تعارفِ اقباؔل
- شاعرِ مشرق ، مفکرِ اسلام ، حکیم الامت اور تصورِ پاکستان کے خالق ڈاکٹر علامہ اقباؔل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔
- پیشے کے لحاظ سے آپ وکیل تھے ۔
- آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے حرکت و عمل کا پیغام دیا ۔
- اقبال نے اردو شاعری کو نئے موضوع ، خیالات ، اسلوب اور فلسفیانہ خیالات سے روشناس کرایا ۔
- آپ کی شاعری روایت اور جدّت کا بہترین امتزاج ہے ۔
- آپ نے اپنے کلام میں آیات ِ قرآنی کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا ہے
- آپ نے عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی ۔
- آپ کے کلام کا بڑا حصہ فارسی زبان پر مشتمل ہے ۔
- مجموعۂ کلام : بانگ ِ درا ، بالِ جبریل ، ضرب ِ کلیم ، ارمغان ِ حجاز ، زبور ِ عجم ، جاوید نامہ ، اسرار ِ خودی ، رموز ِ بے خودی وغیرہ ۔
- تصانیف : علم الا قتصاد ، فارس میں ماوراء الطبیعات کا ارتقاء ، خطبات اقبال وغیرہ ۔
بانگِ درا
- بانگ ِ درا برِّ صغیر کے عظیم شاعر و فلسفی محمد اقباؔل کی شاعری پر مشتمل پہلا مجموعۂ کلام ہے ۔
- یہ 1924ء میں شائع ہوا ۔
- بانگ ِ درا قافلے کے گھنٹے کی آواز کو کہتے ہیں ؛ جو قافلے کی روانگی سے پہلے مسافروں کو ہوشیار کرنے کے لئے بلند کی جاتی ہے ۔ تاکہ بھولے بھٹکے مسافروں اور بکھرے ہوئے لوگوں کی رہنمائی ہو جائے۔
- بانگِ درا اقباؔل نے 20 سال کے عرصے میں لکھی۔
- اس کے مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
1۔1905 ء تک لکھی گئی نظمیں
2۔ 1905 ءسے 1908 ء تک لکھی گئی نظمیں
3۔ 1908 ء سے 1923 ء تک لکھی گئی نظمیں
شعر نمبر 1 : جنھیں میں ڈھونڈتا تھا ۔۔۔۔
معنی : ظلمت خانہ : تاریک گھر ، مکین : گھر میں رہنے والے۔
مفہوم :میں جسے زمینوں اور آسمانوں میں ڈھونڈ رہا تھا ۔ وہ تو میرے اندھیرے دل میں ہی موجود تھا ۔
تشریح : یہ شعر تصوّف کا رنگ لئے ہوئے ہے ۔ اقباؔ ل انسان کے دل کو خدا کا گھر بتا رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا۔ زمینوں اور آسما نوں میں اُسے تلاش کرتا رہا ۔ مگر مجھے کہیں کامیابی نہ ملی ۔ اس کے لاکھوں نشانات تو نظر آرہے تھے مگر میں اس تک پہنچ نہیں پارہا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے دل پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے ۔ دنیا کی خواہش اور مادہ پرستی راستے میں حائل تھی ۔ دل گناہوں سے آلودہ تھا ۔لیکن جب عشقِ حقیقی نے میرے دل کی آنکھ پر پڑے غفلت کے پردے اُٹھا دئیے ،اللہ کی محبت نے میرے دل میں شمع جلادی ۔ تو
میرے دل کا اندھیرا گھر روشن ہوگیا ۔ میرے دل کا دھندلا آئینہ صاف و شفاف ہوگیا ۔ اور سارے عکس واضح ہو گئے ۔ اور میں اس حقیقت کو سمجھ گیا کہ جب ہم دنیا کی محبت اور گناہوں کے بوجھ کو اپنے دل سے باہر نکال پھینکتے ہیں تب ہی اپنے محبوب ِ حقیقی یعنی اللہ کا عکس دیکھ پاتے ہیں ۔ اللہ کی لامحدود ذات کو یہ کائنات نہیں سمیٹ سکتی ۔ اللہ صرف ایک مومن کے دل میں سما سکتا ہے ۔
مماثل شعر :
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تُو سما سکے
محاسن :
حمدیہ شعر ، صنعت تضاد ، مرکب ا ضافی
شعر نمبر2:کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے۔۔۔
معنی : مجنوں : پاگل (ایک داستانی کردار جو لیلیٰ کا عاشق تھا ) ،
لیلیٰ : مراد محبوب ، محمل نشیں :اونٹ پر بیٹھنے کے لئے کجاوہ یا ڈولی مں بیٹھنے والے۔
مفہوم :اے مجنوں خود پر غور کر کہ تُو بھی تو لیلیٰ کی طرح محمل کے پردے میں چھُپا ہوا ہے ۔