ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

اقتباس کی تشریح ۔جدید سائنس اور عصری تقاضے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صدیقی۔

اقتباس کی  تشریح                    جدید سائنس اور عصری تقاضے      ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن  صدیقی

اقتباس :             (ہمیں یہ بات جان لینی چاہیئےکہ سائنس کی تعلیم سے ۔ ۔ ۔ ۔ سائنس اسلام کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔)

حوالۂ سبق :    جدید سائنس اور عصری تقاضے

حوال و تعارف مصنف :        ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صدیقی

       ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن صدیقی نے کراچی یونیورسٹی سے حیاتیات  میں ایم ایس  ( MS)کیا ۔اور پھر ( P.H .D) کی ۔ آپ درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔اردو سائنس کالج میں شعبہ حیا تیات کے صدر اور وائس پرنسپل رہے ۔آپ نے حیوانیات کے ساتھ ساتھ دوسرے موضوعات پر بھی لکھا  جن سے ان کی وسعت ِ معلومات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ان کی فکر صالح ہے  اور یہی فکر اپنی تحریروں کے ذریعے پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی زبان صاف اور سادہ ہے ۔ بلا تکلف اپنی بات کرتے چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر بھی مضامین لکھے ؛ جو مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے ۔جن میں ” پاکستان ، نظریۂ پاکستان ، تاریخ ، تعلیم  ،  فلسفہ   اور سائنس کے مو ضوعات” شامل ہیں۔

سیاق و سباق:          یہ ایک معلوماتی مضمون ہے  جو لوگوں میں تحریک پیدا کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔ اس میں معلومات کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں سائنس  سے دلچسپی پیدا کرنے کے لئے ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ سائنس  علم کی وہ شاخ ہے جس کا مدار تجربے پر ہوتا ہے ۔ اس کا موضوع دنیا کی مادی چیزیں ہیں ۔ جیسے سورج ، چاند ، ستارے ، حیوان ، پودے ، پانی ، خشکی اور کیمیائی عناصر  یا پھر وہ چیزیں جو مادے سے وجود میں آتی ہیں۔ جیسے روشنی ، حرارت، آواز یا مقناطیس وغیرہ ۔ شروع میں انسان نے چند ہی چیزوں کا تجربہ کیا ،لیکن رفتہ رفتہ اس میں وسعت آتی چلی گئی  اور آج اس کی سینکڑوں شاخیں ہیں جس میں بہت ترقی ہو رہی ہے ۔قدیم قوموں میں سے  اہلِ یونان نے  ان میں بہت دلچسپی لی ۔ بعد میں مسلمانوں  نے سائنس کے علم میں بے تحاشہ کام کیا اور اسے خوب ترقی دی ۔لیکن تیرھویں صدی میں اہلِ یورپ نے اسے جاری رکھا۔ یہ سائنسی تحقیقات ہی یورپ میں  صنعتی انقلاب کا باعث بنیں ۔ پھر ہر میدان میں خوب خوب کام ہوا ۔ آج سائنسی ترقی اس مقام پر پہنچ گئی ہے  کہ انسان نے زمین سے باہر قدم نکال لیا ہے /وہ دن دور نہیں جب مختلف ستاروں اور سیاروں کے درمیان سفر دو شہروں کے درمیاں سفر کی طرح ہوگا ۔

        زیر ِ تشریح اقتباس سبق کے اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں مصنف اس بات پر زور دے رہے ہیں  کہ مسلمانوں کو سائنس کی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیئے ۔

تشریح :               زیرِ تشریح اقتباس میں  ڈاکٹر حفیظ اس  بات کی وضاحت کر رہے ہیں  کہ سائنس کا علم کس طرح مسلمانوں کے ایمان کو تازہ اور عقیدے کو تقویت بخشتا ہے ۔کیوں کہ سائنس اسلام کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔جیسے جیسے سائنسی ترقی کا یہ سفر آگے بڑھ رہا ہے ۔ دوسرے بہت سے سائنس دان تحقیق کر رہے ہیں ؛ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت  کے قائل ہو تے جا رہے ہیں۔کیوں کہ سائنسی تحقیق اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ کائنات خدائے واحد کی تخلیق ہے ۔ہم پاکستانی مسلمان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑی قوم ہیں ۔ ہمارے یہاں ذہانت بھی ہے اور سائنس کی تعلیم عام ہو رہی ہے ۔سائنس ہمارے بزرگوں کا  چھوڑا ہوا ترکہ بھی ہے ۔ اس لئے ہمیں اب اور ذیادہ کوششیں کرنی چاہیئں ۔یہ قومی ضرورت بھی ہے اور اسی میں ہماری ترقی کا راز بھی پوشیدہ ہے ۔ پھر سائنس ہمارے مذہب سے متصادم نہیں بلکہ مطابقت رکھتی ہے

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

( تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *