ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

خطوط نویسی

تاریخ: May 10, 2026 مصنف: shakra زمرہ: قواعد

خطوط  نویسی / مکتوب  نگاری / مراسلہ نگاری/ خط و کتابت

خط عربی زبان کا لفظ ہے ۔ جس کے لغوی معنی لکیر یا نشان اور مجازی  یا اصطلاحی معنی ” وہ تحریر جو ایک شخص دوسرے شخص کو متعلقہ احوال  یا استفسار  کی خاطر بھیجتا ہے ۔ اس تحریر کے ذریعے ایک شخص کی بات دوسرے تک پہنچ جاتی ہے ۔

خطوط کی اقسام

1-غیررسمی  خطوط ( خانگی / نجی / شخصی  ) :

یہ ذاتی خطوط ہوتے ہیں ۔ جو ہم اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں ، دوستوں  اور بزرگوں وغیرہ کو لکھتے ہیں ۔ ان میں بے تکلفی کی فضا پائی جاتی ہے ۔ یہ خطوط خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔

2 – رسمی خطوط :

ایسے  خطوط شادی بیاہ  یا دیگر  معاشرتی و مذہبی   تقریبات ، مختلف ادبی ، علمی  یا ثقا فتی تقریبات میں شرکت کے دعوت نامے  ہوتے ہیں ۔ اس کا  نفس ِ مضمون رسمی نوعیت کا  ہوتا ہے ۔   اس  میں چند مخصوص الفاظ و تراکیب اور مقررہ جملوں کا  استعمال کیا جاتا ہے ۔

3  ۔-عمومی خطوط :

     ایسے شخص کو لکھے جانے والے خطوط  جن کا موضوع ذاتی نہ ہو بلکہ  کسی اجتماعی ، معاشرتی یا قومی مسئلے پر اظہار ِ خیال کیا جاتا ہے ۔ اس میں مخاطب تمام افراد ہوتے ہیں ۔”   اخبارات  و رسائل ، ایڈیٹر کے نام خط   ” کے تحت شائع ہونے والے خط اسی زُمرے میں آتے ہیں ۔

 

 4 – معاملاتی / سرکاری خطوط :

مختلف کاروباری یا معاملاتی  مسائل  کے تحت تحریر کئے جانے والے خط اس زپمرے میں آتے ہیں ۔ اس خط میں بے تکلفی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔

5 – سرکاری خطوط :

ایسے خطوط  جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے حکومت یا کسی سرکاری محکمے سے ہوتا ہے ۔ ان خطوط کا لگا بندھا اور متعین انداز ہوتا ہے ۔ اس میں جدّت طرازی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔

خط کے اجزا ء

  • پیشانی :

 ذاتی اور نجی خطوط کے اس حصے میں مقام ِ روانگی   اور خط لکھنے کی تاریخ  تحریر  کی جاتی ہے ۔ یہ صفحے کے دائیں کونے پہ لکھا جاتا ہے ۔ عام طور پر پورا پتہ لکھنے کی بجائے صرف مقام ِ روانگی لکھ دیا جاتا ہے ۔ امتحانی پرچے میں  ” از کمرۂ امتحان ” لکھا جاتا ہے ۔

2 – القاب :

تاریخ  کے نیچے تھوڑی سی جگہ چھوڑ کر کاتب ( خط لکھنے والا )  مکتوب الیہ ( جس کو خط لکھا جا رہا ہے ) کو مخاطب کرنے کے لئے  مناسب الفاظ لکھتا ہے  ، جو القاب کہلاتے ہیں ۔ یہ الفاظ مکتوب الیہ کے مقا م و مر تبے کا لحا ظ ر کھتے ہو ئے لکھے جاتے ہیں ۔ بز ر گو ں اور بڑ و ں کے لئے ” محترم ، محترمہ ، مکر می ، بزرگوار ، عزیزم ، جناب  یا برخوردار ” جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں ۔

3 – آداب  :

اس حصے میں نئی سطر سے مکتوب الیہ کے مقام و مرتبے اور عمر کے لحاظ سے  سلام یا دعا لکھ دی جاتی ہے ۔ عام طور پر ” اسلام علیکم ، آداب ، تسلیمات  یا خوش رہو ” لکھا جاتا  ہے  ۔

   4 – نفس ِ مضمون  :

اس حصے میں مکتوب نگار وجۂ تحریر ، مُدعا یا مطلب بیان کرتا ہے ۔ اس کے تین حصے کئے جاتے ہیں ۔ تمہید ، نفس ِ مضمون ، اختتامیہ جملے ۔ شروع میں چند  تمہیدی کلمات  تحریر کئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد خط لکھنے والا اصل مدعا یا مطلب  کی طرف  پر آتا ہے ۔یہ حصہ سلیس اور مختصر ہونا چاہیئے ۔ فقرے موزوں ، شگفتہ  اور بر جستہ ہونے چاہیئں  ۔ زبان سادہ اور آسان ہو ۔ آخر میں چند اختتامی کلمات  لکھے جائیں گے ۔

5 – اختتام :

دعائیہ کلمات کے بعد ایک یا دو سطر چھوڑ کر صفحے کے بائیں کونے میں  خط لکھنے والا  مکتوب الیہ  کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے  اُن سے  اپنا رشتہ اور ” وسلام ، دعا گو ، مخلص  یا نیاز مند ” و غیر ہ لکھا جاتا ہے ۔

6 – مکتوب الیہ کا پتہ :

خط کے لفافے پر مکتوب الیہ کا پتہ لکھا جاتا ہے ۔ جس میں مکتوب الیہ کا نام ،  گھر کا نمبر ، گلی ، محلہ یا علاقے کا نمبر ، اور پھر شہر اور ملک کا نام لکھا جاتا ہے ۔

 

 

 

 

مثال :

محمد یعقوب خان

مکان نمبر  : 115  ، گلی نمبر  : 8

ماڈل کالونی ، ملیر

کراچی

پاکستان

ہدایات  برائے امتحان  :

  • اپنا ، اپنے شہر یا کالج کا نام نہ لکھیں ۔ صرف کمرۂ امتحان لکھیں ۔
  • تاریخ لکھیں ۔
  • خط ترتیب وار اور مناسب الفاظ میں لکھیں ۔ عبارت سلیس اور سادہ ہو ۔ خط کو بے جا طول نہ دیں ۔جامع انداز اختیار کریں ۔
  • القاب و آداب اور اختتام مکتوب الیہ کے مقام ومرتبے او ر مکتوب نگار کے اس سے رشتے کے مطابق ہونا چاہیئے ۔
  • اپنا نام لکھنے کے بجائے ( ا-ب-ج ) لکھیں ۔

 

 

 

نمونے کا  خط

 

 

 

 

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *