نظم ۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ۔ منیرؔ نیازی
تعارف شاعر :
- منیر نیازی خان پور میں پیدا ہوئے۔
- قیامِ پاکستان کے بعد ساہیوال میں رہائش اختیار کی۔
- انہوں نے ” سات رنگ ” کے نام سے ایک ہفتہ وار رسالہ جاری کیا۔
- وہ تحیر کے شاعر ہیں۔
- ان کی شاعری اپنے عہد کی ترجمانی کرتی ہے۔
- نئے رموز و علامات کے ساتھ والہانہ شاعری کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔
- حکومت ِ پاکستان نے انہیں ”کمال ِ فن ” اور ” ستارۂ امتیاز ” سے بھی نوازا۔
- انہوں نے اردو کے 13 ، پنجابی کے 3 اور انگریزی کے 2 مجموعے شائع کئے۔
- مجموعہ ہائے کلام : تیز ہوا اور تنہا پھول ، چھ رنگین دروازے ، سفر دی رات وغیرہ۔
آزاد نظم
اسے جدید نظم بھی کہتے ہیں ۔ یہ صرف ایک ہی بحر میں لکھی جاتی ہے ۔ لیکن ہر بحر کے ارکان کی تعداد مختلف ہوتی ہے ۔ کہیں کوئی مصرعہ طویل تو کہیں مختصر ہوتا ہے ۔ اس میں قافیہ ، ردیف اور بحر کی پابندی نہیں ہوتی ۔ مصرعوں کی طوالت جذبات اور کیفیات پر منطبق ہوتی ہے ۔
- ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں – – – – -واپس بلانا ہو
مفہوم :
میں ہر کام کرنے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔
کسی سے ضروری بات کہنی ہو ، کوئی وعدہ نبھانا ہو یا کسی کو اواز
دے کر واپس بلانا ہو ۔میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔
وضاحت :
اس میں انسانی نفسیات اور مزاج کا منفی پہلو یعنی سستی ، کم ہمتی ، بھلکڑ اور کمزوری کا بیان ہے ۔ اپنے ہاتھ سے موقع گنوا دیتا ہوں او ر پھر بعد میں پچھتاتا ہوں ۔
مماثل شعر :
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
- مدد کر نی ہو اس کی – – – – – – دیر کر دیتا ہوں
مفہوم :
اگر مجھے کسی کی مدد کرنی ہو ، دوست کو تسلی دینی ہو یا پھر کسی پرانے آشنا سے ملنے جانا ہو میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ۔
وضاحت :
انسانی نفسیاتی کیفیت کے ذاتی تجربے کو بیان کیا ہے ۔کہ اگر کسی کی مدد کرنی ہو ، کسی کی دلجوئی کرنی ہو یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ہو ۔ میں اپنی سستی کی وجہ سے اکثر دیر کردیتا ہوں اور پھر بعد میں پچھتاتا ہوں۔
مماثل شعر :
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی
دل کی دل میں ہی رہی ، بات نہ ہونے پائی
- بدلتے موسموں کی سیر میں – – – – – – – دیر کر دیتا ہوں
مفہوم :
مجھے بدلتے موسموں کا لطف اُٹھانا ہو ، کسی کو یاد رکھنا یا بھول جانا ہو۔ میں ہمیشہ دیر کردیتا ہوں ۔
وضاحت :
میں اپنی کمزوریوں کے سبب اچھے مواقع ہاتھ سے گنوا دیتا ہوں ۔بدلتے موسموں سے لطف نہیں اُٹھاپاتا ۔جن لوگوں نے دکھ دیا انہیں بھولنا اور جن سے خوشیاں ملیں انہیں یاد رکھنا بھی بھول جاتا ہوں ۔ بعد میں پچھتاووں اور ندامت کا شکار رہتا ہوں ۔
مماثل شعر :
یاد ِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
- کسی کو موت سے پہلے – – – – – -دیر کر دیتا ہوں
مفہوم :
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو اور اسے اصل حقیقت بتانا ہو ، میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ۔
وضاحت :
انسان زندگی میں کئی کام اپنی سستی ، کم ہمتی اور بھول جانے کی عادت کی وجہ سے انجام نہیں دے پاتا ۔ بعد میں ندامت کا شکار رہتا ہے ۔ کسی مرنے والے کو حقیقت سے آگاہ کرکے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرنا ہو۔ اس آخری لمحوں میں بھی میں اکثر دیر کر دیتا ہوں ۔
مماثل شعر :
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
———————- مشقی سوالات ———————
ذ و معنی یا متشا بہہ ا لفا ظ
کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے دو معنی ہوتے ہیں ۔ دورانِ استعمال جملے میں اس کو ایک مفہوم کے تحت استعمال کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کے دوسرے معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں ۔ ایسی صورتحال اُس وقت پیش آتی ہے جب کسی کے سامنے اصل بات بتانا مقصود نہ ہو۔ یہ کبھی مذکر اور کبھی موئنث استعمال ہوتے ہیں ۔
- لگن : برتن (مذکر) ، لگا ؤ ، محبت ( موئنث )
- تکرار : اعادہ کرنا یا دہرانا (مذکر ) ، بحث یا جھگڑا ( موئنث)
- مہر : سورج (مذکر) ، محبت (موئنث )
- عرض : چوڑائی ( مذکر ) ، درخواست ( موئنث)
- نفس : سانس ، خواہش
- رقم : پیسے ، لکھنا
خالی جگہیں
- منیر نیازی ہوشیار پور کے گاؤں خا ن پو ر میں پیدا ہوئے۔
- منیر نیازی نے سا ت ر نگ کے نام سے رسالہ جاری کیا۔
- نظم ” ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ” ان کی کتاب سا عت ِ سیار سے ماخوذ ہے ۔
- نظم ” ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ” ایک آ ز ا د نظم ہے ۔
- آ ز ا د نظم میں قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی ۔
- انسان فطر تاً کم ہمت ، سست اور بھلکڑ واقع ہوا ہے ۔
- اگر کام وقت پر نہ کیا جائے تو نقصا ن اُٹھانا پڑتا ہے ۔
- وقت پلٹ کر نہیں آتا ۔
- کسی کو مو ت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو ۔
- ہمیشہ د یر کردیتا ہوں۔
نظم ۔ ہمیشہ د یر کر د یتا ہو ں ( منیر ؔ نیا ز ی )
- منیر ؔ نیا ز ی کی تا ر یخ ِ و فا ت ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہے ۔
- منیر ؔ نیا ز ی نے ہفتہ و ا ر رسا لہ ـــــــــــــــــــــ جا ر ی کیا ۔
- منیر ؔ نیا ز ی ــــــــــــــــــــــــ کے لئے بھی شا عر ی کر تے تھے ۔
- منیرؔ نیا ز ی ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــکے شا عر ہیں ۔
- منیر ؔ جا نی پہچا نی ا شیا ء کو ا پنی شا عر ا نہ ــــــــــــــــــــــــــــــــسے ا یک نیا ر خ د یتے ہیں ۔
- منیرؔ کی شا عر ی ا پنے ـــــــــــــــــــــــــ کی تر جما نی کر تی ہے ۔
- حکو مت پا کستا ن نے منیر ؔ نیا ز ی کی ـــــــــــــخد ما ت کے صلے میں کما ل ِ فن ا و ر ستا ر ۂ ا متیا ز سے نو ا ز ا ۔
- نظم ” ہمیشہ د یر کر د یتا ہو ں ” میں منیر ؔ نے ا نسا نی نفسیا ت ا و ر مز ا ج کا ــــــــــــــــــ اجاگر کیا ہے ۔
- ا نسا ن ـــــــــــــــــــــــــــــــ سست ، کم ہمت ا و ر بھلکڑ و ا قع ہو ا ہے ۔
- ا گر کا م و قت پر نہ کیا جائے تو ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اُ ٹھا نا پڑ تا ہے ۔
- گیا و قت ـــــــــــــــــــــــــــ کر نہیں آ تا ۔
- ضر و ر ی با ت کرنی ہو کو ئی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــنبھا نا ہو ۔
- مد د کر نی ہو ا س کی ، یا ر کی ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہو ۔
- ایسے ا لفا ظ جن کے دو معنی ہو ں اُ سے ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ا لفا ظ کہتے ہیں ۔
- ہمیشہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کر د یتا ہو ں
( مرتب کنند ہ : شا کر ہ کاظمی )