ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

بڑھے چلو۔۔۔اختر شیرانی

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

بڑھے چلو۔۔۔اختر شیرانی

تعارف ِ شاعر :

  • اختر شیرانی کا اصل نام  محمد داؤد خان تھا، اخترؔ تخلص کرتے تھے۔
  • آپ مشہور عالم، محقق ، نقاد اور ماہر تعلیم حافظ محمود شیرانی کے بیٹے تھے۔
  • اختر شیرانی کو شاعرِ رومان بھی کہا جاتا ہے۔
  • اخترؔ کی شاعری زندگی، جوش، حُسن، سوز، روانی، ترنم مسرت اور محبت کا رنگ جھلکتا ہے۔
  • آپ کے کلام میں خوبصورت تشبیہات، استعارات اور صنائع بدائع کی رعنائی و دلکشی نظر آتی ہے۔
  • اُن کے اشعار زبان زدِ عام ہیں۔
  • آپ نے مروجہ اسالیب سے گریز کرتے ہوئےہیئت کے مختلف تجربے کئے۔
  • تصانیف :  کلیاتِ اخترؔ شیرانی،اخترستان، لالۂ طور، نغمۂ حرم،پھولو ں کے گیت، شھرود، صبح ِ بہار،شہناز اور طیورِ آوارہ۔

صنفِ سخن : رزمیہ شاعری/ ر ِجزیہ

رجز جنگی ترانے کو کہتے ہیں۔میدانِ جنگ میں مجاہدین کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے یہ اشعار پڑھے جاتے ہیں۔دورِ رسا لتؐ     میں حضورؐ کے ایما پر حضرت عبداللہ بن رواحہ   رجزیہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔

  • 1۔ اے وطن کے سجیلے جوانو!
  • 2۔اے راہِ حق کے شہیدو

مسدس ترجیح بند

اگر مسدس کے ہر بند کا تیسرا شعر مِن و عَن دہرایا جائےتو اِسے ٹیپ کا شعر اور مسدس ترجیح بند کہتے ہیں۔نظم بڑھے چلو  مسدس ترجیح بند ہے۔

بند نمبر۔1:     رُکو نہیں جو دشت و  ریگ زار آئیں سامنے۔۔۔۔۔      بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

نئے الفا ظ کے معنی :     دشت : جنگل/ویرانہ—ریگ زار: ریت کا میدان ،سیل: طوفان—جوئے بار: ندّی/نہر—بحر: سمندر، کٹھن: مشکل—دلاور: بہادر—تیغ زن: تلوار چلانے والے–صف شکن: صفوں کو توڑنے والے

تشریح :   یہ نظم اختر ؔ شیرانی کی جنگی رزمیہ نظم ہے۔اس میں شاعر میدانِ کارزار میں برسرِ پیکار مجاہدین کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے کی  تلقین کر رہے ہیں کہ اے میرے جانبازو ! مشکلات سے گھبرانا نہیں۔ ہر حال میں ڈٹے رہو۔اپنے وطن کا دفاع کرو۔چاہے جو کچھ بھی ہو جائے ؛ تمہیں رکنا یا پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔ اگر تمہارے راستے میں ویران صحرا آ جائیں  تو انہیں پار کرجاؤ۔اگر راہ میں طوفان ، ندی نالے یا دریا آجائیں تو اُن سے بچ کر نہ چلو ۔ سمندر کی وسعتیں ہوں یا پہاڑوں کی بلندیاں؛ تمہیں کسی کو خاطر میں نہیں لانا چاہیئے۔ راستہ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو جائے۔تم آگے کی جانب بڑھتے رہو۔ اے بہادرو ! اپنی تلواریں (ہتھیار) سنبھالےدشمنوں کی صفوں کو  چیر دو۔ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دو۔اللہ پر ایمان اور اپنا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط رکھو۔وطن کے دفاع کے لئے اپن سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہو۔

مفہوم:  اے وطن کے بہادر نوجوان! چاہے تمہارے راستے میں جنگل، صحرا، پہاڑ،دریا یا طوفان ہی کیوں نہ آجائیں۔ تم آگے بڑھتے جاؤ۔ اور  تلوار چلاتے ہوئے دشمن  کی صفوں کو توڑ دو۔

مماثل شعر:    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا؟              جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

محاسن :            مسدس ترجیح بند، صنعت مراعات النظیر ،   مرکباتِ عطفی ،   مرکباتِ اضافی

بند نمبر  2 : تمہاری تیغِ تیز پہ وطن کو افتخار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔     بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو

نئے الفاظ کے معنی  : تیغ : تلوار—-افتخار: فخر—-مرگ: موت  ،   زیست: زندگی—-لگن: شوق

تشریح: اِس بند میں شاعر بہادر سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے  یہ احساس دلا رہا ہے کہ  اے وطن کے بہادر نوجوانو ! تمہاری تیز تلوار ( ہتھیار) اور جنگی مہارت پر  اہلِ وطن کو فخر و غرور ہے۔ تم قوتِ ایمانی سے لبریز فولاد  کی مانند ہو۔ تم ہمیشہ حق اور سچ کی خاطر تلوار بلند کرتے ہو۔اس وطن کی زندگی اور موت یعنی آزادی اور غلامی کا انحصار  تمہاری شجاعت و جوانمردی پر ہے۔ تم اس قوم کی ہمت، امید اور حوصلہ ہو۔ تمہارے دل میں وطن کی محبت اور اس کی حفاظت کا جذبہ  بے قرار رہتا ہے۔ اے دلاورو ! اس محبت کی لگن کو تیز کرو۔ دشمن تمہارے حوصلوں کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔ اے مجاہدو ! اپنے ہتھیار سنبھالے دشمن کی صفوں کو  چیر دو۔اس  میلی  آنکھ کو پھوڑ دو جو ہمارے وطن کی جانب اُٹھے۔

مفہوم: اے وطن کے بہادرو! وطن کو تم پر ناز ہے۔ وطن کی موت اور زندگی تمہارے حوصلوں پر ہی منحصر  ہے۔ تمہارے دل میں وطن کی محبت کا جذبہ موجود ہے۔ آگے بڑھو اور دشمنوں کی صفوں میں گھُس کران کے ناپاک ارادے خاک میں ملادو۔

مماثل شعر: سو جاؤ عزیزو ! کہ فصیلوں پہ ہر اِک سمت              ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں

محاسن : مسدس ترجیح بند ،      صنعتِ تضاد ، صنعتِ تکرار ، مرکبِ اضافی ، مرکب عطفی

بند نمبر 3: اُٹھاؤ تیغِ بے اماں  ، وطن کے پاک نام پے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

نئے الفاظ کے معنی  :  تیغِ بے اماں:جس تلوار سے کوئی بچ نہ سکے  ، عمرِ نوجواں: نوجوانی کی عمر—نثار کرنا: قربان کرنا

تشریح  : اس بند میں بھی شاعر اپنے نوجوانوں  اور بہادروں  کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ان کو آگے بڑھنے کی تلقین کر رہے ہیں۔شاعر کہتے ہیں کہ اے مجاہدو ! تمہارے حملوں سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ وطن کے پاک نام پر اپنی تلواریں بلند کرو ۔دشمنوں پر اپنے جذبۂ ایمانی کی دھاک بٹھا دو۔جو تمہیں کمزور سمجھتے ہیں ان کا سر کُچل دو۔ تمہاری جرات اور بہادری بے مثال اور ناقابلِ یقین ہے۔تم شہادت کی آرزو  رکھنے والے بہادر ہو۔ اپنے وطن کی خاطر قربانی دینے سے کبھی پیچھے نہ ہٹنا۔بے شک جان بڑی قیمتی شے ہے۔لیکن یہ ایک نہ ایک دن تو اُس جان آفریں کے سپرد کرنی ہی ہے۔اللہ کی دی ہوئی اس امانت کو اللہ کے راستے میں قربان کردو۔تمہیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔تم عوام کی امیدوں کا مرکز ہو۔وطن تمہیں بڑے یقین کے ساتھ پکار رہا ہے۔تم بھی اعتماد کے ساتھ اس کا جواب دو۔تمہارے ہی دم سے وطن اور امن قائم ہے۔تو اے میرے مجاہدو ! اپنی شجاعت کے مظاہرے دکھادو اور دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنا دو۔

مفہوم :اے بہادرو! وطن کے نام پر اپنی تلواریں بلند کرو جس سے کوئی دشمن بچ نہ سکے۔تم اپنی جوانی وطن کی حفاظت کے لئے قربان کردو۔وطن تمہیں پکار رہا ہے۔اس لئے آگے بڑھو اور دشمن کی صفوں میں گھُس کر انہیں تباہ کردو۔

مماثل شعر:        شہیدوں کی زمیں ہے یہ جسے پاکستان کہتے ہیں        یہ بنجر ہو کے بھی بزدل کبھی پیدا نہیں کرتی

محاسن:  مسدس ترجیح بند ،                 مرکباتِ اضافی

بند نمبر:4  سپاہیانہ زندگی جو قسمتِ سعید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ بہادرانِ صف شکن بڑھے چلو، بڑھے چلو

نئے الفا ظ کے معنی : قسمتِ سعید : خوش قسمتی—–رزم گہ : میدانِ جنگ ، فخرِ قوم : قوم  کا فخر

سروں سے کفن باندھنا : مرنے کے لئے تیار ہونا

تشریح : اس بند میں شاعر اپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہو۔ تمہاری زندگی اور موت دونو ں ہی اعلیٰ اور برتر ہیں۔سپاہیانہ زندگی ایک خوش قسمتی ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی۔ تم اللہ کے سپاہی ہو۔تمہاری زندگی کا مقصد حق کی سر بلندی ہے۔ تم اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھتے ہو۔ اپنے وطن اور لوگوں کو محفوظ بنانے کے لئے جان پر کھیل جاتے ہو۔ یہی جذبہ تمہیں خدا سے نزدیک کر دیتا ہے۔لوگ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہیں اور تم  شہادت کے لئے ہر وقت آمادہ رہتے ہو۔اگر تم میدانِ جنگ سے غازی بن کر کامیاب لوٹے  تو لوگ تم پر جان نچھاور کریں گے۔اور  اگرشہادت کے مقام و مرتبے پر فائز ہوئے تویہ اللہ کا خاص انعام ہوگا۔ شہید مر کر بھی زندہ رہتا ہے۔ اس کا مقام جنت میں انبیاء کے نزدیک ہوگا۔اے مرے بہادرو! مرنے  کے لئے آمادہ رہو۔ اپنے ہتھیار اٹھا کر دشمنوں کی صفوں کو چیر دو ۔ اپنے وطن کی حفاظت  کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دو۔

مفہوم:سپاہیوں کی زندگی خوش قسمتی  اور موت  اُن کی عید ہے۔اگر میدانِ جنگ سے غازی لوٹے تو قوم کا فخر اور مارےگئے تو شہادت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔اس لئے  مرنے کے لئے تیار رہو اور دشمنوں کی صفوں میں گھُس کر ان  کے ناپاک عزائم ناکام بنا دو۔

مماثل اشعار:             جن کے لہو نے لکھی ، تاریخ بانکپن کی                   وہ مادرِ وطن کے پُر عزم نوجواں تھے

محاسن: مسدس ترجیح بند ، صنعتِ تضاد ، محاورہ ، مرکباتِ اضافی

اعراب لگائیں

صَف شِکَن  ۔۔۔دِلَاوَر۔۔۔۔۔کَفَن۔۔۔۔اِفتَخَار ۔۔۔۔۔رَزم—-بَہَادُر۔۔۔۔دَشت—بَحر

 

خالی جگہیں

  1. نظم بڑھے چلو مسدس کی ہئیت میں ہے۔
  2. اختر شیرانی اپنے دور کے اہم رومانی شاعر ہیں۔
  3. نظم بڑھے چلو کے ہر بند کا آخری شعر ٹیپ کا شعر ہے
  4. اختر شیرانی مشہور عالم، محقق اور ماہر تعلیم حافظ محمود شیرانی کے بیٹے تھے۔
  5. وطن کے پاک نام پر اپنی جان قربان کر دینی چاہیئے۔
  6. میدانِ جنگ کی موت بھی سپاہی کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔
  7. سپاہیانہ زندگی خوش قسمتی کی علامت ہے۔
  8. اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خان تھا۔
  9. جو جنگ سے زندہ سلامت واپس آجائے اُسے غازی کہتے ہیں۔
  10. سپاہیوں کو وطن کے دِفاع کے لئے رکنا یا پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔

( مرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *