مختلف انداز ِ بیان( جملہ)
اردو زبان کے اکثر جملے اپنے لہجے ، تیور ، اسلوب اور لفظوں کے انتخاب کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ۔ اختلاف کا ایک سبب تو وہ بات یا مفہوم ہے جسے اظہار میں لانا مقصود ہے ؛ دوسری جانب اپنے فرضی یا حقیقی قارئین تک بات پہنچانا مقصود ہے ۔
- صحافتی اندا ز : صحا فتی پیرائیۂ بیا ن سادہ ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اخبار کے قاری ہر ذہنی سطح کے لوگ ہوتے ہیں ۔
مثا ل : پاکستان کو 2000 میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے ۔
- دفتری انداز : دفتری زبان کی مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں ۔جنھیں دفتر کے لوگ ہی سمجھتے ہیں ۔
مثا ل : چٹھی نمبر ی 215 / 1 ای کے تحت علی کی خدمات محکمۂ تعلیم کے سپرد کی جاتی ہیں ۔
- قانونی ا ور عدالتی انداز : قانون اور عدالت کی مخصوص زبان ، الفاظ اور اصطلاحات ہوتے ہیں ۔جن کے مفاہیم و مطالب طے شدہ ہوتے ہیں اور ابہام سے یکسر پاک ہوتے ہیں ۔
مثا ل : قرار دیا جاتا ہے کہ فلاں ابن ِ فلاں تعزیرات ِ پاکستان کے دفعہ فلاں کے تحت فلاں جرم کا مرتکب ہوا ہے ۔
- تکنیکی انداز : ہر شعبۂ علم کی خاص زبان ہوتی ہے ۔طب ، انجینئرنگ ، کامرس ، طبیعات ، کیمیا ، حیاتیات ، فلکیات اور ریاضی وغیرہ کی زبان اور اصطلاحات جدا جدا ہیں ۔ جنھیں متعلقہ شعبۂ علم کے اساتذہ ، طلبہ اور دیگر متعلقین ہی سمجھتے ہیں ۔
مثا ل : کمپیوٹر کا ہارڈ ویئر اس کا دماغ اور سافٹ ویئر اس کا ذہن ہے ۔
- ا دبی پیرائیۂ بیا ن : اس انداز میں ابہام اور حُسن ہوتا ہے ۔کیوں کہ اس میں خیال اور جذبہ دونوں ہی موجود ہوتے ہیں ۔ خیال میں قطعیت جب کہ جذبے میں دھند اور ابہام ہوتا ہے ۔
مثا ل : اگر تیرا قول صادق ہے توشہد فائق ہے ورنہ تھوک دینے کے لائق ہے ۔
(تیا ر کردہ : شاکرہ کا ظمی)