ر و ز مر ہ ، محا و ر ہ ا و ر ضر ب ا لا مثا ل
روز مرہ :
روز مرہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ روزانہ کی عام بول چال کو ‘’ روزمرہ ‘’ کہتے ہیں ۔جو خاص اہل ِ زبان استعمال کرتے ہوں ۔ روز مرہ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہ مفرد بھی ہو سکتا ہے؛ اسم ، فعل یا صفت بھی ہو سکتا ہے ۔ اس میں قیاس
( خیال ) کو دخل نہیں بلکہ سماعت پر دارومدار ہے ۔ تحریر و تقریر میں جہاں تک ممکن ہو اس کی پابندی ضروری خیال کی جاتی ہے ۔ جس قدر اس کی پابندی کی جائے گی ؛ کلام کو اُسی قدر معیاری ، فصیح اور شُستہ سمجھا جائے گا ۔
محا و ر ہ :
جب دو یا دو سے ذیادہ مرکب الفاظ جب اہنے مجازی معنوں میں استعمال ہوں ؛ محاورہ کہلاتے ہیں ۔ تحریر و تقریر میں محاورے کا استعمال ضروری نہیں ؛ البتہ سلیقے کے ساتھ ۔ محاورے کے استعمال سے کلام میں خوب صورتی پیدا ہوتی ہے ۔
مثا ل :
دھوکہ کھا نا ، قسم کھا نا ، ٹھوکر کھا نا ، غم کھا نا
ضر ب ا لا مثا ل :
ضرب کے معنی بیان کرنا اور امثال مثال کی جمع ہے۔ یعنی مثالیں بیان کرنا ۔ مگر یہ مثالیں عام نہیں ہوتیں ، خاص ہوتی ہیں ۔ اس کو اردو میں کہاوت بھی کہتے ہیں ۔مثال کے چند الفاظ پوری کہانی کا حوالہ ہوتے ہیں ۔ وہ چند الفاظ پڑھ کر پورا قصہ سمجھ میں آجاتا ہے ۔
مثا ل :
بخشو خالہ بی ، چوہا لنڈورا ہی بھلا
ہم بھی ہیں پانچوں سواروں میں
ٹیڑھی کھیر
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
وغیرہ
ضر ب ا لا مثا ل :
- ہا تھو ں کے طو طے اُ ڑ نا : امتحانوں کی خبر سنتے ہی طلباء کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
- ہو ا ئی قلعہ بنا نا : کلیم نکما اور کام چور ہے ، بیٹھا ہوائی قلعے بناتا رہتا ہے۔
- نو د و گیا ر ہ ہو نا : پولیس کو دیکھتے ہی چور نو دو گیارہ ہوگیا۔
- نا م کو بٹا لگا نا : ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیئے جس سے ہمارے والدین کے نیک نام کو بٹا لگے۔
- منہ پر ر و نق آ نا : بچے کو تندرست دیکھ کر ماں کے منہ پر رونق آگئی۔
- مُر د و ں سے شر ط با ند ھ کر سو نا : مُردوں سے شرط باندھ کر سونے والے اکثر بیمار ہوتے ہیں ۔
- کھٹا ئی میں پڑ نا : مسئلہ کشمیر قیام ِ پاکستان سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔
مز ید مثا لیں
- ہُن بر سنا : ( دولت کی فراوانی ہونا )
گندم کی فصل پکتے ہی گاؤں کے چودھری کے ہاں ہُن برسنے لگتا ہے۔
- ہا تھو ں کے طو طے اُ ڑ نا : (ہوش اُڑنا )
اپنی فیکٹری پر پولیس کے چھاپے کی خبر سن کر بٹ صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
- ننا نو ے کے پھیر میں آ نا : ( دولت جمع کرنے کی فکر کرنا)
جب سے سیٹھ داؤد ننانوے کے پھیر میں آیا ہے ، بچوں کی پرواہ ہے نہ اپنی صحت کی۔
- نیکی بر با د گنا ہ لا ز م : ( بھلائی کرنا مگر برائی پانا )
بد طینت شخص کے ساےھ خواہ کتنی ہی بھلائی کرو مگر انجام وہی کہ نیکی برباد گناہ لازم۔
- کھو ے سے کھو ا چھلنا : ( بہت بھیڑ ہونا )
بازار میں اتنا رش تھا کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
- مو م کی نا ک ہو نا :( اپنی کوئی رائے نہ رکھنا )
چھوٹے بچے موم کی ناک کی طرح ہوتے ہیں ؛ انہیں جس طرح چاہو ڈھال لو۔
- گھُٹی میں پڑ نا : ( فطرت میں داخل ہونا )
جھوٹ بولنا تو اُس کی گھُٹی میں پڑا ہوا ہے ۔
- لکیر کا فقیر ہو نا : (پرانی رسموں کا پابند ہونا )
سرسید احمد خان اس بات کے خلاف تھے کہ مسلمان لکیر کے فقیر ہوں ؛ بلکہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
- گر گٹ کی طر ح ر نگ بد لنا : ( ایک حالت میں نہ رہنا )
اس کمپنی سے کوئی کاروباری لین دین نہ رکھنا کیونکہ اس کا مالک گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔
- کشتو ں کے پشتے لگ جا نا : ( لاشوں کے ڈھیر لگ جانا)
ایسی خون ریز جنگ ہوئی کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔
ر و ز مر ہ ا و ر محا و ر ے کا فر ق
| محاورہ
• محاورہ مطلقاً بات چیت کو کہتے ہیں ۔خواہ وہ اہل ِ زبان کی بول چال کے مطابق ہو یا مخالف ۔ • محاورہ دو یا دو سے ذیادہ الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے ۔ • محاورہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ • نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں محاورے کی پابندی ضروری نہیں ۔
|
روز مرہ
• اہلِ زبان کی بول چال روز مرہ کہلاتی ہے ۔ • روز مرہ مفرد عدد ہوسکتا ہے ۔ • روز مرہ حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ • نظم و نثر ، تحریر و تقریر میں روزمرہ کی پابندی ضروری ہے ۔
|
ر و ز مر ہ کے لحا ظ سے فقر ا ت کی د ر ستی
- پاکستان دن بہ دن ترقی کر رہا ہے ۔
- پاکستان روز بہ روز ترقی کر رہا ہے ۔
- میں ہر روز بے ناغہ سیر کو جاتا ہوں ۔
- میں ہر روز بلا ناغہ سیر کو جاتا ہوں ۔
- شریف بچے گالیاں نہیں نکالتے۔
- شریف بچے گالیاں نہیں دیتے ۔
- شور سن کر میری نیند کھُل گئی۔
- شور سن کر میری آنکھ کھُل گئی۔
- مجھے پچاس روپوں کی سخت ضرورت ہے ۔
- مجھے پچاس روپے کی سخت ضرورت ہے ۔
محا و ر ے کے لحا ظ سے فقر ا ت کی د ر ستی
- ٹیسٹ نے ندیم کی لیاقت کا بھانڈا توڑ دیا ۔
ٹیسٹ نے ندیم کی قا بلیت کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔
- تم نے تو حاتم طائی کی قبر پر پاؤں مار دیا ۔
تم نے تو حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ۔
- کاغذ کی کشتی کب تک بہے گی ۔
کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی ۔
- عقل بڑی کہ گائے۔
عقل بڑی کہ بھینس ۔
- یہ منہ ماش کی دال۔
یہ منہ مسور کی دال ۔
محا و ر ا ت کو ا پنے جملو ں میں ا ستعما ل کر نا
1-منہ کی کھا نا : ہندوستان نے پاکستان پر کئی بار حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ منہ کی کھائی۔
2-سبز با غ د کھا نا : کریمن بوا نے عالیہ کو سبز باغ دکھا کر سارے زیور ہتھیا لئے۔
3- گلے پڑ نا : یہ نیکی تو میرے گلے پڑ گئی ۔
4- د ا نہ پا نی اُ ٹھنا : عامر اتنا بیمار تو نہیں تھا ؛ بس اس کا دانہ پانی اُٹھ گیا تھا ۔
5- گلے با ند ھنا : طلحہ نے اپنی چکنی چپٹری باتوں میں الجھا کر اپنی کھٹارا گاڑی نوید کے گلے باندھ دی ۔
6- آ نکھیں بچھا نا : اچھے لوگ مہمانوں کی آمد پر ان کی راہ میں آنکھیں بچھا دیتے ہیں ۔
7- پنجے جھا ڑ کر : تم تو میرے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گئے ہو ۔
8- حجا مت بنا نا : مارکیٹ میں ہر دکاندار گاہگوں کی خوب حجا مت بناتا ہے ۔
9- ہا تھ پھیلا نا : دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا آدمی کو بے عزت کر دیتا ہے ۔
10 – ا و نے پو نے بیچنا : شدید مجبوری کے عالم میں عمر نے اپنا گھر اونے پونے بیچ دیا ۔
( مر تب کنند ہ : شا کر ہ کا ظمی )