تعارفِ شاعر: علامہ محمد اقباؔل
اقباؔل قومی مفکر شاعر ہیں جنھوں نے اپنی شاعری سے امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا اور آزادی کی راہ پر ڈالا۔آپ نے شاعری کو فکری اور فنّی پہلؤوں سے مالا مال کیا۔اقباؔل کی انفرادیت ان کی انقلابی شاعری ہے، جس کے ذریعے آپ نے مسلمانوں کوعملِ پیہم اور جہدِ مسلسل کی راہ پر ڈالا، حریتِ فکر، خودی اور خود داری کا درس دیا۔اقباؔل کی شاعری میں جہاں ایک سبق اور پیغام ہے وہاں اپنے کلام میں انھوں نے تمام شاعرانہ وسائل سے بھی کام لیا۔تشبیہات و استعارات، تراکیب، تصویر آفرینی، تلمیحات، اصطلاحات، علامات اور مختلف اصنافِ شعر کوبخوبی استعمال کیا ہے۔
آپ کے مجموعہ ہائے کلام:
بانگِ درا اسرارِ خودی
بالِ جبریل زبورِ عجم
ضربِ کلیم جاوید نامہ
پیامِ مشرق وغیرہ ارمغانِ حجاز
-
تعارف
علامہ اقبالؔ نے اس نظم میں مُلاّ ضیغم لولابی کے نام سے ایک خیالی کردار تخلیق کیا ہے۔ جس کا تعلق برِ صغیر کے شمال کے ایک خوب صورت علاقے کشمیر کی ایک وادی لولاب سے ہے۔اور اس کی یاد داشتوں کی ایک فرضی بیاض ( ڈائری) بتائی ہے، جس میں اس کے فرضی خیالات کو اقبالؔ نے 19 نظموں میں قلم بند کیا ہے۔ان سب کا مقصود کشمیریوں کو کشمیری ہندو راجا کی غلامی سے آزاد ہونے کا یقین کرنے ، ان کو آزادی کی قدر و قیمت بتانے اور ان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے سے ہے۔
-
تشریحات
-
1۔پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
( سیماب: پارہ، مرغانِ سحر: صبح کے پرندے، بیتاب: بے قرار)
مرکزی خیال: اے لولاب کی وادی ترے چشموں کا پانی ایک پارے کی مانند ہے اور پرندے صبح کے وقت بے تابی سے اُڑتے پھِر رہے ہیں۔
وضاحت: وادیِ لولاب کے باشندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے علامہ اقبالؔ مُلاّ ضیغم لولابی کی زبان سے فرمارہے ہیں کہ اے لولاب کی وادی تو بہت خوب صورت ہے۔تیرے چشموں کا پانی پارے کی طرح صاف شفا، سفید اور تڑپتا ہوا ہے۔تیری فضاؤں میں صبح کے وقت چہچہانے والے پرندے اِدھر اُدھر اُڑتے پھِر رہے ہیں۔ ان کی آوازیں ہوا میں ایک مدھُر گیت کی طرح بکھری ہوئی ہیں۔ لیکن ان میں ایک بے چینی اور بے تابی سی محسوس ہو رہی ہے۔تو ایک جنت نظیر وادی ہے۔یہاں کی ہر شے آنکھوں کو تراوت اور کانوں میں شیرینی گھولتی ہے۔تری فضائیں دل کو تسکین پہنچا تی ہیں۔لیکن ان میں ایک اضطراب سا موجود ہے۔
مماثل شعر :
ہے صداقت کہ ہے کشمیرزمیں جنت کی
اہلِ کشمیر کو ملتی ہے اذّ یت لیکن
محاسن شعر:
نظم کی ہیئت: تین مصرعوں کی نظم/ہائیکو
صنعتِ تشبیہ :سیماب
مرکبِ اضافی: مرغانِ سحر ، وادیِ لولاب
2۔گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
(ہنگامہ : شورش/ولولہ رکھنے والا،منبر: مسجد میں خطبہ دینے کی جگہ، محراب: مسجد میں وہ جگہ جہاں امام نماز کی امامت کراتا ہے)
مرکزی خیال: خطیب و اما م دین کی صحیح سمجھ نہیں رکھتے ، اس لئے وہ مسلمانوں کو درست تعلیم نہیں دیتے۔
وضاحٹ: اقبالؔ کہتے ہیں کہ اگر تیری مسجدوں کے خطیب اور امام دین کی صحیح سمجھ اور اپنے دلوں میں دین کے لئے تڑپ اور ولولہ نہیں رکھتے تو وہ دین کی کیا تعلیم دیں گے؟ اگر مسجد کے منبروں اور محرابوں سے یہ نہیں بتایا جاتا کہ دین سعی و عمل اور آزادی کا سبق دیتا ہے۔ اگر مسجدوں سے لوگوں میں آزادی اور جہاد کا ولولہ پیدا کرنے والی آوازیں نہیں اُٹھتیں ؛ تو پھر دین کی تبلیغ کا عمل بے کار ہے۔جو مومن اللہ کے دین اور رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق آزادی اور جہاد کا صحیح مفہوم نہ سمجھے تو ایسا دین اس کے لئے موت یا خواب کے برابر ہے۔ اے لولاب کی وادی ! اللہ کرے کہ تیرے علمائے دین خود بھی ان باتوں کو سمجھیں اور دین کا درست پیغام لوگوں تک پہنچائیں ۔
مماثل شعر:
آتجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سِناں اوّل طاؤس و رباب آخر
محاسن ِ شعر
تین مصرعوں کی نظم/ہائیکو/مثلث
مرکبِ اضافی : صاحبِ ہنگامہ ، بندۂ مومن
مرکبِ عطفی : منبر و محراب
3۔ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
(ساز: موسیقی کا آلہ، موقوف: منحصر ، نواہائے: آوازیں ، جگر سوز: جگر کو جلانے والی ، مضراب: ایک خاص تا ر جسے انگلی میں پہن کر ستار کے تاروں کو چھیڑتے ہیں تو ان سے سریلی آوازیں نکلتی ہیں۔)
مرکزی خیال: جب تک دل میں دین کی صحیح تڑپ اور جذبہ پیدا نہیں کروگےاس وقت تک تم کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے۔
تشریح : اس بند میں شاعر نے ساز اور آواز کی علامتوں کو بطور مثال بیان کرتے ہوئے اپنا مفہوم واضح کیا ہے کہ جس طرح کسی سار دے تار اگر ڈھیلے ہوں تو مضراب سے چھیڑنے پر وہ سریلی آواز نہیں نکلتی جو متاثر کن ہو ، جو دلوں میں سوز پہدا کرے اور جگر کو تڑپا دے۔بالکل اسی طرح جب تک تمہیں دین کی صحیح سمجھ نہیں ہوگی اس وقت تک تم میں مطلوبہ تڑپ اور حقیقی جذبہ پیدا نہیں ہوگا جو تم میں یا تمھارے حالات میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ اقبالؔ کا یہ پیغام عام مسلمانوں کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور خصوصاًعلمائے کرام کے لئے بھی ۔
مماثل شعر
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
محاسنِ شعر
تین مصرعوں والی نظم/ ہائیکو/ مثلث
علامتی انداز
مرکب ِ اضافی : وادیِ لولاب
4۔مُلّا کی نظر نُورِ فراست سے ہے خالی
(مُلاّ ، صوفی : دین اور روحانیت کا نمائندے ، فراست: بصیرت/سمجھ ، بے سوز: جس میں درد اور حرارت نہ ہو ، مئے ناب:خالص شراب)
مرکزی خیال: اگر دین کی مبلغ کےجذبے خالص اور دل میں سچائی شامل نہ ہو تو اس کی بات سننے والے کے دل پر اثر نہیں کرتی۔
وضاحت: شاعر کہتے ہیں کہ اے وادیِ لولاب ! آج تیرے شریعت اور طریقت کے نام نہاد علم بردارں کی اپنی حالت بیان سے باہر ہے۔ان کا اپنا حال خراب ہے۔وہ خود علم کے عرفان سے محروم ہیں ۔دین کے نور سے ان کا سینہ خالی ہے۔وہ خود دین کے پیغام کو سمجھ نہیں سکے تو دوسروں کو اس کی کیا تعلیم دیں گے؟وہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کی اصل وجہ نہیں سمجھ سکے ، تو ان مسائل کا حل کیسے جان سکیں گے اور لوگوں کو کیا بتا سکیں گے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ان سے اور دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔یہاں وہ شراب کو حقیقی معنوں میں استعمال کر رہے ہیں کہ ایسے غافل علماء کے پاس وہ خالص شراب نہیں ہے جسے پی کر انسان اللہ کی محبت کے نشے میں غرق ہو جائے، اس کی روح میں حرارت پیدا ہو۔اس لئے لوگ ان سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ ان کے دل خالص نہیں اور ان کے پاس دینے کو کچھ خالص نہیں۔
مماثل شعر
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
محاسن ِ شعر
مثلث/ ہائیکو / تین مصرعوں والی نظم
علامتی انداز
مرکبِ اضافی : نورِ فراست
میخانۂ صوفی
وادیِ لولاب
5۔بیدار ہو دل جس کی فغانِ سحری سے
(بیدار: جاگنا / زندہ ہونا ، فغانِ سحری : صبح کی فریاد ، درویش: روحانیت کا علم بردار ، نایاب: جو نہ ملتا ہو یا کم ملتا ہو)
مرکزی خیال: ایسے سچے عالم جن کی روح پرور تعلیمات سے مسلمانوں میں دین کی درست سمجھ اور عمل پیدا ہو ؛ بہت نایاب یا کم یاب ہیں۔
وضاحت:اقباؔل کہتے ہیں کہ درویش کا کام معاشرے کی اصلاح اور اسلامی احکام کی عمل داری ہے۔اگر وہ خود دنیاوی حرص و ہوس سے پاک ہوگا تو اس کی صحبت کے فیض اور نگاہ کی تاثیر سے لوگوں کے دل بیدار ہوجائیں گے۔ان کے اندر بھی روحانی تبدیلی پیدا ہوگی۔اقباؔل مُلٗا ضیغم کی زبان سے افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اب مدت سے اس قسم کے درویش پیدا نہیں ہو رہے ۔جعلی درویش تو ہر جگہ نظر آجاتے ہیں جو پیشہ ور ، لوٹ کھسوٹ کرنےوالےاور دنیاوی نمود و نمائش کرتے ہیں۔ لیکن ایسا درویش جو خالصتاً اللہ کے لئے جیتا اور مرتا ہو ، جس کی مرضی اللہ کی مرضی میں ہو، اسی بنا پر وہ زمانے کے گھوڑے کو اللہ کے حکم کے مطابق جدھر چاہے موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جس کے بوریے سے زمانے کے تخت لرزا کرتے تھے؛ اب وہ کہیں نظر نہیں آتے۔
مماثل شعر
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا ، کارساز
محاسن شعر
نظم کی ہیئت : ہائیکو
مرکب اضافی: فغانِ سحری
-
آزاد نظم
اسے جدید نظم کہتے ہیں۔یہ ایک ہی بحر میں لکھی جاتی ہے۔لیکن ہر بحر کے ارکان کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔کہیں کوئی مصرعہ طویل تو کہیں مختصر ہوتا ہے۔اس میں قافیہ ،ردیف اور ارکانِ بحر کی تعدادمعین نہیں ہوتی۔مصرعوں کی طوالت جذبات و کیفیات پر منطبق ہوتی ہے۔
پابند نظم
اس میں ردیف قافیے کی پابندی ہوتی ہے۔اسی لئے اسے پابند نظم کہتے ہیں۔اس میں اشعار کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں۔نظم کے پہلے شعر میں دونوں مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا ضروری نہیں۔نظم میں موضوع کی وضاحت مصرع بہ مصرع سلسلہ وار کی جاتی ہے۔
- شاکرہ کاظمی