تعریف :
لفظ”تبصرہ “عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ اسم ہے اور اسے مذکر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اردو زبان میں اس کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے :
(لفظاً) کسی کو کوئی چیز دکھانا، (مجازاً) کسی بات کے متعلق اظہار رائے، بصیرت کا اظہار۔
کسی کتاب یا رسالے وغیرہ کو پڑھ کر اس کی خوبی یا خامی کے بارے میں رائے دینا۔
کسی امر یا واقعہ کے بیان میں خوبی اور خامیوں کا ذکر۔
بسم اللہ الرحمان الرحیم
تبصرہ: “چڑیا گھر”از قلم غلام محی الدین
آج مشہور صحافی غلام محی الدین کے روزنامہ جنگ کے لیےلکھے گئے مضمون “چڑیا گھر” پر تبصرہ کیا جائے گا۔ غلام محی الدین ایک طویل عرصے تک سیاحت اور مختلف مقامات کی تاریخ کے حوالے سے روزنامہ جنگ کراچی میں لکھتے رہے ہیں۔ان کایہ مضمون بھی انہی نگارشات میں سے ایک ہے جو او لیول اردو بتول علی کی کتاب کا حصہ بنتے ہوئے صفحہ نمبر ۱۰۱ پر اقتباس نمبر ۵۶ کی صورت میں موجود ہے۔
اس اقتباس میں مصنف نے چڑیا گھر کی تاریخ ، اس کے بننے کی وجوہات ، اہمیت اور درپیش مسائل کو خوبی سے اُجاگر کیا ہے۔سب سے پہلا چڑیا گھر کہاں اور کیوں بنا، بڑے اور مشہور چڑیا گھرکی خصوصیات، چڑیا گھر بنانے کی وجوہات اور کراچی کے چڑیا گھر کی حالتِ زار، ان سب کا احاطہ اس تحریر میں جس خوبصورتی سے کیا گیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔
اس مختصر اقتباس میں نہ صرف چڑیا گھر کے ماضی سے حال کا سفر اور اپنے یہاں کے مسائل کا اعادہ کیا گیا ہےبلکہ ان مسائل کے حل کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ یہ اقتباس دلچسپ، معلوماتی اور مسائل کی نشاندہی کرنے والی تحریر ہے۔
(تبصرہ نگار: شاکرہ کاظمی
2اکتوبر 2024
(اندازاً ۲۲۵الفاظ)
بسم اللہ الرحمان الرحیم
تبصرہ: “قصبے کا اغوا “(مصنف: اشتیاق احمد)
زیرِ نظر تبصرہ بچوں کے معروف ادیب اشتیاق احمد کی کہانی “قصبے کا اغوا” پر کیا جارہا ہے۔یہ تصنیف ان کی مشہور سیریز، انسپکٹر جمشید سیریز کا حصہ ہے۔اسے انداز پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے اور قیمت ۲۰۰ پاکستانی روپے مقرر کی گئی ہے۔
اشتیاق احمد کی یہ سیریزتجسس اور ایکشن سے بھرپورہے۔کتاب کا آغاز حدیثِ نبویؐ اور عرضِ مصنف سے ہوتا ہے۔اس کہانی میں انسپکٹر جمشید اور ان کے ساتھی پروفیسر داود،خان رحمان، فاروق اور فرزانہ ایک دور دراز قصبے سے لوگوں کے گمشدہ ہونے کے کیس کو حل کرنے نکلے اور راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا بہادری سے سامنا کرتے ہوئے دشمنوں کی چالوں کو اپنی عقل مندی سے ناکام بنادیا ۔اس دوران ان کے لیے بچھائے گئے جال اور مکارانہ سازشوں کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کی دلچسپی کہانی کے اختتام تک قائم رہتی ہے۔اِس کہانی کا انجام سبق آموز بھی ہے اور حب الوطنی سے بھرپور بھی۔
یہ کہانی غالباً آٹھ تا بارہ سال کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کے پلاٹ میں بسا اوقات ایسا لگا کہ بچوں کی مناسبت سے آسان کہانی بنانے کی خاطر ولن کو کمزور دکھایا گیا اور اس کی کمزوریوں سے انسپکٹر جمشید کو فائدہ ملتا دکھایا گیا۔تاہم کم عمر قارئین کے لیے یہ ایک دلچسپ، نصیحت سے بھرپور اور اردو زبان میں دلچسپی بڑھانے کے لیے عمدہ کاوش ہے۔
(تبصرہ نگار: شاکرہ کاظمی
2 اکتوبر ۲۰۲۴
(اندازاً۲۳۰ الفاظ)