ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

تعارف، تشریحات ’’ خطاب بہ جوانانِ اسلام ‘‘ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

تاریخ: September 1, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

   ’’ خطاب بہ جوانانِ اسلام ‘‘ 

تعارفِ شاعر:                     

علامہ محمد اقباؔل

      اقباؔل قومی مفکر شاعر ہیں جنھوں نے اپنی شاعری سے امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا اور آزادی کی راہ پر ڈالا۔آپ نے شاعری کو فکری اور فنّی پہلؤوں سے مالا مال کیا۔اقباؔل کی انفرادیت ان کی انقلابی  شاعری ہے، جس کے ذریعے آپ نے مسلمانوں کوعملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی راہ پر ڈالا، حریتِ فکر، خودی اور خود داری کا درس دیا۔اقباؔل کی شاعری میں  جہاں ایک سبق اور پیغام ہے وہاں اپنے کلام میں انھوں نے تمام شاعرانہ وسائل سے بھی کام لیا۔تشبیہات و استعارات، تراکیب، تصویر آفرینی، تلمیحات، اصطلاحات، علامات اور مختلف اصنافِ شعر کوبخوبی استعمال کیا ہے۔

آپ کے مجموعہ ہائے کلام:

بانگِ درا                                      اسرارِ خودی

بالِ جبریل                                     زبورِ عجم

ضربِ کلیم                   جاوید نامہ   

پیامِ مشرق                  وغیرہ                            ارمغانِ حجاز

تعارفِ نظم :

اقبالؔ نے یہ نظم 1914 میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھی تھی۔یہ ان کے مجموعہ کلام بابگ درا میں شامل ہے۔ اس نظم کے کُل 112 اشعار ہیں۔ اس نظم میں اقبال مسلمانوں کو ان کے ماضی کی یاد دلاتے ہوئے  خرکت و عمل کا درس دے رہے ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہوکر ہی دنیا میں قومیں ترقی یافتہ کہلا سکتی ہیں۔

تشریحات

شعر نمبر ۱

کبھی اے نوجواں مسلم تدبّر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ

حلِ لغت: تدّبرـ غور و فکر،گردوںـآسمان ( مراد مسلمانوں کا عظیم الشان ماضی)

مفہوم: اے مسلمان نوجوان! اپنے عظیم الشان ماضی پر غور کر اور پھر اپنی موجودہ حالت پر غور کر۔

وضاحت: اے مسلم نوجوان!کبھی تو نے اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ تو کس آسمان کا ٹوٹا ہوا تارہ ہے؟ تیری نسبت کس سے ہے؟ تیرے اسلاف علم دوست تھے،وہ با عمل اور با کردار لوگ تھے۔انہی خوبیوں پر عمل پیرا ہو کر انہوں نے دنیا پر حکمرانی کی۔اس کے برعکس آج تو کیسی پستی کا شکار ہے۔اس کی وجہ  یہ ہے کہ تو علم دوست نہیں رہا، جمود کا شکار ہو چکا ہے۔

مماثل شعر:           محبت مجھے  ان  جوانوں  سے  ہے

            ستاروں  پہ  جو  ڈالتے  ہیں   کمند         

محاسن: تشبیہ (تارہ۔ مسلمان نوجوان) ، (گردوں۔ مسلمانوں کا عظیم الشان ماضی)

؎۲:    

   تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں

       کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِدارا 

حلِ لغت:  آغوش۔گود،  کچل ڈالا۔ روند ڈالا، تاجِ سرِ دارا۔ایران کے بادشاہ کے سر کا تاج۔

مفہوم:     تجھے اس قوم نے محبت سے پالا ہے جس نے ایران کے بادشاہت کو شکست دی تھی۔  

وضاحت:  اے مسلمان نوجوان ! تو  اس بہادر قوم کی اولاد ہے جس نے ایران کے مشہور ساسانی بادشاہ ’’دارا‘‘ کے تخت و تاج کو روند ڈالا تھا۔شاعر مسلمان نوجوان کو اس واقعہ کی یاد دلا رہا ہے۔جب غیور مسلمان قوم نے بے سروسامانی کے عالم میں ایران کے بادشاہ کو شکست دی۔ان لوگوں کی نظر میں دنیاوی جاہ و حشم  اور  ظاہری شان و شوکت کی کوئی اہمیت  نہیں تھی۔مسلم نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ  ان کےاسلاف کی کیا شان تھی اور وہ اب کہاں ہیں؟

مماثل شعر:              مٹایا  قیصر و کسریٰ کے  استبداد کو جس نے

                              وہ کیا تھا  زورِ حیدرؑ، فقرِ بو ذرؒ، صِدقِ سلمانیؒ

محاسن: تلمیح۔دارا،  محاورہ۔کچل ڈالا،    مرکبِ اضافی۔آغوشِ محبت۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *