اقتباس کی تشریح : رسم و رواج کی پابندی کے نقصانات سر سید احمد خان
اقتباس : ( تواریخ سے ثابت ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نئی نئی باتیں پیدا ہوتی ہیں ۔)
حوالۂ سبق : رسم و رواج کی پابندی کے نقصانات
حوالہ و تعارف ِ مصنف : سر سید احمد خان
آپ انیسویں صدی کے اہم مفکر ، عالم اور مضمون نگار تھے ۔آپ کو جدید اردو نثر کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔مسلمانوں میں تعلیم کا رجحان پیدا کرنے کے لئے آپ نے علی گڑھ میں مدرسہ قائم کیا جو بعد میں کالج اور پھر یونیورسٹی بن گیا ۔آپ اردو زبان کے بڑے محسن ہیں ۔ آپ نے اردو ادب کے دامن میں بے پناہ کتابوں کا اضافہ کیا ۔ آپ کا انداز ِ بیان سادہ ، سلیس ، پُر تاثیر اور سائنٹفک ہے ؛ جس میں مقصدیت، بے ساختگی ،بے تکلفی ، تمثیلی و حکایتی انداز اور سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔
تصانیف : آثار الصنادید ، رسالہ اسباب بغاوت ہند ، تہذیب الاخلاق ، مقالات ِ سرسید ، خطبات ِ احمدیہ ، سفر نامۂ لندن اور تفسیر القرآن وغیرہ ۔
سیاق و سباق : مسلمانوں کی اصلاح و تر قی کے لئے سرسید نے کئی مضامین لکھے ۔ انہی میں یہ مضمون بھی شامل ہے ۔اس مضمون میں انھوں نے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ رسم و رواج کی اندھی تقلید معاشرے کی تباہی کا سبب بنتی ہے ۔اس لئے رسم و رواج کو اپناتے ہوئے اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے ۔فائدہ مند رسموں کو اختیار کرنا چاہیئے ؛ جو اصلاح کے قابل ہوں ان کی اصلاح کی جائےاور جو نقصان دہ ہوں انھیں چھوڑدینا چاہیئے۔ اس طرح انسان اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے گا اور ترقی کرے گا۔
زیرِ تشریح اقتباس سبق کے اس مقام سے لیا گیا ہے جہاں سرسید قوموں کی ترقی رک جانے کے اسباب بیان کر رہے ہیں ۔
تشریح : زیرِ تشریح سطور میں سر سید بیان کر رہے ہیں کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب ایشیائی قوموں میں عقل و شعور ذیادہ تھا۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسی بہترین رسمیں ایجاد کرتے تھے جو ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنتی تھیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی مشہور قوموں کی صف میں شامل تھیں ۔ان میں تہذیب و تمدن اور حسن ِ معاشرت کے عمدہ نمونے موجود تھے ۔ لیکن اب وہی قومیں غلام ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک طویل عر صہ سے انہی رسموں کی زنجیر سے بندھے ہوئی ہیں اور اپنی بہتریں صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر رہی ہیں قوموں میں عروج و زوال آتا رہتا ہے ۔کسی ترقی یافتہ قوم کو اس وقت زوال آتا ہے جب وہ بدلتے وقت کے ساتھ اپنی رسموں اور عادتوں کو تبدیل نہیں کرتیں۔جب وہ تحقیق وتلاش اور ایجاز و اختراع کی قوّت سے محروم ہوجاتی ہیں ۔ تو اس میں ترقی کا عمل رک جاتا ہے ۔ آج مسلمانوں کی یہی حالت ہے ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
اقتباس نمبر 2 : ( جو امر کہ پسندیدہ اور تسلیم کے قابل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو خراب ہوں ان کی پابندی چھوڑ دے ۔)
تشریح : اس اقتباس میں سر سید فلسفیوں کا ایک قول بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر انسان کی زندگی روشن و شگفتہ خیالات سے مزین ہوگی تو یہی اس کی ترقی کا زینہ ہے ۔اس کے علاوہ اگر اسے اپنی مرضی سے بدلنے کی آزادی بھی ہو تو اس کی تمام قوتیں فعال رہتی ہیں ۔ترقی کے راستے بھی اس کے لئے کھلے رہتے ہیں ۔لیکن اگر وہ رسم و رواج کی پابندی میں جکڑا ہوا ہو تو اس کے جذبات ، خیالات اور احساسات میں باہم مناسبت نہیں رہتی اور وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے ۔اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنی عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہوئے زندگی گزارے ۔اندھی تقلید کو کبھی پسند نہیں کیا جاتا ۔ انسان کو چاہیئے کہ وہ اپنی فہم و فراست کو بھی استعمال کرے اور اچھی رسموں کی پیروی کرے ، قابل ِ اصلاح رسموں کی اصلاح کرے اور جو رسمیں موجودہ حالات سے میل نہ کھاتی ہوں یا باعث نقصان ہوں ، انھیں ترک کردے ۔ کیوں کہ وہ پرانی رسومات پرانے زمانے کے لحاظ سے تو ٹھیک ہوں گی لیکن بدلتے زمانے سے ان کی مناسبت نہیں ہوگی ۔اس لئے ان میں ترمیم کر دینی چاہیئے۔ یہی درست انداز اور وقت کا تقاضہ ہے ۔قوموں کی تعمیر و ترقی کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
ا قتباس نمبر 3 : ( اخلاقی اور عقلی قوتوں کی ترقی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور کسی قوت کی حاجت نہیں ۔)
تشریح : زیر ، تشریح اقتباس میں سر سید اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لوگ اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے رسم و رواج کی پابندی کرے ۔کیوں کہ عقلی قوتوں کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب انھیں استعمال کیا جائے ۔ہمارے دور میں ہر شخص رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔گویا وہ ایک غلام جیسی زندگی بسر کر رہا ہے ۔وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے ۔یہ اس کے لئے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔دوسروں کی دیکھا دیکھی وہی عمل دہرائے جاتا ہے ۔بعض لوگ اپنے سے زیادہ رتبے کے لوگوں کی ہم سری کرتے ہیں ۔یہ بات ان کے لئے بہت نقصان دہ ہوتی ہے ۔اس سے ان کی اپنی انفرادی صلاحیتیں زائل ہو جاتی ہیں ۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
اقتباس نمبر 4 : ( رسم کی پابندی ہر جگہ انسان کی ترقی کی مانع اور مزاحم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔انسان کی تنزلی حالت کی اصلی باعث ہوتی ہے )
تشریح : درج بالا سطور میں سر سید زور دیتے ہوئے بیان کر رہے ہیں کہ اگر انسان اپنی عقل اور سمجھ کو استعمال نہ کرے اور بنا سوچے سمجھے رسموں کی پابندی کرتا رہے تو یہ سراسر نقصان ہے۔اس سے انسان کی عقل و فہم اور ایجاد و اختراع کی قوتیں زائل ہو جاتی ہیں۔بے شک ایجاد و اختراع کی صلاحیت ہر ایک میں نہیں ہو تی ؛ یہ صرف چند لوگوں میں ہوتی ہے ۔ جن کی سب لوگ تقلید کرتے ہیں ۔لیکن اس میں اور رسم و رواج میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ رسم و رواج کی پابندی سوچے سمجھے بغیر کی جاتی ہے ۔جس سے قوم کے افراد کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور ترقی کا عمل رُک جاتا ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
(تیار کردہ : شاکرہ کاظمی )