ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

نظم :     ستارے ( سانیٹ )           ن۔م۔راشد

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

نظم :     ستارے ( سانیٹ )           ن۔م۔راشد

تعارف شاعر

  • ن۔م راشد کا اصل نام راجا نذر محمدجنجوعہ تھا ۔
  • آپ جدید اردو نظم کے اوّلین معماروں میں سے ہیں۔
  • آپ نے نظم میں ہیئت کے متعدد تجربے کئے ۔
  • آپ کی نظمیں پیچیدگی اور ابہام لئے ہوئے ہوتی ہیں۔
  • آپ کی نظموں میں ڈرامائی اور افسانوی انداز ہے ۔
  • آپ نے علامت نگاری سے خوب کام لیا ہے ۔
  • آپ سخت اور کھردرے جذبات کے شاعر ہیں ۔
  • آپ نے قوافی کا ایسا نظام مرتب کیا جو نظموں کی داخلی صورت نظر آتی ہے۔
  • مجموعہ ہائے کلام : ماورا ۔ ایران میں اجنبی ۔ لا=انسان ۔ گمان کا ممکن

سانیٹ کی تعریف

یہ ایک اطالوی الاصل مغربی صنف ہے ۔یہ چودہ مصرعوں میں لکھی جاتی ہے ۔اس ے دو بند ہوتے ہیں۔پہلا بند  آٹھ مصرعوں اور دوسرا چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔اس میں قافیوں کی خاص ترتیب ہوتی ہے ۔بنیادی طور پر یہ غنائی صنف ہے یعنی جو سازوں  کی ہم آہنگی کے لئے عمل میں لائی گئی ہو۔اس میں غزل کی اشاریت اور نظم کا تسلسل پایا جاتا ہے۔

اردو کا پہلا سانیٹ ن۔م۔راشد نے لکھا۔اس کے علاوہ اختر شیرانی ، شائق بریلوی ، عظمت اللہ ،  احمد ندیم قاسمی  اور نذیر  مرزا برلاس وغیرہ کے نام بھی قابل ِ ذکر ہیں ۔

نظم کا مرکزی خیال

    ستارے رات کو آسمان پر چمک کر آسمان کی خوب صورتی میں اضافہ تو کرتے ہی ہیں ؛ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ انسان کو یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ایک دن تُو اِس دنیا کی مصیبتوں سے آزاد ہو کر واپس اپنے حقیقی گھر یعنی جنت میں آجائے گا ۔اس لئے تُو  دنیا کی مصیبتوں سے  نہ گھبرا ۔ستارے اپنے میٹھے مدبھرے گیتوں سے تھکے  اور غم زدہ لوگوں کا دل بہلاتے ہیں ۔ انسان مستقبل کے سہانے خواب دیکھتا ہوا میٹھی نیند سو جاتا ہے ۔ستاروں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ انسان کو سکوں اور خوشی پہنچائے ۔ 

تشریح بند نمبر ۔1                 نکل کر جُوئے نغمہ خُلد زار ِ ماہ و انجم سے ۔ ۔ ۔

مفہوم : ستاروں کے گیت چاند تاروں کی جنت سے نکل کر آہستہ آہستہ اِس دنیا کے غم کدے یعنی زمین  کی طرف آرہے ہیں ۔

مماثل شعر :     ؎        چاند راتیں سنوارنے والے          سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں

محاسن :  سانیٹ  ،  علامتی انداز ، مرکب اضافی  ( گلستان ِ ترنم ) ، مرکب عطفی  ( ماہ و انجم ) ، تکرار (  آہستہ آہستہ ) ، ترکیب ( نوحہ آباد ِ جہاں )۔

تشریح بند نمبر ۔ 2                 ستارے اپنے میٹھے مد بھرے ہلکے تبسم سے  ۔ ۔ ۔

مفہوم : ستارے پُر کشش مُسکراہٹ سے دنیا کو جوان کر رہے ہیں  اور اسے ایک داستان سنا رہے ہیں ۔ان  کے خوب صورت کلام سے زندگی مدہوش ہوچکی ہے ۔

مماثل شعر :     ؎        ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں            ابھی عشق کے امتحاں او ر بھی ہیں

محاسن :  سانیٹ ، علامتی انداز ، مرکب ِ اضافی ( دیار ِ زندگی ) ، تکرار ( آہستہ آہستہ )

 تشریح بند نمبر ۔ 3                یہی عادت ہے روز ِ اوّلیں سے اِ ن ستاروں کی ۔ ۔۔ ۔

مفہوم : ستاروں کی پہلے دن سے یہ عادت ہے کہ وہ  دنیا میں خوشی پھیلانے کے لئے چمکتے ہیں ۔وہ اپنی چمک سے انسان کی زندگی کے غم بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مماثل شعر :     ؎        یہ چار سُو جو سکوں کی دبیز چادر ہے            فلک کے چاند ستاروں کی مہربانی ہے

محاسن :  سانیٹ ، علامتی انداز،     مرکب اضافی ( روزِ اوّلیں  ، فکر ِ ہستی ) 

تشریح بند نمبر ۔ 4         لئے ہے یہ تمنّا ہر کرن ان نور پاروں کی ۔ ۔ ۔ ۔

مفہوم :         ستاروں کی تمنّا ہے کہ دنیا میں ہر طرف خوشیوں کی حکومت ہو  اور انسان اپنی کھوئی ہوئی جنت کو پھر پالے ۔

مماثل شعر :     ؎        شب ِ غم ختم ہوگی اور اجالا نور کا ہوگا          ستارے رات بھر اُمید کا پیغام دیتے ہیں

محاسن :  سانیٹ ، علامتی انداز،     مرکب عطفی  ( حسن و لطافت )

مشقی سوالات

مرکب اضافی :               وہ مرکب الفاظ جو زیر  اور حمزہ ( اِ، ء )  یا    (کا۔کے ۔کی) سے مل کر بنے ۔

نظم میں موجود مرکب اضافی :    فضا کی وسعتوں ، ان کے تکلم ، مسرت کی حکومت ، فکر ِ ہستی ، گہوارۂ حسن ، نوحہ آباد ِ جہاں ، گلستان ِ ترنم دیار ِ زندگی روز ِ اولّیں  ۔

مرکب عطفی :               وہ مرکب الفاظ جو ( و ۔ اور ) سے مل کر بنے ۔ 

نظم میں موجود مرکب عطفی :    ماہ و انجم ، حسن و لطافت

 

اہم خالی جگہیں

  • ن۔م۔راشد کا اصل نام راجا نذر محمد جنجوعہ تھا۔
  • آپ یو این او سے منسلک ہو گئے۔
  • نظم ستارے کی صنف سانیٹ ہے ۔
  • سانیٹ میں عموماً چودہ مصرعے ہوتے ہیں۔
  • نظم ستارے در اصل انسان کے اپنے حقیقی گھر سے جلا وطنی کا نوحہ ہے ۔
  • ستاروں کے دلکش تبسم سے فطرت آہستہ آہستہ جوان ہو رہی ہے ۔
  • اس نظم میں جنت اور زمین کا موازنہ ہے ۔
  • ستارے چمکتے ہیں کہ دنیا میں خوشی کی حکومت ہو۔
  • ستارے رات بھر چمک کر انسان کو بھولی بسری باتیں سناتے ہیں ۔

 (تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *