تعارفِ غالبؔ
مکتوب نگار / کاتب
مرزا غالب ایک عظیم شاعر تھے۔ اس کے علاوہ مخصوص ، منفرد اور جدید خطوط نگاری کے موجد تھے ۔آپ کا انداز سادہ، بے تکلف ، جامع ، پُر مزاح اور دلکش تھا۔ آپ اپنی سوانح اور اپنے زمانے کی تاریخ بتانے والے منفرد دانش ور ہیں ۔ آپ کے خطوط سے اس وقت کے سیاسی حالات اور مجلسی زندگی کا اندازہ ہوتا ہے ، اس کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی کے تکلیف دہ حالات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ آپ کے خطوط اردو نثر میں ایک نیا تجربہ اور نقشِ اوّل ثابت ہوئے۔ آپ نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ آپ کے خطوط کے مجموعے ” عودِ ہندی اور اردوئے معلیٰ“ کے نام سے شائع ہوئے۔
تعارف مکتوب الیہ ( نواب علاؤالدین احمد خان علائی)
آپ نواب امین الدین احمد خان کے بڑے بیٹے اور عارف جان کے پوتے تھے جو رئیس لوہارو تھے ۔اپنے والد کی وفات کے بعد ریاست کے وارث تھے۔غالب انہیں اپنا خلیفہ ثانی سمجھتے تھے۔یہ اردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر تھے اور ترکی زبان بھی بہ خوبی جانتے تھے۔آپ کی وفات اکتوبر 1884ء میں ہوئی۔
نواب علاؤالدین کے بڑے بیٹے نواب سے امیر الدین احمد خان بھی غالب کے اقرباء میں سے تھے۔آپ فرخ میرزا کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔
خلاصہ
1857ء کے ہنگاموں کے بعد دہلی شہر کے رہنے والوں نے بہت مصیبتیں اور پریشانیاں دیکھیں۔ لوگ بُری طرح متاثر ہوئے۔گھر کے گھر اجڑ گئے ، لوگ دربدر ہو گئے۔ ان حالات میں غالب دو سال تک گھر سے باہر نہیں نکلے۔گزر اوقات پینشن پر ہوتی تھی۔انگریزوں نے آکر پینشن روک دی اور پھر بعد میں اس کے لئے ایک نیا قانون بنایا کہ تین سال کی روکی ہوئی پینشن یک مشت ادا کردی اور آئندہ سے یہ چھ ماہ کی ایک ساتھ ملا کرے گی۔غالب نے اپنے خط علاوالدین احمد خان علائی کو اس بارے میں تفصیلات لکھیں۔ اس کے علاوہ اپنی رہائش کے مسائل کو بھی بیان کیا کہ جس گھر میں بارہ برس سے رہتا تھا وہ حویلی غلام اللہ خان نے خرید لی ہے اور اسے خالی کرنے کو کہا ہے۔علاؤالدین کی چھوٹی خالہ نے انہیں کڑوڑا والی حویلی رہنے کو دے دی ہے۔علاوہ ازیں امین الدین صاحب کی آمد کی اطلاع دی ہے۔غالب کے اس خط سے ان کے شخصی مسائل اور اس وقت کے حالات کی سختی کا بہ خوبی اندازہ ان کے آخری جملے سے ہوتا ہے۔“ نگاشتہ درداں داشتہیک شنبہ بین الظہروالعصر ” یعنی “اتوار کو ظہر اور عصر کے درمیاں انتہائی دکھی دل کے ساتھ تحریر کرکے محفوظ کرلیا۔”
نئے الفاظ کے معانی
- بے کم و کاست – بغیر کسی کمی کے
- زر مجمتمعہ- جمع شدہ رقم
- سہ سالہ – تین سال کی
- یکمشت – ایک ساتھ
- بدستور – مسلسل
- ششماہی- چھ مہینے کے بعد
- ماہ بہ ماہ – ہر مہینے
- مول لے لی- خرید لی
- محل سرا- زنان خانہ
- دیوان خانہ- بیٹھک/ مہمانوں کو بٹھانے کی جگہ
- ناچار- مجبوراً
- بے کس نوازی- پریشانی میں مدد کرنا
- ہر چند- بےشک
- رعایت مرعی- آسانی/ سہولت/لحاظ
- رکاب- گھڑ سوار کے پاؤں رکھنے کی جگہ
- توشہ- پیسہ / زاد راہ
- گوشہ- جگہ / طرف /کونا /جانب
- پہر دن چڑھے – سورج نکلنے کے بعد
- دو گھڑی بعد- کچھ دیر کے بعد
- نزول اجلال – شان سے آنا
- پہر دن رہے- عصر کے وقت
- ناگاہ – اچانک
- دل کڑھا- افسوس ہوا
- نگاشتہ- تحریر کردہ
- درداں- افسوس
- داشتہ- محفوظ
- یک شنبہ- اتوار
- بین- درمیان/ اونچی آواز سے روناسوال نمبر 5: مرزا غالب کے خطوط کا عصری تناظر میں تجزیہ اور تبصرہ
غالب نے اردو میں ایسے خطوط لکھے جواپنے بے مثال ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔خطوطِ غالب کے مجموعے“ اردوئے معلیٰ اور عودِ ہندی” اردو ادب کا بہترین سرمایا ہیں۔غالب کے خطوط کی تاریخی اہمیت بھی مسّلم ہے۔یہ خطوط اس زمانے کے حالات اور خاص طور پر غدر کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ معلومات کا گنجینہ ہیں۔ان سے اس دور کی سیاسی اور سماجی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔ خاص طور پر ایامِ غدر اور اس کے بعد کے چشم دید حالات ان خطوط میں بیان ہوئے ہیں۔یہ خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے ترجمان ہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ 1857ء کے ہنگامے کی تاریخ مرتب کرنے میں ان سے مدد مل سکتی ہے۔ طنز و مزاح کا عنصر بھی غالب کے خطوط کی اہم خصوصیت ہے۔ان کے خطوط میں تبسم زیرِ لب پیدا کرنے کی حلاوت موجود ہے۔وہ اپنے آنسوؤں کو ہنسی میں چھپا لینا جانتے تھے۔ذاتی زندگی کی مشکلات اور دیگر مسائل کے باوجود ان کے خطوط میں شگفتہ جملوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے
سوال نمبر 6 : غالب کے خطوط کی خصوصیات
غالب کی مکتوب نگاری کی ادبی اہمیت کسی بھی شک شبہ سے بالا تر ہے اور نثری ادب کا سر مایہ ہے۔غالب سے قبل اردو میں سجع و مقفیٰ اور دقیق نثر کا رواج تھا۔فسانہ عجائب کی نثر نے پورا سکّہ جمایا ہوا تھا۔اردو نظم کی طرح نثر میں بھی اوزان مقرر تھے۔دقیق الفاظ، عربی و فارسی الفاظ کا بے تحاشا استعمال اورعبارت میں قافیہ کا خیال رکھا جاتا تھا۔ نثر مصنوعی حُسن کی چار دیواری میں قید تھی۔غالب نے ادب میں لطیف مزاح کی داغ بیل ڈالی۔آپ نے عام فہم اور سلیس اسلوب تحریر ایجاد کیا۔خطوط کی ان خصوصیات پر زور دیا جن کا تعلق خطوط کے موضوعات سے ہے۔آپ نے قدیم طریقہ آداب و القاب کو استعمال نہیں کیا۔غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔آپ نے اردو نثر میں ایک شان پیدا کی۔غا لب کے خطوط پڑھ کر یہ لگتا ہے کہ دو آدمی بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔آپ نے اکثر لمبے لمبے القاب کو مختصر کردیا۔مزاج کی شگفتگی اور زندہ دلی نےخطوط میں لطیف مزاح کی چاشنی پیدا کردی۔زبان نہایت صاف سادہ اور رواں ہے۔غرض غالب کے خطوط نے اردو نثر میں چار چاند لگا دیئے۔
-
اردوئے معلیٰ ۔ عودِ ہندی ۔ مکاتیبِ غالب