اقتباس کی تشریح خطوطِ اقبالؔ
اقتباس : ( حج ِ بیت اللہ میں جو تمدنی اور روحانی فوائد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورا پورا یقین ہو جاتا ہے ۔)
حوالۂ سبق : خطوطِ اقبالؔ
حوالہ و تعارف ِ مصنف : علامہ محمد اقبال ؔ
علامہ اقبال ؔ وہ شاعر ہیں جن کی شاعرانہ عظمت مسلّم ہے ۔وہ مفکر اور فلسفی ہیں ۔وہ اسلام کے سچے ہمدرد اور قوم کی اصلاح پر ہر وقت مستعد نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اسلاف کے کارناموں اور یا دگاروں سے انھیں بے پناہ لگاؤ ہے ۔ جس کا ثبوت ان کی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے ۔نثر میں آپ کا سرمایہ صرف خطوط ہی ہیں ۔ ان خطوط کے آئینے میں ہمیں اقبالؔ کی شخصیت صاف نظر آتی ہے ۔وہ صاف طبیعت ، صاف گو ، صاف مزاج اور پاک باطن معلوم ہوتے ہیں ۔ان کا انداز بڑا پُر تاثیر ہے جو روح کی گہرائی میں اتر جاتا ہے ۔اس میں متانت اور سنجیدگی نظر آتی ہے ۔ان کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے ۔” مکاتیب ِ اقبالؔ ، خطوطِ اقبالؔ ، انوار ِ اقبالؔ ، اقبال نامہ ” وغیرہ ۔
سیاق و سباق : علامہ اقبالؔ کو عدن کا سفر در پیش تھا۔ آپ نے یہ سفر سمندری راستے سے کیا۔ پہلے آپ دہلی پہنچے ۔ وہاں خواجہ حسن نظامی اور شیخ نذر محمد کے ساتھ رہے ۔پھر محبوبِ الہٰی خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار پر حاضر ہوئے ۔مرزا غالبؔ کے مزار پر بھی حاضر ہوئے ۔اس کے علاوہ مغلیہ بادشاہ ہمایوں اور شاہ جہاں کے بیٹے دارالشکوہ کے مزار پر بھی گئے اور بہت اثر قبول کیا ۔ پھر سمندری راستے سے حجاز کی ضانب روانہ ہوئے۔
زیر ِ تشریح اقتباس خط کے اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں وہ بحری جہاز کے عرشے پر کھڑے ہو کر سمندر کی وسعت کا نظارہ کر رہے ہیں۔
تشریح : سمندری سفر کے متعلق اقبالؔ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بحری سفر میں جو بات سب سے ذیادہ اثر انگیز ہوتی ہے وہ عرشے پر کھڑے ہو کر سمندر کا نظارہ ہے ۔ اس وقت سمندر کی بے کراں وسعت اور بے پناہ طاقت کو دیکھ کر خدائے ذوالجلال کی بے پناہ طاقت و قدرت کی ہیبت دل پر طاری ہو جاتی ہے ۔یہ نظارہ دل پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے وہ کہتے ہیں کہ حج ِ بیت اللہ معاشرتی ، تمدنی اور روحانی فوائد سے تو مالامال کرتا ہی ہے ۔اس کے علاوہ سمندر کی بپھری ہوئی موجوں ، وسعت اور بے کرانی کو دیکھ کر انسان کا غرور و تکبر یکسر ختم ہو جاتا ہے۔اس وسیع و عریض سمندر کے سامنے اسے اپنا آپ کمزور اور حقیر لگتا ہے ۔وہ اپنی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
اقتباس نمبر 2 : (ترے ریگستانوں نے ہزاروں مقدس نقشِ قدم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی آوارگی مرے تاریک دنوں کا کفارہ ہو ! )
تشریح : جیسے جیسے سر زمین ِ عرب نزدیک آتی جارہی تھی ، اقبال ؔ کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔تاریخ کے اوراق ان کی آنکھوں کے سامنے آتے جا رہے تھے ۔وہ اپنے ان تاثرات کو بہت جذباتی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مقدس سر زمین ! تُو بڑی خوش قسمت ہے ۔تیرے ریگستانوں میں بڑی بڑی مقدس ہستیوں نے قدم رکھے ۔ہزاروں ولیوں نے تیرے کھجور کے سائے میں سکھ کا سانس لیا ۔کئی بادشاہوں اور سلیمانوں نے تیری مقدس و محترم وادیوں میں اپنی زندگی کے چند لمحات گزارے اور خود کو سیراب کیا ۔مجھ جیسے گنہ گار کو بھی کاش یہاں رہنا نصیب ہو جائے ۔ میری آرزو ہے کہ ان ریگستانوں میں میرے جسم کی خاک اُڑتی پھرے اور میرے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔تو میرے دل کو سکون و چین میسر آجائے۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )