ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

خُمستانِ ازل کا ساقی۔ مولانا ظفر علی خان

تاریخ: September 6, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف
  • تعارفِ شاعر:
  • ۱۸۷۳۔۱۹۵۶
  • سیالکوٹ کے ایک گاؤں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔
  • علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔
  • لاہور سے زمیندار اخبار کی اشاعت شروع کی۔
  • اپنے اخبار کو تحریکِ آزادی کے لئے استعمال کیا۔
  • ظفر علی خان کو بابائے صحافت بھی کہا جاتا ہے،
  • آپ قادر الکلام اور بدیہہ گو شاعر تھے۔
  • آپ نے سیاسی اور ہنگامی نوعیت کی نظمیں لکھیں۔
  • مگر آپ کا اصل میدان حمدیہ اور نعتیہ شاعری تھا۔
  • بہارستان، چمنستان، نگارستان وغیرہ ان کے مشہور مجموعہِ کلام ہیں۔
  • تشریحات
  • ؎ پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگےدورِ جام اْس کا
    کسی کو تِشنہ لب رکھتا نہیں   ہے       دورِ جام اْس کامفہوم:

     اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم عام ہے۔اس کی رحمت و عنایت سب کے لئے ہے۔وہ کسی کو اس سے محروم نہیں رکھتا۔

    مماثل شعر:

    ؎ صبح پیتا ہوں، شام پیتا ہوں

     لے کے مالک کا نام پیتا ہوں

    محاسن:

    استعارہ۔( مے کش، دورِ جام)

    مرکبِ اضافی۔ (دورِ جام ، لطفِ عام )

  • ؎گواہی دے رہی ہے اْس کی یکتائی پہ ذات اْس کی
    دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں ، سچا ایک  نام اْس کا

    مفہوم:

    اللہ کی ذات اْس کے یکتا ہونے کی خود گواہی دیتی ہے۔وہ لاشریک ہے۔اس کے سوا باقی سب نقش جھوٹے ہیں۔

    مماثل شعر:

    ؎ جگ میں آ کر اِدھر اْدھر دیکھا

     تو ہی آیا نظر ، جیدھر دیکھا

    محاسن:

    صوفیانہ شعر، وحدانیت کا بیان

  • ؎ ہر اِک ذرہ فضا کا داستاں اْس کی سناتا ہے
    ہر اِک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اْس کامفہوم:

    کائنات کا ہر ذرہ اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔

    مماثل شعر:

    ؎ قسم خدا کی، غضب کے ، بلا کے جلوے ہیں

     یہ سارے جلوے ہیں کس کے، خدا کے جلوے ہیں

      محاسن:

    وحدانیت کا بیان،

    سادہ و سلیس شعر،

    اثر آفرینی

  • ؎ میں اس کو کعبہ و بت خانے میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
    میرے ٹوٹے ہوئے دِل ہی کے اندر ہے مقام اْس کامفہوم:

    میں اللہ کو کعبہ یا بت خانے میں کیوں ڈھونڈوں؟ وہ تو میرے ٹوٹے ہوئے دل  ہی میں رہتا ہے۔

    مماثل شعر:

    ؎اپنا یوں تو بتاتا ہے وہ سب کو لامکاں  اپنا

     مگر معلوم ہے رہتا ہے وہ ٹوٹے ہوئے دِل میں

    محاسن:

    مرکبِ عطفی: ( کعبہ و بت خانہ)

    تصوف کا مضمون

    زبان و بیان کی عمدگی

  • ؎ سراپا معصیت میں ہوں،سراپا مغفرت وہ ہے
    خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اْس کامفہوم:

    اللہ غفار ہے،میں بہت گناہ گار ہوں۔ وہ میرے سب گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

    مماثل شعر:

    ؎ ترے کرم کی بھی کچھ انتہا نہیں یارب !

     اگر گناہوں کا میرے  کوئی شمار نہیں

    محاسن:

    متضاد ( خطا کوشی، خطا پوشی)، (معصیت، مغفرت)

    جذب و شوق میں بھرا ہوا شعر۔

  • تیار کردہ:شاکرہ کاظمی

    فضائیہ انٹر کالج، ملیر کینٹ، کراچی

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *