اقتباس کی تشریح : مسلمانوں کا قدیم طرز ِ تعلیم مولانا شبلی نعمانی
اقتباس : (اعلیٰ تعلیم کے لئے دور دراز کی مسافتوں کا طے کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیشہ حیرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔)
حوالۂ سبق : مسلمانوں کا قدیم طرز ِ تعلیم
حوالۂ و تعارف مصنف : علامہ شبلی نعمانی
علامہ شبلی نعمانی کا شمار عناصرِ خمسسہ میں ہوتا ہے۔آپ اس اعتبار سے بڑے نام ور ہیں کہ آپ نے اردو میں بزرگوں کی سیرت کا سرمایہ فراہم کیا ۔آپ سر سید کی فکری اور اصلاحی تحریک کے اہم رکن شمار کئے جاتے ہیں ۔ آپ کی تحریروں میں زور ِ بیان ، متانت ، منطقی استدلال اور سنجیدگیسب کچھ موجود ہے ۔ آپ سوانح ، تاریخ اور تنقید کے مردِ میدان ہیں۔ جہاں آپ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔
تصانیف : سیرت النبی ؐ ، الفاروق ، المامون وغیرہ
سیاق و سباق : اس مضمون میں شبلی نعمانی نے مسلمانوں کے طرز ِ تعلیم پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ جس میں تعلیم کا شوق ، عرب کی نسبت عجم میں تعلیمی ترقی ، وسعت ِ تعلیم کے اسباب ، مدرسوں کا طریقہ ، درس و تدریس اور املا مدارس ، نقلی علوم کے ساتھ عقلی علوم کی تعلیم اور مذ ہب کے تعلیم پر اثرات وغیرہ پر گفتگو کی ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم دینی فریضہ سمجھ کر حاصل کی اور اس کے فروغ کی بے پناہ کوششیں کی ہیں۔
زیر ِ تشریح اقتباس سبق کے اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں مصنف یہ بتا رہے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا ضروری خیال کیا جاتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں تعلیم کا وہی طریقہ رائج تھا جو آج کے دور میں رائج ہے ۔ یعنی استاد لیکچر دیتا ہے اور طالب علم اس لیکچر کو لکھ لیتے ہیں ۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے دور دراز ملکوں کا سفر کیا جاتا تھا۔ جہاں کہیں کسی فن کا کامل استاد ہوتا ، اس کی خدمت میں پہنچ کر تعلیم حاصل کرتے ۔اعلیٰ تعلیم کے لئے سفر کی زحمت اٹھانا ضروری خیال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ اس کے بغیر کسی کو بھی مشہور فاضل استاد تصور نہیں کیا جاتا تھا ۔ اگر کوئی مشہور اہلِ فن ہو مگر اس نے کسی دوسرے ملک کا سفر کرکے کسی مشہور اہلِ کمال سے علم حاصل نہ کیا ہو تو لوگ اس کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ بلکہ اس کی قابلیت پر شک کرتے تھے ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )