ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح :۔۔خطوطِ غالبؔ ( بنام یوسف مرزا)

اقتباس کی تشریح :                          خطوطِ غالبؔ ( بنام یوسف مرزا)

اقتباس  : ( یہ ایک شیوۂ  فرسودہ ابنائے روزگار  کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دعا کو دخل نہیں  ، دوا کا لگاؤ نہیں ۔)

حوالۂ سبق :   خطوطِ غالب ؔ

حوالۂ  و تعارف مصنف :               مرزا اسد اللہ خان غالبؔ

                        غالب ؔ اردو غزل کے بڑے معروف شاعر ہیں ۔ انھیں آفاقی شاعر کہا جاتا ہے ۔ان کی شاعرانی عظمت کے سب معترف ہیں۔ اردو نثر میں صرف  خطوط ہی ان کا سرمایہ ہیں ۔اس سے ان کی عظمت کو چار چاند لگ جاتے ہیں ۔آپ نے مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا  اور جدید خطوط نگاری کی بنیاد رکھی ۔

سیاق و سباق :          یوسف مرزا کا اصل نام  ناصر الدین حیدر خان تھا ۔جو نواب سید محمد نصیر خان کے بیٹے تھے اور لکھنؤ میں رہتے  تھے ۔ان کی والدہ قدسیہ سلطان غالبؔ  کے دوست حسین مرزا کی بہن تھیں۔ غالب ؔ حسین مرزا کے بیٹوں  سجاد مرزا ، اکبر مرزا اور بھانجے  یوسف مرزا کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ 1857 ء کی شورش کے بعد  نصیر خان بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوئے  اور پھانسی پر چڑھا دیئے گئے ۔ چنانچہ جب غالبؔ کو معلوم ہوا تو انھوں نے یوسف مرزا کو تعزیت کا خط لکھا ۔

تشریح :                 زیرِ تشریح سطور” غالبؔ کا  خط بنام یوسف مرزا  ” کی ابتدائی ہیں ۔جن میں غالب ؔ نے مرزا یوسف سے ان کے باپ کے انتقال پر اظہارِ افسوس   اور تعزیت کی ہے۔ یوسف مرزا  یعنی ناصر الدین حیدر خان   کے والد سید محمد نصیر خان کو بغاوت کے جرم میں چودہ سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ۔بعد میں انگریز حکام   نے اسے موت میں بدل دیا ۔مئی 1860ء میں انھیں پھانسی دے دی گئی۔جب غالبؔ کو علم ہوا ۔تو انھوں نے تعزیت کا خط لکھا ۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ تمھارے باپ کی موت کا اپنی زبان سے ذکر کروں ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اظہار ِ افسوس کروں  اور تمھیں تسلی دوں ۔ مگر زمانے کا دستور یہی ہے کہ لوگ لواحقین کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ کسی شخص کا عزیز اس سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوجائے ، صد مے سے اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے  ؛ اور لوگ اسے رونے سے منع کریں ، صبر کی تلقین کریں ۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ زخم لگے اور آدمی نہ تڑپے؛ اور وہ بھی باپ جیسی عزیز اور پیاری ہستی کے لئے  جو بے قصور مارا گیا ۔یہ تو معاملہ  ہی ایسا ہے ۔ اس میں کچھ مشورہ نہیں دیا جا سکتا ۔بیماری ہو تو دوا اور دعا سے کام چلے ۔ لیکن اس میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *