- تعارفِ شاعر:
- ۱۸۷۳۔۱۹۵۶
- سیالکوٹ کے ایک گاؤں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔
- علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔
- لاہور سے زمیندار اخبار کی اشاعت شروع کی۔
- اپنے اخبار کو تحریکِ آزادی کے لئے استعمال کیا۔
- ظفر علی خان کو بابائے صحافت بھی کہا جاتا ہے،
- آپ قادر الکلام اور بدیہہ گو شاعر تھے۔
- آپ نے سیاسی اور ہنگامی نوعیت کی نظمیں لکھیں۔
- مگر آپ کا اصل میدان حمدیہ اور نعتیہ شاعری تھا۔
- بہارستان، چمنستان، نگارستان وغیرہ ان کے مشہور مجموعہِ کلام ہیں۔
- تشریحات
- ؎ پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگےدورِ جام اْس کا
کسی کو تِشنہ لب رکھتا نہیں ہے دورِ جام اْس کامفہوم:اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم عام ہے۔اس کی رحمت و عنایت سب کے لئے ہے۔وہ کسی کو اس سے محروم نہیں رکھتا۔
مماثل شعر:
؎ صبح پیتا ہوں، شام پیتا ہوں
لے کے مالک کا نام پیتا ہوں
محاسن:
استعارہ۔( مے کش، دورِ جام)
مرکبِ اضافی۔ (دورِ جام ، لطفِ عام )
- ؎گواہی دے رہی ہے اْس کی یکتائی پہ ذات اْس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں ، سچا ایک نام اْس کامفہوم:
اللہ کی ذات اْس کے یکتا ہونے کی خود گواہی دیتی ہے۔وہ لاشریک ہے۔اس کے سوا باقی سب نقش جھوٹے ہیں۔
مماثل شعر:
؎ جگ میں آ کر اِدھر اْدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر ، جیدھر دیکھا
محاسن:
صوفیانہ شعر، وحدانیت کا بیان
- ؎ ہر اِک ذرہ فضا کا داستاں اْس کی سناتا ہے
ہر اِک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اْس کامفہوم:کائنات کا ہر ذرہ اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔
مماثل شعر:
؎ قسم خدا کی، غضب کے ، بلا کے جلوے ہیں
یہ سارے جلوے ہیں کس کے، خدا کے جلوے ہیں
محاسن:
وحدانیت کا بیان،
سادہ و سلیس شعر،
اثر آفرینی
- ؎ میں اس کو کعبہ و بت خانے میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
میرے ٹوٹے ہوئے دِل ہی کے اندر ہے مقام اْس کامفہوم:میں اللہ کو کعبہ یا بت خانے میں کیوں ڈھونڈوں؟ وہ تو میرے ٹوٹے ہوئے دل ہی میں رہتا ہے۔
مماثل شعر:
؎اپنا یوں تو بتاتا ہے وہ سب کو لامکاں اپنا
مگر معلوم ہے رہتا ہے وہ ٹوٹے ہوئے دِل میں
محاسن:
مرکبِ عطفی: ( کعبہ و بت خانہ)
تصوف کا مضمون
زبان و بیان کی عمدگی
- ؎ سراپا معصیت میں ہوں،سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اْس کامفہوم:اللہ غفار ہے،میں بہت گناہ گار ہوں۔ وہ میرے سب گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔
مماثل شعر:
؎ ترے کرم کی بھی کچھ انتہا نہیں یارب !
اگر گناہوں کا میرے کوئی شمار نہیں
محاسن:
متضاد ( خطا کوشی، خطا پوشی)، (معصیت، مغفرت)
جذب و شوق میں بھرا ہوا شعر۔
-
تیار کردہ:شاکرہ کاظمی
فضائیہ انٹر کالج، ملیر کینٹ، کراچی