قواعد ۔ مرکب جملوں کا درست استعمال
مرکب جملے : جب دو یا دو سے زائد جملے ملکر ایک مفہوم یا خیال کو ادا کریں تو وہ مرکب جملہ کہلائے گا ۔
مثال: 1۔ہم آئے ہی تھے کہ وہ چل دیئے ۔
2۔ مقرر نے تقریر شروع کی اور پولیس آ گئی ۔
3۔ مریض نے دوا نہ کھائی تو وہ مر جائے گا ۔
4۔ وہ بد زبان ہے اس لئے کوئی اسے منہ نہیں لگاتا ۔
5۔ سب وہاں موجود تھے مگر دانیال نہ تھا ۔
وضاحت : ان مثالوں میں ہر جملے کے دو حصے ہیں ۔ ہر حصے کا دوسرے حصے کے ساتھ مختلف حروف ” کہ ، اور ، تو ، اس لئے ، مگر ” سے کوئی نہ کوئی تعلق قائم ہے ۔یہی تعلق ان میں ایک مفہوم یا خیال کو ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے ۔انہیں مرکب جملے کہتے ہیں ۔
مرکب جملوں کی اقسام
1۔ ہم رتبہ جملے 2۔ تابع جملے
1۔ ہم رتبہ جملے : اگر مرکب جملے کے اجزا علیحدہ کر دینے سے وہ اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھتے ہیں اور مکمل مفہوم ادا کرتے ہیں تو یہ ہم رتبہ جملے کہلائیں گے ۔ مثلاً
- موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور بجلی چمک رہی تھی ۔
- سلیم رات کو دیر سے گھر آیا اور سو گیا ۔
عام طور پر ہم رتبہ جملے ” حرف عطف اور ، پھر ، یا ، خواہ ، ” وغیرہ کے استعمال سے ملائے جاتے ہیں ۔
ایسے جملوں کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں ۔
1۔ وصلی جملے 2 ۔ تردیدی جملے 3 ۔ استدراکی جملے 4۔ سببی جملے
1۔ وصلی جملے : جب ہم رتبہ جملوں کو حرف عطف ” اور ”کے ذریعے ملایا گیا ہو تو وہ وصلی جملے کہلاتے ہیں ۔مثلاً
- بابر کل آیا اور آج چلا گیا ۔
- کچھوا آہستہ آہستہ چل رہا تھا اور خرگوش راستے میں سو گیا ۔
- ہم نے اپنی کتابیں سنبھالیں اور گھر چلے آئے ۔
بعض اوقات ” پھر ” سے بھی ان جملوں کو ملانے کا کام لیا جاتا ہے ۔ جیسے
- پہلے تو وہ غصے سے بولتا رہا پھر باہر نکل گیا ۔
- پہلے آئینے میں اپنی شکل دیکھو پھر کسی کا مذاق اُڑانا ۔
2 ۔تردیدی جملے :جب دو ہم رتبہ جملے حرف ِ تردید ( یا ، کہ ، نہیں تو ، ورنہ ، خواہ ، چاہے ، نہ ) کے ذریعے ملائے جائیں اور معنوں کے اعتبار سے ایک جملہ دوسرے جملے کی نفی کرے تو ایسے جملے تردیدی جملے کہلاتے ہیں ۔مثلاً
- تم نے پڑھا کہ نہیں ؟ ( کہ )
- تمہیں ورزش کرنی چاہیئے ورنہ صحت گر جائے گی ۔ (ورنہ )
- جلدی جاؤ نہیں تو گاڑی چھوٹ جائے گی ۔ ( نہیں تو )
- خود آیا نہ مجھے بلایا ۔ ( نہ )
- تم یہ بات تسلیم کرو چاہے نہ کرو ۔ ( چاہے )
3 ۔ استدراکی جملے : اس میں عموماً دو جملوں کی باہم مسابقت یا مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ اس طرھ کے جملوں میں ” مگر ، لیکن ، اور ، بلکہ ، سو ” وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔اس کی تین صورتیں ہیں ۔
1۔ ( الف ) دوسرا جملہ پہلے جملے کی نفی کرے ۔ یعنی بیان میں اختلاف پایا جائے ۔جیسے :-
- وہ ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا مگر میں وہیں کا وہیں ہوں ۔
- اتنا بڑا عالم اور اتنا سنگ دل۔
- سب کھیلنے کے لئے آمادہ ہو گئے مگر عاطف نے انکار کر دیا ۔
(ب) بعض اوقات اس طرح کے جملے ” اگرچہ ” سے شروع ہوتے ہیں ۔جیسے :-
- اگرچہ وہ مجھے نظر انداز کرتا ہے لیکن میں اس کی مدد کروں گا ۔
2۔ پہلا جملہ دوسرے جملے کو محدود کرے ۔جیسے :-
- وہ وعدہ تو کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھتا ۔
- وہ دوست تو ہے پر مصیبت کا ساتھی نہیں ہے ۔
3۔پہلا بیان دوسرے بیاب کی تصدیق یا توسیع کرے ۔جیسے :-
- وہ صرف خود غرض ہی نہیں بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں بھی پہنچاتا ہے ۔
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں گے سو وہ بھی نہ ہوا ۔
- وہ مکار ہی نہیں بلکہ دھوکہ باز بھی ہے ۔
4 ۔ سببی جملے : ان جملوں میں دوسرا جملہ پہلے جملے کی وجہ ، سبب یا نتیجے کو ظاہر کرتا ہے ۔ان جملوں سےپہلے ” چونکہ ، کیونکہ ، اس لئے ، اس واسطے ، لہٰذا ، پس ” وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے ۔
- مجھے اس کی بات کا یقین ہے کیونکہ وہ سچا ہے ۔
- چونکہ آپ بزرگ ہیں اس لئے آپ کا احترام ہم پر لازم ہے ۔
- چونکہ وہ حق پر ہے اس لئے میں اس کا ساتھ دوں گا ۔
- علم حاصل کرو تاکہ فلاح ِ دارین حاصل کر سکو ۔
2 ۔ تابع جملے : جب ایک جملے میں ادھوری بات کہی گئی ہو جسے پورا کرنے کے لئے دوسرا جملہ لایا جائے ؛ تو پہلا جملہ اصلی یا خاص جملہ کہلائے گا جبکہ دوسرا جملہ تابع جملہ کہلائے گا ۔مثلا!
- اس نے بہت محنت کی مگر وہ فیل ہوگیا ۔
- مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
تابع جملوں کی تین اقسام ہیں ۔
1۔ اسمی 2۔ وصفی 3 ۔ تمیزی
1 ۔ اسمی جملہ : اس طرح کے جملوں کی ابتدا عموماً ” کہ ” سے ہوتی ہے ۔ اس میں تابع جملہ اسم کا کام دیتا ہے ۔مثلاً
- اس نے کہا کہ میں بیمار ہوں ۔
- کون نہیں جانتا کہ وہ ایک شریف آدمی ہے ۔
- جلسے میں وہ ہُلڑ بازی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے ۔
الف ۔ کبھی کبھی چھوٹے فقروں اور مقولوں سے ”کہ” حذف ہو جاتا ہے ۔
- میں نے کہا جاؤ ، اب نہ آنا ۔
- اس نے کہا یہاں کیوں آتے ہو ؟
ب ۔کبھی خاص جملے فعل کی وجہ یا مقصد کے اظہار کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ ایسے جملوں میں کبھی کبھی ”کہ” سے پہلے ” کیوں کہ ” یا ” اس لئے ” بھی استعمال ہوتا ہے ۔
- بلب بجھا دو کہ میں سو سکوں ۔
- وہ اپنے بچے سے بڑی محبت کرتا ہے اس لئے وہ اکثر اسکے لئے تحائف لاتا ہے ۔
- میں باہر جاتے ہوئے ڈرتا ہوں کیونکہ باہر بڑا اندھیرا ہے ۔
ج ۔بعض اوقات تابع جملہ منفی فقرے کے اظہار کے لئے ” ایسا نہ ہو ” کے ساتھ آتا ہے ۔
- اُن کے بچوں کو تنگ نہ کرو ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض ہو جائیں ۔
د ۔ بعض اوقات اسمی جملہ کسی دعا یا تمنّا کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے ۔
- مجھے امید ہے کہ وہ میری رقم لوٹا دے گا ۔
- اللہ کر ے کہ میرا بیٹا اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے ۔
ہ ۔ تابع جملے میں ناممکن یا محال کا ذکر ہو تو ”کہ ” کی بجائے ” جو ” آئے گا ۔
- اس کی کیا جرات جو وہ میرے سامنے ایسی حرکت کرے ۔
و ۔ کبھی تابع جملہ اصل جملے سے قبل بھی آجاتا ہے ۔
- چلو چلو ! لاہور چلو ! ہر طرف یہی صدا آ رہی تھی ۔
- سیلاب آگیا ، سیلاب آگیا ! وہ چلّا چلّا کر کہہ رہا تھا ۔
2۔ وصفی جملہ : اس میں تابع جملہ صفت کا کام دیتا ہے ۔اور اس کا موصوف ” خاص جملہ ” میں ہوتا ہے ۔ان جملوں میں ”جو ” استعمال ہوتا ہے ۔
- جو کام آپ سے نہ ہو سکا ، میں وہ کیونکر کر سکتا ہوں ۔
- خدا ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں ۔
بعض اوقات ” جو ” حذف کر دیا اتا ہے ۔جیسے :-
- ڈرا سو مرا ۔
- بوؤ گے سو کاٹو گے ۔
3۔ تمیزی جملے : وہ جملہ جو خاص جملے کی خبر ، کیفیت ، سبب ، وقت یا مقام بتائے ؛ تمیزی جملہ کہلاتا ہے۔ ایسے جملے عام طور پر ” جب ” یا ” جو ” سے شروع ہوتے ہیں ۔مثلاً
- جب سورج ڈوب جاتا ہے تو ستارے چمکنے لگتے ہیں ۔
- سب سوچوں میں گُم تھے جو وہ بول پڑا ۔
کبھی کبھی ” جیسے ، جوں جوں ، اگر ” سے بھی ان جملوں کا آغاز ہوتا ہے ۔مثلاً
- جیسے جیسے وہ دوا استعمال کرتا رہا ؛ اس کے مرض میں کمی آتی گئی ۔
- جوں جوں ہم بلندی پر چڑھتے گئے ؛ ہوا ٹھنڈی ہوتی گئی ۔
- اگر امتحان کی تیاری کا یہی حال رہا تو خدا ہی حافظ ہے ۔
- جب آپ کا حکم ہوگا ہم تعمیل کریں گے ۔
- اگرچہ وہ غریب ہے تاہم ایمان دار ہے ۔
- فہد اپنے چچا کے ہاں نہ پہنچ سکا کیونکہ وہ راستہ بھول گیا تھا ۔
( شاکرہ کاظمی )