ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

مکاتیبِ غالبؔ ۔ منشی ہر گوپال تفتہ۔( 1797۔۔1869)

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: اسباق۔مشقی سوالات, درس و تدریس, مصنفین کے تعارف

تعارفِ غالبؔ

مکتوب نگار / کاتب

مرزا غالب ایک عظیم شاعر تھے۔ اس کے علاوہ  مخصوص ، منفرد اور جدید خطوط نگاری کے موجد تھے ۔آپ کا انداز سادہ، بے تکلف ، جامع ، پُر مزاح اور دلکش تھا۔ آپ اپنی سوانح اور اپنے زمانے کی تاریخ بتانے والے منفرد دانش ور ہیں ۔ آپ کے خطوط سے اس وقت کے سیاسی حالات  اور مجلسی  زندگی کا اندازہ ہوتا ہے ، اس کے علاوہ ان کی ذاتی زندگی کے تکلیف دہ حالات کا بھی  پتہ چلتا ہے۔ آپ کے خطوط اردو نثر میں ایک نیا تجربہ اور نقشِ اوّل ثابت ہوئے۔ آپ نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ آپ کے خطوط کے مجموعے  ” عودِ ہندی  اور اردوئے معلیٰ“ کے نام سے شائع ہوئے۔

تعارف  مکتوب الیہ ( منشی ہر گوپال تفتہ)

ہر گوپال تفتہ 1799کو سکندرآباد میں پیدا ہوئے۔ وہ غالب سے دو سال چھوٹے تھے۔ والد کا نام موتی لال تھا۔فارسی سے خاصا لگاؤ تھا۔ شعر گوئی کے شوق میں آپ نے ملازمت ترک کر دی۔اپنے خرچ سے کتابیں چھپواتے تھے۔غالب نے سب سے ذیادہ خطوط تفتہ کے نام لکھے۔تفتہ غالب کے سب سے ذیادہ سعادت مند اور فرماں بردار شاگرد تھے۔اپنے خطوط میں غالب نے   انہیں میرزا تفتہ ، بھائی ، منشی صاحب، نور چشم غالب  اور از خود رفتہ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔تفتہ کی ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔2 ستمبر 1879 کو سکندر آباد میں وفات پائی۔

خلاصہ

انگریزوں کے خلاف 1857ء کی ہونے والی بغاوت جسے بعد میں غدر کا نام دیا گیا اس میں دہلی شہر بہت تکلیف دہ اور مایوس کن حالت سے دوچار ہوا۔غالب نے اپنے اس خط کے ذریعے اس عہد کے دہلی شہر کی سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ وہاں کے سیاسی حالات کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔انگریز حکمرانوں کے قابض ہونے کے بعددہلی شہر اجڑنے کے بعد دوبارہ آباد ہو رہا تھا۔اور یہ غالب کے لئے ایک طرح سے دوسرا جنم تھا۔ جہاں پھر سے دہلی شہر کی پرانی روایات لوٹنے لگی تھیں۔ دہلی کے لوگ حکمران کی جانب سے اجازت نامہ پا کر یہاں دوبارہ آباد ہونے لگے تھے۔ مجرموں کو سزائیں دی جا رہی تھیں۔ غالب اس وقت قلعے میں شعری اصلاح  کی ملازمت پر معمور تھے۔غالب نے یہ تمام حالات خط کے ذریعے منشی ہر گوپال تفتہ کو لکھے ہیں ۔

نئے الفاظ کے معنی

  • جنم – پیدائش/ زندگی
  • باہم- ایک ساتھ/ ملکر
  • طرح طرح کے- مختلف
  • مہر و محبت- پیار و محبت
  • دوستِ دلی- قریبی دوست
  • ناگاہ- اچانک
  • اختلاط- میل جول
  • انبساط- خوشی
  • موسوم- نسبت ہونا
  • اہلِ حرفہ- ماہر / ہنر مند افراد
  • شدت – سختی
  • باز پرس اور داروگیر – پوچھ گچھ اور پکڑ دھکڑ
  • طلبی – پوچھ گچھ کے لئے بلانا
  • کوچہ – گلی
  • غارت دہلی – دہلی کی بربادی
  • مسکن قدیم – پرانا گھر
  • والئ پٹیالہ – پٹیالہ کے حاکم
  • عہد لینا – وعدہ لینا
  • مفصل – تفصیل سے
  • بے چراغ – مفلس / خالی
  • جرنیلی بندوبست – فوج کا انتظام
  • شنبہ – ہفتے کا دن
  • شنبہ پنجم – جمعرات کا دن
  • ہنوز – ابھی تک
  • امور – کام
  • ٹکٹ – آنے جانے ا اجازت نامہ
  • زنہار – ہرگز
  • ڈاک کا ہر کارا – ڈاکیا / قاصد

    سوال نمبر 5: مرزا غالب کے خطوط کا عصری تناظر میں تجزیہ اور تبصرہ

    غالب نے اردو میں ایسے خطوط لکھے جواپنے بے مثال ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔خطوطِ غالب کے مجموعے“ اردوئے معلیٰ اور  عودِ  ہندی” اردو ادب کا بہترین سرمایا ہیں۔غالب کے خطوط کی تاریخی اہمیت بھی مسّلم ہے۔یہ خطوط اس زمانے کے حالات اور خاص طور پر غدر کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ معلومات کا گنجینہ ہیں۔ان سے اس دور کی سیاسی  اور سماجی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔ خاص طور پر ایامِ غدر اور اس کے بعد کے چشم دید حالات  ان خطوط میں بیان ہوئے ہیں۔یہ خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے ترجمان ہیں بلکہ  ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ 1857ء کے ہنگامے کی تاریخ مرتب کرنے میں ان سے مدد مل سکتی ہے۔ طنز و مزاح کا عنصر بھی غالب کے خطوط کی اہم خصوصیت ہے۔ان کے خطوط  میں تبسم زیرِ لب پیدا کرنے کی حلاوت موجود ہے۔وہ اپنے آنسوؤں کو ہنسی میں چھپا لینا جانتے تھے۔ذاتی زندگی کی مشکلات  اور دیگر مسائل کے باوجود ان کے خطوط  میں شگفتہ جملوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے

    سوال نمبر 6 : غالب کے خطوط  کی خصوصیات

    غالب کی مکتوب نگاری کی  ادبی اہمیت کسی بھی شک شبہ سے بالا تر ہے اور نثری ادب کا سر مایہ ہے۔غالب سے قبل اردو میں سجع و مقفیٰ اور دقیق نثر کا رواج تھا۔فسانہ عجائب کی نثر نے پورا سکّہ جمایا ہوا تھا۔اردو نظم کی طرح نثر  میں بھی اوزان مقرر تھے۔دقیق الفاظ، عربی و فارسی الفاظ کا بے تحاشا استعمال اورعبارت میں قافیہ کا خیال رکھا جاتا تھا۔ نثر مصنوعی حُسن کی چار دیواری میں قید تھی۔غالب نے ادب میں لطیف مزاح کی داغ بیل ڈالی۔آپ نے عام فہم اور سلیس اسلوب تحریر ایجاد کیا۔خطوط کی ان خصوصیات پر زور دیا جن کا تعلق خطوط کے موضوعات  سے ہے۔آپ نے قدیم طریقہ آداب و القاب کو استعمال نہیں کیا۔غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔آپ نے اردو نثر میں  ایک شان پیدا کی۔غا لب کے خطوط پڑھ کر یہ لگتا ہے کہ دو آدمی بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔آپ نے  اکثر لمبے لمبے القاب کو مختصر  کردیا۔مزاج کی شگفتگی اور زندہ دلی نے خطوط میں لطیف مزاح کی چاشنی پیدا  کردی۔زبان نہایت صاف سادہ اور رواں ہے۔غرض غالب کے خطوط نے اردو نثر میں چار چاند لگا دیئے۔

    اقتباس کی تشریح

    اقتباس:( میں غریب شاعر دس برس سےتاریخ لکھنے اور شعر کی اصلاح دینے پر ۔ ۔ ۔ لہٰذا طلبی نہیں ہوئی)

    حوالہ سبق:مکاتیبِ غالب بنام منشی ہر گوپال تفتہ

    حوالہ مصنف:مرزا اسد اللہ خان غالب

    سیاق و سباق: خلاصہ سبق

    تشریح:زیر تشریح اقتباس غالب کے تفتہ کے نام خط سے لیا  گیا ہے ۔ ان سطور میں غالب تفتہ کو دہلی کے ناسازگار حالات کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ یہاں کس قدر سختی ہو رہی ہے۔کوئی شریف انسان انگریزوں کے عتاب سے نہیں بچا۔جگہ جگہ مختلف طرح کی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ 1857ء کے ہنگامے کے بعد ان میں اور شدت آگئی ہے۔

    لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے، پوچھ گچھ ہو رہی ہے ۔ لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں یا نکالے جا رہے ہیں۔اپنے بارے میں غالب لکھتے ہیں کہ میں اس لئے بچا ہوا ہوں کہ میں گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا ، کسی کے معاملے میں کچھ نہیں مداخلت کرتا۔اپنے کام سے کام رکھتا ہوں ۔صرف اشعار کی اصلاح کا کام خاموشی سے کرتا ہوں۔شاہی دفتر سے یا جاسوسوں اور مخبروں کے ذریعے بھی میری کوئی شکایت نہیں ملی  ؛ اسی لئے اب تک میں محفوظ ہوں۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    اردوئے معلیٰ  ۔ عودِ ہندی ۔ مکاتیبِ غالب

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *