ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

غزل میرتقی میرؔ۔ (پتا پتا بوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے)

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

تعارفِ شاعر

  • خدائے سخن ، شہنشاہِ غزل ، غزل کی آبروکا تعلق دبستانِ دہلی سے تھا۔
  • آپ آگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے۔والد کے انتقال کے بعد دہلی آگئے۔احمد شاہ ابدالی کے حملے کے بعد لکھنئو آگئے۔
  • آپ نے ایک مشکل زندگی گزاری۔
  • آپ کا کلام ‘آہ’ ہے۔یعنی درد و غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
  • غم انگیزی، درد و سوز ، تخیلی اور فکری انداز ، درد مندی ، بلند حوصلگی ، دنیا کی بے ثباتی ، دلّی کی بربادی کا غم ، سادگی، خلوص ، صداقت ،خطابیہ انداز ، طنز ،تشبیہات و استعارات کا استعمال ، ترنم و موسیقیت ، تصوّف ، حکیمانہ انداز ، تصوّرِ محبوب ، تصوّرِ عشق ، سہلِ ممتنع ، احساسِ برتری  اور  دعائیہ انداز ان کے کلام کی نمایاں خوبیاں ہیں۔
  • 1810 ء میں ان کا انتقال ہوا ۔لکھنئو میں ان کی قبر تھی جس پر اب ریلوے اسٹیشن بنا دیا گیا ہے۔
  • تصانیف: 
  • انتخابِ میرؔ
  • ذکرِ میرؔ
  • کلیاتِ میرؔ
  • کلامِ میرؔ
  • شعلئہ عشق
  • منتخباتِ میرؔ
  • فیضِ میرؔ
  • دیوانِ میر ( 6 دیوان)میرؔ دریا ہے سُنے شعر زبانی اُس کیاللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اُس کی
  • کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ

    جہاں میں تُم آئے تھے کیا کر چلے

     

  • میرؔ اِن نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے
  • تشریحات

    1۔ پتا  پتا   بوٹا بوٹا  حال  ہمارا  جانے  ہے

    جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

    مرکزی خیال: محبوب مجھے جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے

    تشریح :میرؔ اپنے دل کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں زمانے بھر کو میری محبت کا علم ہے ۔لیکن میں جس کی محبت میں مبتلا ہوں وہی میرے حال سے بے خبر ہے۔اپنے دل کی کیفیت بیان کرنے کے لئے وہ قدرتی عناصر کا سہارا لیتے  ہیں ۔صنعتِ مراعات النظیر استعمال کرتے  ہوئے کہتے  ہیں کہ ہر چھوٹے بڑے اور خاص و عام کو میری محبت کی خبر ہے۔میرے درد کا افسانہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ زبان زدِ عام ہے۔

    لیکن ‘گُل’ یعنی میرا محبوب میرے دردوغم سے بے خبر ہے یا وہ جان بوجھ کر انجان بن رہا ہے

    یہاں پتا پتا بوٹا بوٹا سے مرادہر شخص  ہے جبکہ باغ معاشرہ یا سوسائٹی مراد ہے۔

    اس شعر میں شاعر نے اپنے دل کی کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

    محاسن: صنعت مراعات النظیر(پتا،بوٹا،گُل،باغ)،

    صنعت تکرار: ( پتا پتا بوٹا بوٹا)

    استعارہ: پتا بوٹا ۔لوگ ، گُل۔محبوب ، باغ۔معاشرہ

    مماثل شعر:

    یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

    مگر ایسی بے رُخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

  • 2۔آگے اُس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے تھے

    کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے

    مرکزی خیال : انسان غرور اور تکبر کرتا ہے اور خدا کی موجودگی کا احساس نہیں کرتا۔

    تشریح: یہ شعر گہرے معانی رکھتا ہے۔اس میں انسانی رویّے، جذبات اور نفسیات کے ساتھ فلسفیانہ خیالات بھی پائے جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کی اگرکسی مغرور اور خود پسند آدمی کے سامنے خدا کا نام لے کر رحم کی درخواست کی جائےتو وہ اسے خاطر میں نہیں لاتا  اور کسی پر رحم نہیں کرتا۔مغرور شخص خدا کی حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے۔گویا خود پسندی اور غرور انسان کو  حقیقی خدا سے دور کر دیتا ہے۔پسِ پردہ خدا کی بندگی اورانسانی درد  کا ذکر کیا جارہا ہے۔غرور کے منفی اثرات معاشرے کا بُری طرح متاثر کرتے ہیں۔

    فنی محاسن :

    اصطلاح : خدا خدا کرنا۔ بہت ذیادہ کوشش کرنا

    استعارہ اور علامت: متکبر، خدا خدا کرنا

    تضاد کا عنصر: عاجزی اور تکبر

    مماثل شعر:

    شہرت کی بلندی  بھی پل بھر کا تماشہ ہے

    جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

    ۔۔۔۔۔

    اندھیرے لوٹ آتے ہیں تکبر کی سزا بن کر

    سبھی کو آزماتے پھِر رہے ہو کیوں خدا بن کر

  • 3۔عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں

    جی کے زیاں کو عشق میں اُس نے اپنا وارا جانے ہے

    مرکزی خیال: عاشق بہت سادہ  اور بھولا ہوتا ہے۔وہ محبت میں ہونے والے اپنے دل کے نقصان کو بھی اپنا فائدہ سمجھتا ہے۔

    تشریح :میر ؔ کی شاعری انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔اس شعر میں وہ عاشق کی سادگی اور معصومیت کو بیان کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ عاشق کی یہ سادگی اُس کے خلوص کی علامت ہے۔وہ بے غرض محبت کرتا ہے،مکر و فریب سے پاک ہےاور دنیا کے مادی مسائل سے بے نیاز ہے۔وہ محبوب کی خوشی کو اپنی خوشی مانتا ہے۔وہ اپنے عشق میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ اپنی زندگی کی تمام کوشیاں محبوب سے وابستہ کر لی ہیں۔

    وہ محبوب کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتا ہے۔عاشق اس بات سے بے نیاز ہے کہ اُسے کوئی اذیّت یا تکلیف ہو رہی ہے ، بلکہ وہ اس میں بھی لذّت محسوس کرتا ہے اور اپنا فائدہ سمجھتا ہے۔گویا ایک عاشق کی خوشی اس کے معشوق کی خوشی میں پوشیدہ ہے۔

    محاسن:

    سادگی،معصومیت،خلوص اور سچائی کا اظہار

    تشبیہ و استعارہ : جی کے زیاں

    مماثل شعر:

    چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا

  • جس طرح آنکھ اُٹھے محوِ ادا ہو جانا

  • 4۔چارہ گری بیمارئ دل کی رسمِ شہرِ حُسن نہیں

    ورنہ دلبرِ ناداں بھی اِس درد کا چارہ جانے ہے

    مرکزی خیال: دل کی بیماری کا علاج یعنی عاشق پر کرم کرنا حُسن والوں کا شیوہ ہی نہیں ہوتا۔ورنہ اس کا علاج کوئی نادان محبوب بھی جانتا ہے۔

    تشریح: اس شعر میں شاعر دل کی کیفیت اور محبوب کی لا پرواہی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبوب کا یہ معمول نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مُحب کی تکلیفوں یا زخموں کا مداوا کریں۔وہ اس کے درد کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔اُسے ان تکلیفوں کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔محبوب کی بے نیازی اورلا تعلقی عام ہے۔کیونکہ عاشق کی آرزوؤں اور تمنّاؤں کو پورا کرنا  اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔

    وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ محبوب نا سمجھ ہے مگر وہ اس درد کا علاج جانتا ہے۔لیکن عدم توجہی ایک عادت یا روایت ہے۔یہاں شاعر کا لہجہ ذرا طنزیہ ہے۔یعنی وہ جان بوجھ کر اس کی پرواہ نہیں کر رہا ہے۔یہ شعر محبوب کی خود غرضی اور بے نیازی کو ظاہر کرتا ہے۔

    محاسن:مرکب اضافی(بیمارئ دل)،(رسمِ شہرِ حُسن)۔

    استعارہ ، تضاد

    مماثل شعر:

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دَم نکلے

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    5

  • ۔مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف اِن میں نہیں

  • اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے

    مرکزی خیال: محبوب کو لطف و کرم اور محبت جیسی باتوں کا تو علم نہیں مگر طنز و کنایہ اور اشاروں کےبارے میں خوب علم ہے۔

     تشریح : اس شعر میں محبوب کی روایتی سرد مہری اور بے نیازی کا ذکر ہے۔شاعر کہتے ہیں کہ ان کا محبوب انہیں بہت ستاتا ہے۔محبت کا جواب محبت سے دینے کی بجائے الٹا طنز اور طعنوں کے نشترچبھوتا رہتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے محبت سے پیش آنے کی توقع رکھتے ہیں۔مگر ان کے یہ سارے  جذبات محض خواب ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ وفا کرنا محبوب کا شعار ہی نہیں۔وہ لطف و عنایت جانتا ہی نہیں بلکہ اس کے الٹ اس کی فطرت میں طنز و کنایہ رچا بسا ہے۔

    محبت، وفاداری،کرم اور مہربانی جیسی خصوصیات سےمحبوب واقف ہی نہیں۔وہ ان جذبات کی کوئی قدر نہیں کرتا۔اس کی لاپرواہی شاعر کے لئے تکلیف کا باعث ہے۔الٹا وہ ان کی محبت کا مذاق بناتا ہے اور طنز کرتا ہے۔

    محاسن: مرکب عطفی ( مہرووفا) (طنز و کنایہ) ( رمز و اشارہ )

    صنعتِ تضاد

    مماثل شعر:

    تُو لاکھ پڑھا کرتا پھرے پیار کے منتر

    فطرت میں جن کی ڈسنا ہو وہ ڈس ہی لیتے ہیں

  • 6۔کیا کیا فتنے سر پر اُس کےلاتا ہے معشوق اپنا

    جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے

    مرکزی خیال: معشوق اپنے عاشق پر کرم کرنے کی بجائے اس پر طرح طرح کی بلائیں نازل کرتا ہے۔

    تشریح : یہ شعر  عاشق کی مایوسی اور معشوق کی بے رحمی کو بیان کرتا ہے۔محبوب کی بے نیازی کی وجہ سے محب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں فتنے سے مراد وہ مشکلات اور مصیبتیں ہیں جو ایک عاشق کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عاشق کی حالت پہلے ہی بہت خراب ہوتی ہے ؛ محبوب کی بے رحمی اس کو مزید بد تر کر دیتی ہے ۔ عاشق مایوس ، بے قرار اور طاقت سے محروم ہو جاتا ہے ۔  

    محبوب کی طرف سے ملنے والی پریشانیاں اس کے درد کو مزید بڑھا دیتی ہیں ۔عاشق جس کا دل پہلے ہی بے تاب و تواں ہوتا ہے ؛ محبوب کا ستم اسے مزید شکست خوردہ  بنا دیتا ہے ۔

    محاسن :

    استعارہ( فتنے۔ عشق کی مشکلات)

    مرکب عطفی( بے تاب و تواں)

    مماثل شعر :

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

    7۔تشنہِ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش

    دم دار آبِ تیغ کو اُس کے آبِ گوارا جانے ہے

    مرکزی خیال : مصیبتیں برداشت کرنے والا نادان میرؔ خود اپنے خون کا پیاسا ہے۔اسی لئے محبوب کی تیز چمکدار تلوار کو برداشت کرتا ہے۔

     تشریح :مقطع کے اس شعر میں میرؔ انسانی فطرت  ، اس کی پیچیدگیوں  ، انسان کے اندر موجود تضادات اور نادانیوں کو بیان کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انسان خود ہی اپنی مشکلات کو دعوت دیتا ہے۔وہ خود ہی اپنے خون کا پیاسا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود ہی مشکلات کو دعوت دیتا ہے اور آخری حد تک جانے کو تیار ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی کی سختیوں اور تلخیوں کو میں ایسے برداشت کرتا ہوں جیسے تیز دھار تلوار کی تیزی، جو انتہائی کاٹ دار ہوتی ہے۔

    مگر مجھے یہ تلخی منظور ہے۔ میں خود اپنے خون کا پیاسا ہوں۔ میری زندگی کی اکثر مشکلات خود میری ہی  لائی ہوئی ہیں۔میں مزید بھی انہیں برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس شعر میں اذیّت پسندی کا عنصر نمایاں ہے۔

    محاسن : تشبیہ  و استعارہ(خون۔تلخی ، آبِ تیغ۔ شدت)

    صنعتِ تجنیس: آبِ تیغ

    مرکب اضافی تشنہِ خوں ، آبِ تیغ ، آبِ گوارا)

    مماثل شعر :

    ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دَم کہاں

    ہم نے جلا کے راکھ کی خود اپنی آرزو

    شاکرہ کاظمی

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *