ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مختلف اندازِ بیان (جملہ)

تاریخ: May 5, 2026 مصنف: shakra زمرہ: قواعد

مختلف انداز ِ بیان( جملہ)

اردو  زبان کے اکثر جملے اپنے لہجے ، تیور ، اسلوب اور لفظوں کے انتخاب کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ۔ اختلاف کا ایک سبب تو وہ بات یا مفہوم  ہے جسے اظہار میں لانا مقصود ہے ؛ دوسری جانب اپنے فرضی یا حقیقی قارئین تک بات پہنچانا  مقصود ہے ۔

  • صحافتی اندا ز  :         صحا فتی  پیرائیۂ  بیا ن  سادہ  ہوتا ہے  ۔ کیوں کہ اخبار کے قاری  ہر ذہنی سطح کے  لوگ ہوتے ہیں ۔

مثا ل  :          پاکستان کو 2000 میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ۔

  • دفتری انداز  :   دفتری زبان کی مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں ۔جنھیں دفتر کے لوگ ہی سمجھتے ہیں ۔

مثا ل :         چٹھی نمبر ی 215 / 1 ای کے تحت علی کی خدمات محکمۂ تعلیم کے سپرد کی جاتی ہیں ۔

  • قانونی ا ور عدالتی  انداز  :            قانون اور عدالت کی مخصوص زبان  ، الفاظ  اور اصطلاحات ہوتے ہیں  ۔جن کے مفاہیم و مطالب طے شدہ ہوتے ہیں  اور ابہام سے یکسر پاک ہوتے ہیں ۔

مثا ل  :       قرار دیا جاتا ہے کہ فلاں ابن ِ فلاں تعزیرات ِ پاکستان کے دفعہ فلاں کے تحت فلاں جرم کا مرتکب ہوا ہے ۔

  • تکنیکی انداز  :           ہر شعبۂ علم کی خاص زبان ہوتی ہے ۔طب ، انجینئرنگ ، کامرس ، طبیعات ، کیمیا ، حیاتیات ، فلکیات  اور ریاضی وغیرہ کی زبان اور اصطلاحات جدا جدا ہیں ۔ جنھیں متعلقہ شعبۂ علم کے اساتذہ ، طلبہ اور دیگر متعلقین ہی سمجھتے ہیں ۔

مثا ل  :        کمپیوٹر کا ہارڈ ویئر اس کا دماغ اور سافٹ ویئر اس کا ذہن ہے  ۔

  • ا دبی پیرائیۂ  بیا ن   :        اس انداز میں ابہام اور حُسن ہوتا ہے ۔کیوں کہ اس میں خیال اور جذبہ دونوں ہی موجود ہوتے ہیں ۔ خیال میں قطعیت  جب کہ جذبے میں دھند اور ابہام ہوتا ہے ۔

مثا ل :        اگر تیرا قول صادق ہے توشہد فائق ہے  ورنہ تھوک دینے کے لائق ہے ۔

(تیا ر کردہ  : شاکرہ  کا ظمی)

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *