ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مکالمہ نگاری

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, قواعد

مکالمہ نگاری

مکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ جس کے معنی گفتگو یا ہم کلام ہونا ہیں ۔انگریزی میں اسے ڈائیلاگ کہتے ہیں ۔فنی لحاظ سے دو یا دو سے زائد آدمیوں کے درمیان بات چیت کا نام مکالمہ ہے ۔ اپنی عملی زندگی میں ہم مکالمے کے ذریعے مخاطب ہوتے ہیں ۔ کسی شخص کی گفتگو سے ہی اس کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ ہوتا ہے ۔

اقسام :

 1 ۔ حقیقی مکالمہ  : ہر شخص روزانہ لا تعداد لوگوں سے بات چیت کرتا ہے ۔ یہ گفتگو چلتے پھرتے زندہ لوگوں سے ہوتی ہے ۔ اسے حقیقی مکالمہ کہتے ہیں ۔

2 ۔ خیالی یا فرضی مکالمہ : بے جان چیزوں اور جانوروں کے مابین یا فرضی شخصیت کے درمیان گفتگو کو خیالی یا فرضی مکالمہ کہتے ہیں ۔ اسی طرح  جب شاعر یا ادیب اپنے خیالات اور احساسات کو قوت خیال کی بدولت فرضی شخصیت  کے درمیان گفتگو کے ذریعے لکھ کرمنظر عام پر لاتا ہے ۔ اسے فرضی مکالمہ کہتے ہیں ۔ امتحانی نقطۂ نگاہ سے دیئے گئے عنوان پر فرضی مکالمہ لکھنے کو دیا جاتا ہے ۔

ہدایات

  • ہم کلام ہونے والے دونوں کرداروں کے نام نمایاں طور پر دائیں جانب لکھے جانے چاہئیں ۔
  • بات چیت کو تخیل کی مدد سے شگفتہ اور بر جستہ انداز میں لکھا جائے ۔
  • بے تکلفی اور سادگی سے مکالمات کو ترتیب وار اس طرح لکھا جائے کہ حقیقت کا گمان ہو ۔
  • غیر ضروری تکرار ، ثقیل ، بوجھل الفاظ  ، غیر مانوس الفاظ اور محاورات سے  گریز کریں ۔
  • گفتگو مو ضوع کے اعتبار سے جامع ، مدلل اور مختصر ہو ۔
  • عنوان کی مناسبت سے کرداروں کے مابین علمیت کا واضح فرق نظر آئے ۔
  • ربط و تسلسل قا ئم رہے ؛ ایک خیال دوسرے خیال کی تائید کرے ۔
  • مکالمات لکھتے وقت مشاہدات اور قوت خیال سے کام لیا جائے ۔
  • ہر کردار کو بات کا موقع دیا جائے اور مثبت نتیجے پر اختتام کیا جائے ۔
  • مکالمے میں دی گئی معلومات درست ہوں ۔
  • تہذیب و اخلاق اور معیار سے گرا ہوا کوئی جملہ نہ لکھا جائے ۔
  • حفظ ِ مراتب کا خیال رکھا جائے ۔
  • ہر کردار کے کم از کم 10 جملے ہوں ۔
  • مکالمے کے آغاز کے لئے فرضی منظر تیار کریں ۔

اہم مو ضوعات

  • نیکی اور بدی کے مابین مکالمہ
  • دو دوستو ں کے درمیان سگر یٹ نوشی / نظام تعلیم / میچ /امتحان میں نقل کا رجحان پر مکالمہ
  • دکان دار اور گاہگ کے درمیان مہنگائی پر مکالمہ
  • دو سہیلیوں کے مابین فیشن پرستی/شادی کی تقریب / امتحان کی تیاری پر مکالمہ
  • دو عورتوں کے درمیان جہیز / رشتے / صفائی پر مکالمہ
  • دو مسافروں کے درمیان سفری سہولیات / موسم / سیا حتی مقام   کی سیر پر مکالمہ
  • سگریٹ نوشی کے مضر اثرات / حب الو طنی / علم کی فضیلت / احترام اساتذہ پر مکالمہ
  • پتنگ بازی / کرکٹ ٹیم کے متعلق / سنیما بینی/ اخبار بینی / تیز رفتاری کے نقصانات پر مکالمہ
  • رشوت ستانی / محنت کی عظت /نئی تہذیب/ پابندی وقت پر مکالمہ
  • ڈاکٹر اور مریض کے مابین مکالمہ
  • د رزی اور گاہگ کے مابین مکالمہ /سبزی فروش اور گاہگ کے درمیان مکالمہ

( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )

نمونے کا مکالمہ :                 سگریٹ نوشی اور اس کے مضر اثرات پر مکالمہ

( دو دوست کسی ضروری کام کی غرض سے بازار جا رہے ہیں ۔اتنے میں کامل جیب سے سگریٹ نکالتا ہے ۔ حارث اس  کی طرف متوجہ ہوتا ہے )

حارث :         آپ سگریٹ نوشی کیوں کرتے ہیں ؟

کامل :           صرف دل بہلانے اور وقت گزارنے کے لئے ۔

حارث :         کیا دل بہلانے اور وقت گزارنے کے لئے یہی ایک طریقہ ہے ؟

کامل :           در اصل جب میں کام کاج سے تھک جاتا ہو ں تو ذرا لطف اندوز ہونے کے لئے سگریٹ کے کش لگا لیتا ہوں۔

حارث :         کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ سگریٹ نوشی سے بہت سی بیماریا ں لاحق ہو جاتی ہیں ۔

کامل :           ( سگریٹ کا کش لیتے ہوئے )  نہیں میں  اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔

حارث :         تمباکو میں نکو ٹین کثیر مقدار میں پائی جاتی ہے ۔جو ایک مہلک اور خطرناک زہر ہے ۔

کامل :           ( سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے ) کیا اس سے موت بھی واقع ہوتی ہے ؟

حارث :         دراصل سگریٹ سے انسانی اعضا کمزور پڑنے لگتے ہیں ۔اس سے خون کی کمی ، دمہ ، دل کا عارضہ اور سرطان جیسے موذی امراض لاحق ہو سکتے ہیں ۔

کامل :           سگریٹ نوشی سے تو بس اچھا وقت گزرتا ہے ۔ کیا اس کا کوئی متبادل بھی ہے ؟

حارث :         وقت گزاری کے لئے ضروری نہیں کہ سگریٹ نوشی کر کے اپنی صحت کو نقصان پہنچایا جائے ۔

کامل :           تو پھر اور کیا کر سکتے ہیں ؟

حارث :         صبح کی سیر ، چہل قدمی ۔ اس سے صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور اعضا بھی مضبوط ہوتے ہیں ۔ کتب بینی بھی اچھا مشغلہ ہے ۔

کامل :           سگریٹ نوشی کے اور کیا نقصانات ہوتے ہیں ۔

حارث :         سگریٹ نوشی سے آنکھو ں کا موتیا ، ناک ، گلے سینے اور دل کی بیماریاں  لا حق ہوتی ہیں ۔

کامل :           ارے بھائی میں تمھیں تو سگریٹ پینے پر مجبور نہیں کر رہا   ( اس کے منہ پر دھواں چھوڑتے ہوئے )

حارث :         ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سگریٹ  کے دھوئیں سے ارد گرد کے لوگوں کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے ۔ گویا آدمی خود تو موت کی طرف بڑھتا ہے  ؛ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبتا ہے ۔

کامل :           آج کل تو ڈاکٹر بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔

حارث :         یہ کہنا درست نہیں ۔ جو ڈاکٹر پھیپھڑوں کے سرطان سے واقف ہیں وہ اس سے دور ہیں ۔

کامل :                   سگریٹ نوشی سے انسانی اعضا کو سکون ملتا ہے ۔

حارث :         اب تک کوئی بھی اس بات کو ثابت نہیں کر پایا کہ سگریٹ انسانی اعضا کو سکون پہنچاتی ہے ۔

کامل :           سگریٹ نوشی کا اثر سگریٹ پینے والوں پر کیا پڑتا ہے؟

حارث :         سگریٹ پینے سے انسان ناتواں ، کمزور ، مضمحل  اور تفکرات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ پیسے کا ضیاء بھی ہے ۔ جب اس ملک کے نو جوان ہی تندرست و توانا نہیں ہوں گے تو ملک کس طرح ترقی کرے گا ؟

کامل:           حارث واقعی تم میرے مخلص دوست ہو ۔ تم نے مجھے سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ کر کے میری آنکھیں کھول دیں ۔اگرچہ اس عادت کو چھوڑنا ذرا مشکل ہے ۔ لیکن میں اسے انشا اللہ ترک کر دوں گا ۔

حارث :         مجھے اس کی بہت خوشی ہوگی کہ تم اسے ترک کردو گے۔( دونوں بازار میں خریداری میں مصروف ہوجاتے ہیں)

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *