خلاصہ ۔ ماما عظمت
( ڈپٹی نذیر احمد : 1836ء ۔ 1912ء)
تعارف مصنف : ڈپٹی نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں ۔آپ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو ادب میں ناول سے معاشرتی اصلاح کا کام لیا اور بطور ِ خاص طبقۂ نسواں کی اصلاح کی طرف مایل ہوئے ۔آپ نے انگریزی کے اثر کو قبول کرتے ہوئے ناول نگاری کی ابتدا کی ۔آپ نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کی خاطر ناول ” مراۃ العروس ” لکھا۔بعد میں انھوں نے اور بھی ناول لکھے۔آپ نے خیالی داستانوں سے گریز کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح کی جانب توجہ دی ، غلط رسم و رواج کی تباہ کاریوں کی جانب اشارہ کیا۔ ان کا اپنا ایک انداز اور اسلوب ہے جو سب سے منفرد اور جدا ہے۔آپ کی زبان سادہ اور سلیس لیکن محاورات کی کثرت اور نامانوس الفاظ سے لبریز ہے ۔ اِ ن میں مقصدیت ، وسعت ِ نظر ، جوش و اثر ، خطیبانہ انداز ، کردار نگاری ، سلست و روانی ، مذہبی میلان ، جزئیات نگاری اور عورتوں کے مکالمات بیان کرنے کی قدرت نظر آتی ہے ۔
تصانیف : مراۃ العروس ، بنات النعش ، توبتہ النصوح ، ابن الوقت ، محسنات ، فسانۂ مبتلا ، امہات الامہ، رویائے صادقہ ، ترجمہ تعزیراتِ ہند ، الحقوق والفرائض اور ترجمہ قرآن مجید وغیرہ۔
خلاصہ : یہ کہانی ایک گھریلو ملازمہ کی ہے ۔ جو مولوی محمد فاضل کے گھر 25 سال سے کام کر رہی تھی ۔مولوی فاضل لاہور میں ملازم تھے۔ گھر کا تمام کام ماما عظمت کے سپرد تھا۔ وہ گھریلو کاموں کے علاوہ بازار سے سودا سلف بھی لاتی تھی ۔ جب مولوی صاحب آتے تو سب حساب کتاب کر دیا جاتا۔ایک مرتبہ مولوی فاضل رمضان میں گھر آئے اور اپنی بہو اصغری کو بلایا اور ماما عظمت سے کہا کہ ان کی موجودگی میں سب حساب کتاب کرے ۔ماما عظمت نے کہا کہ بہت سارا حساب ہے ؛ قصائی کا ، کنجڑے کا ، بزاز کا اور حلوائی کا وغیرہ ۔ آپ مجھے پیسہ دے دیں ۔میں آپ کے نام سے جمع کرا دوں گی ۔مولوی صاحب تو اس بات پر آمادہ ہوگئے ، مگر اصغری بیگم نے اصرسر کیا کہ ان سب کو یہیں بلا لاؤ ۔ یہاں حساب کتاب کر دیں گے ۔ماما عظمت بے ایمان تھی ۔ وہ اپنی بیٹی کے گھر کا سودا سلف بھی ان ہی کے حساب سے لاتی تھی ۔اس نے بہت بہانے بنائے لیکن اس کی ایک نہ چلی ۔ سب سے پہلے حلوائی آیا ۔ اس نے 30 روپے کا حساب بتایا ۔ محمد کامل کی ماں نے کہا کہ یہ تو بہت ذیادہ ہے ۔اس مرتبہ تو ہمارے یہاں کچھ نہیں آیا۔ حلوائی نے کہا کہ اس شب ِ برات میں ہی دس کلو چینی آئی ہے ۔ماما عظمت جھٹ بولی کہ وہ تو میں کسی دوسرے کے لئے لے کر گئی تھی ، تُو نے ان کے حساب میں کیوں لکھی ؟ غرض حساب کیا تو کُل 7 روپے نکلے۔ مولوی صاحب ماماعظمت پر بہت ناراض ہوئے۔ اسی طرح کنجڑے ، قصائی اور بنیئے کے حساب میں بھی بہت ہیر پھیر نکلا ۔ وہ اپنی بیٹی خیراتن اور دو تین ہمسائیوں کا سودا مولوی فاضل ہی کے نام ہی سے لے آتی تھی ۔۔ ہزاری مل اور بزاز کا حساب دوسرے دن پر چھوڑا گیا ۔ماما عظمت رات کے کھانے سے فارغ ہوکر سیدھا اپنے گھر گئی ، مولوی صاحب کا ایک خدمت گار اس کی نگرانی کر رہا تھا۔وہ گھر سے پوٹلی لے کر نکلی اور سیدھا بزاز کے گھر گئی۔اس سے کہا کہ کل مولوی صاحب حساب کے لئے مولوی صاحب بلوائیں گے۔میں نے بھی ان کے حساب سے کچھ لے لیا تھا ۔تم یہ سونے کی چار چوڑیاں رکھ لو ۔ یہ کُل 16 روپے کی ہیں۔ باقی اور جو میرا حساب نکلے گا وہ میں بعد میں دے دوں گی ۔ بزاز نے وہ چوڑیاں لے لیں۔وہاں سے نکل کر وہ ہزاری مل کے گھر پہنچی اور رو رو کر کہنے لگی کہ کل مولوی صاحب تمھیں حساب کے لئے بلوائیں گے ۔ انھوں نے لاہور سے 100 روپے تمہارے لئے بھیجے تھے ۔ وہ مجھ سے خرچ ہوگئے۔ تم میرا اعتبار کرو ۔ ان کو مولوی صاحب کے حساب میں نہ لکھنا ۔میں بعد میں ادا کردوں گی ۔ جب ہزاری مل نہ مانا تو اس نے اپنی پہنچیاں اور جوشن نکال کر دیں ۔پہلے تو وہ نہ مانا ، بعد میں رکھ لیں کہ پہلے تلواؤں گا ۔ جو نکلے گا وہ گھٹا دوں گا۔ خدمت گار نے سب باتیں آکر مولوی صاحب کو بتا دیں ۔
دوسرے روز بزاز زور ہزاری مل حساب کے لئے بلوائے گئے۔ ماما عظمت بہت بڑھ چڑھ کر بولنے لگی ۔تب بزاز اور ہزاری مل نے ماما کا دیا ہوا زیور نکال کر مولوی صاحب کے سامنے رکھ دیا اور رات کا تمام واقعہ کہہ سنایا۔ مولوی صاحب نے جب حساب کتاب کیا تو بہت معمولی سا نکلا۔اُسے ادا کردای گیا۔ باقی کا دو چار روز میں ادا کرنے کا وعدہ کرلیا گیا۔ مولوی صاحب ماما عظمت پر خفا ہوئے اور کہا کہ اب ان کا روپیہ تم ادا کرو۔ماما نے کچھ حساب تو بیٹی کا زیور بیچ کر ادا کیا باقی کا حساب چار آدمیوں کی گواہی پر لکھ لیا کہ بعد میں ادا کرے گی ۔مولوی فاضل نے ماما عظمت کو گھر سے نکال دیا کہ نمک حرام اور بے ایمان کا ہمارے گھر میں کوئی کام نہیں ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )