سابقے :
اردو میں مفرد الفاظ کے شروع میں بعض علامتیں بڑھا کر نئے الفاط بنائے جاتے ہیں۔ان علامتوں کو سابقہ کہا جاتا ہے۔مثلاً:
- لا: لاتعداد، لا محدود ، لا وارث ، لا حاصل
- نا : نازیبا ، نامعقول ، ناواقف، نا حق
- نو: نو آموز
- کم: کم عمر
- خود: خود پسند
- یک: یک جان، یک مُشت
- ہم ہم درد، ہم زباں، ہم نفس، ہم نوا
- نیم: نیم وا، نیم باز، نیم روز
- خوش: خوش آئند، خوش اخلاق، خوش لباس
- عالی: عالی جاہ، عالی دماغ، عالی شان
- خوش: خوش خبری، خوش مزاج، خوش خیال، خوش الحان
- ان: اَن تھک، ان جان، ان دیکھا، ان کنت
- با: با اصول، با ادب، با تمیز، باخبر، با نصیب، با وقار
- بلا: بلا اجازت، بلا ناغہ
- بِن: بن بلائے، بن سنے، بن کہے، بن مانگے
- پا: پا جامہ، پازیب، پاپوش
- پُر: پرجوش، پر فضا، پر وقار، پر خلوص، پو اسرار
- پست: پست قد، پست ہمت، پست سوچ
- تا: تا حدِ نظر، تا حیات
- تن: تن درست، تن بدن، تن دہی
- چو: چوبارہ، چو پایہ، چوراہا، چوکور
لاحقے “:
کچھ مفرد الفاظ کے آخر میں بعض علامتیں بڑھا کر نئے الفاظ بنائے جاتے ہیں۔ان علامتوں کو لاحقہ کہتے ہیں۔جیسے:-
- انداز: تیر انداز ، نظر انداز ، دخل انداز
- باز: نظر باز ، شاہ باز، جاں با
- بند: نظر بند، ازار بند، کمر بند
- توڑ: منہ توڑ ، جان توڑ، کمر توڑ
- خوان: دستر خوان، ثنا خوان، نعت خوان، مرثیہ خوان
- دار: دین دار، جان دار، راز دار، شان دار، ہوا دار
- پوش: خوش پوش، سفید پوش، کمبل پوش
- تراش: بت تراش، سنگ تراش، قلم تراش
- جو: جنگ جو، مہم جو، صلح جو
- خانہ: دولت خانہ، دوا خانہ، غُسل خانہ
- تر: بدتر، برتر، خوش تر، کم تر
- ترین: بد ترین، کم ترین، بہترین
- چہ: باغیچہ، دیگچہ، صندوقچہ
- خیز: نو خیز، زرخیز، صبح خیز، مردم خیز
- ستان: پاکستان، افغانستان، قبرستان، گورستان
- طلب: آرام طلب، انصاف طلب، محنت طلب
- کدہ: دولت کدہ، بت کدہ، دانش کدہ
- دان: سائنس دان، قلم دان، روشن دان، پاندان
- زادہ: شاہزادہ، حرام زادہ، آدم زادہ، صاحبزادہ
- فروش: عطر فروش،کتب فروش، گُل فروش
- خواہ : خیر خواہ، بد خواہ
- یاب: کم یاب، نایاب، فیض یاب