اصناف ِ سخن
شعر : وہ کلام ِ موزوں جو با مقصد ہو ۔ ایک خیال کو ظاہر کرے اور جس کے دونوں مصرعے ایک ہی وزن میں ہوں ؛ شعر کہلاتا ہے ۔ شاعری کا مادہ شعر ہے ۔ اس کے معنی کسی چیز کے جاننے ، پہچاننے اور واقفیت کے ہیں ۔ یہ کلام ِ موزوں جذبات و احساسات کے تابع ہوتا ہے ۔ شعر تعبیر ہے ، تخیل ہے ۔ شعر کا پہلا عنصر وزن اور دوسرا خیال ہے ۔ حقیقت کو وزن اور خیال کے سانچے میں ڈھالنا کمال ِ سخنوری ہے ۔
اصناف ِ سخن
| غزل | نظم | ||
| دو غزلہ | نثری نظم | خمریات | |
| سہ غزلہ | نظم معریٰ | مزاحیہ /طربیہ | |
| مردف غزل | آزاد نظم | شہر آشوب | |
| غیر مردف غزل | حمد | سہرا | |
| ہزل (مزاحیہ ) | نعت | لوری | |
| غزل ِ مسلسل | منقبت | واسوخت | |
| قصیدہ | مناجات | ||
| مرثیہ | رباعیات | ||
| سوز | قطعات | ||
| سلام | مسمط | ||
| نوحہ | ماہیا / حدی | ||
| مثنوی | سانیٹ | ||
| گیت / نغمہ | دوہے | ||
| ملی نغمہ | ٹپے | ||
| سپاہیانہ /جنگی نغمے/رجز | قطعۂ تاریخ | ||
| ہجو | بچوں کی نظمیں | ||
| کہ مکرنی | ہائیکو | ||
غزل
یہ فارسی ا و ر ا ر د و کی مرکزی صنف ہے ۔ اس کے لغوی معنی ” عورتوں سے باتیں کرنا ” اور اصطلاح میں ایسا کلام جس میں محسوسات ، کیفیات اور معاملات ِ ھسن و عشق کا ذکر ہو ۔ یہ ” عربی زبان ” کا لفظ ہے ۔ اس میں عموماً پانچ سے گیارہ اشعار ہوتے ہیں ۔ ہر شعر کا جداگانہ مفہوم ہوتا ہے ۔غزل میں تغزل کا عنصر نمایاں ہونا ضروری ہے ۔ غزل کے چار اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں ۔
مطلع ، قافیہ ، ردیف ، مقطع
ذیادہ تر غزلیں مردف ( ردیف کے ساتھ ) ہوتی ہیں ۔ لیکن غیر مردّف ( رد یف کے بغیر ) غزلیں بھی مقبول ہیں ۔ اگلے وقتوں میں غزلیں کثرت ِ اشعار پر مبنی ہوا کرتی تھیں ۔ غزل ِ مسلسل ( جس میں ایک جیسے خیالات کا تسلسل ہو ) کے علاوہ ” دو غزلے ‘‘ اور ” سہ غزلے ” کا سلسلہ بھی عمومی تھا ۔ غزل کے سب سے اچھے شعر کو ” شاہ بیت ” یا ” بیت الغزل ” کہتے ہیں ۔ غزل کا ہر شعر اپنا جداگانہ مضمون اور خیال کی ا لگ اکا ئی ر کھتا ہے ۔ غزل میں ” تشبیہات ، استعارات اور کنایات ” کے محاسن کا بھر پور استعمال کیا جاتا ہے ۔ غزل کو مشاعرہ کہتے ہیں ۔
ہزل : غزل کی ہیئت میں کہے گئے تمسخرانہ اشعار کو ہزل کہتے ہیں ۔ اسے مزاھیہ کلام یا کلام ِ ظرافت بھی کہتے ہیں ۔ ” پھبتی ، پھکڑ پن اور بذلہ سنجی ” بھی اسی صنف کے تحت شمار کئے جاتے ہیں ۔
نظم
نظم کے لغو ی معنی ” موتیوں کو لڑی میں پرونا ” کے ہیں ۔ نظم میں ایک خیال ، تصور اور مضمون کو بیان کیا جاتا ہے ۔ کلام موضوع کو نظم کہا جاتا ہے۔ یہ ایک موضوعاتی صنف ہے ۔
پا بند نظم : اس میں ردیف قافیے کی پابندی ہوتی ہے ۔ لہٰذا اسے ”پابندنظم ” کہتے ہیں ۔ اس میں اشعار کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ۔ نظم کے پہلے شعر میں دونوں مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا ضروری نہیں ۔ نظم میں موضوع کی وضاحت مصرع بہ مصرع سلسلہ وار کی جاتی ہے ۔
نظم معر یٰ : یہ نظم بیسویں صدی کی سوغات ہے ۔ اسے کسی بھی بحر میں لکھا جا سکتا ہے ۔ ہر مصرعے کا قافیہ جدا ہوتا ہے یا پھر کسی مصرعے میں قافیہ موجود نہیں ہوتا ۔ یعنی قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی مگر وزن اور بحر کی پابندی ہوتی ہے ۔ اس کے مصرعوں کے ارکان کی تعداد مساوی ہوتی ہے ۔
آزا د نظم : اسے جدید نظم کہتے ہیں ۔یہ ایک ہی بحر میں لکھی جاتی ہے ۔ لیکن ہر بحر کے ارکان کی تعداد مختلف ہوتی ہے ۔ کہیں کوئی مصرعہ طویل تو کہیں مختصر ہوتا ہے ۔ اس میں قافیہ ، ردیف اور ارکان ِ بحر کی تعداد معین نہیں ہوتی ۔ مصرعوں کی طوالت جذبات او ر کیفیا ت پر منطبق ہوتی ہے ۔
حمد : یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” تعریف کرنا ” ۔ اصناف ِ سخن میں اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف میں کہی جانے والی نظم ” حمد ” کہلاتی ہے ۔ اس میں اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر ہوتا ہے ، صفات کا بیان ہوتا ہے اور دعائیہ اشعار بھی ہوتے ہیں ۔
ذرّے ذرّے کی شہاد ت کہ خدا ہے مو جو د
پتے پتے کو ہے صا نع کی صفت کا ا قرا ر
نعت : پیغمبر ِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی مدحت ، تعریف ، شمائل و خصائل کے بیان ِ نظمی کو نعت یا مدحت ِ رسول ؐ کہتے ہیں ۔
گُلِ خوش رنگ رسول ِ ؐ مدنی و عربی
زیب ِ دامان ِ ابد ، طُرّ ہِ دستار ِ ازل
منقبت : اشعار کے ذریعے کسی ولی اللہ ، صحابہ کرام ، بزرگان ِ دین کی تعریف کرنے کو منقبت کہتے ہیں ۔ خصوصاً حضرت علی ؑ کی تعریف و توصیف میں لکھے ہوئے اشعار کو منقبت کہا جاتا ہے ۔
جس کا مو لا تھا میں اُ س کا مو لا علیؑ
جب نبی ؐ نے کہا د ین کا مل ہو ا
مر حبا مصطفےٰ ؐ رَب بھی راضی ہوا
و ہ جو آ نا تھی آ یت و ہی آ گئی
