ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

قواعد: روز مرہ، محاورہ اور ضرب الا مثال

تاریخ: July 7, 2026 مصنف: shakra زمرہ: قواعد

ر و ز  مر ہ   ،  محا و ر ہ  ا و ر  ضر ب  ا لا  مثا ل

روز مرہ :

روز مرہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ روزانہ کی عام بول چال کو ‘’ روزمرہ ‘’ کہتے ہیں ۔جو خاص اہل ِ زبان استعمال کرتے ہوں ۔ روز مرہ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہ مفرد بھی ہو سکتا ہے؛ اسم ، فعل یا صفت بھی ہو سکتا ہے ۔ اس میں قیاس  

( خیال ) کو دخل نہیں  بلکہ سماعت پر دارومدار ہے ۔ تحریر و تقریر میں جہاں تک ممکن ہو اس کی پابندی ضروری خیال کی جاتی ہے ۔ جس قدر اس کی پابندی کی جائے گی ؛ کلام کو اُسی قدر معیاری ، فصیح اور شُستہ سمجھا جائے گا ۔

محا و ر ہ  :

جب دو یا دو سے ذیادہ مرکب الفاظ جب اہنے مجازی معنوں میں استعمال ہوں ؛ محاورہ کہلاتے ہیں ۔ تحریر و تقریر میں محاورے کا استعمال ضروری نہیں  ؛ البتہ سلیقے کے ساتھ ۔ محاورے کے استعمال سے کلام میں خوب صورتی پیدا ہوتی ہے ۔

مثا ل :

دھوکہ کھا نا  ، قسم  کھا نا  ،  ٹھوکر  کھا نا  ، غم  کھا نا

ضر ب  ا لا  مثا ل :

ضرب کے معنی بیان کرنا اور امثال مثال کی جمع ہے۔ یعنی مثالیں بیان کرنا ۔ مگر یہ مثالیں عام نہیں ہوتیں  ، خاص ہوتی ہیں ۔ اس کو اردو میں کہاوت بھی کہتے ہیں ۔مثال کے چند الفاظ پوری کہانی کا حوالہ ہوتے ہیں ۔  وہ چند الفاظ پڑھ کر پورا قصہ سمجھ میں آجاتا ہے ۔

مثا ل  :

بخشو خالہ بی ، چوہا لنڈورا ہی بھلا

ہم بھی ہیں پانچوں سواروں میں

ٹیڑھی کھیر

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

وغیرہ

ضر ب  ا لا  مثا ل :

  1. ہا تھو ں کے  طو طے  اُ ڑ نا  :  امتحانوں کی خبر سنتے ہی طلباء کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
  2. ہو ا ئی قلعہ  بنا نا  : کلیم نکما اور کام چور ہے ، بیٹھا ہوائی قلعے بناتا رہتا ہے۔
  3. نو د و  گیا ر ہ  ہو نا  :  پولیس کو دیکھتے ہی چور نو دو گیارہ ہوگیا۔
  4. نا م کو  بٹا  لگا نا  :  ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیئے جس سے ہمارے والدین کے نیک نام کو بٹا لگے۔
  5. منہ پر  ر و نق  آ نا  :  بچے کو تندرست دیکھ کر ماں کے منہ پر رونق آگئی۔
  6. مُر د و ں سے  شر ط  با ند ھ  کر  سو نا  :  مُردوں سے شرط باندھ کر سونے والے  اکثر بیمار ہوتے ہیں ۔
  7. کھٹا ئی میں  پڑ نا  :  مسئلہ کشمیر قیام ِ پاکستان سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

مز ید  مثا لیں

  • ہُن بر سنا  : ( دولت کی فراوانی ہونا )                                    

گندم کی فصل پکتے ہی گاؤں کے چودھری  کے ہاں ہُن برسنے لگتا ہے۔

  • ہا تھو ں کے  طو طے  اُ ڑ نا  : (ہوش اُڑنا )

اپنی فیکٹری پر پولیس کے چھاپے کی خبر سن کر بٹ صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔

  • ننا نو ے کے  پھیر  میں  آ نا  : ( دولت جمع کرنے کی فکر کرنا)

جب سے سیٹھ داؤد ننانوے کے پھیر میں آیا ہے ، بچوں کی پرواہ ہے نہ اپنی صحت کی۔

  • نیکی بر با د  گنا ہ  لا ز م  : ( بھلائی کرنا مگر برائی پانا )

بد طینت شخص کے ساےھ خواہ کتنی  ہی بھلائی کرو مگر انجام وہی کہ نیکی برباد گناہ لازم۔

  • کھو ے سے  کھو ا  چھلنا  : ( بہت بھیڑ ہونا )

بازار میں اتنا رش تھا کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔

  • مو م کی  نا ک  ہو نا  :( اپنی کوئی  رائے نہ رکھنا )

چھوٹے بچے موم کی ناک کی طرح ہوتے ہیں ؛ انہیں جس طرح چاہو ڈھال لو۔

  • گھُٹی میں  پڑ نا  : ( فطرت میں داخل ہونا )

جھوٹ بولنا تو اُس کی گھُٹی میں پڑا ہوا ہے ۔

  • لکیر کا  فقیر  ہو نا  : (پرانی رسموں کا پابند ہونا )

سرسید احمد خان اس بات کے خلاف تھے کہ مسلمان  لکیر کے فقیر ہوں ؛ بلکہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

  • گر گٹ کی  طر ح  ر نگ  بد لنا  :  ( ایک حالت میں نہ رہنا )

اس کمپنی سے کوئی کاروباری لین دین نہ رکھنا کیونکہ اس کا مالک گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔

  • کشتو ں کے  پشتے  لگ  جا نا  :  ( لاشوں کے ڈھیر لگ جانا)

ایسی خون ریز جنگ ہوئی کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔

ر و ز  مر ہ  ا و ر  محا و ر ے  کا  فر ق

محاورہ

•      محاورہ مطلقاً بات چیت کو کہتے ہیں ۔خواہ وہ اہل ِ زبان کی بول چال کے مطابق ہو یا مخالف ۔

•      محاورہ دو یا دو سے ذیادہ الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے ۔

•      محاورہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔

•      نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں محاورے کی پابندی ضروری نہیں ۔

 

روز مرہ

•      اہلِ زبان کی بول چال روز مرہ کہلاتی ہے ۔

•      روز مرہ مفرد عدد ہوسکتا ہے ۔

•      روز مرہ حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔

•      نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں روزمرہ کی پابندی ضروری ہے ۔

 

ر و ز  مر ہ   کے  لحا ظ  سے  فقر ا ت  کی  د ر ستی

  1. پاکستان دن بہ دن ترقی کر رہا ہے ۔
    1. پاکستان روز بہ روز ترقی کر رہا ہے ۔
  2. میں ہر روز بے ناغہ سیر کو جاتا ہوں ۔
    1. میں ہر روز بلا ناغہ سیر کو جاتا ہوں ۔
  3. شریف بچے گالیاں نہیں نکالتے۔
    1. شریف بچے گالیاں نہیں دیتے ۔

  1. شور سن کر میری نیند کھُل گئی۔
    1. شور سن کر میری آنکھ کھُل گئی۔
  2. مجھے پچاس روپوں کی سخت ضرورت ہے ۔
    1. مجھے پچاس روپے کی سخت ضرورت ہے ۔

محا و ر ے  کے   لحا ظ  سے  فقر ا ت  کی  د ر ستی

  1. ٹیسٹ نے ندیم کی لیاقت کا بھانڈا توڑ دیا ۔

ٹیسٹ نے ندیم کی  قا بلیت کا بھانڈا  پھوڑ دیا ۔

  1. تم نے تو حاتم طائی کی قبر پر پاؤں مار دیا ۔

تم نے تو حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ۔

  1. کاغذ کی کشتی کب تک بہے گی ۔

کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی ۔

  1. عقل بڑی کہ گائے۔

عقل بڑی کہ بھینس ۔

  1. یہ منہ ماش کی دال۔

یہ منہ مسور کی دال ۔

محا و ر ا ت  کو  ا پنے  جملو ں  میں  ا ستعما ل  کر نا

1-منہ  کی  کھا نا  :  ہندوستان نے پاکستان پر کئی بار حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ منہ کی کھائی۔

2-سبز  با غ  د کھا نا  :  کریمن بوا نے عالیہ کو سبز باغ دکھا کر سارے زیور ہتھیا لئے۔

3- گلے   پڑ نا  :  یہ نیکی تو میرے گلے پڑ گئی ۔

4- د ا نہ  پا نی  اُ ٹھنا  :  عامر اتنا بیمار تو نہیں تھا ؛ بس اس کا دانہ پانی اُٹھ گیا تھا ۔

5- گلے   با ند ھنا  :   طلحہ نے اپنی چکنی چپٹری باتوں میں الجھا کر اپنی کھٹارا گاڑی نوید کے گلے  باندھ دی ۔

6- آ نکھیں  بچھا نا   :  اچھے لوگ مہمانوں کی آمد پر  ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دیتے ہیں ۔

7- پنجے   جھا ڑ  کر  :  تم تو میرے پیچھے پنجے  جھاڑ کر  پڑ گئے ہو ۔

8- حجا مت  بنا نا  :  مارکیٹ میں ہر دکاندار  گاہگوں کی خوب حجا مت بناتا ہے ۔

9- ہا تھ   پھیلا نا  :   دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا  آدمی کو بے عزت کر دیتا ہے ۔

10 – ا و نے  پو نے  بیچنا  :   شدید مجبوری کے عالم میں  عمر نے اپنا گھر اونے پونے بیچ دیا ۔

(  مر تب  کنند ہ  :  شا کر ہ  کا ظمی  )

 

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *