ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مرکب جملے اور ان کا درست استعمال

تاریخ: August 29, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, صرف و نحو, قواعد

قواعد ۔ مرکب جملوں کا درست استعمال

مرکب جملے : جب دو یا دو سے زائد جملے ملکر ایک مفہوم یا خیال کو ادا کریں  تو وہ مرکب جملہ کہلائے گا ۔

مثال: 1۔ہم آئے ہی تھے کہ وہ چل دیئے ۔

          2۔ مقرر نے تقریر شروع کی اور پولیس آ گئی ۔

                                                3۔ مریض نے دوا نہ کھائی تو وہ مر جائے گا ۔  

         4۔ وہ بد زبان ہے اس لئے کوئی اسے منہ نہیں لگاتا ۔

         5۔ سب وہاں موجود تھے مگر دانیال نہ تھا ۔

وضاحت : ان مثالوں میں ہر جملے کے دو حصے ہیں ۔ ہر حصے کا دوسرے حصے کے ساتھ مختلف حروف ” کہ ، اور ، تو ، اس لئے ، مگر ” سے کوئی نہ کوئی تعلق قائم ہے ۔یہی تعلق ان میں ایک مفہوم  یا خیال کو ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔انہیں مرکب جملے کہتے ہیں ۔

مرکب جملوں کی  اقسام

1۔ ہم رتبہ جملے                                2۔ تابع جملے

1۔ ہم رتبہ جملے : اگر مرکب جملے کے اجزا علیحدہ کر دینے سے وہ اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھتے ہیں اور مکمل مفہوم ادا کرتے ہیں تو یہ ہم رتبہ جملے کہلائیں گے ۔  مثلاً

  • موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور بجلی چمک رہی تھی ۔
  • سلیم رات کو دیر سے گھر آیا اور سو گیا ۔

عام طور پر ہم رتبہ جملے  ” حرف عطف اور ، پھر ، یا ، خواہ ، ” وغیرہ کے استعمال سے ملائے جاتے ہیں ۔

ایسے جملوں کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں ۔

1۔ وصلی جملے       2 ۔ تردیدی جملے     3 ۔ استدراکی جملے        4۔ سببی جملے

1۔ وصلی جملے : جب ہم رتبہ جملوں کو حرف  عطف ” اور ”کے ذریعے ملایا گیا ہو  تو وہ وصلی جملے کہلاتے ہیں ۔مثلاً

  • بابر کل آیا اور آج چلا گیا ۔
  • کچھوا آہستہ آہستہ چل رہا تھا اور خرگوش راستے میں سو گیا ۔
  • ہم نے اپنی کتابیں سنبھالیں اور گھر چلے آئے ۔

بعض اوقات ” پھر ” سے بھی ان جملوں کو ملانے کا کام لیا جاتا ہے ۔ جیسے

  • پہلے تو وہ غصے سے بولتا رہا پھر باہر نکل گیا ۔
  • پہلے آئینے میں اپنی شکل دیکھو پھر کسی کا مذاق اُڑانا ۔

2 ۔تردیدی جملے :جب دو ہم رتبہ جملے حرف ِ تردید ( یا ، کہ ، نہیں تو ، ورنہ ، خواہ ، چاہے ،  نہ ) کے ذریعے ملائے جائیں  اور معنوں کے اعتبار سے ایک جملہ دوسرے جملے کی نفی کرے تو ایسے جملے تردیدی جملے کہلاتے ہیں ۔مثلاً

  • تم نے پڑھا کہ نہیں ؟       ( کہ )
  • تمہیں ورزش کرنی چاہیئے ورنہ صحت گر جائے گی ۔  (ورنہ )
  • جلدی جاؤ نہیں تو گاڑی چھوٹ جائے گی ۔ ( نہیں تو )
  • خود آیا نہ مجھے بلایا ۔ ( نہ )
  • تم یہ بات تسلیم کرو چاہے نہ کرو ۔ ( چاہے )

3 ۔ استدراکی جملے : اس میں عموماً دو جملوں کی باہم مسابقت یا مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ اس طرھ کے جملوں میں ” مگر ، لیکن ، اور ، بلکہ ، سو  ” وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔اس کی تین صورتیں ہیں ۔

1۔ ( الف ) دوسرا جملہ پہلے جملے کی نفی کرے ۔ یعنی بیان میں اختلاف پایا جائے ۔جیسے :-

  • وہ ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا مگر میں وہیں کا وہیں ہوں ۔
  • اتنا بڑا عالم اور اتنا سنگ دل۔
  • سب کھیلنے کے لئے آمادہ ہو گئے مگر عاطف نے انکار کر دیا ۔

(ب) بعض اوقات اس طرح کے جملے ” اگرچہ ” سے شروع ہوتے ہیں ۔جیسے :-

  • اگرچہ وہ مجھے نظر انداز کرتا ہے لیکن میں اس کی مدد کروں گا ۔

2۔ پہلا جملہ دوسرے جملے کو محدود کرے ۔جیسے :-

  • وہ وعدہ تو کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھتا ۔
  • وہ دوست تو ہے پر مصیبت کا ساتھی نہیں ہے ۔

3۔پہلا بیان دوسرے بیاب کی تصدیق یا توسیع  کرے ۔جیسے :-

  • وہ صرف خود غرض ہی نہیں بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں بھی پہنچاتا ہے ۔
  • ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں گے سو وہ بھی نہ ہوا ۔
  • وہ مکار ہی نہیں بلکہ دھوکہ باز بھی ہے ۔

4  ۔ سببی جملے : ان جملوں میں دوسرا  جملہ پہلے جملے کی وجہ  ، سبب یا نتیجے کو ظاہر کرتا ہے ۔ان جملوں سےپہلے  ” چونکہ ، کیونکہ ، اس لئے ، اس واسطے ، لہٰذا ، پس ”  وغیرہ  کا استعمال ہوتا ہے ۔

  • مجھے اس کی بات کا یقین ہے کیونکہ وہ سچا ہے ۔
  • چونکہ آپ بزرگ ہیں اس لئے آپ کا احترام ہم پر لازم ہے ۔
  • چونکہ وہ حق پر ہے اس لئے میں اس کا ساتھ دوں گا ۔
  • علم حاصل کرو تاکہ فلاح ِ دارین حاصل کر سکو ۔

2 ۔ تابع جملے :  جب ایک جملے میں ادھوری بات کہی گئی ہو جسے پورا کرنے کے لئے دوسرا جملہ لایا جائے ؛ تو پہلا جملہ اصلی یا خاص جملہ کہلائے گا جبکہ دوسرا جملہ تابع جملہ کہلائے گا ۔مثلا!

  • اس نے بہت محنت کی مگر وہ فیل ہوگیا ۔
  • مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

تابع جملوں  کی تین اقسام ہیں ۔

1۔ اسمی                2۔ وصفی                               3 ۔ تمیزی

1 ۔ اسمی جملہ : اس طرح کے جملوں کی ابتدا عموماً ” کہ ” سے ہوتی ہے ۔ اس میں تابع جملہ اسم کا کام دیتا ہے ۔مثلاً

  • اس نے کہا کہ میں بیمار ہوں ۔
  • کون نہیں جانتا کہ وہ ایک شریف آدمی ہے ۔
  • جلسے میں وہ ہُلڑ بازی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے ۔

الف ۔ کبھی کبھی چھوٹے فقروں اور مقولوں سے  ”کہ” حذف  ہو جاتا ہے ۔

  • میں نے کہا جاؤ ، اب نہ آنا ۔
  • اس نے کہا یہاں کیوں آتے ہو ؟

ب ۔کبھی خاص جملے  فعل کی وجہ یا مقصد کے اظہار کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ ایسے جملوں میں کبھی کبھی ”کہ” سے پہلے ” کیوں کہ ” یا ” اس لئے ” بھی استعمال ہوتا ہے ۔

  • بلب بجھا دو کہ میں سو سکوں ۔
  • وہ اپنے بچے سے بڑی محبت کرتا ہے اس لئے وہ اکثر اسکے لئے تحائف لاتا ہے ۔
  • میں باہر جاتے ہوئے ڈرتا ہوں کیونکہ باہر بڑا اندھیرا ہے ۔

 ج ۔بعض اوقات تابع جملہ منفی  فقرے کے اظہار کے لئے  ” ایسا نہ ہو ” کے ساتھ آتا ہے ۔

  • اُن کے بچوں کو تنگ نہ کرو ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض ہو جائیں ۔

د ۔ بعض اوقات اسمی جملہ کسی دعا یا تمنّا کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے ۔

  • مجھے امید ہے کہ وہ میری رقم لوٹا دے گا ۔
  • اللہ کر ے کہ میرا بیٹا اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے ۔

ہ ۔ تابع جملے میں ناممکن یا محال کا ذکر ہو  تو ”کہ ” کی بجائے ” جو ” آئے گا ۔

  • اس کی کیا جرات جو وہ میرے سامنے ایسی حرکت کرے ۔

و ۔ کبھی تابع جملہ اصل جملے سے قبل بھی آجاتا ہے ۔

  • چلو چلو ! لاہور چلو ! ہر طرف یہی صدا آ رہی تھی ۔
  • سیلاب آگیا ، سیلاب آگیا ! وہ چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا ۔

2۔ وصفی جملہ : اس میں تابع جملہ صفت کا کام دیتا ہے ۔اور اس کا موصوف ” خاص جملہ ” میں ہوتا ہے ۔ان جملوں میں ”جو ” استعمال ہوتا ہے ۔

  • جو کام آپ سے نہ ہو سکا ، میں وہ کیونکر کر سکتا ہوں ۔
  • خدا ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں ۔

بعض اوقات ” جو ” حذف کر دیا اتا ہے ۔جیسے :-

  • ڈرا سو مرا ۔
  • بوؤ گے سو کاٹو گے ۔

3۔ تمیزی جملے : وہ جملہ جو خاص جملے کی خبر ، کیفیت ، سبب ، وقت  یا مقام بتائے ؛ تمیزی جملہ کہلاتا ہے۔ ایسے جملے عام طور پر ” جب ” یا ” جو ” سے شروع ہوتے ہیں ۔مثلاً

  • جب سورج ڈوب جاتا ہے تو ستارے چمکنے لگتے ہیں ۔
  • سب سوچوں میں گُم تھے جو وہ بول پڑا ۔

کبھی کبھی ” جیسے ، جوں جوں ، اگر  ” سے بھی ان جملوں کا آغاز ہوتا ہے ۔مثلاً

  • جیسے جیسے وہ دوا استعمال کرتا رہا ؛ اس کے مرض میں کمی آتی گئی ۔
  • جوں جوں ہم بلندی پر چڑھتے گئے ؛ ہوا ٹھنڈی ہوتی گئی ۔
  • اگر امتحان کی تیاری کا یہی حال رہا تو خدا ہی حافظ ہے ۔
  • جب آپ کا حکم ہوگا ہم تعمیل کریں گے ۔
  • اگرچہ وہ غریب ہے تاہم ایمان دار ہے ۔
  • فہد اپنے چچا کے ہاں نہ پہنچ سکا کیونکہ وہ راستہ بھول گیا تھا ۔

( شاکرہ کاظمی )

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *