اصناف ِ ادب
ادبی اظہار اور اپنے تخیلات کی ترسیل کے لئے زبان کی دو صورتیں ہیں ۔
1۔ نثر 2۔ سخن ( شاعری )
اردو نثری ادب
نثر کا مطلب ہے ” بکھرا ہوا یا بکھرے ” ، یعنی ادب کا وہ پہلو جو ایک نظم و ضبط نہ رکھتا ہو ، وہ نثر کہلاتا ہے ۔ اردو نثری ادب فارسی ادب کی عکاسی کرتا ہے ۔ ساتھ ساتھ عصری اصناف کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹ لیتا ہے ۔ اس کی درجہ بندی اس طرح کی جاسکتی ہے ۔
1۔ مذہبی ادب 2۔ غیر مذہبی ادب
نثری ادب
| غیر مذہبی ادب | مذہبی ادب | |
| غیر افسانوی ادب | افسانوی ادب | |
| مضامین | ناول | تفسیر ِ قرآن |
| تنقید | افسانہ | قرآن کے تراجم |
| تحقیق | ڈرا ما | نبویؐ احادیث |
| تاریخ گوئی | طنز و مزاح | فقہ |
| سوانح / سیرت | داستان / حکایت | تاریخ ِ اسلام |
| خاکے | پیروڈی | روحانیت |
| سفر نامے | تبصرے | صوفی طریقت کی کتابیں |
| ترجمے | انشائیہ | شریعت کی کتابیں |
| خود نوشت | خطوط | |
| رپوٹ | بچوں کا ادب | |
| انٹرویو | ||
| روزنامچے | ||
افسانوی ادب
افسانوی نثر میں رومانی فضا ، ڈرامائی عنصر اور افسانوی روح حاوی ہوتی ہے ۔ یہ نہ صرف ذہن و فکر کو متاثر کرتی ہے بلکہ ذوق ِ ِ جمال اور جذباتی کیفیتوں کو بھی مہمیز کرتی ہے ۔افسانوی ادب میں نا راست زبان کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہاں نا راست سے مراد تمثیلی انداز ، علامتی اسلوب اور استعاراتی زبان جو افسانوی ادب کو خوب صورتی اور دلکشی عطا کرتی ہے ۔
۔ ناول Novel
یہ انگریزی ادب سے ہمارے ادب میں داخل ہوا ۔ اس کے معنی ہیں ” عجیب و غریب اور انوکھا ” ۔یہ حقیقی زندگی کی تصویر کشی کا فن ہے ۔ اس میں فکری احساس اور زندگی کی حقیقتوں کو دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔ رومانوی عنصر اس میں جذب کی کشش پیدا کرتا ہے ۔ ناول کے موضوعات کا دائرہ وسیع ہے ۔ زندگی کے طویل واقعات ناول میں آسانی سے سما جاتے ہیں ۔ اس میں عہد و ماحول اور تہذیب و معاشرت کی جھلک بھی ہوتی ہے اور ہر کردار پر بالتفصیل روشنی ڈالی جاتی ہے۔ پلاٹ ، کردار ، منظر ، جزئیات اور مکالمہ نگاری اس کے بنیادی اجزا ہیں ۔
امراؤ جان ———-مرزا ہادی رسوا
گئو دان ————-پریم چند
آگ کا دریا ————قراۃ العین حیدر
افسانہ ( short stories )
افسانہ مختصر کہانی کو کہتے ہیں ۔ یہ مختصر حقیقی یا فرضی کہانی ہوتی ہے ۔وحدت ِ تاثر اس کی خوبی ہے ۔ اس میں موضوعات کا دائرہ وسیع ہے ۔ اس میں سماجی مسائل ، افراد کی ذہنی و جذباتی الجھنوں کی ترجمانی ، انسانی زندگی کے پیچ و خم ، نا آسودگی ، طبقاتی کشمکش ، عدم مساوات ، جنسی تفریق اور بے انصافیاں موضوعات ہوتے ہیں ۔ پلاٹ ، منظر نگاری ، مکالمہ ، کردار نگاری اجزائے ترکیبی ہیں۔ پلاٹ میں ربط و تسلسل ، خوبصورت زبان و اسلوب اور کرداروں کے لحاظ سے مکالموں کا استعمال افسانوں میں تا ثیر پیدا کرتا ہے ۔ اردو میں افسانہ نگاروں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ ————–سعادت حسن منٹو
کفن ، عید گاہ —————پریم چند
ڈراما (Drama )
یہ یونانی لفظ ” ڈراؤ ” سے ماخوذ ہے ۔ اس کا مطلب ہے ” کچھ کر کے دکھانا ” یا ” عملاً پیش کرنا ” ۔ اس میں زندگی کے مختلف مسائل کی تصویر کشی کی جاتی ہے ۔ اس کے موضوعات کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے ۔ کئی واقعات ، جذبات ، کیفیات اور اتار چڑھاؤ کو کرداروں کے ذریعے پیش کرنے کی خاصی گنجائش موجود ہوتی ہے ۔یہ سنجیدہ ( ٹریجڈی ، المیہ ) اور غیر سنجیدہ ( طربیہ ، مزاحیہ ) ہو سکتے ہیں ۔ ریڈیو ، ٹیلی وژن کے لئے بھی ڈرامے لکھے جاتے ہیں ۔ پلاٹ ، کردار ، مکالمہ ، منظر کشی ، اسٹیج ، آرائش اور موسیقی وغیرہ اس کے بنیادی عناصر ہیں ۔
سلور کنگ ————-آغا حشر کاشمیری
انارکلی ————-امتیاز علی تاج
تعلیم ِ بالغاں ———–خواجہ معین الدین
لوک کہانی
یہ ایسی کہانیاں ہوتی ہیں ۔جس کے مصنف کا اکثر کسی کو پتہ نہیں ہوتا ۔یہ کہانیاں سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہیں ۔ یہ عوام کے خیالات کی ترجمان ہوتی ہیں اور کسی معاشرے ، تہذیب اور زبان کا قیمتی سرمایا ہوتی ہیں ۔ ان کے ذریعے محبت ، ایثار ، خلوص ، اتحاد ، وفا اور جرات اور بہادری جیسے جذبے پروان چڑ ھتے ہیں ۔یہ نسلوں کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔یہ نظم میں بھی ہوسکتی ہیں اور نثر میں بھی ۔
لوک کہانیا ں ——————ممتاز مفتی
ایک غیر سیاسی لوک کہانی ———– محمد عامر ہاشم خاکوانی
داستان / حکایت / الف لیلوی اور طلسماتی داستانیں
حقیقی یا خیالی واقعات پر مبنی رومانی کہانی کو داستان کہتے ہیں ۔ ان میں جن و پری ، طلسم و سحر ، عجیب و غریب واقعات ، مافوق الفطرت عناصر کی کار فرمائیاں ، ماورائی طاقتوں کے کارنامے اور حسن و عشق کی داستانیں خوب صورتی سے پیش ہوتی ہیں ۔ واقعات در واقعات کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ یہ ماضی کی روایت کا حصہ رہی ہے ۔ تجسس و جستجو داستان کا اہم وصف ہے ۔ اس میں واقعات در واقعات کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ان کے ذریعے سے ہونے والے لسانی ، ادبی اور اسلوبیاتی تحریروں نے زبان و ادب کو نوع بہ نوع انداز و معیار سے آشنا کیا ہے ۔ واقعات کا الجھاؤ ، بیان کی طوالت ، پلاٹ کی بے ترتیبی اور کرداروں کی کثرت اس کے حسن کو دوبالا کرتی ہے ۔ قاری نئے الفاظ کے بر محل استعمال سے واقف ہوتا ہے ۔تخیل کی بلندی داستان میں معنوی حسن اور فنی لطافت پیدا کرتی ہے ۔ یہ تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے ذریعے کوئی اچھی اخلاقی نصیحت یا پیغام دیا جاتا ہے ۔
داستان ِ امیر حمزہ—–نواب مرزا امان اللہ خان لکھنوی
باغ و بہار ————میر امن دہلوی
فسانۂ عجائب ———–رجب علی بیگ سرور
مزاح نگاری
یہ انشائیہ کی وہ قسم ہے جس میں با محاورہ زبان کو بڑے لطیف اور وقار کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ۔ منتخب موضوع اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ قاری اس کی شگفتگی ، لطافت اور مزاح سے لطف اندوز ہوں ۔ ظرافت کے پہلو اس حد تک نمایاں ہوں کہ پڑھنے اور سننے والے کی زبان اور کان بار محسوس نہ کریں بلکہ تبسم ریز رہیں ۔
مضامین ِ پطرس—————احمد شاہ پطرس بخاری
پیروڈی / تحریف
اردو میں اسے ” تحریف ” کہتے ہیں ۔ اس سے مراد ہے کہ کسی کی تسنیف کی اس طرح نقل کی جائے کہ اس کی شکل تو برقرار رہے لیکن الفاظ کے ردوبدل سے ہنسی آئے ۔یہ نظم و نثر دونوں میں کی جا سکتی ہے ۔
غالب ؔ جدید شعراء کی محفل میں ———–کنھیا لال کپور
تبصرہ نگاری
اس کے لغوی معنی تشریح و توضیح اور تفصیل ہیں ۔ یہ اُس مختصر نوشتہ کا نام ہے جو کسی کتاب کو تمام قاری سے متعارف کرانے کی غرض سے لکھا جاتا ہے ۔تبصرہ نگار کسی کتاب کا مطالعہ کرکے اس کے ظاہری محاسن و عیوب کا پتا لگاتا ہے ؛ موضوع کے اعتبار سے معیار متعین کرتا ہے ۔ افادیت کے مثبت یا منفی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے ۔ تبصرہ نگاری کی ابتدائی شکل ” تقریظ یا دیباچہ” کی شکل آئی ۔ اس میں کتاب کا نام ، مصنف کا نام و تعارف ، موضوع ، صفحوں کی تعداد اور خوبیوں اور کمیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔تقریظ یا دیباچے اور تبصرہ میں فرق یہ ہوتا ہے کہ تقریظ یا دیباچہ کتا ب میں شامل ہوتا ہے اور اس میں کمیوں کا ذکر نہیں ہوتا ۔ جبکہ تبصرہ کتاب کی اشاعت کے بعد لکھا جاتا ہے ۔
تحقیقی مضامین اور تبصرے ————-عطا اللہ خان
ادبی تبصرے —————اعجاز عبید
انشائیہ
انشائیہ ادب کی خاص صنف ہے ۔ یہ انگریزی ادب سے اردو میں آئی ۔ اس کی کوئی مخصوص تعریف نہیں ہے ۔ انشا پرداز کی اپنی ذہنی اپج ، خیالات کی بلندی اور ذاتی تاثرات کو فنی انداز میں پیش کرنے کا نام انشائیہ ہے ۔ انشائیہ نگار اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ اس کی علمیت ، افکار و مسائل کا بیان نہ صرف تخلیقی انداز میں ہو بلکہ اس کی عبارت ادبی چاشنی ، شگفتگی اور تاثر سے بھر پور ہو ۔ قاری اس کو پڑھ کر ذہنی آسودگی کے ساتھ ساتھ قلبی مسرت بھی محسوس کرے ۔
انشائیہ نگار : سر سید ، فرحت اللہ بیگ ، حسن نظامی اور آزاد وغیرہ
خطوط / مکتوب / مراسلہ نگاری
یہ خیالات و محسوسات کو نہ صرف دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ ہیں بلکہ زندگی کا آئینہ ہیں ۔ ہجر میں وصال کی لذّت اور دوریوں میں قربتوں کا احساس صرف خطوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ خط کو نصف ملاقات بھی کہتے ہیں ۔ یہ ذاتی ، ادبی ، سیاسی ، تعلیمی اور کاروباری امور سے متعلق بھی ہو سکتے ہیں ۔ موضوع کے اعتبار سے ان کا اسلوب مختلف بھی ہو سکتا ہے ۔
خطوط ِ غالبؔ ————مرتبہ خلیق انجم
غبار ِ خاطر ———–مولانا ابو الکلا م آزاد
بچوں کا ادب
آزادی کے بعد محمدی بیگم زوجہ امتیاز علی تاج نے بچوں کے ادب میں چھوٹی کہانیوں کا رواج ڈالا ؛ جب انہوں نے ماہنامہ ” پھول ” کی ادارت کی ۔ پاکستان میں اگرچہ بچوں کے ادب کے سلسلے میں بہت کم لکھا گیا ہے ۔ لیکن چند رسائل اور نام ایسے نظر آتے ہیں جنھوں نے اس سلسلے میں کاوشیں کیں ۔ جن میں رسالہ ” بچوں کی کہانیاں ، بچوں کی دنیا ، جگنو ، نونہال ، تعلیم و تربیت ، ٹوٹ بٹوٹ او انوکھی کہانیاں ”وغیرہ شامل ہیں ۔ جبکہ اس کوشش میں مسعود احمد برکاتی ، اشفاق احمد ، کمال احمد رضوی ، حکیم محمد سعید اور سید نذر زیدی وغیرہ کے نام نمایاں نظر آتے ہیں ۔
غیر افسانوی ادب
نثر کا اطلاق کسی بھی تحریر پر کیا جا سکتا ہے خواہ یہ کسی بھی شکل میں ہو ۔ غیر افسانوی نثر میں حقیقی ، مادی اور فلسفیانہ مباحث پیش کئے جاتے ہیں ۔ مسائل و حقائق ، اقتصادی موضوعات بڑی خوبی سے پیش ہوتے ہیں ۔ اس میں ادبی فکر کار فرما ہوتی ہے یعنی فکر و خیال کا براہ ِ راست استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔
مضامین ( Essay)
یہ ایک بیانیہ تفصیل ، حکائیہ تحریر اور خیالات و افکار کی ترتیب کا نام ہے ۔ کسی مقررہ موضوع پر اپنے خیالات ، جذبات و احساسات یا تاثرات کا نثر میں تحریری اظہار کرنا مضمون کہلاتا ہے ۔ اس کے موضوعات کا دائرہ لا متناہی ہے ۔ اس میں دلائل کے ذریعے بحث کی جاتی ہے ۔ اہم باتیں علمی پیرائے میں بیان کی جاتی ہیں ۔ آخر مٰیں مختصراً نتیجہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اس میں توازن ، تناسب اور نظم و ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس کے تین حصے ہوتے ہیں ۔ ” تمہید ، نفس ِ مضمون ، اختتام ” ۔ مضامین تین اقسام کے ہوتے ہیں ۔ ” بیانیہ ، حکائیہ ، فکری ” ۔
ادبی مضامین ————–ڈاکٹر علی عباس
مضامین ِ رشید ————–رشید احمد صدیقی
تنقید نگاری
لفظ تنقید ” نقد ” سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ” جانچنا ، کھوج ، پرکھ ، کھرے کھوٹے کی پہچان کرنا ، محاسن و معائب میں فرق کرنا ” کے ہیں ۔ اصطلاح میں ادب کے کسی فن پارے یا تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کرتے ہوئے ادب میں اس کا مقام متعین کرنا ہے ۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ اپنے ” مقدمہ شعر و شوعری ” میں پیش کردہ خیالات کے سبب جدید اردو تنقید نگاری کے بانی کہلائے ۔ اردو کے اہم نقادوں میں مولاناشبلی نعمانی ، عبدالحق ، آل احمد سرور اور محمد حسن عسکری وغیرہ کے نام نمایاں نظر آتے ہیں ۔
تحقیق نگاری
یہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ اس کے معنی ہیں کھوج ، تلاش یا چھان بین ۔ تحقیق حقیقت یا سچ جاننے کا نام ہے ۔اصطلاح میں ایسے طرز مطالعہ کا نام ہے جس میں موجود مواد کے صحیح یا غط کو بعض مسلمات کی روشنی میں پرکھا جائے ۔ تاکہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے ۔ تحقیق و تنقید ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔اس سے مراد غور و فکر ، جستجو اور تلاش کے ہیں ۔ تحقیق میں ہر مرحلے پر تنقید کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس میں محقق کو غیر معتصب اور غیر جانبدار ہونا چاہیئے ۔
اردو کی عصری صدائیں ———–غلام نبی کمار
سوانح نگاری
کسی شخص کی پیدائش سے موت تک کے جملہ احوال اور واقعات کو منظم اور سلسلہ وار بالتفصیل لکھنا سوانح کہلاتا ہے ۔ اس سے شخصیت کے حالات ِ زندگی ، تعلیم و تربیت ، عادات و اطوار اور نفسیاتی رویوں کا پتہ چلتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس عہد کے تاریخی ، تہذیبی ، سیاسی اور ادبی رجحانات سے بھی واقفیت ہوتی ہے ۔ یہ کسی معروف شخصیت کے بارے میں لکھی جاتی ہے ۔ واقعات کی صداقت ، تنظیم و ترتیب اور مناسب اسلوب اس کی خوبی ہے ۔
سیرت النبی ؐ ————-مولانا شبلی نعمانی
یاد گار ِ غالؔب ————-الطاف حسین حالیؔ
خاکہ نگاری / شخصیت نگاری / مرقع نگاری / قلمی تصویر / قلمی چہرہ
کسی شے کا سرسری تعارف خاکہ کہلاتا ہے ۔ اس میں کسی شخص کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے ۔ خاکہ نگار اپنے مشاہدے اور مطالعے کی روشنی میں شخصیت کے کسی ایک پہلو ، کردار یا اوصاف پر اس طرح اظہار ِ خیال کرتا ہے کہ شخصیت کی شبیہ سامنے آ جاتی ہے ۔ اس میں اختصار سے کام لیا جاتا ہے ۔ اردو میں اسے ” مُرقع نگاری ، قلمی تصویر اور قلمی چہرہ ”بھی کہتے ہیں ۔ انگریزی میں اسے پورٹریٹ یا اسکیچ کہتے ہیں ۔
چند ادبی شخصیتیں ———–شاہد احمد دہلوی
دلی کی چند عجیب ہستیاں —————اشرف صبوحی
سفر نامے
کسی سفر کے حالات و واقعات کو تفصیلی شکل میں لکھنے کو سفر نامہ کہتے ہیں ۔ اس کی روایت کافی قدیم ہے ۔ انسان فطری طور پر تغیر پسند واقع ہوا ہے ۔ وہ یکسانیت سے اَوب جاتا ہے ۔ نئی نئی باتیں کرنا اور چیزیں یا جگہیں دیکھنا اس کی فطرت ہے ۔ یہی فطرت اس کو سفر کی جانب مائل کرتی ہے ۔ اگر سفر کرنے والا ذوقِ لطیف کا مالک ہو تو پھر وہ سفر کے حالات و واقعات کو ضبط ِ تحریر میں بھی لے آتا ہے ۔ ادب میں اسے سفر نامہ کہتے ہیں ۔
رہ نوردِ شوق ————ڈاکٹر عابد حسین
پاکستان سے دیار ِ حرم تک ————- نسیم حجازی
ہنزہ داستان ———— مستنصر حسین تارڑ
ترجمہ نگاری
زندہ ادب ترجمہ نگاری کو بڑی اہمیت دیتا ہے ۔اس کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔
1۔ لفظی ترجمہ : جو اصل متن کے قریب تر ہو ۔
2۔ با محاورہ ترجمہ : اس میں اصل تصنیف میں محاوروں کا رنگ و آہنگ آجائے اور فطری پن بھی ہو ۔
3۔ آزاد ترجمہ ؛ خیال سے خیال کا ترجمہ ۔ لفظ بہ لفظ ترجمہ کے بجائے متن کو گور سے پرھ کر خاص بات کو آسان طریقے سے بیان کر دینا ۔
خود نوشت / آپ بیتی
یہ اپنی داستان ِ حیات ہوتی ہے ۔اس میں مصنف کود اپنی زندگی کے ھالات و واقعات لکھتا ہے ۔ یعنی خود ہی موضوع ، خود ہی ہیرو اور خود ہی مصنف ہوتا ہے ۔ اس میں روداد ِ زندگی کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے ۔یہ انسانی نفسیات کی حقیقی ترجمان اور شخصیت کا ھقیقی عکس ہوتی ہے ۔ یہ مصنف کی زندگی کےواقعات ، مشاہدات ، نظریات اور محسوسات کی داستان ہوتی ہے ۔ اس مین مصنف خود اپنی تصویر بنا تا ہے ۔ اس کا مطمع نظر یہی ہوتا ہے کہ لوگ اس کو پہچانیں ۔ اس کی تین شرائط ہوتی ہیں :- 1۔ سچائی ، 2۔ شخصیت ، 3۔ فن
سلسلہ روز و شب ———— صالحہ عابد حسین
یادوں کا جشن ———–کنور مہندر سنگھ بیدی
رپور تاژ / رپوٹ
یہ اردو ادب کی جدید صنف ہے ۔اس نے ترقی پسند تحریک کے ساتھ ترقی کی ۔ رپور تاژ فرانسیسی تلفظ ہے ۔ انگریزی میں اسے رپوٹ کہتے ہیں ۔ اس میں عام طور پر چشم دید واقعات جیسے جشن ، میٹنگ ، جلوس ، محفل ِ مشاعرہ ، جلسہ یا کسی تقریب کا آنکھوں دیکھا ھال رپورٹنگ کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ۔اس میں چھوٹی چھوٹی جزئیات پر بھی توجہ دی جاتی ہے ۔ اصل واقعات کے ساتھ ذیلی امور و نکات پر بھی روشنی دالی جاتی ہے ۔ اس میں قاری کو نہ صرف معلومات دی جاتی ہے بلکہ تحریرمیں ادبی حسن کا احساس بھی ہوتا ہے ۔ زبان کی موزونیت اور بیان کی خوب صورتی اسے دلچسپ بنا دیتی ہے ۔
کوہ و دماوند ———- قراۃ العین حیدر
اردو کے منتخب رپور تاژ ———–طلعت گل
یاد داشت
یہ ماضی سے وابستہ ہوتی ہیں اور یادون کے سہارے قلم بند کی جاتی ہیں ۔ جب ماضی کے خوشگوار ، یادگار ، سوگوار یا حیرت انگیز لمحات و واقعات ذہن پر گردش کرتے ہیں تو بے ساختہ تحریری شکل میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ماضی کی بازگشت اور گزرے ہوئے کل کو دہرانا یادداشت کا محرک ہے ۔اس میں قوت ِ حافظہ کو بڑا دخل ہوتا ہے ۔ یاد داشت اور روزنامچے میں کچھ مماثلت ہو سکتی ہے ۔ مگر یہ دونوں الگ الگ ہین ۔یاد داشت وقت گزرنے کے بعد لکھی جاتی ہے ۔ اس میں مصنف اپنی زندگی کے کارنامے یا مخصوص تہذیبی ، سیاسی ، سماجی ، علمی و ادبی ماحول پیش کرتا ہے ۔
یادوں کے سائے ——-عتیق صدیقی
روشنائی ———- سجاد ظہیر
روز نامچہ / ڈائری لکھنا
شب و روز کے واقعات ، معمولات ، اور کارکردگیوں کو روزانہ لکھنا روزنامچہ کہلاتا ہے ۔اس میں ماحول ، روایات ، نظریات ، مصروفیات ، تاریخی سچائیاں ، معاشرت اور سیاست وغیرہ کے متعلق معلومات ملتی ہیں ۔ اسے لکھنے والے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ۔ یہ کسی بھی موضوع پر لکھی جا سکتی ہے ۔
ایک ادبی ڈائری———–اختر انصاری
چھٹا دریا ————فکر تونسوی
انٹر ویو
کسی خاص موضوع پر دو اشخاص کے درمیان گفتگو اور سوال و جواب کو انٹرویو کہتے ہیں ۔ اس کی بہت اہمیت ہے ۔ اس کی کدد سے کسی شخص کی مختلف جہات کا تجزیہ آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ ایک مقصدی مکالمہ ہے ۔ انٹرویو لینے والا اپنے سامنے بیٹھے ہوئے انسان کی صورت و سیرت ، گہرائی و گیرائی ، نفسیات و اطوار اور میلان کا تجزیہ انٹرویو کے ذریعے کرتا ہے ۔ تاہم انٹرویو کا اردو نثری اصناف میں کوئی مقام نہ بن سکا ۔لیکن عنقریب اردو نثری اصناف میں اس کی شمولیت ممکن ہے ۔
مقالہ نگاری
کسی خاص موضوع پر ٹھوس معلومات کو یکجا کرکے لکھنا جس پر یا تو پہلے کسی نے کچھ نہ لکھا ہو یا اگر لکھا ہو تو کم لکھا ہو ۔ مقالہ کے معنی ہیں بات یا گفتگو ۔ کسی موضوع پر علمی اور ادبی تحریریا کسی نوعیت کا تفصیلی مضمون جو علمی و تحقیقی انداز میں تحریر کیا جائے ۔ مقالہ یا تحریر ؛ یہ اردو ، عربی اور پشتو کا لفظ ہے ۔ اس کی دو اقسام ہوتی ہیں :-
1- تخریجی مقالہ : کسی معین موضوع یعنی تاریخی ، مذہبی ، تہذیبی ، سائنسی ، شخصیات ، کتب یا اخبارات سے ھوالہ جات یکجا کرکے ترتیب کے ساتھ مزین کرنا ۔
2- تحقیقی مقالہ : کسی تاریخی ، تہذیبی ، ثقافتی ، شخصیت یا سائنسی موضوع پر مقالہ لکھما ؛ جس پر اس سے پہلے کسی نے کچھ نہ لکھا ہو یا تسلی بخش نہ لکھا ہو اور مزید لکھا جا سکتا ہو ۔
پاکستانی خواتین افسانہ نگار —— ڈاکٹر نورین رزاق
احوال و آثار ———- ڈاکٹر محمد اطہر مسعود
(مرتب کنندہ : شاکرہ کاظمی )