ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

غزل فراؔ ق گورکھ پوری۔(سر میں سودا بھی نہیں دِل میں تمنّا بھی نہیں(

تاریخ: September 8, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

تعارفِ شاعر۔ 1896۔1982

  • فراق گورکھ پوری کا اصلی نام رگھو پتی سہائے اور تخلص فراقؔ تھا۔
  • والد منشی گورکھ پرشاد شہر کے مشہور وکیل تھے۔
  • ایم اے انگریزی کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔
  • فراؔق نے نظمیں غزلیں اور رباعیاں لکھیں لیکن شہرت غزلوں کی وجہ سے ہے۔
  • ان کی غزلوں میں نئے دور کا احساس اور شعورپایا جاتا ہے۔
  • حاضر جوابی میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔
  • رومانی تنقید کی ابتدا فراقؔ سے ہوئی۔
  • حیات و کائنات پر ایمان کو انہوں نے اپنی عشقیہ شاعری کا اہم جزو بنایا ہے۔
  • صداقت ، جذبات ، کیفیت ، ہمہ گیری اور زبان و بیان کا خاص انداز ان کی شاعری کی پہچان ہے۔
  • ٍاستعاروں اور تشبیہوں کے ذریعے اپنے کلام میں ندرت پیدا کرتے ہیں۔
  • بین الا قوامی ادب سے بھی شغف رہا۔
  • تصانیف: روحِ کائنات ، گُلِ رعنا ، مشعل ، شبستان، غزلستان، گُلِ نغمہ ، روپ ، شبنمستان وغیرہ

    1۔سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنّا بھی نہیں

    مرکزی خیال: تجھ سے ملنے کی آرزو بھی نہیں اور تجھ سے دور رہنا بھی ممکن نہیں۔

    تشریح : اس شعر میں شاعر عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا  ۔وہ مایوسی  اور امید کی درمیانی کیفیت میں ہے۔اپنی اس حالت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ نہ تو میرے دل کی یہ تمنّا ہے کہ میں تم سے ترکِ محبت کر لوں، اور نہ ہی سر میں دھُن سمائی ہےکہ تم سے جدائی اختیار کرلوں اور اگر ترکِ محبت کر بھی لوں تو مجھے خود پر بھروسہ نہیں ہے کہ میں واقعی تم کو بھول بھی جاؤں گا ۔ان دنوں دل کا عجب حال ہے۔ایک بے یقینی کی کیفیت ہے ۔ کیونکہ ہم نے محبت میں ایسے زخم کھائے ہیں کہ محبت سے باز آئے۔لیکن خود اپنا اعتبار نہیں کہ کب دوبارہ عشق کر بیٹھیں۔شاعر محبوب سے جُدا ہونا بھی چاہے تو نہیں ہو سکتا ؛  وہ محبت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔

     

    مماثل شعر:

    مجھے خود اپنی طبیعت کا اعتبار نہیں

    خدا کرے کہ تجھے اب نہ عمر بھر دیکھوں

    یہی ہے نا تمہیں ہم سے بچھڑ جانے کی جلدی ہے

    کبھی ملنا تمہارے مسئلے کا حل نکالیں گے

    محاسن ِ شعر:

    مرکب اضافی: ترکِ محبت

    جذبات کا برملا اظہار

    2۔ ایک مدّت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

    مرکزی خیال: کئی دنوں سے تمھاری یاد نہیں آئی  مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم تجھے بھول گئے ہیں۔

    تشریح:اس شعر کے کئی مطالب ہو سکتے ہیں ۔شاعر اپنے دل کی اداسی کا سبب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے محبوب ایک عرصہ گزر گیا کہ مجھے تری یاد نہیں آئی ، تیرا خیال اب مجھے نہیں ستاتا۔ تیری تڑپ اب مجھے بے قرار نہیں کرتی ۔لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ میں تجھے بھول گیا  ہوں۔تم میرےخیالوں میں اب بھی پائےجاتے ہو ۔ ہاں مگر اس میں اب وہ پہلے جیسی تڑپ نہیں ہے۔

    اس کا  دوسرا مفہوم یوں بھی ہو سکتا ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا ،  دنیا کے مسائل اس قدر ہیں کہ  شاعر ان میں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ وہ محبوب کی   یاد سے غافل نہیں ۔لیکن کارِ جہاں نے اسےخود میں اس قدر مصروف کر رکھا ہے  کہ وہ اب اسے شدت سے یاد نہیں کر سکتا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ  اپنے محبوب  کو  بھلا چکا  ہے۔

    مماثل شعر:

    عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ ، اب

    وہ مجھے یاد تو آتا ہے ، مگر کام کے بعد

    باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں

    کارِ جہاں دراز ہے ، اَب میرا انتظار کر

    محاسن:

    صنعتِ تضاد : ( یاد ، بھول)

    سہلِ ممتنع: ( آسان الفاظ میں گہری بات کہنا)

    3۔آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا

    مرکزی خیال: آج میری آنکھوں میں محبوب کے لئے غفلت اور لاپرواہی پہلے سے ذیادہ ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں سکوں سے ہوں ۔

    تشریح:شاعر کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات ، کیفیات اور جذبات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ آج کل حقیقت پسندی غالب ہے ۔میری آنکھوں میں پہلے سے ذیادہ غفلت اور لاپرواہی ہے۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ محبوب کی جدائی سے میرے دل کو سکون اور اطمینان ہے یا میں سکون سے ہوں۔جب محبوب نے تغافل برتا تو ان آنکھوں کی لاپرواہی دیکھ کر میں بھی بیگانہ ہو گیا۔اب مجھے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔لوگ اداس عاشقوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ان دیوانوں  کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا، ان کو کہیں سکون نہیں ملتا۔

    مماثل شعر:

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

    محاسن:

    مرکب اضافی : ( خاطرِ بیمار )

    4۔بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام

    مرکزی خیال: محبوب کی یاد میں تڑپتے ہوئے دل کو سکون نہ صحرا میں اور نہ ہی قید خانے میں ملتا ہے۔

    تشریح : شاعر کہتے ہیں کہ محبت صرف بے چینی اور اضطراب کا نام ہے۔ محبت میں  بے قرار دل کو کہیں سکوں اور چین نہیں ملتا۔ عشق کے مرض کا کوئی علاج نہیں۔جو بھی اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے اس کے دل کو پھر کہیں قرار نہیں ملتا ۔محبوب کی محبت اور اس کی یاد ہر وقت دل کو بے چین کئے رکھتی ہے۔اس کا دل وحشی بن جاتا ہے ۔اس کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ اس کو کسی پل قرار نہیں ملتا ۔تنہائی ہو یا محفل اس کا دل کہیں نہیں لگتا۔اس کی آنکھیں ہر پل محبوب کا دیدار چاہتی ہیں۔ایسے وحشی دل کا ٹھکانہ نہ تو زندان کی قید ہے اور نہ صحراؤں کی وسعتیں ہیں۔جس کو یہ لا علاج مرض لگ جائے اس  کا کہیں ٹھکانہ نہیں ہے۔

    مماثل شعر:

    نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا

    محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں

    تڑپ تڑپ کے تمنّا میں کروٹیں بدلیں

    نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات

    محاسن:

    مرکب اضافی : ( سکونِ دلِ وحشی ، کنجِ زنداں ، وسعتِ صحرا)

    صنعت ِ تضاد

    5۔ارے صیاد ہمیں گُل ہیں ہمیں بُلبُل ہیں

    مرکزی  خیال:اے صیاد ! تو ہمیں پہچانا نہیں۔ ہم خود ہی مظلوم اور خود ہی ظالم ہیں۔

    تشریح: شاعر یہاں اپنی نفسیات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے صیاد تو جو ہمیں گرفتار کر کے یہ سمجھ رہا ہے کہ تو نے ہمیں کسی اذیت میں مبتلا کر  دیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ ہم خود ہی اپنے آپ کو تکلیف دینے کے لئے کافی ہیں۔ہم خود ہی اپنے لئے اذیت کے سامان اکٹھاکرتے ہیں۔ایک بے وفا سے وفا کی امید لگاتے ہیں ۔جب وفا کا جواب وفا سے نہیں ملتا تو خود ہی مظلوم بن جاتے ہیں۔ہم خود ہی اپنے آپ کو جان بوجھ کر تکلیف  دیتے ہیں ۔اور جب تکلیف ملتی ہے تو بلبلانے لگتے ہیں۔ ہم خود ہی اپنے سکون کے دشمن ہیں ۔ہمیں کوئی کیا تکلیف دے گا۔لیکن ان سب کا ایک سبب ہے۔جب انسان کسی سے بالکل  مایوس ہو جاتا ہے اور کوئی امید نہیں رہتی تو وہ  ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خود کو  اذیت دینے لگ جاتا ہے۔

    شاعر انتہائی مایوسی کے عالم میں اپنے محبوب سے مخاطب ہے کہ  اے دوست افسوس کہ تُو میری حالتِ زار سے بالکل غافل ہے۔تو نے میی فریاد سنی نہیں اور نہ ہی تجھے میری حالت نظر آرہی ہے۔جیسے میرا کوئی وجود ہی نہ ہو۔

    مماثل شعر:

    یہ تم سے کہہ دیا کس نے کہ بازی ہار بیٹھے ہم

    محبت میں لُٹانے کو ابھی تو جان باقی ہے

    مدت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

    ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

    محاسن:

    صنعت مراعات النظیر ( صیاد ، گُل ، بلبل)

    صنعت تضاد (سُنا ، دیکھا )

    حروفِ تاسف : (آہ)

    6۔یوں تو ہنگامے اُٹھاتے نہیں دیوانۂ عشق

    مرکزی خیال: عاشقوں کے روّیوں اور مزاج  کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا۔

    تشریح: شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ کسی کے عشق میں مجنوں ہو جاتے  ہیں وہ اپنے حال میں مست ہو جاتے ہیں۔انھیں دنیا داری کی کوئی پرواہ  نہیں ہوتی ۔ وہ دنیا داری کے کام میں حصہ نہیں لیتے۔وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے علاوہ  کوئی دنیا میں دوسرا بھی ہے۔لیکن ایسے لوگوں کا کچھ اعتماد بھی نہیں ہوتا ۔کہ وہ کب ہنگامے پر آمادہ ہو جائیں اور ان کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بن جائے۔ایسا اکثر عشق کی ناکامی پر ہوتا ہے۔عشق میں انسان خود پر اختیار کھو دیتا ہے۔اس کا دل اسے اپنی مرضی سے جہاں چاہےلے جاتا ہے۔اسی لئے شاعر اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ عاشق سے کسی بات کی امید نہ رکھی جائے۔اگر وہ ابھی خاموش بیٹھا نظر آرہا ہے تو کچھ بھروسا نہیں کہ اگلے لمحےکوئی ہنگامہ  کھڑا کردے۔

    مماثل شعر:

    عشق نے توڑی سر پہ قیامت اور قیامت کیا کہیے

    سننے والا کوئی نہیں رودادِ محبت کیا کہیے

    کوئی کیا سمجھ کہ کیا کرتا ہے عشق

    ہر دم اِک فتنہ بپا کرتا ہے عشق

    محاسن:

    مرکب اضافی ( دیوانۂ عشق)

    محاورہ : ہنگامہ اُٹھانا

    7۔منہ سے ہم اپنے بُرا تو نہیں کہتے کہ فراقؔ

    مرکزی خیال: تیرا لحاظ ہے اس لئے ہم فراؔق کو برا نہیں کہتے۔ورنہ وہ کوئی اچھا آدمی نہیں ہے۔

    تشریح: اس شعر کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ مجازی اور حقیقی ۔شاعر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے دوست کا لحاظ ہے کہ کہیں اُسے بُرا  نہ لگے ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جس کو اپنا دوست سمجھتا ہے وہ کوئی اچھا انسان نہیں ہے۔لوگوں میں وہ کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتا۔لیکن ہم  اس خیال سے کچھ نہیں کہتے کہ اگر ہم نے اس کی حقیقت بتا دی تو ہو سکتا ہے کہ ہمارے دوست کو اچھا نہ لگے ۔اس کی دل آزاری کا   سوچ کر ہم اسے برا نہیں کہتے۔

    یہ معرفت کا شعر بھی ہو سکتا  ہے۔ فراؔق گورکھ پوری  اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں کہ میں اپنے منھ سے اپنے آپ کو برا نہیں کہتا ؛ حالاں کہ مجھ میں سینکڑوں برائیا ں  ہیں۔ بے شک  

    میں کوئی اچھا نہیں لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وجود پر یقین رکھتا ہوں اور اسے اپنا رب اور دوست مانتا ہوں۔اگرچہ میرے اعمال اچھے نہیں ہیں لیکن چعنکہ میں اللہ تعالیٰ کو دوست رکھتا ہوں ، اس لئے اپنے آپ کو برا کہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔کوئی کیا کہے گا کہ ہوں تو میں اللہ کا دوست اور بُرا ہوں۔اس لئے میں اپنے آپ کو بُرا نہیں کہہ سکتا۔

    مماثل شعر:

    ایسے سے جو داغؔ نے  نبھا ہی

    سچ ہے یہ کام ہے اسی کا

    محاسن:

    سہلِ ممتنع

    صنعت تضاد : ( بُرا ، اچھا )

    مقطع کا شعر

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *