ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

قواعد..زبان شناسی۔ سابقے ، لاحقے

تاریخ: September 1, 2026 مصنف: shakra زمرہ: درس و تدریس, صرف و نحو, قواعد

سابقے :

اردو میں مفرد الفاظ کے شروع میں بعض علامتیں بڑھا کر نئے الفاط بنائے جاتے ہیں۔ان علامتوں کو سابقہ کہا جاتا ہے۔مثلاً:

  • لا: لاتعداد، لا محدود ، لا وارث ، لا حاصل
  • نا : نازیبا ، نامعقول ، ناواقف، نا حق
  • نو: نو آموز
  • کم: کم عمر
  • خود: خود پسند
  • یک: یک جان، یک مُشت
  • ہم ہم درد، ہم زباں، ہم نفس، ہم نوا
  • نیم: نیم وا، نیم باز، نیم روز
  • خوش: خوش آئند، خوش اخلاق، خوش لباس
  • عالی: عالی جاہ، عالی دماغ، عالی شان
  • خوش: خوش خبری، خوش مزاج، خوش خیال، خوش الحان
  • ان: اَن تھک، ان جان، ان دیکھا، ان کنت
  • با: با اصول، با ادب، با تمیز، باخبر، با نصیب، با وقار
  • بلا: بلا اجازت، بلا ناغہ
  • بِن: بن بلائے، بن سنے، بن کہے، بن مانگے
  • پا: پا جامہ، پازیب، پاپوش
  • پُر: پرجوش، پر فضا، پر وقار، پر خلوص، پو اسرار
  • پست: پست قد، پست ہمت، پست سوچ
  • تا: تا حدِ نظر، تا حیات
  • تن: تن درست، تن بدن، تن دہی
  • چو: چوبارہ، چو پایہ، چوراہا، چوکور

    لاحقے “:

    کچھ مفرد الفاظ کے آخر میں بعض علامتیں  بڑھا کر نئے الفاظ بنائے جاتے ہیں۔ان علامتوں کو لاحقہ کہتے ہیں۔جیسے:-

    • انداز: تیر انداز ، نظر انداز ، دخل انداز
    • باز: نظر باز ، شاہ باز، جاں با
    • بند: نظر بند، ازار بند، کمر بند
    • توڑ: منہ توڑ ، جان توڑ، کمر توڑ
    • خوان: دستر خوان، ثنا خوان، نعت خوان، مرثیہ خوان
    • دار: دین دار، جان دار، راز دار، شان دار، ہوا دار
    • پوش: خوش پوش، سفید پوش، کمبل پوش
    • تراش: بت تراش، سنگ تراش، قلم تراش
    • جو: جنگ جو، مہم جو، صلح جو
    • خانہ: دولت خانہ، دوا خانہ، غُسل خانہ
    • تر: بدتر، برتر، خوش تر، کم تر
    • ترین: بد ترین، کم ترین، بہترین
    • چہ: باغیچہ، دیگچہ، صندوقچہ
    • خیز: نو خیز، زرخیز، صبح خیز، مردم خیز
    • ستان: پاکستان، افغانستان، قبرستان، گورستان
    • طلب: آرام طلب، انصاف طلب، محنت طلب
    • کدہ: دولت کدہ، بت کدہ، دانش کدہ
    • دان: سائنس دان، قلم دان، روشن دان، پاندان
    • زادہ: شاہزادہ، حرام زادہ، آدم زادہ، صاحبزادہ
    • فروش: عطر فروش،کتب فروش، گُل فروش
    • خواہ : خیر خواہ، بد خواہ
    • یاب: کم یاب، نایاب، فیض یاب

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *