ا ر د و ا فسا نہ
بیسویں صدی کی مشینی زندگی نے ہندوستان کے رہنے والوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ان کا انداز فکر بدلا۔ ذہنی سکون کے لئے انہوں نے مختصر راستے تلاش کرنا شروع کر دئیے ۔لہٰذا طویل داستانوں کی جگہ مختصر افسانوں نے جنم لیا ۔
ا فسانے کی تعریف : افسانہ ایک مختصر کہانی ہوتا ہے ۔دوسری اصناف کی طرح یہ ایک کُل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس کے اندر بہت سے اجزاء ہوتے ہیں ۔
ا فسانے کی تکنیک : اردو افسانہ جہاں کہانی ہمارے سامنے لاتا ہے وہاں اس کا خاص انداز بیان اپنی جگہ اہم ہوتا ہے ۔تمہید سے ہی کہانی کا نقطۂ نظر سامنے آجاتا ہے ۔پھر کہانی خاص انداز سے کسی ایک رُخ پر چلنا شروع کر دیتی ہے ۔
ا فسا نے کے عنا صر
- تمہید : ا فسانے کے آغاز کو تمہید کہتے ہیں ۔چند ابتدائی جملوں کی مدد سے افسانے کا آغاز کیا جاتا ہے ۔
- ا تار چڑھا ؤ : تمہید کے بعد کہانی آگے کی جانب بڑھتی ہے ۔ انجام تک پہنچتے پہنچتے وہ کئی مراحل طے کرتی ہے ۔ کتنے ہی اتار چڑھاؤ ، ہیجان و اضطراب راستے میں آتے ہیں ۔ پلاٹ کے فنی اور مؤ ثر ترتیب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کہانی آگے کی جانب بڑھتی ہے ۔
- منا ظر کی مصوری : واقعات کے بیان کے علاوہ مناظر کی مصوری میں فضا بنانے اور اس کو قائم رکھنے کی طرف بھی دھیان دینا ہوتا ہے ۔تاکہ افسانہ ایک دل نشین وحدت کی حیثیت اختیار کرلے ۔
- حسن بیا ن : تمہید سے اختتام تک افسانہ نگار کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ قاری کی توجہ افسانے کی جانب مبذول رکھے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ حسن ِ بیان کا سہارا لیتا ہے ۔وہ شروع ہی سے ایسی فضا باندھ لیتا ہے کہ پڑھنے والا اس کی جانب مائل ہو جاتا ہے۔اس توجہ کو قائم اور برقرار رکھنے کے لئے افسانہ نگار مختلف مراحل پر حسنِ بیان کے مطالبات کو پورا کرتا ہے جس میں خوب صورت جملوں کا استعمال،لفظوں کی بندش ،حسین تشبیہات وغیرہ شامل ہیں۔
- مو ضو ع / پلا ٹ : یہ افسانے کا سب سے اہم حصّہ ہوتا ہے۔ایک مضبوط اور مربوط پلاٹ ہی کسی افسانے کی کامیابی کا راز ہوا کرتا ہے۔یہ پلاٹ موجودہ زمانے سے میل کھاتا ہوا ہونا چاہیے۔اصلاح کا پہلو پیشِ نظر رہے، معاشرے کی برائیوں کو خوبی بناکر پیش نہ کیا جائے بلکہ نفرت کرنے کی ترغیب دی جائے۔یہ پلاٹ کئی طرح کے ہو سکتے ہیں۔مثلا” معاشرتی ،مذہبی ،روایتی،رومانی ،ٹریجڈی وغیرہ۔
- کردا ر نگا ری : کردار نگاری کسی بھی افسانے کا سب سے اہم حصّہ ہوتا ہے ۔پلاٹ کی مناسبت سے کردار وں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ضروری کرداروں سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے قاری کا دھیان منتشر ہو جاتا ہے۔
- مکا لما ت : اگر افسانے میں براہِ راست مکالمات کی ضرورت پیش آجائےتو انہیں مختصرا”ادا کیا جاسکتا ہے۔یہ مکالمات کی ادائیگی بھی حسنِ بیان کہلاتی ہے۔
- تجسس : افسانے کے دوران تجسس کو برقرار رکھنا ایک افسانہ نگار کا کمال ہوتا ہے۔کہانی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے کہانی میں دلچسپی پیدا کی جائے اور ایک ایسا مقام ِ تجسس آئے کہ قاری کی دلچسپی اور اشتیاق میں اضافہ ہو۔وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہو جائے کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔
- ا ختتا م : افسانے کا اختتام یا منطقی انجام افسانے کا ماحاصل ہوا کرتا ہے۔افسانے کو پڑھتے ہوئے قاری اپنے ذہن میں انجام تخلیق کر لیتا ہےلیکن اگر یہ انجام اس کے اندازوں سے مختلف ثابت ہو جائے تو یہ مزید دلچسپی کا سبب بنتا ہے۔یہ انجام المیہ یا طربیہ ہو سکتا ہےلیکن نا مکمل نہیں ہونا چاہیےکہ قاری کے ذہن میں خلش رہ جائے۔
- ا فسا نے کا ا ر تقا ء :
افسانہ موجودہ مشینی دور کی پیداوار ہے ۔اس تھکا دینے والی مصروف زندگی میں لوگوں کے پاس طویل ناول پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔اس لئے وہ اپنی تسکین اور تفریح طبع کے لئے مختصر ا فسانے پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔
یہ ا فسانے ایک یا آدھ گھنٹے کے دورانیے میں پڑھے جا سکتے ہیں ۔اس لئے زیادہ مقبول ہو رہے ہیں ۔
ا لف ۔ ا ردو کے ا بتد ا ئی ا فسا نہ نگا ر : اردو افسانے کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا ۔” منشی پریم چند ” پہلے افسانہ نگار ہیں ۔اس کے علاوہ ” سلطان حیدر جوش اور سجاد حیدر یلدرم ” نے اردو افسانے کو جدید رنگ دیا ۔
ب ۔ رو ما نی ر نگ : سجاد حیدر یلدرم اور جوش نے رومانیت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور اسے مغربی انداز میں پیش کیا ۔ مجنوں گورکھپوری نے رومانوی افسانوں کو تخیلاتی انداز میں پیش کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ نیاز فتح پوری نے بھی رومانوی افسانے خوب صورت انداز میں پیش کئے ۔
ج ۔ ترجموں کا دور : 1930 کے بعد اردو افسانوں میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی ۔ مختلف افسانہ نگاروں نے دوسری زبانوں میں لکھے گئے افسانوں کا اردو ترجمہ کیا ۔اس طرح ان افسانوں کے ذریعے ہم دوسرے کلچر سے متعارف ہوئے ۔ ان افسانہ نگاروں میں فضل حق قریشی ، مجیب منظور ، منظور حسین اور جلیل قدوائی پیش پیش ہیں ۔
د ۔ ا نگا رے کی تحریک : مغربی افسانوں کے تراجم کے دوران مغربی خیالات بھی اردو افسانے میں داخل ہوئے ۔اس طرح مغربی معاشرے کی مادیت پرستی ، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ سے ہمارے افسانہ نگار بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے ۔ اس طرح ایک نئی تحرک نے جنم لیا ۔ جسے انگارے کی تحریک کہا جاتا ہے ۔ ان افسانہ نگاروں میں ” سجاد حیدر ، احمد علی ، رشید جہاں اور محمود الظفر ” واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔
ہ ۔ تر قی پسند تحر یک : 1936 ء اردو ادب میں تبدیلی کا ایک نیا موڑ ہے ۔ اس کی بنیاد ترقی پسند تحریک ہے ۔ ادب میں لکھنے والوں نے انگارے کے موضوع کے ساتھ ساتھ نئے معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی تحریروں میں شامل کیا اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی ۔ ان میں ” علی سردار جعفری ، سجاد ظہیر اور سعادت حسن منٹو ” کے نام نمایاں ہیں ۔
و ۔ نفسیا ت کے ا ثرا ت : افسانے میں نفسیات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے ۔کئی افسانہ نگاروں نے اس ترقی پسند انداز میں نفسیات کو بھی شامل کیا ۔ان میں ” کرشن چندر ، راپندر ناتھ ، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو ” قابل ذکر ہیں ۔
ز ۔ تقسیمِ ِ پاکستان اور اس کے بعد : 1947 ء میں بر صغیر میں جو حالات و واقعات رو نما ہو رہے تھے ۔ اس نے ادب پر جمود طاری کر دیا تھا ۔ ذیادہ تر ادیب خاموش ہو کر بیٹھ گئے ۔لیکن کچھ ایسے ضرور تھے جنھوں نے ان حالا ت میں محبت ارو انسانیت کا درس دیا اور فسادات کے مو ضوع پر لکھا ۔ ” کرشن چندر ، عصمت چغتائی ، قدرت اللہ شہاب ، احمد ندیم قاسمی ، اشفاق احمد ، ممتاز مفتی ، خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے نام نمایاں نظر آتے ہیں ۔
ح ۔ جدید دور کے ا فسانے : دور ِ جدید میں افسانہ نگاری نے بہت ترقی کی ہے ۔ پرانےافسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ نئے افسانہ نگار بھی پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ جنھوں نے افسانہ نگاری میں نئے نئے موضوعات کو داخل کیا ۔اس میں دور جدید کے مسائل اور انسانی زندگی ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اثرات ، معاشرتی تبدیلیاں ، جدید مغربی افکار کے منفی اثرات جیسے عنوانات شامل ہیں ۔ ان افسانہ نگاروں نے اپنی کہانیو ں کو کمال فن سے پیش کیا اور نئی علامات کا سہارا لے کر یاد ماضی اور حال کے جبر کو پیش کیا ۔ اس دور میں خوب صورت علامتی افسانے لکھے گئے ۔ ان جدید افسانہ نگاروں میں منشا یار ، شرف احمد ، علی رضا عابدی ، آصف مالک ، سلطان مظہر الا سلام اور شہناز پروین قابل ذکر ہیں ۔
حر ف آ خر : الغرض ا ردو ا فسانے کا یہ سفر جو منشی پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم سے شروع ہوا تھا ؛ وہ تا حال جاری ہے ۔ حالات ِ زمانہ کے باعث اردو افسانے کے کئی دور آئے لیکن اس کی اہمیت قائم رہی ۔کیونکہ افسانے کا تعلق انسانی زندگی سے ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تک یہ زندگی قائم رہے گی ؛ یہ سفر جاری رہے گا ۔
( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )