اصل نام شبیر حسن خان اور جوش تخلص تھا- آپ بنیادی طور پر ایک نظم گو شاعر تھے- آپ کا مزاج اور دلچسپی غزل کی طرف ماعل نہیں تھا- آپ کی زیادہ شہرت آپ کی خود نوشت سوانح عمری “یاروں کی بارات” کے باعث ہوئی- ایک عرصے تک شعر و ادب کی دنیا میں آپ کی سوانح عمری کا چرچا رہا- جوش ملیح آبادی اپنے باغیانہ لہجے, آزاد فطرت اور بے پناہ زخیرہ لفظی کی وجہ سے اردو شاعری میں اہمیت کے حامل ہیں- آپ کی رومانوی نظمیں زیادہ لاویز ہیں- جوش کے کئ مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں “روح ادب” کے علاوہ “شعلہ و شبنم” ,”جنون و حکمت”, “موسم و صبا” , “جزباتِ فطرت” اور ” شاعر کی راتیں” بڑی اہمیت کے حامل ہیں-
مرکزی خیال:
اللہ تعالٰی نے انسان کیلئے انواع و اقسام کی نعمتیں پیدا کی ہیں کائنات میں موجود ہر شے انسان کے استفادے کیلئے ہے- انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں سے استفادہ کرے اور خالق کائنات کے حضور میں ان کے بدلے میں سجدہ شکر بجا لائے
خلاصہ
شاعر کہتا ہے کے اے فانی انسان! کب تک اندھیرے میں ٹھوکریں کھائے گا- باغیانہ روش چھوڑ دے- عنقریب سارے حجاب اٹھ جائيں گے پھر تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائے گا-
نرم شاخوں پر صبا جھومتی ہے- شاخوں پر دلفریب اور خوشنما مناظر بہار آفریں ہیں اور شاخوں کا ایک ایک حصہ مٹھاس اور شہر میں ڈوبا ہوا ہے پھر تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائے گا-
یہ صبح کا حسن خوبصورت سیارے , باغ , کلیاں اور یہ جنگل, یہ ٹھنڑی ہوا سب کچھ قدرت نے انسان ہی کیلئے بخشی ہیں تو اپنے رب کی کون کوی Iاس نے سمندر سے صاف و شفاف ہیرے موتی نکالے – آگ میں شعلے پیدا کئے- ہر نفس طوفان بنا ہوا ہے ارض و سما میں ہلچل مچی ہوئی ہے انسان کو وہ وقت یاد ہے جب وہ محض ایک گوشت کا لوتھڑا تھا- اللہ نے اسے سکت دی۔ بس وہ اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائے گا۔
صبح کے وقت ستاروں کی لرزتی فضا, شام کے وقت شفق کا رنگ انتہائی دل کش ہوتا ہے- برسات میں متوالی گھٹائیں اٹھتی ہیں- اے انسان! یہ سب کچھ تیرے لئے ہے- تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائے گا
آیاتِ قرآنی کی روشنی میں وضاحت:
الشمس و القمر بحسبان( سورج چاند ایک مکمل حساب سے چل رہے ہیں)
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور اس میں ترازو قائم کئے