ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح ۔۔ایک شام ماضی کی محرابوں سے ۔۔ابن ِ انشاء

اقتباس کی تشریح                           ایک شام ماضی کی محرابوں سے        ابن ِ انشاء

اقتباس :      ( سامنے اُ س فاتح کی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ہو گا  کوئی دن اور )

حوالۂ سبق :    ایک شام ماضی کی محرابوں سے

حوالہ و تعارف مصنف :        ابن ِ انشاء شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی ؛ اور دونوں حیثیتوں سے معروف ہیں ۔ان کے سفر نامے خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔ انھوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کو نہایت سادہ اور آسان زبان میں بیان کیا ۔وہ قاری کو اپنے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔

تصانیف :       چاند نگر ، اس بستی کے اک کوچے میں ، خمار گندم ، چلتے ہیں تو چین کو چلئے ، آوارہ گرد کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں  وغیرہ ۔

سیاق و سباق :  دمشق ایک تاریخی شہر ہے ۔ جو ایک طویل عرصہ تک علم  و فن کا مرکز رہا ۔اب بھی یہاں اسلامی ثقافت کے آثار موجود ہیں ۔یہاں حضرت یحییٰ ؑ کا مزار مبارک موجود ہے ، ایک عظیم مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی  کا مزار  بھی ہے ، امام غزالی ؒکا مکتب بھی ہے ،  سلطان صلاح الدین ایوبی کے بھائی ناصر الدین کا قائم کردہ مدرسہ بھی ہے ۔ غرض یہاں  بہت سے تاریخی مقامات ہیں ۔اس کے علاوہ اور بےشمار ایسے آثار  موجود ہیں جن سے اسلام اور  مسلمانوں  کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ابن انشا نے اپنے سفر نامے ” آوارہ گرد کی ڈائری ” میں دمشق کی سیر بھی کروائی ہے ۔ جس میں ان کے جذبات کا عکس نمایاں ہے ۔

        زیر ِ تشریح اقتباس سبق کے اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں وہ عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی  کے مزار کے سامنے کھڑے بیت المقدس کے لئے نوحہ کناں ہیں۔

تشریح :         جب ابن انشا دمشق کی جامع مسجد پہنچے  تو وہ حضرت یحییٰ ؑ کے مزار پر حاضر ہوئے  اور ان کی زیارت کی ۔یہاں ان کو شیخ سعدیؒ کی ایک داستان یاد آگئی ۔جب انہوں نے یہاں اعتکاف کیا تھا ۔یہاں انھوں نے دعا مانگی اور مشرقی دروازے سے باہر نکل آئے ۔بائیں جانب سلطان صلاح الدین ایوبی کا مقبرہ نظر آیا ۔ابن انشا وہاں پہنچے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی بیت المقدس کا فاتح تھا ۔پورا یورپ اس کے مقابلے میں متحد ہو گیا تھا لیکن اس نے متحدہ فوج کو شکست دے کر بیت المقدس ناپاک ہاتھوں سے آزاد کرایا ۔مصنف کی آنکھوں کے سامنے اس کی عظمت کا نقشہ آگیا  کہ اس نے کتنی ہمت و جرات کا مظاہرہ کرکے متحدہ یورپ کو شکست دی اور اپنے حسن ِ سلوک اور اخلاق و انصاف سے لوگوں کے دل جیتے  ۔اب وہ اپنی ابدی آرام گاہ  میں محو ِ خواب ہے ۔ اب وہ قیامت میں اٹھے گا ۔ مصنف کہتے ہیں  کہ قیامت تو آئی ہوئی ہے ۔ بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا ہے ۔ فلسطین کے مسلمان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ظلم و ذیادتی برداشت کر رہے ہیں۔ ان کا بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے ۔مصنف دہائی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ  اے غازی اُ ٹھ ! اب پھر تیری ضرورت ہے ۔تیرے جیسی ہمت و جرات اب کسی میں نہیں  کہ وہ ہمارے قبلۂ اوّل کو یہودیوں کے ناپاک ہاتھوں سے آزاد کرائے ۔ تُو اگر اب بھی نہ اُٹھا تو کب اُٹھے گا ؟ کیا قیامت کے دن اُٹے گا ؟ اب اس سے بڑھ کر اور قیامت کیا ہوگی جو مسلمانوں پر فلسطین میں ہو رہی ہے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

       

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *