مکالمہ نگاری
مکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ جس کے معنی گفتگو یا ہم کلام ہونا ہیں ۔انگریزی میں اسے ڈائیلاگ کہتے ہیں ۔فنی لحاظ سے دو یا دو سے زائد آدمیوں کے درمیان بات چیت کا نام مکالمہ ہے ۔ اپنی عملی زندگی میں ہم مکالمے کے ذریعے مخاطب ہوتے ہیں ۔ کسی شخص کی گفتگو سے ہی اس کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ ہوتا ہے ۔
اقسام :
1 ۔ حقیقی مکالمہ : ہر شخص روزانہ لا تعداد لوگوں سے بات چیت کرتا ہے ۔ یہ گفتگو چلتے پھرتے زندہ لوگوں سے ہوتی ہے ۔ اسے حقیقی مکالمہ کہتے ہیں ۔
2 ۔ خیالی یا فرضی مکالمہ : بے جان چیزوں اور جانوروں کے مابین یا فرضی شخصیت کے درمیان گفتگو کو خیالی یا فرضی مکالمہ کہتے ہیں ۔ اسی طرح جب شاعر یا ادیب اپنے خیالات اور احساسات کو قوت خیال کی بدولت فرضی شخصیت کے درمیان گفتگو کے ذریعے لکھ کرمنظر عام پر لاتا ہے ۔ اسے فرضی مکالمہ کہتے ہیں ۔ امتحانی نقطۂ نگاہ سے دیئے گئے عنوان پر فرضی مکالمہ لکھنے کو دیا جاتا ہے ۔
ہدایات
- ہم کلام ہونے والے دونوں کرداروں کے نام نمایاں طور پر دائیں جانب لکھے جانے چاہئیں ۔
- بات چیت کو تخیل کی مدد سے شگفتہ اور بر جستہ انداز میں لکھا جائے ۔
- بے تکلفی اور سادگی سے مکالمات کو ترتیب وار اس طرح لکھا جائے کہ حقیقت کا گمان ہو ۔
- غیر ضروری تکرار ، ثقیل ، بوجھل الفاظ ، غیر مانوس الفاظ اور محاورات سے گریز کریں ۔
- گفتگو مو ضوع کے اعتبار سے جامع ، مدلل اور مختصر ہو ۔
- عنوان کی مناسبت سے کرداروں کے مابین علمیت کا واضح فرق نظر آئے ۔
- ربط و تسلسل قا ئم رہے ؛ ایک خیال دوسرے خیال کی تائید کرے ۔
- مکالمات لکھتے وقت مشاہدات اور قوت خیال سے کام لیا جائے ۔
- ہر کردار کو بات کا موقع دیا جائے اور مثبت نتیجے پر اختتام کیا جائے ۔
- مکالمے میں دی گئی معلومات درست ہوں ۔
- تہذیب و اخلاق اور معیار سے گرا ہوا کوئی جملہ نہ لکھا جائے ۔
- حفظ ِ مراتب کا خیال رکھا جائے ۔
- ہر کردار کے کم از کم 10 جملے ہوں ۔
- مکالمے کے آغاز کے لئے فرضی منظر تیار کریں ۔
اہم مو ضوعات
- نیکی اور بدی کے مابین مکالمہ
- دو دوستو ں کے درمیان سگر یٹ نوشی / نظام تعلیم / میچ /امتحان میں نقل کا رجحان پر مکالمہ
- دکان دار اور گاہگ کے درمیان مہنگائی پر مکالمہ
- دو سہیلیوں کے مابین فیشن پرستی/شادی کی تقریب / امتحان کی تیاری پر مکالمہ
- دو عورتوں کے درمیان جہیز / رشتے / صفائی پر مکالمہ
- دو مسافروں کے درمیان سفری سہولیات / موسم / سیا حتی مقام کی سیر پر مکالمہ
- سگریٹ نوشی کے مضر اثرات / حب الو طنی / علم کی فضیلت / احترام اساتذہ پر مکالمہ
- پتنگ بازی / کرکٹ ٹیم کے متعلق / سنیما بینی/ اخبار بینی / تیز رفتاری کے نقصانات پر مکالمہ
- رشوت ستانی / محنت کی عظت /نئی تہذیب/ پابندی وقت پر مکالمہ
- ڈاکٹر اور مریض کے مابین مکالمہ
- د رزی اور گاہگ کے مابین مکالمہ /سبزی فروش اور گاہگ کے درمیان مکالمہ
( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )
نمونے کا مکالمہ : سگریٹ نوشی اور اس کے مضر اثرات پر مکالمہ
( دو دوست کسی ضروری کام کی غرض سے بازار جا رہے ہیں ۔اتنے میں کامل جیب سے سگریٹ نکالتا ہے ۔ حارث اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے )
حارث : آپ سگریٹ نوشی کیوں کرتے ہیں ؟
کامل : صرف دل بہلانے اور وقت گزارنے کے لئے ۔
حارث : کیا دل بہلانے اور وقت گزارنے کے لئے یہی ایک طریقہ ہے ؟
کامل : در اصل جب میں کام کاج سے تھک جاتا ہو ں تو ذرا لطف اندوز ہونے کے لئے سگریٹ کے کش لگا لیتا ہوں۔
حارث : کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ سگریٹ نوشی سے بہت سی بیماریا ں لاحق ہو جاتی ہیں ۔
کامل : ( سگریٹ کا کش لیتے ہوئے ) نہیں میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔
حارث : تمباکو میں نکو ٹین کثیر مقدار میں پائی جاتی ہے ۔جو ایک مہلک اور خطرناک زہر ہے ۔
کامل : ( سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے ) کیا اس سے موت بھی واقع ہوتی ہے ؟
حارث : دراصل سگریٹ سے انسانی اعضا کمزور پڑنے لگتے ہیں ۔اس سے خون کی کمی ، دمہ ، دل کا عارضہ اور سرطان جیسے موذی امراض لاحق ہو سکتے ہیں ۔
کامل : سگریٹ نوشی سے تو بس اچھا وقت گزرتا ہے ۔ کیا اس کا کوئی متبادل بھی ہے ؟
حارث : وقت گزاری کے لئے ضروری نہیں کہ سگریٹ نوشی کر کے اپنی صحت کو نقصان پہنچایا جائے ۔
کامل : تو پھر اور کیا کر سکتے ہیں ؟
حارث : صبح کی سیر ، چہل قدمی ۔ اس سے صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور اعضا بھی مضبوط ہوتے ہیں ۔ کتب بینی بھی اچھا مشغلہ ہے ۔
کامل : سگریٹ نوشی کے اور کیا نقصانات ہوتے ہیں ۔
حارث : سگریٹ نوشی سے آنکھو ں کا موتیا ، ناک ، گلے سینے اور دل کی بیماریاں لا حق ہوتی ہیں ۔
کامل : ارے بھائی میں تمھیں تو سگریٹ پینے پر مجبور نہیں کر رہا ( اس کے منہ پر دھواں چھوڑتے ہوئے )
حارث : ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے دھوئیں سے ارد گرد کے لوگوں کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے ۔ گویا آدمی خود تو موت کی طرف بڑھتا ہے ؛ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبتا ہے ۔
کامل : آج کل تو ڈاکٹر بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں ۔
حارث : یہ کہنا درست نہیں ۔ جو ڈاکٹر پھیپھڑوں کے سرطان سے واقف ہیں وہ اس سے دور ہیں ۔
کامل : سگریٹ نوشی سے انسانی اعضا کو سکون ملتا ہے ۔
حارث : اب تک کوئی بھی اس بات کو ثابت نہیں کر پایا کہ سگریٹ انسانی اعضا کو سکون پہنچاتی ہے ۔
کامل : سگریٹ نوشی کا اثر سگریٹ پینے والوں پر کیا پڑتا ہے؟
حارث : سگریٹ پینے سے انسان ناتواں ، کمزور ، مضمحل اور تفکرات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ پیسے کا ضیاء بھی ہے ۔ جب اس ملک کے نو جوان ہی تندرست و توانا نہیں ہوں گے تو ملک کس طرح ترقی کرے گا ؟
کامل: حارث واقعی تم میرے مخلص دوست ہو ۔ تم نے مجھے سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ کر کے میری آنکھیں کھول دیں ۔اگرچہ اس عادت کو چھوڑنا ذرا مشکل ہے ۔ لیکن میں اسے انشا اللہ ترک کر دوں گا ۔
حارث : مجھے اس کی بہت خوشی ہوگی کہ تم اسے ترک کردو گے۔( دونوں بازار میں خریداری میں مصروف ہوجاتے ہیں)