قواعد ۔ مختلف تعریفیں
فصاحت و بلاغت
فصاحت سے مراد لفظ ، محاورےیا فقرے کو اس طرح لکھا اور بولا جائے جس طرح مستند اہل ِ زبان بولتے یا لکھتے ہیں ۔لہٰذا فصاحت کا تصور ذیادہ تر سماعی ہے ۔ اس کی بنیاد روزمرہ اہلِ زبان پر ہے۔ جو بدلتا رہتا ہے۔ اس لئے فصاحت کے بارے میں کوئی اصول قائم کرنا ناممکن ہے ۔ فصاحت کا تصور زمانے کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
بلاغت کے لغوی معنی تیز زبانی اور مجازی معنی کلام کو دوسروں تک پہنچانے میں مرتبۂ کمال تک پہنچنا ہے۔ بلیغ کلام کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ اظہار مطلب کے لئے کم سے کم الفاظ استعمال ہوں ۔
علوم بلاغت
1۔ علم ِ بیان، 2۔ علم ِ بدیع
3۔علم ِ عروض 4۔ علم ِ قافیہ وغیرہ
لغوی /وصفی / لفظی /اصلی / حقیقی معنی
ہر لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں ۔ان میں سے ایک لغوی معنی ہے۔ جو عام طور پر وہی ہوتا ہے جس میں لفظ کو وضع ہونے کے بعد ابتدائی طور پر استعمال کیا گیا ہو۔ لغوی لغت سے منسوب کو کہتے ہیں ۔لغت کے لغوی معنی ” بولی ” کے ہیں ۔ یعنی ایسی آوازیں جن کے ذریعے ہر فرد اپنے اغراض و مقاصد بیان کر سکے ۔ لغت زبان کو بھی کہتے ہیں ۔ اس میں الفاظ کے معنی متعین اور قابلِ اندراج ہوتے ہیں ۔
اصطلاحی معنی
اس سے اس وقت رائج معنی اور فقہ میں اس سے شرعی معنی مراد لئے جاتے ہیں ۔ جب کوئی قوم یا فرقہ کسی لفظ کے معنی موضوع کے علاوہ یا اس سے ملتے جلتے کوئی اور معنی ٹھہرا دیتا ہے تو اسے اصطلاح یا محاورہ کہتے ہیں ۔اصطلاح کے لغوی معنی باہم مصلحت کرکےکچھ معنی مقرر کر لینے کے ہیں ۔ اس طرح وہ الفاظ جن کے معنی بعض علوم کے واسطے مختص کر لیے ہیں، اصطلاح علوم میں داخل ہیں ۔ اصطلاحی اور لغوی معنوں میں کچھ نہ کچھ نسبت ضرور ہوتی ہے۔
مثال : چال چلنا ( فریب میں لانا )
دال گلنا ( مقصد حا صل ہونا )
مجازی معنی
کسی لفظ کے غیر حقیقی معنی جو حقیقی معنی کے ساتھ تشبیہ کا تعلق رکھتے ہوں ، یعنی فرض کیا ہوا۔
جیسے مٹی کے معنی ”خاک“ کے ہیں ۔
لیکن مجازی معنی ”موت“ کے لیے جاتے ہیں ۔
وصفی معنی
ایسے الفاظ جن کے لغوی معنی کوئی وصف یا صفت کے لیے ہوں ۔ اِ ن الفاظ کے معنی در اصل کسی خوبی یا خرابی کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔
مثال :
عاقل : عقل مند
آراستہ : سجا ہوا
شاکر : شکر کرنے والا
قبیح : بد صورت
زیرک : عقل مند / دانا
دلکش : خوبصورت
روز مرہ /بول چال
روز مرہ کی عام گفتگو کو بول چال کہتے ہیں ۔ ہر لفظ اپنا مخصوص معنی رکھتا ہے ۔ جس کا علم سب کو ہوتا ہے ۔ یہ اہل ِ زبان کے استعمال کے مطابق ہوتا ہے ۔ جہاں تک ممکن ہو اس کی پابندی کرنی چاہیئے ۔
مثال :
1۔وہ بلا ناغہ مسجد نماز پڑھے جاتا ہے ۔
2۔میں نے کل شام فٹ بال کھیلا
سلینگ
کسی پیشے یا طبقے کے لوگ تبادلۂ خیال کے لئے الفاظ کو وضعی کی بجائے کچھ اور مخصوص مؑنی کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ایسے الفاظ کو سلینگ کہا جاتا ہے
مثال:
لوٹا : سیاسی وفاداریاں بدلنے والا شخص
اَڑی ڈالنا : رکاوٹ کھڑی کرنا
باقیات : بچی کھچی چیزیں
بڑی مچھلی : دولت مند / با اثر آدمی
بچہ پارٹی : ناسمجھ لوگ
اگرائی : شام کے وقت دکان داروں سے رقم وصول کرنا
فلائنگ کوچ : تیز رفتار بس
۔ مرکب مصادر
مرکب مصادر سے مراد وہ مصادر ( بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی قسم ) ہیں جن کے شروع میں کوئی دوسرا لفظ لگا کر ایک اور مصدر بنا لیتے ہیں ۔
مثال :
تشریف لانا ، بہک جانا
فلمانا ، ڈھونڈ لینا
سیر کرنا، بھول جانا
گرمانا ، سچ بولنا
کفنانا ، کلمہ پڑھنا
تمیز / متعلق فعل
اس سے مراد وہ فعل ہے جو اصلی فعل یا صفت کے معنوں میں اضافہ کر کے اسے مزید واضح اور زوردار بنا دیتا ہے یا اس کی کیفیت اور حالت میں تھوڑی سی کمی بیشی کر دیتا ہے ۔
مثال :سخت سے سختی ، تیز سے تیزی وغیرہ
1۔ فعل کے ساتھ تبدیلی :
اکرم سو گیا
بلال کالج جا رہا ہے۔
2۔ فاعل کے ساتھ تبدیلی :
صلال بہت ذہین ہے۔
یشوع بہت محنتی ہے۔
3۔ مفعول کے ساتھ تبدیلی :
مناہل نے مضمون لکھا۔
عائشہ نے کیک بنایا۔
مرکب جملے
جب دو یا دو سے زائد جملے مل کر ایک مفہوم یا خیال کو ادا کریں تو وہ مرکب جملہ کہلاتے ہیں ۔
مثال :
1۔ ہم آئے ہی تھے کہ وہ چل دیئے۔
2۔ مقرر نے تقریر شروع ہی کی تھی کہ لائٹ چلی گئی ۔
3۔ مریض نے اگر دوا نہ کھائی تو مرض اور بگڑ جائے گا ۔
مرکب جملوں کی اقسام
1۔ ہم رتبہ جملے : (وصلی جملے ، تردیدی جملے ، استدراکی جملے ، سببی جملے )
2۔ تابع جملے: (اسمی جملے ، وصفی جملے ، تمیزی جملے )
استدراکی جملے
یہ مرکب جملوں کی ایک قسم ہے ۔ اس میں عموماً دو جملوں کا باہم مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے جملوں میں ” مگر ، لیکن ، اور ، بلکہ ، سو ” وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔
اس کی تین صورتیں ہوتی ہیں ۔
1۔ پہلا جملہ دوسرے جملے کی نفی کرے یا بیان میں اختلاف ہو ۔
مثال : اتنا بڑا عالم اور اس قدر منافق۔
2۔پہلا جملہ دوسرے جملے کو محدود کرے ۔
مثال : وہ وعدہ تو کرتا ہے مگر نبھاتا نہیں ۔
3۔ پہلا بیان دوسرے بیان کی تصدیق یا توسیع کرے۔
مثال : وہ نہ صرف مکار بلکہ دھوکہ باز بھی ہے ۔
سببی جملے
یہ مرکب جملوں کی ایک قسم ہے ۔ ان جملوں میں دوسرا جملہ پہلے جملے کی وجہ ، سبب یا نتیجے کو ظاہر کرتا ہے ۔ ان جملوں سے پہلے ” چونکہ ، کیونکہ ، تاکہ ، اس لئے ، اس واسطے ، لہٰذا ، پس وغیرہ ” کا استعمال ہوتا ہے ۔
مثال :
1۔ وہ بہت بد تمیز ہے اس لئے میں اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتا ۔
2۔مجھے اس کی بات کا یقین ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے ۔
3۔چونکہ وہ حق پر تھا اس لئے میں نے اس کا ساتھ دیا ۔
4۔علم حاصل کرو تاکہ فلاح ِ دارین حاصل کرو ۔
وصلی جملے
یہ مرکب جملوں کی ایک قسم ہے ۔ جب ہم رتبہ جملوں کو حرف ِ عطف ( اور ) یا ” پھر ” کے ذریعے ملایا گیا ہو تو وہ وصلی جملے کہلاتے ہیں۔
مثال :
1۔بابر کل آیا اور آج چلا گیا۔
2۔کچھوا آہستہ آہستہ چلتا رہا اور خوگوش راستے میں سو گیا۔
3۔ہم نے اپنی کتابیں سنبھالیں اور گھر چلے آئے ۔
4۔پہلے تو وہ غصے میں بولتا رہا پھر باہر چلا گیا ۔
5۔ پہلے آئینے میں اپنی شکل دیکھو پھر کسی کا مذاق اُڑانا ۔
حروفِ تہجی
یہ وہ حروف ہوتے ہیں جن سے کوئی زبان بنتی ہے ۔ اردو زبان میں ان کی تعداد 37 ہے۔
ا،ب۔پ،ت،ٹ،ث،ج،چ،ح،خ،د،ڈ،ذ،ر،ڑ،ز،ژ،س،ش،ص،ض،ط،ظ،ع،غ،ف،ق،ک،گ،ل،م،ن،و،ہ،ء ، ی،ے
اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ بھی شامل ہیں ۔
جبکہ خالص ہندی الفاظ بھی اس میں شامل ہیں ۔
مرکب حروف / مخلوط حروف
” ھ ” سے مل کر بننے والے حروف مرکب حروف کہلاتے ہیں ۔ ان دونوں حروف کی آواز مل کر ایک نئی آواز بناتی ہے ۔
اِن کی کُل تعداد 15 ہے ۔
بھ ، پھ ، تھ ، ٹھ ، جھ ، چھ ، دھ ، رھ ، ڑھ ، ڈھ ، کھ ، گھ ، لھ ، نھ ، مھ ۔
مثال:
بھولا ، پھول ، تھالی ، ٹھیلا ، جھنڈ ا ، چھڑی ، دھول ، کڑھائی ، ڈھول ، کھجور ، گھوڑا ، تمھیں ، جنھیں ۔
اشتقاق۔ مشتقات
وہ الفاظ جو ایک ہی مادے سے بنے ہوئے ہوں ۔
مثال:
ظلم : ظالم ، مظلوم ، ظالمین
نور : منور ، نوری ، نورانی ، نورین ، انوار
غفار : غفور ، مغفور ، مغفرت
عبد : عابد ، معبود ، عابدہ ، عبادت ، عبد اللہ
شہید : شاہد ، مشہود ، شہادت ، شہداء ، شاہدہ
موت : اموات ، میت ، میتون
ذکا : ذکیہ ، تزکیہ ، ذکاھا، ذکی
ذکر : ذاکر ، تذکرہ ، ذاکرہ ، مذکور
مشتقات کی مثالیں
- توحید : واحد ، احد ، وحدت ، وحدانیت ، موحد
- حمد : محمد ، حامد ، محمود ، حماد ، حمید ، حمیدہ
- اسلام : مسلم ، مسلمان ، مسلمین ، سلیم ، اسلم ، سلام
- بشر : بشیر ، بشارت ، بشریٰ ، ابشار
- بصر : بصیر ، ابصار ، بصارت ، باصر
- کلمہ : کلام ، کلمات ، متکلم
- حکم : احکام ، حکام ، محکوم ، حاکمیت، حاکم
- کتاب : کتب ، مکتوب ، کاتب ، الکتاب ، کتابیں
- قدر : قادر ، تقدیر ، مقدر ، قدیر ، مقدور ، قادریہ
- کفر : کافر ، کفار ، کافرانہ
- شرک : شریک ، شرکاء ، شراکت ، اشتراک ، مشترک، مشترکہ
- رحم : رحیم ، رحمان ، رحمت ، مرحمت
- جہد : جہاد ، اجتہاد ، جدوجہد
- علم : عالم ، عالمہ ، معلم ، علماء ، معلوم ، معلومات
- شکر : شاکر ، شاکرہ ، شکریہ ، شکور ، تشکر ، مشکور ، متشکر
ا لفبائی ترتیب دینا
مختلف الفاظ کو حروف ِ تہجی کے لحاظ سے ترتیب دینا الفبائی ترتیب کہلاتا ہے۔،ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ
مثال : نظم و ضبط ، مشاعرہ ، مقالات ، تلخ کلامی ، جاذبیت
تلخ کلامی ( ت )
جاذبیت ( ج)
مشاعرہ ( م ش)
مقالات ( م ق )
مشق :
1۔مہمان ، راستہ ، بےچارہ ، اکھاڑنا، صوبہ
2۔ شور ، شیر ، خلوص ، دانہ ، فقیر
3۔توحید ، کتاب ، شریک ، قادر ، مسلمان
4۔ عدالت ، دیکھ بھال ، حقیقت ، خورشید ، چاندی
5۔ گلاب ، پھول ، پتا ، درخت ، ٹہنی ، جھاڑی
تصریف ِ الفاظ
ایک ہی لفظ یا ایک ہی بات کو کئی بار لکھنا یا استعمال کرنا کہ اگر کوئی لفظ یا بات ایک جگہ سمجھ نہ آئے تو دوسری جگہ اس کو سمجھ لیا جائے ۔ تاکہ ہر کسی کو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق سمجھ آجائے۔
( مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )