خطوط نویسی / مکتوب نگاری / مراسلہ نگاری/ خط و کتابت
خط عربی زبان کا لفظ ہے ۔ جس کے لغوی معنی لکیر یا نشان اور مجازی یا اصطلاحی معنی ” وہ تحریر جو ایک شخص دوسرے شخص کو متعلقہ احوال یا استفسار کی خاطر بھیجتا ہے ۔ اس تحریر کے ذریعے ایک شخص کی بات دوسرے تک پہنچ جاتی ہے ۔
خطوط کی اقسام
1-غیررسمی خطوط ( خانگی / نجی / شخصی ) :
یہ ذاتی خطوط ہوتے ہیں ۔ جو ہم اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں ، دوستوں اور بزرگوں وغیرہ کو لکھتے ہیں ۔ ان میں بے تکلفی کی فضا پائی جاتی ہے ۔ یہ خطوط خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔
2 – رسمی خطوط :
ایسے خطوط شادی بیاہ یا دیگر معاشرتی و مذہبی تقریبات ، مختلف ادبی ، علمی یا ثقا فتی تقریبات میں شرکت کے دعوت نامے ہوتے ہیں ۔ اس کا نفس ِ مضمون رسمی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ اس میں چند مخصوص الفاظ و تراکیب اور مقررہ جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
3 ۔-عمومی خطوط :
ایسے شخص کو لکھے جانے والے خطوط جن کا موضوع ذاتی نہ ہو بلکہ کسی اجتماعی ، معاشرتی یا قومی مسئلے پر اظہار ِ خیال کیا جاتا ہے ۔ اس میں مخاطب تمام افراد ہوتے ہیں ۔” اخبارات و رسائل ، ایڈیٹر کے نام خط ” کے تحت شائع ہونے والے خط اسی زُمرے میں آتے ہیں ۔
4 – معاملاتی / سرکاری خطوط :
مختلف کاروباری یا معاملاتی مسائل کے تحت تحریر کئے جانے والے خط اس زپمرے میں آتے ہیں ۔ اس خط میں بے تکلفی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔
5 – سرکاری خطوط :
ایسے خطوط جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے حکومت یا کسی سرکاری محکمے سے ہوتا ہے ۔ ان خطوط کا لگا بندھا اور متعین انداز ہوتا ہے ۔ اس میں جدّت طرازی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔
خط کے اجزا ء
- پیشانی :
ذاتی اور نجی خطوط کے اس حصے میں مقام ِ روانگی اور خط لکھنے کی تاریخ تحریر کی جاتی ہے ۔ یہ صفحے کے دائیں کونے پہ لکھا جاتا ہے ۔ عام طور پر پورا پتہ لکھنے کی بجائے صرف مقام ِ روانگی لکھ دیا جاتا ہے ۔ امتحانی پرچے میں ” از کمرۂ امتحان ” لکھا جاتا ہے ۔
2 – القاب :
تاریخ کے نیچے تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر کاتب ( خط لکھنے والا ) مکتوب الیہ ( جس کو خط لکھا جا رہا ہے ) کو مخاطب کرنے کے لئے مناسب الفاظ لکھتا ہے ، جو القاب کہلاتے ہیں ۔ یہ الفاظ مکتوب الیہ کے مقا م و مر تبے کا لحا ظ ر کھتے ہو ئے لکھے جاتے ہیں ۔ بز ر گو ں اور بڑ و ں کے لئے ” محترم ، محترمہ ، مکر می ، بزرگوار ، عزیزم ، جناب یا برخوردار ” جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں ۔
3 – آداب :
اس حصے میں نئی سطر سے مکتوب الیہ کے مقام و مرتبے اور عمر کے لحاظ سے سلام یا دعا لکھ دی جاتی ہے ۔ عام طور پر ” اسلام علیکم ، آداب ، تسلیمات یا خوش رہو ” لکھا جاتا ہے ۔
4 – نفس ِ مضمون :
اس حصے میں مکتوب نگار وجۂ تحریر ، مُدعا یا مطلب بیان کرتا ہے ۔ اس کے تین حصے کئے جاتے ہیں ۔ تمہید ، نفس ِ مضمون ، اختتامیہ جملے ۔ شروع میں چند تمہیدی کلمات تحریر کئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد خط لکھنے والا اصل مدعا یا مطلب کی طرف پر آتا ہے ۔یہ حصہ سلیس اور مختصر ہونا چاہیئے ۔ فقرے موزوں ، شگفتہ اور بر جستہ ہونے چاہیئں ۔ زبان سادہ اور آسان ہو ۔ آخر میں چند اختتامی کلمات لکھے جائیں گے ۔
5 – اختتام :
دعائیہ کلمات کے بعد ایک یا دو سطر چھوڑ کر صفحے کے بائیں کونے میں خط لکھنے والا مکتوب الیہ کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے اُن سے اپنا رشتہ اور ” وسلام ، دعا گو ، مخلص یا نیاز مند ” و غیر ہ لکھا جاتا ہے ۔
6 – مکتوب الیہ کا پتہ :
خط کے لفافے پر مکتوب الیہ کا پتہ لکھا جاتا ہے ۔ جس میں مکتوب الیہ کا نام ، گھر کا نمبر ، گلی ، محلہ یا علاقے کا نمبر ، اور پھر شہر اور ملک کا نام لکھا جاتا ہے ۔
مثال :
محمد یعقوب خان
مکان نمبر : 115 ، گلی نمبر : 8
ماڈل کالونی ، ملیر
کراچی
پاکستان
ہدایات برائے امتحان :
- اپنا ، اپنے شہر یا کالج کا نام نہ لکھیں ۔ صرف کمرۂ امتحان لکھیں ۔
- تاریخ لکھیں ۔
- خط ترتیب وار اور مناسب الفاظ میں لکھیں ۔ عبارت سلیس اور سادہ ہو ۔ خط کو بے جا طول نہ دیں ۔جامع انداز اختیار کریں ۔
- القاب و آداب اور اختتام مکتوب الیہ کے مقام ومرتبے او ر مکتوب نگار کے اس سے رشتے کے مطابق ہونا چاہیئے ۔
- اپنا نام لکھنے کے بجائے ( ا-ب-ج ) لکھیں ۔
نمونے کا خط