قصیدہ : اس کے لفظی معنی ” ارادہ کرنے ”کے ہیں ۔ایسی صنف جس میں کسی شخصیت کی توصیف و تحسین بیان کی جائے یا مذمت و ہجو مذکور ہو یا پھر کائنات پر کوئی حکیمانہ تبصرہ کیا جائے ۔ در حقیقت یہ خوشی اور مسرت کے اظہار کی صنف ہے ۔ قصیدے میں جس زندہ شخص کی تعریف کی جاتی ہے ؛ وہ مذہبی ، سیاسی ، سماجی یا کوئی اور بھی ہوسکتا ہے ۔ درباری قصیدے خوشامد سے لبریز ہوتے ہیں ۔ قصیدے میں کم از کم اشعار کی تعداد 20 ہوتی ہے ۔ جبکہ ذیادہ کی کوئی حد نہیں ہے ۔ پورے قصیدے کا بنیادی مضمون ایک ہی ہوتا ہے ۔ قصیدے کے لئے غزل کی ہیئت معروف ہے ۔ یہاں لفظی آرائش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ قصیدے کی محفل کو ” مقاصدہ ” کہتے ہیں ۔ قصیدہ مردف یا غیر مردف ہو سکتا ہے ۔ اس کی عموماً دو صورتیں مقبول ہیں ؛ جبکہ کہیں چار بھی کہی جاتی ہیں ۔
- مدحیہ ( حمد ، نعت ، منقبت وغیرہ ) ، 2- بہاریہ ، 3 – خطابیہ ، 4 – تشبیہیہ
کسی قصیدے کے آخر میں ” م ” ہے تو وہ ” میمیہ ” اور اگر ” ل” ہے تو ” لامیہ ” قصیدہ کہلا تا ہے ۔ قصیدے کے ترتیبی مراحل اس طرح ہوتے ہیں :-
- تمہید یا تشبیب : ( شباب یا حسن و عشق کی با تیں )
- گریز : ( یکا یک مو ڑ ، اصل موضوع کی طرف آ نا ) یہ مختصر ہوتا ہے ۔
- خطا ب : ( ممدو ح سے برا ہ ِر ا ست خطا ب )
- مدح یا مذمت : ( تعر یف یا ہجو )
- مُد عا : ( مقصد )
- دعا :
اقسام :
- قصیدۂ ہجو یہ : ( جب مذمت ہو )
- قصید ۂ آ شو بیہ : ( شکا یت ِ رو ز گار ہو )
- قصید ۂ خطا بیہ : ( برا ہ ِ راست مدح شروع ہو )
مرثیہ : یہ عربی لفظ ” رِ ثا ” سے بنا ہے ۔ اس کے معنی ” رحلت کرنے والے کی خوبیا ں بیان کرنا اور رونا ” کے ہیں ۔ یہ صنف عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آئی ۔ مجموعی طور پر اس کی تین اقسام ہوتی ہیں ۔
- رسمی مرثیہ : کسی سیاسی ، یا سماجی شخصیت کے مرنے پر اپنے دکھ کو نظم کی صورت میں بیان کرنا ۔
- شخصی مرثیہ : یہ کسی دوست یا عزیز کے مرنے پر لکھا جاتا ہے ۔
- مذ ہبی مرثیہ : یہ شہدائے کربلا کے حوالے سے لکھا جاتا ہے ۔
اردو میں اصطلاحاً مرثیہ شہدائے کربلا کی شہادت کے واقعاتی تذکرے کو کہا جاتا ہے ۔ اِس کے نو ( 9 ) اجزائے ترکیبی ہیں :-
- چہر ہ ، 2- ما جر ا 3- سرا پا ، 4- رخصت ، 5- آمد ، 6- رجز ، 7- جنگ ، 8- شہا د ت ، 9- بین
جب کبھی د ل میں کسی غم نے کہا ہا ئے حسین ؑ !
دور تک عا لم ِ غر بت میں نظر آ ئے حسینؑ
قتل ِ ا کبر ؑ پہ کھُلا ہے د ل ِ شبیر ؑ کا حا ل
خا ک میں مِل گئی ا س طر ح سے د نیا ئے حسین ؑ
نوحہ : برجستہ اور بے ساختہ بین کو نوحہ کہتے ہیں ۔ یہ صنف بھی شہدائے کربلا سے منسوب ہے ۔
کوفے کی گلیوں میں کہرام ہے
اُ ٹھ گیا باپ کا سر سے سایہ
آج زینب ؑ یتیم ہو گئی ہے
سوز : یہ مصائب حضرت امام حسین ، اہل ِ بیت ِ ا طہا ر ؑ ا و ر شہد ائے کر بلا کے غم میں لکھے جا نے و الے ا شعا ر ہوتے ہیں ۔ یہ ا شعا ر کسی بھی ہیئت میں لکھے جا سکتے ہیں ۔
سلام : یہ نظم کی وہ قسم ہے جو ذیادہ تر شہدائے کربلا ؑ کی مدح میں لکھی جاتی ہے ۔ اس میں سید الشہداء حضرت عالی مقام امام حسین ؑ اور دیگر ارواح ِ مقدسہ کی خدمت میں اپنا سلام پیش کیا جاتا ہے ۔
وہ سلام کہیئے حسین ؑ پر کہ بہشت جس کا صِلہ ملے
یہ طلب تو اپنی طرف سے ہے کہ خدا سے دیکھئے کیا ملے
مثنوی : فارسی شاعری کی ابتدا مثنوی ہے ۔ مثنوی میں کسی مسلسل واقعے ، داستان یا کسی حکیمانہ بات کو تفصیل سے بیان کیا جا تا ہے ۔ اس میں اشعار کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ۔ اس میں ہر شعر الگ قافیے کا ہوتا ہے ۔ تمام اشعار ایک بحر میں ہوتے ہیں ۔
مثلاً : 1- فردوسی کا شاہنامہ جس کے 60 ہزار اشعار ہیں ۔
- مولانا روم کی مثنوی معنوی جس کے 26 ہزار اشعار ہیں ۔
- میر حسن کی مثنوی سحر البیان
- دیا شنکر کی مثنوی گلزار نسیم
- علامہ اقبال کی مثنوی اسرار خودی جو حکایتی ، فکری اور علمی ہیں ۔
مثنوی کے لئے چھوٹی بحریں مخصوص سمجھی جاتی ہیں ۔ جن کی تعداد 6 ہے ۔ بیسویں صدی میں لمبی بحروں میں مثنوی کہی جانے لگی ۔ اقبال ؔ ، حفیظ ؔ اور جو ش کی مثنویاں اس کی مثال ہیں ۔
قضا ر ا و ہ شب تھی شب چا ر دَ ہ
پڑ ا جلو ہ لیتا تھا ہر طر ف مَہ
نظا ر ے سے تھا ا س کے د ل کو سرور
عجب عا لم ِ نو ر کا تھا ظہو ر
رباعی : ر با عی عربی لفظ ہے ۔ یہ صنف اہل ِ فارس کی ایجاد ہے ۔ جو چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے ۔ رباعی کے اوزان مخصوص ہوتے ہیں ۔ اس کی سب سے ممتاز بحر ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ ” کو اساتذہ نے متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے ۔ رباعی کو ” ترانہ ، دو بیتی ، چہار بیتی ، رخصتی ، مصرٰ عی اور جفتی ” جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ اس کی دو اقسام ہیں ۔
1-ر با عی مستز ا د 2- ر با عی غیر خصّی
پہنچا جو کمال کو ، وطن سے نکلا
قطرہ جو گہر بنا ، عدن سے نکلا
تکمیل کمال کی غریبی ہے دلیل
پختہ جو ثمر ہوا ، چمن سے نکلا
قطعہ : قطعہ کے لفظی معنی ٹکڑا کے ہیں ۔ اصطلاحاً وہ اشعار جن میں مضمون کا تسلسل ہو ۔ اگرچہ قطعہ کوئی علیحدہ صنف ِ سخن نہیں ہے ۔ بلکہ ایک طرح کی غزل ِ مسلسل ہی ہوتا ہے ۔ اصطلاحاً ” قطعہ ان اشعار کو کہا جاتا ہے جن کے پہلے مصرعے میں عموماً قافیہ نہیں ہوتا ۔ لیکن اس کے لئے کوئی بھی تاکید بھی نہیں ہے ۔ یہ کسی بھی بحر میں لکھا جا سکتا ہے ۔ قطعے میں کم از کم دو اشعار ہوتے ہیں ۔ لیکن اشعار کی تعداد متعین نہیں ہوتی ۔ قطعہ جداگانہ ہونے کے علاوہ غزل کا درمیانی حصہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر غزل میں تسلسل کا خیال آجائے تو ان اشعار سے پہلے ” ق ” لکھ کر قطعہ کا اعلان کیا جاتا ہے ۔
پرو ا ز ہے د و نو ں کی ا سی ا یک جہا ں میں
شا ھیں کا جہا ں ا ور ہے ، کرگس کا جہا ں او ر
ا لفا ظ و معا نی میں تفا و ت نہیں لیکن
مُلّا کی ا ذ ا ں ا و ر ، مجا ہد کی ا ذ ا ں ا و ر
شہر آشوب : و ہ نظم جس میں شہر اور شہر کے لوگوں کے حا لا ت کا ذکر ہو ؛ اسے شہر آشوب کہتے ہیں ۔ اس کے لفظی معنی پریشانی ، تباہی اور ہنگامہ کے ہیں ۔ ایسی نظم میں کسی ملک ، زمانے یا شہر کی تباہی و بربادی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ وہاں کے زوال پذیر معاشرے کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ یہ کسی خاص ہیئت میں نہیں لکھی جاتی ۔
سارا شہر ہے مُردہ خانہ
کون اس بھید کو جانے گا
ہم سارے لاوارث لاشیں
کون ہمیں پہچانے گا
واسوخت : اصطلاح میں اس صنف کو کہتے ہیں جس میں عاشق اپنے معشوق کی بے نیازی اور کج ادائی سے تنگ آ کرترک ِ تعلق کا بر ملا اظہار کرتا ہے ۔ یہ موضو عی نظم ہر ہیئت میں لکھی جا سکتی ہے ۔
سچ ہے ہمیں کو آپ سے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کار بند ِ اصول ِ وفا نہ تھے
سانیٹ : یہ دراصل ا طالوی الاصل مغربی صنف ہے ۔ یہ چودہ مصرعوں میں لکھی جاتی ہے ۔ یہ نظم دو بند میں لکھی جاتی ہے ۔یہ کسی بھی بحر میں لکھی جاسکتی ہے ۔ پہلا بند آٹھ مصرعوں اور دوسرا چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یعنی پہلا مثمن اور دوسرا مسدس ہوتا ہے ۔ پہلا ایک مصرعہ پہلے ردیف اور قافیے کا ہم وزن اسی بحر میں لکھ کر بند مکمل کرتے ہیں ۔ جب تین بند نظم ہو جاتے ہیں ؛ تب آکر میں ایک مطلع کسی اور قافیے کا لکھ کر نظم کو تمام کر دیا جاتا ہے ۔ وحدت خیال اور احساس کی شدت اس کے لازمی عناصر خیال کئے جاتے ہیں ۔یہ بنیادی طور پر غنائی شاعری کی صنف ہے ؛ یعنی وہ صنف جو سازوں کی ہم آہنگی کے لئے عمل میں لائی گئی ہو ۔ مثلاً لیرک کی ایجاد لائر ( گٹار ) کی ہم آہنگی کے لئے کی گئی تھی ۔ سانیٹ کا ظہور بھی موسیقی کی ضرورت کے پہش ِ نظر ہوا تھا ۔ لیکب موسیقی سے اس کی وابستگی ذیادہ دیر نہ رہ سکی اور یہ محض ادبی صنف بن کے رہ گئی۔ موضوع کے اعتبار سے سانیٹ اور غزل میں بڑی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔ اردو کا پہلا سانیٹ ن م راشد نے لکھا۔لیکن جو سانیٹ عوام کے سامنے شائع شدہ صورت میں آیا وہ اختر شیرانی کا تھا ۔ اس صنف میں اختر شیرانی ، ن م راشد ، شائق بریلوی ، احمد ندیم قاسمی اور نذیر مرزا برلاس وغیرہ کے نام قابل ِ ذکر ہیں ۔
جہاں میں اس قدر اضداد کیوں ہے ماجرا کیا ہے ؟
بہت کچھ اپنا سر مارا نہ کچھ اس کا پتا پایا
کسی اللہ والے سے یہ پوچھوں تو یہ کہتا ہے
مقدر ہے یہ اس کا بھید تو ہر گز نہ سمجھے گا
کوئی کہتا ہے باعث اس کا فطرت کا تقاضہ ہے
مگر ، کیا مصلحت اس میں ہے یارب !کچھ نہیں کھلتا ( عظیم الدین احمد )
گیت / نغمہ : یہ صنف ہندی سے اردو میں آئی ہے ۔گیت کی ابتدا رومانیت سے اُٹھی ۔ لیکن بعد میں اس کو حمدیہ ، نعتیہ اور صوفیانہ کیفیتوں سے بھی مزیّن کیا گیا ۔گیت ہر ہیئت میں لکھا جا سکتا ہے ۔ اس کے الفاظ سادہ اور عام فہم ہوتے ہیں اور ایک خاص موسیقیت اجاگر کرتے ہیں ۔
پیار کرنے کے لئے گیت سنانے کے لئے آ
اِک خزانہ ہے مرے پاس لُٹانے کے لئے آ
ملّی گیت / ملّی نغمے / ملّی ترانے : ایسے گیت جو وطن کی محبت اور حمایت میں لکھے جائیں ۔ یہ گیت حب الوطنی کے جذبے سے لبریز ہوتے ہیں ۔ یہ کسی بھی ہیئت میں لکھے جا سکتے ہیں ۔
- سوہنی دھرتی اللہ رکھے ، قدم قدم آباد تجھے
- دل دل پاکستان ، جان جان پاکستان
- چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن
- اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
- ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
مزاحیہ / طنزیہ نظم : کسی بھی معاشرتی یا سیاسی موضوع کو ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں نظم کرنا بہت کمال ہوتا ہے ۔ کبھی کبھار اس میں طنز کی کڑو ا ہٹ بھی شامل ہو جاتی ہے ۔ اس میں تضمین اور تجنیس بھی استعمال کی جاسکتی ہے ۔
تضمین و تجنیس : کسی شاعر کے معروف مصرعے یا شعر پر مزید مصرعے یا شعر کہنے کو ” تضمین ” یا ” تجنیس ” کہتے ہیں ۔اس کے ذریعے کسی مصرعے یا شعر میں کوئی اضافی گنجائش نکالی جاتی ہے ۔
آہ بھرتی ہوئی آئی ہو سلمنگ سینٹر
”آہ کو چاہیئے اک عمر ا ثر ہونے تک ”
ڈائٹنگ کھیل نہیں چند دنوں کا بیگم
اک صدی چاہیئے کمرے کو کمر ہونے تک
ہائیکو : یہ جاپا ن کی ایک مقبول صنف ہے ۔ اختصا ر اس کی اساس ہے ۔ یہ تین مصرعوں کی مختصر نظم ہوتی ہے ۔ اس نظم میں اوزان کی پابندی لازمی ہے ۔ اردو زبان میں یہ کئی نام سے مستعمل ہے ۔
اے مُرسل ِ پاکیزہ خُو ؐ
کِس خُلق کا پیکر ہے تُو ؐ
قُرآں ہے گویا ہو بہو
ہجو : اس کے لغوی معنی بد گوئی ، غیبت یا نظم میں بُرا بھلا کہنا ہے ۔ایسے کلام میں کسی کی مخالفت ، اس پر طنز یا اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے ۔ یہ کسی بھی ہیئت میں لکھی جا سکتی ہے ۔
سُن تو سہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق ِ خُدا غائبانہ کیا
رجز : رجز جنگی ترانے کو کہتے ہیں ۔دورِ رسالت مآب ﷺ میں حضور ﷺ کے ایما پر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؒ رجزیہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔ یہ اشعار میدانِ جنگ میں مجاہدین کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے پڑھے جاتے ہیں ۔
- اے وطن کے سجیلے جوانو ! میرے نغمے تمہارے لئے ہیں
- اللہ اکبر ، توحید کا پرچم لہرایا
- ساتھیو مجاہدو ! جاگ اُٹھا ہے سارا وطن
- اے راہ ِ حق کے شہیدو ! وفا کی تصویرو ! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
- اپنی قوّ ت اپنی جان ، لا الہ الا اللہ
شادی بیاہ کے گیت : شادی بیاہ کے موقعوں پر گائے جانے والے یہ گیت شرارت ، نصیحت اور دعاؤں سے لبریز ہوتے ہیں ۔ یہ گیت کی صورت میں لکھے جاتے ہیں ۔ اس میں موسیقیت اور غنائیت پائی جاتی ہے ۔
- گوری کر کے ہار سنگھار ، ہوجا چلنے کو تیار
- آج میرے یار کی شادی ہے
- میرا یار بنا ہے دُلہا
- جا کے سسرال گوری میکے کی لاج رکھنا
ٹپے / ماہیئے / دوہے : یہ شادی بیاہ کی رسموں میں گائے جاتے ہیں ۔ یہ تین مصرعوں کی مختصر نظم ہوتی ہے ۔ اس کا پہلا اور تیسرا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے ۔ جب کہ دوسرا مصرعہ چھوٹا ہوتا ہے ۔ یہ صنف اردو پنجابی دونوں زبانوں میں مشہور ہے ۔
- چِٹا کُکڑ بنیڑ ے تے ۔ کاسنی دوپٹے والیئے ، مُنڈا صدقے تیرے تے
سہرا ا ور رخصتی : یہ ایک تہذیبی صنف ہے ۔ یہ ہندی سے اردو میں آئی ہے ۔ اسے گیت کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے ۔ اس کے الفاظ سادہ اور عام فہم ہوتے ہیں ۔ لفظوں کے ذریعے موسیقیت اجاگر کی جاتی ہے ۔ اس میں دُ لہا دُ لہن کے لئے دعائیں ہوتی ہیں ۔ مثلاً ذوق ؔ ، غالب ؔ اور ظفرؔ کا کلام ملاحظہ ہو ۔
سہرہ
سُنو عرش و ا لو ! سُنو فرش و ا لو !
میں سہرہ علی ؑ کا سنانے چلا ہوں
تصور میں ہر ایک مومن محب کو
علی ؑ کا بارا تی بنانے چلا ہوں
ر خصتی
با بل کی د عا ئیں لیتی جا ، جا تجھ کو سکھی سنسا ر ملے
میکے کی کبھی نہ یا د آئے ، سسرا ل میں ا تنا پیا ر ملے
دوہے : اس صنف کے موجد ” ا میر خسرو ” ہیں ۔یہ مقبو ل ِ عام روحانی صنف ہے ۔ لیکن یہ خال خال ہے ۔ کبیر اور تلسی داس کے دوہے بہت مقبول ہیں ۔
ز با ن ِ یا ر من تُرکی ، وَ من تُرکی نمی د ا نم
چہ خوش بودے اگر بودے زبا نش در دہا ن ِ من ( خسرو ؔ )
اردو والے ، ہندی والے دونوں ہنسی ا ُ ڑ ا ئیں
ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں ( جمیل الدین عالیؔ)
کہ مکرنی : یہ صنف امیر خسرو ؔ کی ایجاد ہے ۔ یہ ایک پہیلی کی طرح ہوتی ہے ۔ یہ اردو ہندی میں ذیادہ مستعمل ہے ۔ یہ ہر ہیئت میں لکھی جاتی ہے ۔
ا تنی سی ہلد ی ، سا ر ے گھر میں مل د ی
کٹو ر ے پہ کٹو ر ا ، بیٹا با پ سے بھی گو ر ا
قوالی : قوالی اُس کلام کو کہتے ہیں جو عشق ِ حقیقی کو جگانے کے لئے پڑھا جائے ۔ اس کو سننے کے بعد اکثر غلبہ حال کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ بعد کے کئی شعرا نے اس میں مجاز ی کلام بھی داخل کر دیئے ۔ اِس صنف کے موجد امیر خسرو ہیں ۔ جو ایک صوفی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقار بھی تھے ۔ انہیں طوطی ِ ہند بھی کہا جاتا ہے ۔
- چھاپ تلک سب چھین لی رے موہ سے نینا مِلائی کے
- حید ر یم ، قلند ر م ، مستم ، بند ۂ مر تضیٰ ؑ علی ؑ ہستم
پیشو ا ء تما م ر ند ا نم ، کہ سگ ِ کو ئے شیر ِ یز د ا نم
تریوینی : ا ردو ہندی شاعری میں اس کا آغا ز گلزار نے کیا ۔ یہ تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ پہلے دو مصرعے اپنا مکمل مفہوم رکھتے ہیں ۔ جب کہ تیسرا مصرع ایک نئی سمت ا ختیار کرتا ہے ۔
ہَر شیہ : بہ صورت ا ختلا ف کسی کے بارے میں بہ طرز مسدس فحش کلا می کرنا ” ہرشیہ ” کہلا تا ہے ۔ یہ صنف “” ہجو ” کی توسیعی شکل ہے ۔
ریختی : اس کا تعلق اردو بھاشا سے ہے ۔ وہ نظم جو نِسا ئی ( عورتوں کی ) زبا ن ا ور لب و لہجے میں لکھی جاتی ہے ؛ ریختی کہلا تی ہے ۔
بچوں کی نظمیں : بچوں کے ادب میں نظموں کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ بچوں کی دینی اور اخلاقی اصلاح کے لئے شعرا نے باقاعدہ نظمیں لکھی ہیں ۔ ان نظمو ں میں اخلاقی ، دینی ، معاشرتی ، نصیحت ، ہمت حوصلہ ، اولوالعزمی ، رحم اور ہمدردی جیسے مضامین ملتے ہیں ۔ یہ نظمیں سادہ اور پُر اثر انداز میں لکھی جاتی ہیں ۔ یہ اکثر گیت کی شکل میں لکھی جاتی ہیں ۔
- ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا ، بُلبُل تھا کو ئی اُ د ا س بیٹھا
- میں چھو ٹا سا ا ک لڑ کا ہو ں ، پر کا م کر و ں گا بڑ ے بڑ ے
- لب پہ آ تی ہے دُ عا بن کے تمنا میری
لوری : یہ ایک تہذیبی اور ثقافتی صنف ہے ۔ اپنے بچوں کو سُلانے یا بہلانے کے لئے اکثر مائیں کوئی گیت گنگناتی ہیں ۔ کبھی یہ خود ساختہ ہوتی ہیں اور کبھی کسی کی لکھی ہوئی ۔ اس میں محبت اور شفقت کی شیرینی گھُلی ہوئی ہوتی ہے ۔ اللہ اور محمدؐ کی محبت ، مستقبل کے سہانے خواب ، محبت و نصیحت وغیرہ اس کے موضوعات ہوتے ہیں ۔ یہ سادہ اور آسان الفاظ میں ہوتی ہے ۔
- اللہ اللہ اللہ ہُو ۔۔۔۔۔لا الہ الا ہُو
- راج دُلارے ۔۔۔۔۔۔ میری اَکھیوں کے تارے
قطعہ تاریخ / تاریخ گوئی : تاریخ گوئی ایک فن ہے ۔ یہ انہی زبانوں میں رائج ہیں جو عربی رسم ا لخط میں لکھی جاتی ہیں ۔ ولادت ، شادی ، وفات ، بادشاہوں کی تخت نشینی ، فتو حات ، منصب پر ما موریت ا و ر عما ر ا ت کی تعمیر وغیرہ گویا ہر اہم واقعے کے سال کو محفوظ رکھنا اس فن کا مقصد ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح متعلقہ و اقعے کی وضاحت بھی ہو جا تی ہے اور اعداد جوڑنے سے و اقعے کا سا ل بھی برآمد ہو جاتا ہے ۔ ا یسا مصرع یا جملہ جس کے اعدا د جوڑ نے سے و ہ سا ل بر آمد ہو جائے اُسے ” ما د ۂ تا ریخ ” کہتے ہیں ۔ اس میں ”حرو ف ِ ابجد ” کے ا عدا د جمع کئے جا تے ہیں ۔ حرو ف ِ ا بجد ا س طرح مرکب کئے جاتے ہیں :-
ابجد ، ہوز ، حُطی ، کلمن ، سعفص ، قرشت ، ثخذ ، ضظغ
اس کے دو طریقے ہیں :- 1- طر یقۂ تعمیہ 2 – طر یقہ تخر جہ
( مر تب کنند ہ : شا کر ہ کا ظمی )