جوابِ شکوہ۔
ڈاکٹر علامہ اقؔبال (1877۔1938)
تعارفِ شاعر
اقبؔال قومی مفکر اور شاعر ہیں۔آپ نے اپنی شاعری سے امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کر کے آزادی اور جدوجہد کی راہ پر ڈالا۔اقباؔل کی انفرادیت اُن کی انقلابی شاعری ہے۔جس کے ذریعے آپ نے مسلمانوں کو عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی راہ پر ڈالا۔حریتِ فکر، خودی اور خود داری کادرس دیا۔اقبؔال کی شاعری جہاں ایک سبق اور پیغام ہے وہاں فکری اور فنّی پہلوؤں سے بھی مالا مال ہے۔اپنے کلام میں آپ تمام شاعرانہ وسائل کو بروۓ کار لائے۔تمام شاعرانہ محاسن، صنائع و بدائع کو کمال خوبی سے استعمال کیا جس سے آپ کے کلام میں مزید چارچاند لگ گئے۔اپنے کلام میں آپ نے آیاتِ قرآنی اور احادیث کا جابجا استعمال کیا ہے ۔جس سے آپ کی شاعری کی عظمت اور بڑھ گئی۔اِسی بِنا پر آپ کو شاعرِ مشرق، حکیم الاُمت اور نباضِ فطرت بھی کہا جاتا ہے۔آپ نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔مجموعہ ہائے کلام: بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، پیامِ مشرق، اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، زبورِ عجم، ارمغانِ حجاز اور جاوید نامہ وغیرہ
پسِ منظر
نظم شکوہ اور جوابِ شکوہ اقبؔال کی طویل اور بلند پایہ نظمیں ہیں۔نظم شکوہ میں اقبؔال نے بہ ظاہر اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے۔جس میں مسلمانوں کی مشکلات کا ذکر گِلہ کے انداز میں کیا ہے۔دراصل اقبؔال اُن خوش فہم مسلمانوں سے مخاطب تھےجو یہ سمجھتے تھے کہ ماضی کی طرح آج بھی ہم دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ وہ پوری دنیا میں رسوائی کا شکار ہورہے ہیں۔1911 میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں جب یہ نظم پڑھی گئی تو اسے بہت پذیرائی ملی۔لیکن عوام کا ایک طبقہ بد ظن ہوگیا۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اقبؔال نے جوابِ شکوہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔یہ نظم 1913 میں مغرب کی نماز کے بعد لاہور کے موچی دروازہ کے باہر ایک جلسہ عام میں پڑھی گئی۔اِس نظم کے بعد اقباؔل کا مقام ساری دنیا میں بلند ہوچکا تھا۔اِس نظم میں نہ صرف شکوہ کا جواب موجود تھا۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ آپ صرف شاعر ہی نہیں، ایک درویش اور قلندر ہیں۔جن کا واسطہ اللہ اور اس کے بندوں سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
نظم کا تعارف
جوابِ شکوہ میں نظم شکوہ کے تمام جوابات موجود ہیں۔اس نظم میں مسلمانوں کے مذہبی، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز سے بیان کئے گئے ہیں۔ تاکہ مسلمان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو دور کریں اور موجودہ حالات کا ہمت و جرات سے مقابلہ کریں۔اِس نظم میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے کردار سے خود کو رسولِ پاکؐ کا اُمتّی ہونا ثابت کریں۔اُنؐ کے دامن سے وابستہ رہیں۔ یہی اللہ تعالیٰ تک رسائی کا راز ہے۔جوابِ شکوہ بانگِ درا ( حصہ سوم) میں موجود ہے . اِس کے کُل 36 بند ، 108 اشعار ہیں ۔ اس کی ہیئت مسدس ترکیب بند ہے۔
بند نمبر 1 : د ِل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا
نئے الفاظ کے معنی : طاقتِ پرواز: اُڑنے کی طاقت ، قُدسی الاصل : پاکیزہ ، رِفعت : بلندی ، گَردوں : آسمان ،
فِتنہ گر : فتنہ پیدا کرنے والا یعنی شوخ ، سرکش : نا فرمان ، چیر گیا : پھاڑ گیا ، نالہ : فریاد یا شکایت ، بے باک :بے خوف
مفہو م : دل سے نکلنے والی بات پُر اثر ہوتی ہے اور یہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہے۔میرا عشق بھی بےباک اور پُر اثر تھا ۔اسی لئے میری فریاد آسمانوں تک پہنچ گئی۔
مماثل شعر: ؎ آ ہ جو دِ ل سے نکل جا تی ہے آ سما نو ں کا پتہ لا تی ہے
شعری محا سن : مسدس ترکیب بند ، صنعتِ تضاد( خاک، گردوں) ، مرکب ِ عطفی ، مرکب ِ اضافی
تشریح: اقباؔل شکوہ کرنے کے انداز کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا اپنے اللہ سے محبت اور اپنائیت کا ایک انداز ہے۔یہ در حقیقت دُعا ہے۔اگر دعا میں سچےجذبات اوردل کی گہرائی شامل ہو جائے تو وہ فرشتے کی طرح پاک اورپرندے کی طرح پرواز کرتی ہے۔اس میں اتنی طاقت پیدا ہو جا تی ہے کہ آسمان کے پردے چاک کرکے اللہ کے حضور پہنچ جاتی ہے۔انسان زمین پر ہوتا ہے لیکن اس کی نظر آسمانوں پر ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میرے عشق اور خلوص میں اتنی طاقت ہے کہ میرا ہر شکوہ جو دراصل دعا ہے ؛ عرش کی بلندیوں تک جا پہنچا۔اس آواز نے آسمان میں ایک ہلچل پیدا کردی۔میرا عشق شوخ و سرکش ہے ۔اس لئے ہر رکاوٹ سے گزر گیا۔میری فریاد آسمان چیر گئی۔
بند نمبر ۔2 پیرِ گردوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئی!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
نئے الفاظ کے معنی : پیرِ گردوں : بوڑھا یا پرانا آسمان ، سرِ عرشِ بریں : آسمان کے اوپر ، اہلِ زمیں : زمین کے رہنے والے ، کہکشاں: ستاروں کا جھُرمٹ ، پوشیدہ : چھُپا ہوا ، رضواں : جنت کا نگرا ن یا داروغہ
مفہوم: میری فریاد سن کر آسمان، سیارے، چاند اور کہکشائیں میرے بارے میں اپنے اپنے اندازے لگانے لگیں ۔لیکن جنت کا نگرا ن پہچا ن گیا کہ یہ جنت سے نکا لا ہوا انسان ہے۔
مماثل شعر: عطا ہوئی ہے تجھے روزوشب کی بے تابی خبر نہیں کہ تُو خاکی ہے یا کہ سیمابی
شعر ی محا سن : مسدس ترکیب بند ، صنعت مرا عا ت ا لنظیر ، صنعتِ تعلیل ، مرکباتِ ا ضافی
تشریح : اقبؔال اس شعر میں اپنی دل سے نکلی ہوئی بےباک فریاد کی اثر انگیزی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میرا شکوہ آسمان پر پہنچا تو ہل چل مچ گئی۔ اس درد بھری آواز نےسب کو متاثر کیا۔ سب اندازہ لگانے لگے کہ یہ کون ہوسکتا ہے؟ بوڑھا آسمان بولا کہ یہاں کوئی ہے۔ جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔سیارے کہنے لگے کہ لگتا ہے کوئی آسمان کی وسعتوں کو چیر کر عرشِ معلیٰ تک جا پہنچا ہے اور اپنی فریاد درد بھرے انداز میں پیش کر رہا ہے ۔چاند کہنے لگا کہ یہ کوئی زمیں کا رہنے والا لگتا ہےہے۔ستاروں کے جھرمٹ کہنے لگے کہ شاید کوئی یہاں پہلے سے چھپا بیٹھا تھا۔صرف جنت کا داروغہ رضوان اسے پہچان گیا کہ یہ وہی آدم زاد ہے جو مُدتوں پہلے اللہ کے حکم کی نا فرمانی کرنے کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا۔
سورۃ طہٰ: ترجمہ: ہم نے آدم سے پہلے عہد لیا تھا،مگر وہ اسے بھول گئے۔اور ہم نے ان میں صبر و ثبات نہ دیکھا۔
بند نمبر 3 : تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں !
نئے ا لفا ظ کے معنی : تگ و تا ز : رسا ئی، پہنچ ، کوشش ، خاک کی چُٹکی : ا نسا ن ، سُکا نِ زمیں : زمین کے رہنے و الے یعنی ا نسا ن ، مکیں : رہنے والے
مفہوم: فرشتے اور آسمان والے بھی میری آواز سُن کر حیران تھے کہ یہ آواز آسمان تک کیسے پہنچ گئی۔یہ زمین والے کیسے گستاخ اور بے ادب ہیں!
مماثل شعر: عاشقی سے ملے گا اے زاہد بندگی سے خدا نہیں ملتا
شعری محاسن: مسدس ترکیب بند ، استفہامیہ انداز ، ڈرامائی ا نداز ، مرکباتِ عطفی و ا ضافی
تشریح : اِس بند میں شاعر اپنی فریاد کے عرش پر پہنچ جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا ذکر کر رہے ہیں کہ فرشتے میری آواز سُن کر ششدر رہ گئےکہ یہ کیسی آواز ہے؟ کون ہے جو آسمان کے پردے چیر کر یہاں آپہنچا ہے؟ یہ کیا راز ہے؟اِس مٹی کے انسان میں اتنی طاقت کیسے آ گئی کہ یہ پرواز کرنے لگا! ہر وقت اللہ کی تسبیح میں مصروف رہنے والے فرشتے انسان کے دکھی دل کی درد بھری فریاد کو نہ سمجھ سکے۔وہ اِسے اللہ کے حضور گستاخی تصور کر رہے تھے۔ فرشتے تو اللہ کے حضور ادب و احترام سے واقف تھے۔ ان کے نزدیک انسان کا یہ انداز گستاخانہ تھا۔وہ اس بات سے بھی خوفزدہ تھے کہ اس گستاخی و شوخی کا کیا نتیجہ نکلے گا۔
بند نمبر ۔4 : 1ِس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
نئے الفاظ کے معنی :برہم : غصہ ، ناراض ، مسجودِ ملائک : جسے فرشتوں نے سجدہ کیا ، عَا لِم : جاننے و ا لا ، علم رکھنے و ا لا ، ِکیف : اشیاء کی خا صیت ، کیفیت اور حا لت ، کسی جا ندا ر یا بے جا ن کی موجود ہ شکل جسے ناپا یا تو لا نہ جا سکے ۔ دا نا : عاقل، سمجھ دار ، رموز : ( رمز کی جمع) ا شا ر ہ ، کمیت : ا یسا علم جس میں نا پا ، تو لا یا گِنا جا سکتا ہو (quantity) کَم : ، عجز کے اَسرا ر : ا نکساری کا راز ، نا محرم : نا و ا قف
مفہوم: فرشتے اس بات پر حیران تھے کہ یہ تو اللہ سے بھی ناراض ہے! ہم نے اسے سجدہ کیا تھا،یہ تو اپنی حد بھول گیا ہے۔ اپنے محدود علم پر غرور کرتا ہے اور عاجزی سے ناواقف ہے۔یہ خود پہ ناز کرتا ہے لیکن اسے بات کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا
مماثل شعر: چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبؔال کرتا کوئی اِس بندۂ گستاخ کا منہ بند!
شعری محاسن: مسدس ترکیب بند ، کنایہ ( مسجودِ ملائک) ، استفہا میہ ا ند ا ز ، مرکبا تِ ا ضا فی
تشریح : اس بند میں بھی فرشتے انسان کی جسارت پر حیران ہیں کہ یہ اللہ سے کیسے بےباکی اور گستاخی سے گفتگو کر رہا ہے۔یہ کیسی مخلوق ہے جو اپنے خالق سے ناراض نظر آتی ہے۔کیا یہ وہی انسان ہے جس کے لئے اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آج اسےسجدہ کرو۔آج یہ شکوہ کررہا ہے۔
سورۃ البقرہ: ترجمہ : ا و ر یاد کرو! جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔
اللہ نے اسے علم کی بنیاد پر افضل کیا۔اس نے اشیاء کی کیفیت کے علم سے لے کر کمیت کے علم تک بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ یہ فلسفہ اور منطق سیکھ کر خود کو فاضل سمجھتا ہے۔اسے اپنی بات کرنے کی جرات پر بہت ناز ہے ،لیکن اِسے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی تمیز نہیں ہے۔اللہ نے اسے بے شمار نعمتیں عطا کیں اور یہ نادانی کی باتیں کرنے لگ گیا ہے۔
سورۃ الابراہیم: ترجمہ: بےشک ا نسا ن بڑا نا شکرا ہے۔
بند نمبر ۔5 : آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہم سُخن کردیا بندوں کو خدا سے تُو نے
نئے الفاظ کے معنی :غم انگیز : دُکھ سے بھرا ہوا ، اَشکِ بے تاب: چھلک جانے کو بے چین آنسو ، لبریز : بھرا ہوا ، پیمانہ: گلاس مراد آنکھ ، آسماں گیر: آسمان پر چھا گیا ، نعرۂ مستانہ: پُر جوش فریاد ، حُسنِ ادا: اچھے طریقے سے ، ہم سُخن: آپس میں بات کرنا
مفہوم: انسان کی فریاد سن کر اللہ کا جواب آیا کہ تیری داستان بہت دردناک ہے آسمان پر ہر جگہ تیرے شکوے کی باتیں ہو رہی ہیں۔تو نے بڑے اچھے انداز سے بندوں کو اللہ سے ہم کلام ہونا سکھا دیا ہے۔
مماثل شعر: ؎ فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے نالہ پابندِ نَے نہیں ہے
شعری محاسن: مسدس ترکیب بند ، ڈرامائی کیفیت، صنعتِ تضاد (شکر، شکوہ) ، مرکباتِ اضافی
تشریح : جب انسان نے درد بھرے انداز سے اپنا شکوہ اللہ کے حضور پیش کیا تو اچانک غیب سے ایک آواز بلند ہوئی۔اللہ انسان سے مخاطب ہوا کہ اے انسان! تیری داستان غم سے بھری ہوئی ہے۔تیرے دل نے چوٹ کھائی ہے ،تیری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہیں۔میں تیری التجا اور شکوے کو خوب سمجھ رہا ہوں کہ تو سچا ہے۔دکھی دل کی یہ فریاد بڑی پُر تاثیر ہے۔آسمان والے تیری جرات اور بیباکی پر حیران اور خوفزدہ ہیں۔تیرے دیوانے دل سے نکلنے والی صدا بہت شوخ او ر انداز بہت خوبصورت ہے۔تو نے شکوے کو بھی شکر بنا کر پیش کیا ہے۔یہ کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں محسوس ہو رہی بلکہ ایک عاجز بندے کی بےبس پکار لگ رہی ہے۔ تو میرا نائب ہے۔تو نے بڑی جرات اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آج مجھے براہِ راست مخاطب کیا ہے۔تیرا یہ انداز اور شکوہ مجھے بہت پسند آیا ہے۔آج انسان اور خالق آنے سامنے گفتگو کرنے والے ہیں۔
بند نمبر 6 ہم تو مائل بہ کرم ہیں ، کوئی سائل ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
نئے الفاظ کے معنی: مائل بہ کرم : مہربانی کرنے کے لئے تیار ، سائل: سوال یا دُعا کرنے والا ، رہرؤِ منزل : منزل کی جانب جانے والا مسافر ، جوہرِ قابل: اہلیت رکھنے والا ، گِل : مٹی ، شا نِ کئی : ایران کے ٗکے ٗ خاندان کے بادشاہ (کیقاؤ، کیخسرو،کیقاد) جیسی شان و عظمت
مفہو م : ہم تو مہربانی کرنے کو تیار ہیں لیکن کوئی سوال ہی نہیں کرتا۔جب کوئی مسافر ہی نہ ہو تو راستہ کسے دکھائیں؟ کوئی
با صلاحیت آدمی ہی نہیں جس کی تربیت کریں۔ اگر کوئی با صلاحیت ہو تو ہم اس کو عظمت اور شان عطا کرتے ہیں اور نئی دنیاؤں سے متعارف کرواتے ہیں۔
مماثل شعر: خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
شعری محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعتِ تعلیل، صنعتِ تلمیح ِمرکباتِ اضافی
تشریح : بہ قولِ اقباؔل اللہ انسان کے شکوے کا جواب یوں دیتا ہے کہ میں عطا کرنے کو تیار ہوں مگر کوئی مانگنے توآئے ! میں کامیابی سے منزل تک پہنچنے کا راستہ دکھانے کو تیار ہوں مگر مجھے تو راستے پر کوئی مسافر ہی نظر نہیں آرہا۔ اور پھر تم شکوہ کرتے ہو!
سورۃ الرعد: ترجمہ:کہہ دو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہےاور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہےاس کو اپنی طرف راستہ دکھاتا ہے۔
تمہاری تربیت و اصلاح کے لئے کئی پیغمبر بھیجے گئے ۔لیکن تم خود اپنی اصلاح نہیں چاہتے۔تم نے خود اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا ہے۔تمہارا اصل مرض کم ہمتی ہے۔ہم نے آدم کو وفا اور تابعداری کی مٹی سے بنایا تھا۔ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے معافی کے طلب گار ہوئے۔تم بھی اپنی غلطیوں کو پہچانو اور خود کو درست راستے پر لاؤجو لوگ اپنی زندگی کامیابی کے سفر میں گزارتے ہیں تو ہم ان کوعظمتیں اور شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔ جیسے ایران کے ‘ کے’ خاندان کے بادشاہوں کو عطا کی تھیں۔جو ہمارے راستے میں قدم بڑھاتا ہے ہم اسے اس کی سوچ سے کہیں ذیادہ عطا کرتے ہیں۔نئی دنیاؤں اور جہانوں میں داخل کرتے ہیں۔
سورۃ کہف: ترجمہ: بےشک جو ایمان لائےاور نیک کام کئے ہم ان کے نیک (اجر) ضائع نہیں کرتے۔
بند نمبر 7: ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دِل خوگر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔حرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے
نئے الفاظ کے معنی : ا لحا د : ا للہ کا ا نکا ر کرنا ، لا دینیت ، نا فرما نی ، خوگر: عا دی ، رسوا ئی : شرمندگی ، بُت شکن: بتوں کو توڑنے والے ، بُت گر : بُت بنانے و الے ، پِدر : باپ ، پِسر : بیٹا ، با دہ آ شا م : شرا ب پینے و الے ، خُم : مٹکا یا صُراحی ، نئے بُت : مرا د دنیا سے محبت
مفہوم: آج کے مسلمان کم ہمت اور بے دین ہوتے جارہے ہیں۔امتی رسولؐ کے لئے باعثِ شرمندگی ہیں۔مسلمان پہلے بتوں کو توڑنے والے تھے ،اب بت بنانے لگےہیں۔گویا ابراہیمؑ کی اولادآزر کی پیروی کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنا نیا دین ایجاد کر لیا ہے۔
مماثل شعر: قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں
شعری محاسن: مسدس ترکیب بند ، صنعتِ تلمیح ، تضا د ، ا ستعا رہ ا و ر کنایہ کا ا ستعما ل ، مرکباتِ اضافی و عطفی
تشریح : اقباؔل اس بند میں مسلمانوں کے لادینیت کی طرف مائل ہونے کاافسوس کر رہے ہیں۔اقباؔل اللہ کی زبانی شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے مسلمان نہ صرف کم ہمت بلکہ بے دین بھی ہو گئے ہیں۔وہ سیکیولرازم اور لبرل ازم کی آخری حدوں میں داخل ہوکر اللہ کے انکاری ہو رہے ہیں اور اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ان کے دل اللہ کے بجائے کفر کے لئے دھڑکتے ہیں۔وہ اللہ کے بجائے کفار پر یقین رکھتے ہیں۔خود علم حاصل کرکے ترقی کرنے کے بجائے کفار کے علوم اور ایجادات پر انحصار کرتے ہیں۔ حالانکہ کفار نے خود وہ علم مسلمان مفکرین اور دانشوروں کی کتابیں پڑھ کر حاصل کیا ہے ۔آج وہ مسلمانوں سے 100 سال آگے ہیں ۔مسلمانوں کی یہ روش دینِ رسولﷺ کی رسوائی ہے۔حضرت ابراہیمؑ اور محمود غزنوی کی طرح بتوں کو توڑ کر حق کو عام کرنے کے بجائے اپنی خواہشات کے بتوں کی پیروی کرتے ہیں۔اقباؔل استعاروں اور کِنایوں کی زبان میں کہتے ہیں کہ آج کے مسلمان دین سے منہ موڑ چکے ہیں۔یہی ان کے زوال کی اصل وجہ ہے۔ان کا دین، حرم اور راستہ بدل چکا ہے۔دنیا کی محبت نے ان کو اصل راہ سے بھٹکا دیا ہے۔
بند نمبر 8 : صفحۂ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
نئے الفاظ کے معنی : صفحۂ دہر: دنیا ، با طل : حق کا متضاد، جو اللہ کی طرف سے نہ ہو، جھوٹا ، نوع: قِسم۔ا نواع ( جمع) ، جبینوں : پیشانیوں، ماتھا ، منتظرِ فردا : کل کا انتظار کرنے والے
مفہوم : دنیا سے باطل کو مٹانے والے،انسانوں کو غلامی سے چھڑانے والے، کعبے کو سجدوں سے آباد کرنے والے اور قرآن کو سینوں سے لگانے والے تو تمہارے آباواجداد تھے۔تم تو ہاتھ پر ھاتھ دھرے کسی مدد کا انتظار کررہے ہو۔
مماثل شعر: خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
شعری محاسن : مسدس ترکیب بند ، استفہامیہ انداز، صنعتِ تضاد ، مرکباتِ اضافی، محاورہ
تشریح : اقباؔل اس بند میں کمال خوبصورتی سے مسلمانوں کو آئینہ دکھا کر ان کی غلطیوں کا احساس دلا رہے ہیں۔شاعر اللہ کی زبانی شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تُم جو کارنامے ہمیں گنوارہے ہو وہ تو تمہارے آباواجداد نے سر انجام دیئے تھے۔انہوں نے دنیا کے کونے کونے میں اللہ کا پیغام پہنچایا تھا، مظلوموں کی داد رسی کرتے تھے،کعبے کو بتوں سے پاک کرکے سجدوں سے آباد کیا تھا اور قرآن کی ہدایات پر عمل پیرا ہوکر دنیا کو امن اور انصاف کا گہوارہ بنادیا تھا۔اسی لئے ہم نے اُن کو شان و عظمت سے نوازا تھا۔یہ سب جو تم بیان کر رہے ہو، تمھارے بزرگوں کے کارنامے تھے۔تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کیا کررہے ہو؟باپ کی نیکیوں کا اجر بیٹے کو نہیں مل سکتا۔تم تو محض بےکار بیٹھے عظمتِ رفتہ کا ماتم کررہے ہو اور شکوہ کررہے ہو۔تم تو انتظار کررہے ہو کہ کوئی آئے اور تمھاری حالت بدل دے۔تمھیں خود کچھ نہ کرنا پڑے۔
بند نمبر 9 : کیا کہا؟ بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ جلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰؑ ہی نہیں
نئے ا لفا ظ کے معنی : بہرِ مسلماں : مسلمان کے لئے ، عدل : انصاف ، فاطرِ ہستی : کائنات پیدا کرنے والا، اللہ تعالیٰ ، ازل : ہمیشہ سے ، دستور : قاعدہ، قانون ، مسلم آئیں ہوا: اسلامی اصولوں پر چلنے والا
مفہوم : تمہارا یہ شکوہ ناجائز اور حماقت پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو محض وعدۂ حور پر ہی ٹرخا دیا گیاہے۔ عادل اور منصف خالقِ کائنات کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ جو اس کی راہ پر چلے گا، کامیاب ہوگا۔سچ تو یہ ہے کہ تم میں سے کوئی نعمتوں کا طلب گار ہی نہیں ہے۔طور تو آج بھی موجود ہے مگر تم میں سے کوئی موسیٰؑ جیسا عاشق نہیں ہے۔
مماثل شعر : یہی آئینِ قدرت ہےیہی اسلوبِ فطرت ہے جو ہے راہِ عمل میں گامزن محبوبِ قدرت ہے
شعری محا سن : مسدس ترکیب بند، طنزیہ انداز ، صنعتِ تلمیح، مرکباتِ عطفی اور اضافی
تشریح : اس بند میں اقباؔل ذرا سخت لہجے میں اللہ کی زبانی شکوے کا جواب دے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ انہیں محض جنت کی نعمتوں کے وعدے پر ٹرخایا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے کچھ اصول ہیں ۔تم لوگوں نے احکامِ الہیٰ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، علم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہو،محنت سے جی چراتے ہو اور تم میں ہمت و حوصلے کا بھی فقدان ہے۔اللہ کا قانون عدل پر قائم ہے۔وہی دنیا میں کامیاب و کامران رہتا ہے جو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے۔تم چاہتے ہو کہ دنیا و آخرت کی نعمتیں تمہیں ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر مل جائے۔تمہیں کوئی کوشش یا محنت نہ کرنی پڑے۔اگر آج کفار دنیا میں ترقی کرکے بہت آگے نکل گئے ہیں تو اس کی وجہ ان کی علم دوستی ہے۔ وہ با ہمت اور با عمل ہیں۔تم ذرا خود پر نظر ڈالو۔ہمارے وعدے اور ہماری نعمتیں تو آج بھی موجود ہیں۔ مگر اب تم ان کے طلب گار نہیں رہے۔کوہِ طور تو آج بھی وہیں موجود ہے مگر کوئی موسیٰؑ کی طرح اللہ کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کا شوقین ہی نہیں رہا۔
بند نمبر 10: تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مُٹ جانے سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔عصرِ نو رات ہے ، دھندلا سا ستارہ تُو ہے
نئے الفاظ کے معنی : پیما نہ : پیا لہ ، عیا ں : ظا ہر ، یورش : حملہ ، تا تا ر : منگول ( چنگیز خا ن ، ہلاکو خا ن ) ، پا سبا ں : محا فظ ، صنم خا نہ: بت خا نہ (مرا د منگول ) ، عصرِ نو : نیا زما نہ
مفہوم: کسی ملک کے برباد ہونے سے مسلمان ختم نہیں ہو جاتا۔شراب کا نشہ پیالے میں نہیں ہوتا۔مسلمانوں کو مٹانے والے منگول خود مسلمان ہوگئے اور اسلام کے محافظ بن گئے۔تم دینِ اسلام کا سہاراہو۔نئے زمانے کی رات میں تم دھندلے ستارے کی طرح ہو۔
مماثل شعر: نہ تُو زمیں کے لئے ہے نہ آسما ں کے لئے جہا ں ہے ترے لئے تُو نہیں جہاں کے لئے
شعری محاسن: مسدس تر کیب بند ، صنعتِ تلمیح ، مرکبا تِ ا ضافی
تشریح: شاعر کہتے ہیں کہ اللہ اپنے شکر گزار بندے کو دلاسا دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تیرا وجود اس دنیا اور اسلام کی بقا کے لئے ضروری ہے۔تُو اطمینان رکھ۔ایران یا کوئی دوسرا ملک مِٹ جانے سے تُو نہیں مِٹے گا، تُو تو باقی رہے گا۔کسی مُلک کی حیثیت ایک پیالے کی طرح ہوتی ہے۔اور تُو اس میں انڈیلی جانے والی شراب ہے ۔جس کا نشہ پیالے کے بغیر بھی قائم رہتا ہے۔مُلک کے چھن جانے سے تُو کیونکر مِٹے گا؟تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تاتاریوں نیعنی چنگیز خان، اس کے بیٹوں اور پوتوں نےاسلامی ممالک سمیت دنیا کے کئی علاقوں پر چڑھائی کی۔۔انہوں نے سب سے پہلے ایران کی عظیم خوارزم سلطنت کو برباد کیاتھا۔ وہ ظالم اور بے دین تھے۔لیکن جب اس کے پوتے ہلاکو خان کی اولاد (برکے خان) اسلام لائی تو وہ ظلم و ستم سے تائب ہوکر اسلام کی محافظ اور اسے پھیلانے والی بن گئی۔گویا تاتاریوں کے بت کدے سے کعبے کو نئے محافظ مل گئے۔اسلام کے اولیں دور میں بھی یہی ہوا تھا۔بتوں کی پرستش کرنے والے عرب قبائل جب اسلام کے سایۂ عاطفت میں آئے تو وہ اسلام کے محافظ بن گئے۔اقباؔل کہتے ہیں کہ موجودہ عہد ایک اندھیرٰ رات کی مانند ہے۔تُو وہ دھندلا سا ستا رہ ہے جو اس سیاہ رات کو روشن دن میں تبدیل کردے گا اور سارے جہان کو منور کردے گا۔تو کشتئ حق کا سہارا ہے۔تیری وجہ سے اسلام کبھی نہیں ڈوبے گا۔
بند نمبر۔11 : مثلِ بُو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
نئے الفاظ کے معنی : مثلِ بُو : خوشبو کی طرح ، پریشاں ہو جا: پھیل جا ، رخت : سامان ، بر دوش: کندھوں پر ، تنک مایہ: بے ، وقعت، کم حیثیت ، بیاباں: صحرا، ریگستان ، نغمۂ موج : لہروں کا گیت
مفہوم : تُو خوشبو کی طرح کلی میں قید ہے۔یہاں سے نکل اور ہوا کے کندھوں پر سوار ہوکر ساری دنیا میں پھیل جا۔تو ایک کم حیثیت ذرے سےعظیم صحرا بن جا۔سمندر کی دھیمی لہروں کی بجائے طوفان بن جا۔اللہ اور رسولؐ کے عشق کی مدد سےپستیوں کو بلندیوں میں بدل دے ۔نامِ محمدؐ اور پیغامِ محمدؐ کے نور سے اس دنیا کو روشن کردے ۔
مماثل شعر : ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر
شعری محاسن : مسدس ترکیب بند، ، صنعت ِتشبیہ،تلمیح اور تضاد ، مرکباتِ اضافی
تشریح : ا للہ کی طرف سے شکوے کا جواب جاری ہے۔اسلام کا مفہوم بتایا جا رہا ہےکہ وہ حضور اکرمؐ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔اقباؔل کے کلام کا لُبِ لباب یہ ہے کہ جب تک مسلمان حضورؐ کا دامن پکڑے رہیں گے، کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اللہ فرما رہا ہے کہ اے مسلمان تجھ پر قید اور جمود طاری ہے۔تُو ایک ایسی خوشبو کی مانند ہے جو بند کلی میں قید ہو۔تُو اپنے ارادوں کو بلند کر ، اس غنچے کو پھا ڑ کر باہر نکل اور چار وانگ عالم میں پھیل جا۔اگر تُو اپنے آپ کو ایک ناچیز ذرہ سمجھتا ہے تو ذروں کا مجموعہ یعنی بیابان و صحرا کی طرح وسیع بن جا۔ اِسی طرح اکیلی اور دھیمی موج نہ بن بلکہ موجوں کا مجموعہ یعنی پُر شور طوفان بن جا۔ یہاں مسلمانوں کے باہمی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی جانب اشارہ ہے۔ شاعر اللہ کی زبانی مسلمانوں کو اتحاد، عمل اور یقین کی نصیحت کر رہا ہےکہ مسلمانوں کو اپنی ہمت، طاقت اور توانائیوں کو جمع کرنا چاہیئے۔ ہر کمزور کو جماعت کا ممبر بنا دے اور مشاہیرِ اسلام کی طرح دنیا میں محمدِ عربیؐ کا لایا ہوا اللہ کا پیغام پھیلا دے۔دنیا سے کفر کے اندھیرے کو دور کرکے اسلام کی روشنی پھیلا دے۔ وہ کہتے ہیں کہ اے مسلمان! تو عشقِ محمدؐ میں ڈوب جا۔ جب تُو حضورِ اکرم کی زندگی سے سبق آموز ہوگا تو ہر پستی بلندی میں بدل جائے گی، ہر تاریکی روشنی سے جگمگا اُٹھے گی۔سیرتِ طیبہ سے نہ صرف تیری ذات روشن ہو گی بلکہ تیری وجہ سے دنیا میں اسلام کا اجالا پھیل جائے گا اور تُو اپنے دین کا بہترین تعارف بن جائے گا۔
بند نمبر۔12 : ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور تُم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر
نئے الفاظ کے معنی : مست مئے ذ و قِ تن آسا نی : سُستی ا و ر آ ر ا م طلبی میں پڑ ا ہوا ، غفلت میں گُم ، فقر : دنیا سے بے نیازی ، ا سلاف : آباؤ اجداد ، نسبت : تعلق ، خوار : ذلیل، رُسوا ، تَارک : تَرک کرنا ، چھوڑ دینا
مفہو م : مسلمان سُست اور آرام طلب ہوگئےہیں۔کیا مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہیئے؟ اُن میں حضرت علیؑ جیسا فقراور نہ ہی حضرت عثمانؓ جیسی سخاوت نہیں پائی جاتی ہے۔اُن کو اپنے بزرگوں سے کوئی روحانی تعلق نہیں ہے۔ا ن کے آباؤ اجداد مسلمان ہونے کی وجہ سے دنیا میں قابلِ احترام تھے اور تم قرآن چھوڑ کر دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہو۔
مماثل شعر : قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں
شعری محا سن : مسدس ترکیب بند،صنعتِ تلمیح و تضاد ، استفہامیہ انداز، مرکباتِ اضافی
تشریح : اقباؔل کے اِس شعر میں سرزنش کا انداز اور پہلے دو ر کے مسلمانوں سے تقابل کیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آرام پسندی مسلمانوں کو زیب نہیں دیتی۔ تم ہر وقت سہولت پسندی کے نشے میں چُور رہتے ہو۔وقت برباد کرکے سرور حاصل کرتے ہو۔ غریبی یا ا میری میں تمہیں اپنے اسلاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بندۂ مومن اپنی زندگی اسلام ، ملّت و معاشرے کی سربلندی کے لئے گزارتا ہے۔یہاں شاعر حضرت علی ؑ اور حضرت عثمانؓ کا حوالہ دے رہے ہیں ۔اللہ کہتا ہے کہ ہم نےعلی المرتضیٰ ؑ کو دنیاوی دولت نہ دی مگر انہوں نے اسلام کی بے پناہ خدمت کی۔کبھی غربت کو بہانہ نہ بنایا۔اسی طرح عثمان غنیؓ نے اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کو مسکراتے ہوئے اسلام کی راہ میں خرچ کیا۔ایک تم ہو کہ غربت میں بہانےاور امارت میں کنجوسی کرتے ہو۔اور پھر ہم سے مطالبہ کرتے ہو کہ دنیا کی عزت و خلافت تمہیں دی جائے۔اونٹوں کو چرانے والے قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے زمانے پر چھاگئے اور اقوامِ عالم کی امامت و قیادت کی۔ تمہارا رشتہ قرآن سے کمزور ہوگیا ہے۔نفسانی خواہشات و مفادات نے اس کی جگہ لےلی ہے۔اُمت کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ اِسی لئےذلت و شکست خوردگی تمہارا مقدر بن گئی ہے۔اغیار اقوام تم پر بھوکے گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں۔
فرمانِ رسولؐ ہے کہ : ” اللہ اِس کتاب کی وجہ سے کچھ قوموں کوبلندی عطا کرتا ہے اور کچھ قوموں کو پستی میں دھکیل دیتا ہے۔’ ‘
بند نمبر ۔13 : عقل ہے تری سپرعشق ہے شمشیر تری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
نئے الفاظ کے معنی : سپر : ڈھال ، شمشیر : تلوا ر ، خلافت : اللہ کا نائب ہونا ، جہانگیر : پوری دنیا پر غالب ہونا ، ماسوائ ا للہ : ا للہ کے سِوا ، یعنی تمام باطل قوتیں ، تکبیر : ا للہ اکبر ، تدبیر : کوشش، محنت ، لوح و قلم : ( تختی اور قلم ) مراد تقدیر
مفہوم : اے مسلمان عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔تیری خلافت ساری دنیا کے لئے ہے۔تیری تکبیر باطل کے لئے آگ کی مانند ہے۔اگر تُو سچا مسلمان بن جائے تو تیری کوشش ہی تیری تقدیر بن جائے۔اگر تُو سچا عاشقِ رسولؐ بن جائے تو نہ صرف یہ دنیا بلکہ تقدیر بھی تیرے تابع ہو جائے۔
مماثل شعر : قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے دہر میں اسمِ محمد ؐ سے اُجالا کردے
شعری محاسن : مسدس ترکیب بند ، صنعتِ تلمیح ، مرکبِ عطفی
تشریح : جوابِ شکوہ کا یہ آخری بندگویا اللہ تعالیٰ کی رحیمی اور کریمی کی سند ہے۔جو انسان کو دی جارہی ہے۔مسلمانوں کو درپیش حالات کا تجزیہ کرنے اور ان کی وجوہات بیان کرنے کے بعد اب شاعر اس کا علاج تجویز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے تجھے عقل جیسی نعمت سے نوازا ہے۔اس سے حق اور باطل میں فرق کر اور باطل کے ہتھکنڈوں سے خود کو محفوظ کر۔اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق تیری صحیح سمت رہنمائی کرتا ہے۔یہ عشق ایک تیز دھار تلوار کی مانند ہے جو باطل کا مقابلہ کرنے اور ظلم کے مقابلے میں عدل قائم کرتا ہے۔جب تو ظلم کے خلاف نعرۂ تکبیر بلند کرتا ہے تو یہ تکبیر ایک آگ کے تیز شعلے کی مانند اللہ کے سوا ہر چیز کو جلا کر خاک کردیتی ہے۔تیری یہ تکبیر لوگوں کو توحید کی جانب متوجہ کرتی ہے اور مسلمانوں کو باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی طاقت دیتی ہے۔اگر انسان غیر اللہ کو چھوڑکر اللہ کی طرف مائل ہو جائے تو اس کی کوششیں ہی اس کی تقدیر بن جائیں گی۔گویا خدا بندے سے خود پوچھے گا کہ بتاؤ تمہاری کیا مرضی ہے؟ اگر مسلمان سب راستے چھوڑ کر حضرت محمدؐ سے محبت اور اُنؐ کی اطاعت کرے تو نہ صرف انکی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ اس فانی دنیا اور اگلی دنیا کی ہر چیز ان کی ہے۔یہاں تقدیرِ الہیٰ کی طرف اشارہ ہے۔گویا مسلمان مسلمان ہونے کا حق ادا کریں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں ۔
مما ثل شعر : ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ غالب و کار آفریں،کارکشا کارساز
( مرتب کنند ہ : شا کر ہ کا ظمی )