خلاصہ ۔نوجوان سپہ سالار کا عزم و حوصلہ
عبد الحلیم شرر ( 1860 ء۔1926 ء )
تعارف مصنف : مولانا عبدالحلیم شرراردو کے مشہور ناول نگار ، تاریخ نویس اور انشا پرداز تھے۔ انھوں نے ناولوں اور مضامین میں فکر و خیال کی بلندی سے کام لیا ۔ آپ نے ناول ایک خاص مقصد کے تحت لکھے ۔انگریز مصنفوں نے صلیبی جنگوں کو کچھ اس طرح لکھا جس سے مسلمانوں کا کردار مسخ ہوتا ہے ۔چنانچہ شرر نے اپنے ناولوں کے ذریعے اس کی درستگی اور مسلمانوں کی عظمت کی سچی تصویر دکھانے اور اصلاح کی کوشش کی ۔آپ کی تحریروں میں سادگی ، رنگینی ، منظر نگاری ، جذبات نگاری ، جوش ِ بیان ، مقصدیت ، خیال آفرینی ، تشبیہات و استعارات کا استعمال بھی نظر آتا ہے ۔
تصانیف: آپ کی تقریباً 102 تصانیف ہیں ۔ان میں تاریخی ناول ، سوا نح عمریاں ، خیالی مضامین ، ڈرامے ، نظمیں سب ہی شامل ہیں ۔ان کی تصانیف میں تاریخ ِ سندھ ، فردوسِ بریں ، منصور موہنا ، فلورا فلوریڈا، ایام عرب ملک العزیز ، ورجینا ، فتح اندلس اور زوال بغداد وغیرہ بہت مشہور ہیں ۔
خلاصہ : یہ سبق عبد الحلیم شرر کے مشہور ناول ” منصور موہنا” سے ماخوذ ہے ۔ اس کا پس منظر دریائے اٹک اور اس کے آس پاس کا علاقہ ہے ۔یہ زمانہ آج سے ہزار سال قبل جب غزنی کے فرماں روا سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔اس سبق میں ترک سپاہیوں اور راجپوت فوجوں کے درمیان ہونے والی جنگ کی ایک جھلک دکھائی ہے ۔جس میں مسلمان فوج کو فتح نصیب ہوئی ۔اس کا مقصد اسلاف کے کارنامے یاد دلانا اور آنے والی نسل میں قوت ِ عمل اور ولولۂ تازہ پیدا کرنا ہے ۔
دریائے اٹک کا میدان جہاں سے مسافر سندھ جاتے تھے۔ اس کے مشرقی کنارے پر ترک فوجیوں کی ایک جماعت جنگ سےبھاگے ہوئے راجا کا تعاقب کر رہی ہے ۔اس فوجی دستے کا سپہ سالار ایک خوب صورت نوجوان ہے جو سب سے آگے ہے اور اپنے ساتھیوں سے راستے کی تصدیق کرتا جاتا ہے ۔اسے اس بات پر فخر ہے کہ بہادر اور جنگجو ترک سپاہیوں کے سامنے دلیر راجپوت بھی نہیں ٹھہر سکتے ۔ وہ اس کفرستان میں اسلام کی روشنی پھیلائے گا۔ محمد بن قاسم کے بعد یہ دوسرا بہادر سپہ سالار تھا جو اس ملک میں آیا۔اس کی مدبھیڑایک 500 سپاہیوں پر مشتمل راجپوت فوج سے ہوتی ہے ۔اس دستے نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور ایک خوف ناک جنگ شروع ہوگئی ۔ان کے بھاٹ ان کی تعریف کے گیت گا رہے تھے۔ہندو فوج شکست کھا کر بھاگنے ہی والی تھی کہ 200 راجپوت سپاہی اور آ پہنچے ۔ جنگ مزید زور و شور سے شروع ہو گئی ۔ یہ دیکھ کر مسلمان سپاہ خوف زدہ ہو گئی ۔ اس نوجوان سپہ سالار نے جب یہ دیکھا تو ایک پُر جوش تقریر کی اور آگے بڑھ کر راجپوت سپاہیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر فوج کا جوش و خروش بڑھ گیا ۔ وہ اس بے جگری سے لڑا کہ ہندو فوج کے پاؤں اکھڑ گئے۔ لڑتے لڑتے رات ہو گئی اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو گیا۔ راجا گرفتار ہو گیا ۔اس طرح نوجوان سپہ سالار کے حوصلہ کی وجہ سے مسلمانوں نے ایک بڑی جنگ جیت لی ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )