ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح خطوط غالبؔ ( بنام میر مہدی مجروح۔

اقتباس کی تشریح                    خطوط غالبؔ  ( بنام میر مہدی مجروح)

اقتباس:     ( اہلِ خطہ کا حال از روئے تفصیل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خون کا قصاص کون لے گا۔)

حوالۂ سبق :        خطوطِ غالب ؔ بنام میر مہدی مجروح

حوالہ و تعارف مکتوب نگار :         مرزا غالبؔ ایک عظیم شاعر  تھے۔اس کے علاوہ مخصوص ، منفرد اور جدید خطوط نگاری کے موجد تھے۔آپ کا انداز سادہ ، بے تکلف ، جامع ، پُر مزاح اور دلکش تھا۔ آپ اپنی سوانح اور اپنے زمانے کی تاریخ بتانے والے منفرد دانش ور ہیں۔ آپ کے خطوط اردو نثر میں نیا تجربہ اور نقشِ اوّل ثابت ہوئے ۔آپ نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا ۔آپ کے خطوط کے مجموعے ” عود ِ ہندی ، اردوئے معلیٰ ” کے نام سے شائع ہوئے۔

تعارف مکتوب الیہ :   میر مہدی مجروح  میر حسن کے بیٹے اور غالبؔ کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے۔ غدر کے زمانے میں آپ دہلی چھوڑ کر پانی پت چلے گئے۔ آپ ایک عمدہ مرثیہ گو تھے۔ سرفراز حسین ان کے بھائی تھے۔

ربط ِ ما قبل :   غالبؔ اپنے شاگرد میر مہدی مجروح کے خط کے جواب میں انہیں خط لکھا اور دلی مسرت کا اظہار کیا۔ غدر کے بعد دہلی پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ذکر کیا۔میر سرفراز کو نوکری کے حصول کے لئے  جانے کی تلقین کی۔ اپنی پینشن کی بحالی کے سلسلے  میں سرکاری پیش رفت کی وضاحت کی۔ اس کے علاوہ اپنی ذاتی تخلیقات کی اشاعت  نہ ہونے کی وجہ یعنی معاشی بدحالی کا بھی ذکر کیا۔

تشریح :     پیش ِ نظر سطور میں غالبؔ میر مہدی کے استفسار پر ان کو جنگِ آزادی کے ہندوستان پر اثرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔وہ بتا رہے ہیں کہ اب مسلمانوں کے معاشی ، سماجی ، سیاسی اور تہذیبی حالات بد ترین ہو چکے ہیں۔ہر جگہ قتل و غارت گری ہو رہی ہے ۔جو لوگ مارے گئے ہیں، ورثا سرکار سے خون بدل کے طور پر رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔جو منظور کر لیا گیا ہے ۔معاہدے کی دستاویز بھی تیار ہو گئی ہے ۔ایک اور اطلاع کے مطابق جے پور  میں ہندوستانیوں نے ایک انگریز کو بے دردی سے قتل کر دیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔لیکن جے پور کے گورنر نے اس قتل پر کسی شدید ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ نہ ہی قاتلوں سے انگریز کا خون بہا طلب کیا ۔ غالب تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جب انگریز کے قتل پر یہ ردِ عمل ہے تو پھر کسی مسلمان یا ہندو کے قتل پر قصاص کو دعویٰ کون کر سکتا ہے ؟ غالبؔ کی اس تحریر سے اس وقت کی صورت حال واضح طور پر ثابت ہو جاتی ہے  کہ جنگِ آزادی کے بعد کس قدر نفسا نفسی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ۔ سب کی جانیں غیر محفوظ تھیں۔لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔یہ خط ہی ایک تاریخی دستاویز ہے ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی)

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *