شاعر پر تبصرہ : خواجہ میر دردؔ صوفی شاعر/صوفیانہ شاعری کے امام
؎ تا قیا مت نہیں مٹنے کا دل ِ عا لم سے
دردؔ ہم اپنے عِوَض چھوڑے اَثر جاتے ہیں
تعارف : خواجہ میر دردؔ دلّی کے اُن معروف شعراء میں سے ہیں جو دبستان ِ دہلی کی پہچان اور شان کہلاتے ہیں ۔آپ کو صوفی شاعری کا امام مانا جاتا ہے ۔آپ کو کئی اعتبار سے امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔ آپ ایک بلند فکر ، درویش صفت اور صاحب ِ حال انسان تھے ۔ جن کی زندگی توکل کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے ۔آپ کی شاعری میں تغزل کے ساتھ ساتھ تصوّف بھی ہے ۔اس کے علاوہ علم و معرفت کا خزانہ بھی موجود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام معاصر اور متاخر تذکرہ نگار آپ کا نام بڑے ادب و احترام سے لیتے ہیں
تحریر کی خوبیاں
1 ۔ تصوّف کا رنگ : خواجہ میر درد ؔ کی زندگی اور شاعری دونوں تصوّف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ اسی سبب سے انہیں سب سے بڑے صوفی شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ان کا منفرد انداز بیان ، تصوّف کے اہم نکات اور معرفت ان کو دیگر صوفی شعراء سے ممتاز کرتی ہے ۔
؎ ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہن میں کچھ ہے
؎ جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
2 ۔ سادگی ِ زباں : دردؔ کا کلام تکلّف سے پاک ہے ۔ان کی زبان سادہ اور انداز دلکش ہے ۔ سلاست اور متانت ان کی شاعری کے خاص جوہر ہیں ؛ جو کلام میں حُسن پیدا کرتے ہیں ۔
؎ اذّ یت ، مصیبت ، ملامت ، بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
؎ آتش ِ عشق جی جلاتی ہے یہ بلا جان پر ہی آتی ہے
3 ۔ منفرد بلند آواز : درد ؔ کا کلام ان کی پاکیزہ زندگی کا آئینہ دار ہے ۔اُن کا دور شاعری کے عروج کا دور تھا ۔ لیکن ہندوستان کی آزادی سَلب ہونے ، افراتفری اور بد حالی کا بھی یہی دور تھا ۔ درد ؔ کا کمال یہ ہے کہ اس دور میں بھی انہوں نے اپنے منفرد انداز اور لب و لہجے کو بلند رکھا اور اردو شاعری کو تصوّف اور توّکل جیسی خوبیوں سے مہمیز رکھا ۔
؎ مدرسہ یا دیر تھا ، کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہماں تھے واں بس تُو ہی صاحب ِ خانہ تھا
؎ ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے
4 ۔ حوصلہ مندی : درد ؔ کا دور تاریخی اعتبار سے پُر آشوب دور تھا ۔نا سازگار حالات اور فکر معاش کی وجہ سے کئی شعراء لکھنؤ یا دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے ۔لیکن دردؔ نے نہ صرف حالات ِ زمانہ کا مقابلہ کیا ؛ بلکہ حوصلہ مندی کا درس بھی دیا ۔
؎ آیا نہ اعتدال پہ ہر گز مزاج ِ دہر میں گرچہ گرم و سرد ِ زمانہ سمو گیا
؎ حیران آئینہ دار ہیں ہم کس سے دوچار ہیں ہم
5 ۔ حُسن ِ بیا ں : زبان و بیان کا حُسن دردؔ کے کلام کا خا صہ ہیں ۔ آپ نے خوب صورت اور نادر تشبیہات ، استعارات ، تلمیحات اور مرکبات سے کلام کو چار چاند لگا دئیے۔روز مرہ اور محاورے کے استعمال پر انہیں مہارت حاص تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ رفعت و ہمہ گیری میں ان کا کلام بہتریں مثال ہے ۔
؎ طوفان ِ نوح ؑ نے تو ڈبوئی زمیں فقط میں ننگ ِ خلق ساری خدائی ڈبو گیا
؎ زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
6 ۔ بے ثباتی ِ حیات : درد ؔ کے کلام میں جا بجا دنیا کی بے ثباتی کا رنگ جھلکتا ہے ۔ ایک صوفی شاعر ہونے کی حیثیت سے اپنے کلام میں واضح طور پر اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ اپنے کلام کے ذریعے عارضی دنیا سے بے رغبتی اور اصل دنیا کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
؎ دنیا میں کون کون نہ یک بار ہوگیا پھر منہ نہ اس طرف کیا اُس نے کہ جو گیا
؎ دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے
7 ۔ موسیقیت اور ترنم : درد ؔ ایک روکھے اور خشک مزاج صوفی نہ تھے۔آپ موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے ۔ آپ کے کلام میں نغمگی کا احساس ہوتا ہے ۔ ان کی غزلیں موسیقی کی خاص دھُنوں پر پوری اترتی ہیں ۔
؎ سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجوم ِ یاس ! جی گھبرا گیا
؎ تہمت ِ چند اپنے ذمے دھر چلے جس لئے آئے تھے ہم سو کر چلے
8 ۔ مفہوم کی وسعت : دردؔ کے ہاں سادگی ِ بیاں کے ساتھ ساتھ مفہوم کی وسعت و گہرائی بھی موجود ہے ۔ ان کا کلام پڑھ کر معنی و مفہوم کے کئی در وا ہو جاتے ہیں اور مطالب کی کئی تہیں کھُلتی چلی جاتی ہیں ۔
؎ دل آ گیا ہے اُس بُت ِ کافر کے ہاتھ میں اب میرے حق میں دیکئے اللہ کیا کرے
؎ باغ ِ جہاں کے گُل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں گر یار ہیں تو ہم ہیں ، اغیار ہیں تو ہم ہیں
9 ۔ غزل کا رنگ : دردؔ کی شاعری میں ایک طرف تو جہاں تصوّ ف کا گلشن مہک رہا ہے ؛ دوسری جانب رنگ ِ تغزل اپنا جلوہ دکھا رہا ہے ۔اُن کے کلام میں غزل کی تمام خوبیاں نظر آتی ہیں ۔
؎ دردؔ کوئی بلا ہے وہ شوخ مزاج اُس کو چھیڑا ، بُرا کیا تو نے
10 ۔ قبول ِ عام : کسی شاعر کا کمال ِ فن یہ ہے کہ اس کا کلام زبان زد ِ عام ہو جائے ۔ ہر انسان اسے اپنے کلام یا گفتگو میں
استعمال کرے ۔ وہ ضرب المثل بن جائے ۔ دردؔ کے اکثر اشعار اردو زبان میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں ۔
؎ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
11 ۔ نظریہ وحدت الوجود : دردؔ کا سلسلہ نسب مشہور بزرگان ِ دین سے ملتا ہے ۔ اسی لئے وہ تمام مذہبی رہنماؤ ں کے امام بھی تھے۔ اسی سبب سے ان کے کلام میں مذہبی رنگ کے ساتھ ساتھ تصوّف کے کئی اہم نکات ملتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے کلام میں جا بجا نظریہ وحدت الوجود کو پیش کیا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں قائم اور باقی رہ جانے والی صرف اللہ کی ذات ہے ۔ باقی سب فنا ہو جائے گا ۔
؎ بیگانہ گر نظر پڑے ، تُو آشنا کو دیکھ بندہ گر آوے سامنے ، تو بھی خدا کو دیکھ
12 ۔ امتزاج ِ مجاز و حقیقت : دردؔ کے کلام میں عشق ِ حقیقی او رعشق ِ مجازی کا امتزاج نظر آتا ہے ۔ ان کے اکثر اشعار میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
؎ کچھ ہے خبر کہ اُٹھ اُٹھ کے رات کو عاشق تری گلی میں کئی بار ہو گیا
؎ اپنے ملنے سے منع مت کر اس میں بے اختیار ہیں ہم لوگ
13 ۔ سوز و گداز : دردؔ کے کلام میں سادگی اور حقیقت نگاری ہے ۔ یہ سوز و گداز کا مُر قع ہے ۔ ان کے قلم سے نکلا ہوا ہر لفظ دل پر اثر کرتا ہے ۔
؎ زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
؎ آیا نہ اعتدال پہ ہر گز مزاج ِ دہر میں گرچہ گرم و سرد ِ زمانہ سمو گیا
14 ۔ عظمت ِ انسانیت : دردؔ کے کلام کا ایک طاقتور عنوان عظمت ِ انسانیت ہے ۔ اکثر شعراء کے کلام میں ایسی نظیر نہیں ملتی ۔
؎ ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے
15 ۔ نظریہ وحدت الشھود : نظریہ وحدت الشھود بھی دردؔ کے کلا م کا اہم مو ضوع رہا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی گواہی دے رہی ہے اور مظہر ِ خداوندی ہے ۔
؎ مدرسہ یا دیر تھا ، کعبہ یا بُت خانہ تھا ہم سبھی مہماں تھے واں ، بس تُو ہی صاحب ِ خانہ تھا
نقادوں کی آراء
میر حسن لکھتے ہیں :
” دردؔ آسمان ِ سخن کے خورشید ہیں ۔ ”
مرزا علی لطف کے بقول :
” اگرچہ دیوان ِ دردؔ بہت مختصر ہے ، لیکن سراپا درد و اثر ہے ۔ ”
بقول عظمت اللہ خان :
” دردؔ صوفیانہ شاعری کے باوا آدم ہیں ۔”
رام بابو سکسینہ کہتے ہیں :
” دردؔ اردو شاعری کے تاج کا سب سے بڑا نگینہ ہیں ۔”
حاصل ِ تحریر
دردؔ ایک صوفی شاعر ہیں ۔آپ کو تصوف کا امام بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ صوفیانہ مزاج کے حامل تھے۔ آپ کے کلام میں تصوّف کے کئی اہم نکات ملتے ہیں ۔جن میں نظریہ وحدت الوجود ، نظریہ وحدت الشھود نمایاں ہے ۔ آپ کی زبان سادہ اور پُر اثر تھی ۔ جس میں ترنم اور موسیقیت کا رنگ جھلکتا ہے ۔ مفہوم کی وسعت ان کے کلام کی ایک واضح خوبی ہے ۔
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