ہومدرس و تدریسکلامِ سحراشاعتتبصرےمیرے بارے میں

حمد۔ (کس کا نظام راہ نما ہے اُفق اُفق) حفیظ تائب ( 1931 ۔ 2004 )

تاریخ: September 7, 2026 مصنف: shakra زمرہ: تشریحاتِ غزل و نظم, درس و تدریس, شاعروں کے تعارف

تعارفِ شاعر

  • اصل نام عبدالحفیظ اور تائب تخلص کرتے تھے۔
  • آپ کا شمار عربی فارسی،اردو اور پنجابی کے اوّلین نعت گو شعراء میں ہوتا ہے۔
  • آپ کو تمغہ ِ حُسنِ کارکردگی، نقش ایوارڈ ، آدم جی ایوارڈ اور ہمدرد فاونڈیشن ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
  • آپ کی چند حمدیہ اور نعتیہ کلام کے مجموعے: کُلیاتِ حفیظ تائب ، اصحابی کالنجوم ، صلّو علیہِ واٰلہ ، کائنات ِ حفیظ تائب ، سک متراں دی ، وسلمو تسلیماوہی یٰسیں وہی طٰہٰ، بہارِ نعت۔جبکہ نثر میں بابِ مناقب ، بن چھان ، پنجابی نعت ، کتابیاتِ سیرتِ رسولؐ شامل ہیں۔

    1۔ کِس کا نظام راہ نما ہے اُفق اُفق

    جس کا دوام گونج رہا ہے اُفق اُفق

     مرکزی خیال:

    اللہ کا نظام ازل سے ابد تک ہر جگہ موجود ہے۔

    تشریح:

    شاعر اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا بیان کرتے ہوئے اس کے نظام کی پائیداری کا ذکر کر رہا ہے۔اللہ کا نظام ہر جگہ موجود ہے ، یہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اس کا اطلاق ہر جگہ اور ہر شے پر ہوتا ہے۔یہ ازل سے ابد تک اسی طرح قائم ہے۔قیامت تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ ئے گی۔اللہ نے تمام جان داروں اور بے جان کو وجود بخشا ہے۔سب اپنی حدود و قیود میں 

    بہترین طریقے سے اپنے کام سر انجام دے رہے ہیں۔ان کو تا قیامت دوام حاصل رہے گا۔انسان کو اس میں غوروفکر کرنا چاہئیے۔یہ سب اللہ کے وجود کی نشانیاں ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    ترجمہ: بےشک آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

    مماثل شعر:

    کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے

    جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے

    محاسنِ شعر:صنعتِ تکرار ( اُفق اُفق)، روانی اور موسیقیت۔

    2

    ۔شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل

    رنگِ جمال کس  کاجما ہے اُفق اُفق

    مرکزی خیال:قُدرت کی عظیم تخلیقات اللہ کی عظمت کا اظہار ہیں ۔

    تشریح:  شاعر کہتے ہیں کہ قدرت اللہ تعالیٰ کی عظمت کی عکاسی کرتی ہے ۔پہاڑ کی ہر چوٹی پر اللہ کی عظمت اور جلال کی شان ظاہر ہوتی ہے۔وہ اپنی قوت ،بلندی اور استقامت  کے ذریعے اللہ کی عظیم طاقت اور جلال کا اظہار کرتے ہیں۔قدرت کے مناظر میں اللہ کی شان و شوکت کا عکس ملتا ہے۔اُفق کے رنگ اللہ کے جمال کی نشانی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حُسن و جمال ہر طرف بکھرا ہواہے۔ یہ شعر انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ اِس کائناتی نظام پر غور و فکر کرے ۔ ان نشانیوں کو دیکھنا اور سمجھنا ہی روحانی بصیرت کا حصہ ہے۔  

    حفیظ تائب کے یہ اشعار اللہ کی تخلیق کی وسعت اور جمال کو مختلف مناظر کے ذریعے بیان کرتے ہیں اور انسان کو للہ کی قدرت کو پہچاننے اور اس کی عظمت کا اِدراک کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

    مماثل شعر:

    ہر جا تری قُدت کے ہیں لاکھوں جلوے

    حیراں ہوں کہ اِن آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

    شعری محاسن:

    صنعت تکرار ( جبل جبل، افق افق)

    مرکب اضافی ( شانِ جلال، رنگِ جمال)

    استفہامیہ انداز ( کس کا)

    تصویری کیفیت

    قافیہ ردیف کی موجودگی

    3۔ مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف

    مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے اُفق اُفق

    مرکزی خیال: اللہ کی رحمتیں ، مہربانیاں اور کرم ہمارے چاروں جانب موجود ہے۔اس پر غور اور شکر کرنا چاہیئے

    تشریح:اس شعر میں شاعر کائنات میں چاروں جانب پھیلی ہوئی بے شمار نعمتوں کا ذکر کر رہا ہے جس کا انسان کو ادراک نہیں۔اگر غور کرے تو اندازہ ہوگا کہ کوئی شے بے کار نہیں اور  انسان کے لئے اس میں فائدہ ہے۔جیسے جیسے انسان غور و فکر کرے گا یہ حقیقت اس پر آشکار ہوتی چلی جائے گی۔اسی لئے اللہ نے قرآن میں بارہا غور  کرنے کی دعوت دی ہے۔

    کیونکہ جیسے جیسے وہ جانتا جائے گا؛ اسے اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں کا اندازہ ہوگا  اور وہ رب کا شکر ادا کرے گا۔یہاں شاعر کا اشارہ اُن کرم نوازیوں کی جانب ہے جو عام نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔یہ اس طرح ہیں جیسے سیپ میں موتی پوشیدہ ہوتا ہے۔یہ صرف مخصوص حالات میں ظاہر ہوتا ہے۔

    مماثل شعر:

    یہ تری شانِ کریمی ہے کہ ہر بندے پر

    عقل و حکمت کے خزینوں کو لُٹاتا تُو ہے

    محاسن: مرکب اضافی ، صنعت تکرا ر ، استفہامیہ انداز ، استعارہ

    4۔ کِس کی طلب میں اہلِ محبت ہیں داغ داغ

    کِس کی ادا سے حشر بپا ہے اُفق اُفق

    مرکزی خیال: لوگ اللہ کی محبت اور اس کے کرم کا اہل ثابت ہونے کے  لئے بہت متمنی  اور پریشان ہیں۔

    تشریح :    حفیظ تائب کے اس شعر کی تشریح مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے۔ حمد کا یہ شعر اللہ تعالیٰ کی قُدرت ، رحمت اور محبت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کر رہا ہے۔ان بے شمار نعمتوں کو دیکھ کر ہر انسان اللہ کی محبت کا اہل ثابت ہونے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ مگر اللہ کی محبت کے قابل بننا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ اس میں بڑی مشقت لگتی ہے؛ خواہشِ نفس کو چھوڑنا پڑتا ہے، جو بہت مشکل ہوتا ہے۔

    لوگ اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔خدا کی رحمتوں کا اُن پر ایک خاص اثر ہوتا ہے۔دنیا کا ہر انسان رَب کی مہربانیوں کے زیرِ اثراُس کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔

    مماثل شعر:

     اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

    فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں

    محاسن :صنعت تکرار ،  مرکب ِ اضافی ، استعارہ ، استفہامیہ انداز۔

    5۔ سوزاں ہے کِس کی یاد میں تائؔب نفس نفس

    فُرقت میں کِس کی شعلہ نوا ہے اُفق اُفق

    مرکزی خیال: اللہ کی یاد اور محبت میں کائنات  کا ذرہ ذرہ اور ہر انسان بے چین اور مضطرب ہے۔

    تشریح:شاعر اس شعر میں پروردگار سے حقیقی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔یہ شعر شدّت اور جدائی کے درد کی عکاسی کرتا ہے۔شاعر اپنے رَب کی حقیقی محبت میں جل رہا ہے، کہ کب اُس کی محبوبِ حقیقی سے ملاقات ہوگی۔جیسا کہ حضرت موسیٰؑ اپنے رَب  کے دیدار کے لئے بے چین تھے اور دعائیں کرتے تھے۔شاعر کہتے ہیں کہ اُن کا دل شعلے کی طرح جل رہا ہے۔یہ کیفیت صرف اُن ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر انسان اس میں مبتلا ہے۔

    آسمان اور زمین کے درمیان جو بھی شے زندگی رکھتی ہے ؛ سب اللہ کی محبت کی شدت اور جدائی کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے۔

    مماثل شعر:

    میں پیمبر ترا نہیں لیکن

    مجھ سے بھی بات کر خدا میرے!

    محاسن شعر:

    مقطع کا شعر

    صنعتِ تکرار

    استفہامیہ انداز

    استعارہ

    مشقی سوالات

    سوال نمبر 1۔حفیظ تائب کی شاعری کی نمایاں خوبیاں:

    حفیظ تائب کی شاعری میں مذہبی ، صوفیانہ اور روحانی مضامین کی گہری جھلک ملتی ہے۔نعت گوئی میں ان کا مقام الگ ہے۔زبان و بیان کی خوبصورتی الفاظ کے چناؤ کی نزاکت نمایاں ہے۔انسانیت اور محبت کا پیغام ملتا  ہے۔اشعار میں فلسفہ ، تصوف اور گہری معنویت نظر آتی ہے۔ان کی شاعری عام فہم اور دل نشین ہوتی ہے۔

    سوال نمبر 2۔حمد کی ہیئت:

    حمد مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔مثنوی طویل نظم ہوتی ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔اس میں عموماً داستانی، مذہبی یا اخلاقی مضامین بیان کئے جاتے ہیں۔اس میں شاعر کو اپنی بات تفصیل سے بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    حمد کا خلاصہ

    شاعر نے حمد میں اللہ کی حمد و ثنا  ، بے پناہ عظمت، بزرگی،کائنات میں اسکی حکمرانی اور شان بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قدرت کے مختلف مظاہر جیسے آسمان ، زمین، پہاڑاور دریا وغیرہ اللہ کی عظمت اور بڑائی کی گواہی دیتے ہیں۔انسان نا تواں، محدود اور عاجز ہے۔اللہ کی رحمت ، بخشش ، مہربانی اور شفقت  سب کے لئے بے پناہ ہے۔بےشک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

    حمد کا مرکزی خیال

    اس حمد میں حفیظ تائب نے اللہ کی حمد و ثنا اور عظمت و جلال کو بیان کیا ہے۔کائنات میں چاروں جانب اس کی حکمت، قدرت اور تخلیقات اس کی بڑائی کو نمایاں کر رہے ہیں۔اللہ کی رحمت اور شفقت بے حساب ہے۔اللہ کی تعریف و توصیف کے بغیر کائنات کو سمجھنا محال ہے۔

    سوال نمبر 6: اعراب اور معانی

    .1اُفَق^  :ایسا  خط جو دو بصری سمتوں         (آسمان کو زمین سے ) کو الگ   کرے  ۔

    .2جَبَل  : پہاڑ ، کوہ ، پربت

    .3رَنگِ   جَمَال  :حُسن ، خوبصورتی ، روپ کا اثر

    .4مرَقُوم  : لکھا ہوا ، تحریر شدہ

    .5مکَتوُم  : چھپا ہوا ، پوشیدہ

    .6حَشر  :بے چینی ، قیامت

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *