غزل ۔ احمد فرازؔ ۔ 1933ء ۔2008ء
تعارف شاعر :
- غزل کے شاعر احمد فراز ؔ کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید محمد شاہ برقؔ تھا ۔
- آپ اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر اور نیشنل بک فاونڈیشن کے سربراہ تھے۔
- فرازؔ آزادی اظہار کے قائل تھے۔عشق اور تحریک مزاحمت ان کے کلام میں نمایاں ہے۔
- احمد فرازؔ کی شاعری کو بہت قبولِ عام حاصل ہوا۔ان کی شاعری کے انگریزی ، فرانسیسی ، ہندی ، یوگوسلاوی ، روسی ، جرمن اور پنجابی زبان میں ترجمے ہوئے۔
- سہل ِ ممتنع آپ کے کلام کی خاص خوبی تھی۔ان کے کلام میں شگفتگی کے ساتھ تفکر بھی پایا جاتا ہے۔
- آپ کو ہلال امتیاز ، ستارۂ امتیاز اور نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔سماجی ناانصافیوں پر احتجاج آپ کا خاص موضوع رہا۔آپ نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا ؛ یہاں تک کہ ” ہلال ِ امتیاز ” واپس کر دیا ۔
- آپ کی شاعری کے تیرہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں: تنہا تنہا ، درد آشوب ، نایافت ، غزل بہانہ کروں ، نابینا شہر میں آئینہ ، سب آوازیں میری ہیں ، جاناں جاناں ، اے عشق جنوں پیشہ وغیرہ ۔
شعر نمبر 1: لب کشا لوگ ہیں ۔۔۔
نئے الفاظ کے معنی : لب کشا : بول رہے ہیں
مفہوم : اب لوگوں میں بولنے کی ہمت پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے اب حکومت کو خاموش ہونا پڑے گا
وضاحت : اس شعر میں مزاحمت کی جانب اشارہ ہے۔ جب ظالم و جابر حکمران غریب عوام پر ظلم ڈھاتے ہیں ، ان کے بنیادی حقوق غصب کرتے ہیں ، ان کی زندگی ان پر تنگ کر دیتے ہیں۔ مہنگائی ، غربت ، صحت کی سہولتوں کا فقدان وغیرہ جیسی چیزیں عام ہو جاتی ہیں ۔ کسی کو اس ظلم پر بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔جو بولنے کی جرات کرے اسے نشانۂ عبرت بنانے کے لئے جیلوں میں بھر دیتے ہیں۔ ان سے سچ بولنے کا حق چھین لیتے ہیں ۔ لیکن ایک ایسا وقت آتا ہے کہ یہ ظلم و ستم برداشت کرتے ہوئے لوگ مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔ لہٰذا اب ظالم حکمرانوں کو اپنے ظلم کا حساب دینا ہوگا۔
شعر نمبر 2 : بکنے والوں میں جہاں۔۔۔۔
مفہوم : جب سبھی لوگ بکنے کو تیار بیٹھے ہوں ، وہاں خریدار کو کیا کہا جائے۔
وضاحت : لوگ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر قومی اور عوامی سلامتی کوغیروں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں ۔ اپنی قوم سے غداری اور غیروں سے وفاداری کرتے ہیں ۔اپنی قوم کی عزت و ناموس کا سودا کردیتے ہیں ۔ ہماری تاریخ اسے ضمیر فروشوں اور غداروں سے بھری پڑی ہے ۔شاعر کہتے ہیں کہ جب ایک سے بڑھ کر ایک بندہ بکنے کو تیار بیٹھا ہو ۔اپنے ضمیر کو سستے داموں بیچنے کو تیار ہوں ۔تو ایسے میں خریدار کو کیا بولا جائے۔
مماثل شعر : اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہوگئے بکنے کو سارے لوگ ہی تیار ہوگئے
شعر نمبر 3 : لو چلے آئے عدالت میں۔۔۔۔
مفہوم : عدالت میں جن لوگوں کو میرے خلاف گواہی کے لئے بلایا گیا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا بولیں گے۔
وضاحت : اس شعر میں بھی ضمیر فروشوں کی جانب اشارہ ہے۔ یہ لوگ دولت و منصب کی خاطر ہر طرح کا جھوٹ بولنے کو تیار ہیں۔ آج ان کو عدالت میں گواہی کے لئے بلایا گیا ہے۔ ان کی زبانیں اور ضمیر پہلے ہی بک چکا ہے ۔ یہ عدالت میں کبھی سچی گواہی نہیں دیں گے ۔یہ پیسوں کی خاطر حق اور انصاف کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ شاعر کو معلوم ہے کہ یہ لوگ کبھی سچ نہیں بولیں گے ۔ جب تک ایسے ضمیر فروش موجود ہیں ۔ معاشرے میں کبھی امن قائم نہیں ہوگا۔
محاسن : سہل ِ ممتنع
شعر نمبر 4 : اور کچھ دیر رہے گوش بر۔۔۔
مفہوم : ابھی ہوا میرے بجھنے کی آواز کی منتظر ہے۔جب میں بجھ جاؤں گا تو خاموش ہو جاؤں گا۔
وضاحت :اس شعر میں شاعر نے اپنے لئے چراغ کا استعارہ استعمال کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں چراغ ہوں ۔میرا کام روشنی پھیلانا ہے۔ لوگوں کو حقیقت بتاتا رہوں گا ۔ظلم و جبر کے خلاف لوگوں کو شعور دیتا رہوں گا ۔لوگوں کو اشارہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابھی انتظار کرنا ہوگا۔ ظلم کے خلاف اٹھانے والوں کو حکمران کبھی برداشت نہیں کرتے ۔انہیں خاموش کرانے کے لئے وہ ہر حربہ استعمال کریں گے۔لیکن میں مرتے دم تک ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔
محاسن : استعارہ (چراغِ سر ِ دیوار )
شعر نمبر 5 : مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔۔۔
مفہوم : مجھ سے میری آخری خواہش کیا پوچھتے ہو؟ جو شخص ناکردہ گناہ کے جرم میں پھانسی چڑھنے والا ہو ، وہ کیا بتائے گا۔
وضاحت: جب ظلم و جبر اور ناانصافیوں کے خلاف ہم آواز اُٹھاتے ہیں تو ہمیں قید کردیا جاتا ہے یا پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔اب پھانسی پر چڑھانے سے پہلے ہماری آخری خواہش پوچھی جا رہی ہے ۔ حیرت ہے کہ کیا ان کو ہماری خواہش معلوم نہیں ؟ ہم نے ساری زندگی حق اور سچ کے لئے آواز اُٹھائی ۔ جھوٹ ، ظلم اور نا انصافی کے خلاف آواز بلند کی ۔ یہی ہماری پہلی اور آخری خواہش ہے۔ کیا وہ یہ خواہش پوری کر سکیں گے ؟مجھے معلوم ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ تو پھر یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔
شعر نمبر6 : خلقت ِ شہر تھی چُپ ۔۔۔۔
مفہوم : بادشاہ کے حکم کے بعد پورا شہر خاموش ہو گیا ۔جو حقیقت سے واقف تھے انہوں نے بھی خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
وضاحت : ظلم کے اس نظام نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔کسی کو آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ورنہ وہ سنگین نتائج بھگتے گا۔حاکم وقت نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔سچ بولنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ظلم تو ہوگا، مگر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی لئے جو لوگ سچ جانتے تھے وہ بھی لب کشائی سے ڈر رہے ہیں ۔بہت سے راز جاننے والے بھی خاموش ہوگئے ہیں ۔
محاسن : صنعت تضاد
شعر نمبر 7 : وہی جانے پسِ پردہ ۔۔۔۔
مفہوم : تماشا دکھانے والا ہی جانتا ہے کہ پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے۔ کس کردار کو کب اور کہاں بولنا ہے ۔
وضاحت : ظالم حکمران اپنے ظلم اور حقیقت کو چھپانے کے لئے کوئی دوسرا تماشا دکھاتے ہیں ۔ تاکہ لوگوں میں بغاوت نہ پیدا ہو۔ ان کا مقصد لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹانا ہوتی ہے اور اپنی نااہلیوں اور جرائم پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ لوگوں کے سامنے کچھ اور ظاہر کرتے ہیں ۔ لیکن در ِ پردہ اصل حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ تمام کرداروں کی ڈوریاں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ اپنی مرضی سے وہ سب کو استعمال کرتے ہیں ۔اپنی مرضی کا بیان دلواتے ہیں ۔
مماثل شعر: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھُلا
شعر نمبر 8 : جہاں دربار ہوں شاہوں کے ۔۔۔
مفہوم : جس دربا ر میں صرف بادشاہ کے مصاحبوں کو ہی عزت ملتی ہو ، وہاں غالب ؔ جیسے شاعر کے حمایتی کیا بول سکتے ہیں ۔
وضاحت: ایسے پرآشوب زمانے میں اہل ِ ہنر اور حقیقی قابل انسانوں کی کوئی عزت نہیں ۔ یہاں خوشامدی ، چاپلوس اور جی حضوری کرنے والے لوگوں ہی کی عزت اور مقام ہے۔حکمران ان ہی لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ہر جائز و نا جائز بات پر ان کی تعریف کریں ۔ ان کی ہاں میں ہاں ملائیں ۔ایسے ہی لوگوں کو وہ اپنے قریب رکھتے ہیں اور بڑے بڑے عہدے اور مقام دیتے ہیں ۔ یہ موقع پرست لوگ اصل حقدار کا حق بھی کھا جاتے ہیں ۔جو حاکم کے قریب ہو وہی عزت دار سمجھا جاتا ہے۔ایسے حالات میں مجھ جیسا جو خوشامدی نہیں ، اسے بھلا کیا عزت ملے گی۔
محاسن : صنعت تلمیح ( غالبؔ )
مما ثل شعر : ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب ؔ کی آبرو کیا ہے
مشقی سوالات
صنعت مراعات النظیر : کلام میں کسی چیز کا ذکر کرنا اور پھر اس کی مناسبت سے دوسری چیزیں لانا۔ بہ شرط یہ کہ یہ چیزیں متضاد نہ ہوں ۔ مراعاۃالنظیر کہلاتا ہے۔
مثال :
- پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
- بکنے والوں میں جہاں ایک سے ایک آگے ہو ایسے میلے میں خریدار کو کیا بولنا ہے
- جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
- شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام میرا قیام بھی حجاب ، میراسجود بھی حجاب
خالی جگہیں
- احمد فرزؔ کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔
- آپ کے والد کا نا م سید محمد شاہ برقؔ تھا۔
- فرازؔ نے اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔
- فرازؔ آزادی اظہار کے قائل تھے۔
- فراز نیشنل بُک فاونڈیشن کے سربرا ہ بھی رہے۔
- آپ نے 2004 میں ملنے والا اعزاز ” ہلال امتیاز ” واپس کردیا۔
- فرازؔ کی شاعری کے تیرہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔
- جب لہو بولے تو تلوار کو چُپ رہنا پڑے گا
- شاہوں کے دربار میں غالبؔ کے طرف دار کو بولنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
- پسِ پردہ کے بارے میں تماشہ گر ہی جانتا ہے۔
- اور کچھ دیر رہے گوش بر آواز ہوا
( نرتب کنندہ : شاکرہ کا ظمی )