس نے چور کو پکڑنے کی کوشش کی۔
- اس نے اپنی ساری رقم کاروبار میں لگا دی۔
- وہ مجھے اپنے گھر کا پتا بتا رہا تھا۔
- ماریہ کپڑے دھورہی ہے۔
- مینا نے درخت پر گھونسلہ بنایا۔
- شیر نے ہرن کا شکار کیا۔
- حلیمہ نے امتحان میں اے گریڈ حاصل کیا۔
- یسریٰ نے سرخ رنگ کا لباس پہنا ہوا ہے۔
- شہباز نے رسی توڑ دی۔
- پہاڑوں پر برف پڑ رہی ہے۔
- جہاز نے 7 بجے کراچی سے اُڑان بھری۔
- بلی دودھ پی رہی ہے۔
- میں اپنے دوست کی شادی میں شرکت کے لئے جارہا ہوں۔
مشق نمبر 12
دی گئی ہدایات کے مطابق جملے کی ساخت میں تبدیلی کریں۔
- سارہ ہنس رہی ہے۔( زمانہ ماضی)
- گلگت کی خوبانی بہت خوش ذائقہ ہے۔( مترادف)
- میں نے اس طرح کا پرندہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ (مثبت)
- کتاب انسان کو با علم بناتی ہے۔ (سابقہ والا لفظ تبدیل کریں)
- کمبل پوش شخص نے چوری نہیں کی۔(لاحقہ والا لفظ تبدیل کریں)
- بادشاہ کئی کوششوں کے باوجود ناکام رہا۔( متضاد)
- شہر اتنا بدل گیا ہے کہ اب تو پہچان ہی مشکل ہو گئی ہے۔
شہر اتنا بدل گیا ہے کہ ٍ اب تو – – – – -ہے۔
- لڑکیاں دریا کے کنارے بیٹھی باتیں کر رہی ہیں۔( مذکر)
- پھولوں کا رنگ سب کو بھاتا ہے۔( واحد)
- دولت کی ہوس سے اچھے برے کی تمیز مٹ جائے گی۔ (شرطیہ)
- جمیل کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔( مستقبل)
- حنا کپڑے دھوئے گی۔( حال)